غیبت ایک حرام کام

syed sadiq qadri

حکیم سید صادق قادری
رکن
غیبت ایک حرام کام
*
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں غیبت سے منع فرماتے ہوئے فرمایا"ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو"
(الحجرات 12)
کسی کی برائی بیان کرنے میں خواہ کوئی سچا کیوں نہ ہو پھر بھی غیبت کو حرام قرار دیا گیا تاکہ مومن کی عزت کی حفاظت بڑھ چڑھ کر ہو۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی حرمت اور اس کے حقوق بہت زیادہ ہیں نیز ﷲ عزوجل نے اس کی عزت کو گوشت اور خون سے تشبیہ دے کر مزید پختہ فرمادیا۔اور اس کے ساتھ اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دے دیا اور فرمایا"کیا تم میں کوئی پسند کرئے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا"(الحجرات 12) عزت کو گوشت سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ کہ انسان بے عزتی سے ایسی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسا اس کا گوشت کاٹ کر کھانے سے اس کا بدن درد محسوس کرتا ہے۔
رسولﷲ صلیﷲعلیہ وسلم نے غیبت کی وضاحت فرماتے ہوئے فرمایا"(غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے (مسلمان) بھائی کا ذکر اس طرح کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہو,
پوچھا گیا"جو میں کہتا ہوں وہ میرے بھائی میں موجود ہو تو؟"
فرمایا"اگر جو تم کہتے ہو وہ اس میں موجود ہو تو تم نے غیبت کی اور اگر تم نے ایسی بات کہی جو اس میں نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان لگایا"
(صحیح مسلم کتاب البر والصلہ و الادب باب تحریم الغیبت)
*
غیبت زنا سے سخت
فرمان مصطفی صلیﷲعلیہ وسلم
"غیبت زنا سے سخت ہے ,
پوچھا گیا"وہ کیسے؟"
فرمایا"ایک بندہ زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے ,پس ﷲ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو اس وقت تک معاف نہیں کیا جاتا جب تک وہ معاف نہ کرے جس کی اس نے غیبت کی"
(المعجم الاوسط جلد5 ح 659)
*
غیبت سننے والا
رسولﷲصلیﷲعلیہ وسلم نے فرمایا"سننے والا بھی غیبت کرنے والوں میں سے ایک ہے"
(احیا علوم الدین کتاب آفات اللسان)
البتہ غیبت کی کچھ جائز صورتیں بھی بیان کی گئیں ہیں
جیسا کہ رسولﷲ صلیﷲعلیہ وسلم سے کسی کی حاضری کے لئے اجاذت طلب کی گئی تو فرمایا"اسے اجاذت دے دو ,وہ قبیلہ کا برا شخص ہے"
(صحیح بخاری کتاب الادب)
امام بخاری نے اس حدیث سے فسادی لوگوں کی غیبت کے جواز پر استدلال کیا ہے۔
اس کے علاوہ کسی کو کسی کے شر سے بچانے کے لئے اس کی برائی سے آگاہ کرنے کی بھی اجاذت ہے
جیسا کہ ایک عورت نے رسولﷲ صلیﷲعلیہ وسلم سے عرض کی کہ مجھے ابو جہم نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ صلیﷲعلیہ وسلم نے فرمایا"ابو جہم عورتوں کو بہت زیادہ مارنے والا ہے"
(مسلم کتاب الطلاق)
مفتی سے فتوی لیتے وقت جیسا کہ ایک عورت نے نبی پاک کی بارگاہ میں اپنے شوہر کے بارے میں کہا تھا کہ"ابو سفیان مال روک کر رکھنے والے ہیں مجھے اتنا مال نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو البتہ میں ان کے مال میں سے ان کی لاعلمی میں کچھ لے لیتی ہوں (کیا یہ جائز ہے؟)
فرمایا"دستور کے مطابق اتنا مال لے لیا کرو جو تجھے اور تیری اولاد کو کافی ہو"
(بخاری کتاب النفقات)
کسی شرعی ضرورت کے بغیر غیبت ہرگز جائز نہیں ۔
اللہ پاک ہمیں غیبت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
طالب دعا:صادق
 
Top