سوتیلی اولاد سے حضرت عائشہ کا برتاؤ

syed sadiq qadri

حکیم سید صادق قادری
رکن
سوتیلی اولاد کے ساتھ برتاؤ


حضرت خدیجہؓ کے بطن سے حضرت عائشہؓ کی چار سوتیلی بیٹیاں تھیں ۔ حضرت زینبؓ ، حضرت رقیہؓ ، حضرت ام کلثومؓ ، حضرت فاطمہؓ زہرا۔ لیکن حضرت عائشہؓ کی رخصتی سے پہلے حضرت فاطمہؓ کے سوا اور سب اپنی اپنی سسرال جا چکیں تھیں ۔

حضرت عائشہؓ کی رخصتی کے وقت حضرت فاطمہؓ گو کنواری تھیں ۔ لیکن ان سے سن میں پانچ چھ برس بڑی تھیں ۔ایک سال یا اس سے بھی کچھ کم دونوں ماں بیٹی ایک ساتھ رہی ہو گی کہ ۲ ھ کے بیچ میں وہ حضرت علی مرتضیؓ سے بیاہ دی گئیں ۔ شادی کے لئے جن ماؤں نے سامان درست کیا تھا اُن میں حضرت عائشہؓ بھی تھیں اور آنحضرتﷺ کے حکم سے انہوں نے خاص طور پر اس کا اہتمام کیا ۔ مکان لیپا ، بستر لگایا، اپنے ہاتھ سے کھجور کی چھال دھنکر تکئے بنائے ، چھوہارے اور منقے دعوت میں پیش کئے ، لکڑی کی ایک الگنی تیار کی کہ اس پر پانی کی مشک اور کپڑے لٹکائے جائیں ۔ وہ خود بیان کرتی ہیں کہ ’’ فاطمہ کے بیاہ سے کوئی اچھا بیاہ میں نے نہیں دیکھا‘‘ شادی کے بعد حضرت فاطمہؓ جس گھر میں گئیں اس میں اور حضرت عائشہؓ کے حجرے میں صرف ایک دیوار کا فصل تھا۔ بیچ میں کھڑکی تھی جس سے کبھی کبھی آپس میں بات چیت ہوتی تھی۔

بیٹی کی تعریف میں کہتی ہیں ’’ میں نے فاطمہؓ سے ان کے باپؐ کے سوا کوئی اور بہتر انسان کبھی نہیں دیکھا ‘‘ ایک تابعی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ ’’ آنحضرتﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ ‘‘بولیں ’’ فاطمہ‘‘ ۔کہتی ہیں کہ ’’ میں نے فاطمہ سے زیادہ اٹھنے بیٹھنے کے طور طریقہ میں آنحضرتﷺ سے ملتا جلتا کسی اور کو نہیں دیکھا۔ جب آپؐ کی خدمت میں وہ آتیں آپ سرو قد کھڑے ہو جاتے ، پیشانی چوم لیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب آپؐ ان کے گھر تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں ۔ باپ کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں ‘‘۔

حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دن ہم سب بیویاں آپؐ کے پاس بیٹھی تھیں کہ فاطمہ سامنے سے آئیں ۔ بالکل آنحضرتﷺ کی چال تھی ذرا بھی فرق نہ تھا ۔آپؐ نے بڑے تپاک سے بلا کر پاس بٹھا لیا پھر چپکے چپکے ان کے کان میں کچھ کہا وہ رونے لگیں ۔ ان کی بے قراری دیکھ کر آپؐ نے پھر ان کے کان میں کچھ کہا، وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا ’’ فاطمہ! تمام بیویوں کو چھوڑ کر صرف تم سے آنحضرتﷺ اپنے راز کی باتیں کہتے ہیں اور تم روتی ہو ‘‘۔ آپؐ جب اٹھ گئے تو میں نے واقعہ دریافت کیا بولیں ’’ میں باپ کا راز نہیں فاش کروں گی‘‘۔ جب آپؐ کا انتقال ہو گیا تو میں نے دوبارہ کہا ’’فاطمہ ! میرا جو تم پر حق ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں ، اس دن کی بات مجھ سے کہہ دو‘‘ انہوں نے کہا ہاں اب ممکن ہے۔ میرے رونے کا سبب یہ تھا کہ آپؐ نے اپنی جلد وفات کی اطلاع دی تھی اور ہنسنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا کہ ’’ فاطمہ کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ تم تمام دنیا کی عورتوں کی سردار بنو ‘‘۔
 
Top