غیبت ایک سنگین گناہ

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف صدیقی, ‏اگست 17, 2014۔

  1. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    145
    صنف:
    Male
    غیبت ایک سنگین گناہ

    امام نووی رحمہ اللہ علیہ ان گناہوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو کہ زبان سے صادر ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلا گناہ جس کا رواج بہت زیادہ ہو چکا ہے اور جس کو کلمہ پڑھنے والا مسلمان شاید گناہ سمجھتا ہی نہیں وہ ہے ’’غیبت کا گناہ‘‘ یہ ایسا گناہ ہے اور ایسی مصیبت ہے جو ہماری مجلسوں پر اور ہمارے معاشرے پر چھا گئی ہے۔ کوئی محفل اس سے خالی نہیں۔ حضور اکرمﷺ نے اس پر بہت سخت وعیدیں ذکر فرمائی ہیں اور قرآن کریم نے غیبت کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں شاید کسی اور گناہ کے لیے اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کیے۔
    حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرمﷺ سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! غیبت کیا ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کو اس کی غیر موجودگی میں ایسے انداز میں یاد کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، یعنی اگر اس کو پتہ چلے کہ میرا ذکر اس مجلس میں اس طرح کیا گیا تو اس کو تکلیف پہنچے اور اس کوبرا سمجھے تو یہ غیبت ہے۔ پھر صحابی رضی اللہ عنہ نے سوال کیا: اگر وہ خرابی یا عیب واقعتا میرے بھائی میں موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: وہ خرابی، برائی یا عیب تیرے بھائی میں پایا جاتا ہو تب ہی تو غیبت ہے اگر نہیں پایا جاتا تو بہتان ہے۔ اس کا گناہ غیبت سے بھی زیادہ ہے۔ (ابو دائود )
    ذرا اپنی محفلوں، مجلسوں پر نظر ڈالیے! کس قدر اس گناہ کا رواج ہو چکا ہے اور ہم دن رات اس گناہ میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین
    بعض لوگ بڑے بہادر بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بات تو میں اس کے منہ پر بھی کہہ سکتا ہوں۔ بات اس کے منہ پر کہو یا نہ کہو ہر حالت میں غیبت ہے او رگناہ کبیرہ ہے۔ غیبت کی تعریف سرکار دوعالم ﷺ نے کردی ہے ۔ اس کے سامنے اپنے فاسد خیالات بیان نہیں کرنے چاہئیں ورنہ کفر کا خطرہ ہے۔
    غیبت ایسا گناہ کبیرہ ہے جیسے ڈاکہ ڈالنا، بدکاری کرنا، بہتان لگانا، داڑھی منڈانا وغیرہ۔ دوسری بات یہ کہ غیبت کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد کا معاملہ یہ ہے کہ جب تک بندہ اس کو معاف نہ کرے اس وقت تک یہ معاف نہ ہوگا۔
    جس طرح غیبت کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح غیبت سننا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ جس مجلس میں کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو گفتگو کا رخ بدلنے کی کوشش کریں کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیں اگر یہ نہ ہو سکے تو اس مجلس سے اٹھ کر چلے جائیں۔
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس رات مجھے معراج کرایا گیا تو وہاں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے نوچ رہے تھے، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں دوسروں کی غیبت کیا کرتے تھے۔ (ابو دائود)
    ایک دوسری حدیث میں سرکار دوعالمﷺ کا ارشاد ہے کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے۔
    کیونکہ اگر کوئی بندہ زنا کرے تو اس میں کبھی ندامت و شرمندگی ہو سکتی ہے تو پھر توبہ بھی کرے گا لیکن غیبت کرنے والا اس کو گناہ سمجھتا ہیں بلکہ وہ تو کہتا ہے میں حق کہہ رہا ہوں تو اسے توبہ کی توفیق کیسے ہوگی؟ بلکہ بغیر توبہ کے اس جہانِ فانی سے چلا جائے گا۔
    ایک اور حدیث میں ہے حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ غیبت کرنے والے ہوں گے بظاہر انہوں نے دنیا میں اچھے اعمال کیے ہوں گے۔ نمازیں پڑھی ہوں گی، روزے رکھے ہوں گے، عبادتیں کی ہوں گی لیکن وہ لوگ جب پل صراط سے گزریں گے آپ جانتے ہوں گے پل صراط ایسا پل ہے جو کہ جہنم کے اوپر ہوگا ہر انسان کو اس پر سے گزرنا ہے جو انسان جنتی ہو گا اس پل کو پار کرکے جنت میں پہنچ جائے گا اور جو شخص جہنمی ہو گا اس کو اس پل پر روک لیا جائے گا تم آگے نہیں جاسکتے جب تک غیبت کا کفارہ ادا نہ کرو۔
    محترم قارئین! غیبت کا کفارہ اس جہان میں یہ ہوگا کہ اپنے نیک اعمال اور کی ہوئی عبادتیں ا س کو دینی پڑیں گی جس کی غیبت کی ہے اور اس کے گناہ اپنے اوپر لے کر جہنم میں جانا پڑے گا۔
    حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ کی کسی نے غیبت کی تو آپ نے اسے تحفے بھیج دیئے لوگوں نے عرض کیا: حضرت اس نے تو آپ کی غیبت کی ہے پھر تحفے کیوں؟ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ اس غیبت کرنے والے نے وہ نیکیاں مجھے دی ہیں جو میں نے نہیں کیں اور گناہ مجھ سے لیے ہیں جو اس نے نہیں کیے تو بتائو اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہے یا نہیں؟
    ذرا سوچیئے! انسان آخرت کے معاملے میں کتنا خسارہ اٹھا رہا ہے۔ یاد رکھیے! غیبت ایک بد ترین سود ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایاکہ سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے اندر بے شمار خرابیاں ہیں اور بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے اور سود کا کم از کم گناہ اتنا ہے جیسے کوئی آدمی اپنی ماں کے سا تھ بدکاری کرے۔
    شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ایک تابعی گزرے ہیں جن کا نام ربیع تھا وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں پہنچا میں نے دیکھا کہ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے ہیں میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا، باتوں کے دوران کسی شخص کی غیبت شروع ہوگئی،مجھے یہ بات بری لگی کہ ہم یہاں مجلس میں بیٹھ کر کسی کی غیبت کریں چنانچہ میں اس مجلس سے اٹھ کر چلا گیا اس لیے کہ اگر کسی مجلس میں غیبت ہو رہی ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اس کو روکے، اگر روکنے کی طاقت نہ ہو تو کم از کم اس گفتگو میں شریک نہ ہو بلکہ اٹھ کر چلا جائے۔ وہ تابعی فرماتے ہیں میں چلا گیا، تھوڑی دیر بعد خیال آیا اب اس مجلس میں غیبت کا موضوع ختم ہو گیا ہو گا اس لیے دوبارہ اس مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر غیبت شروع ہوگئی اب میں اس مجلس سے نہ اٹھ سکا بلکہ غیبت ستنا رہا جب میں گھر واپس آیا اور رات کو سویا تو خواب میں ایک حبشی کو دیکھا جو ایک بڑے طشت میں میرے پاس گوشت لایا ہے جب میں نے غور سے دیکھا تو خنزیر کا گوشت تھا وہ حبشی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ خنزیر کا گوشت کھائو ، میں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں خنزیر کا گوشت کیسے کھائوں؟ اس حبشی نے کہا: تجھے کھانا پڑے گا پھر اس نے زبردستی گوشت کے ٹکڑے میرے منہ میں ٹھونسنا شروع کردیئے، میں منع کرتا رہا وہ ٹھونستا رہا یہاںتک کہ مجھے قے آنے لگی مگر پھر بھی وہ ٹھونستا رہا اسی شدید تکلیف میں میں بیدار ہو گیا میں نے بیدار ہونے کے بعدکھانا کھایا تو جو خواب میں خنزیر کے گوشت کا بدبودار ذائقہ تھا مجھے کھانے میں محسوس ہوا، تیس دن تک میرا یہی حال رہا۔ (اصلاحی خطبات )
    غیبت کی صورت میں حقوق کی تلافی کی صورت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ ان میں سے جن کی غیبت کی ہے جو لوگ زندہ ہیں ان سے معافی مانگی جائے جو لوگ فوت ہوچکے ہیں ان کے لیے استغفار کیا جائے اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی جائے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    تھے جب اپنی برائیوں سے بے خبر
    رہے ڈھونڈتے اوروں کے عیب و ہنر​
    پڑی اپنی برائیوں پہ جب نظر
    تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
    محمد نبیل خان، عامر اور احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں