بیویوں کو نصیحت

syed sadiq qadri

حکیم سید صادق قادری
رکن
بیویوں کو نصیحت
*
آج کل دیکھا گیا ہے کہ کچھ عورتیں ہر آنے جانے والے کے سامنے,بازار میں دکانداروں سے اپنے گھریلو مسائل اور تنگدستی کا رونا روتی ہیں۔
ذرا ان سے محلہ کی کوئی خاتون آکر حال احوال پوچھ لے پھر اس کے سامنے ناشکری کرتے ہوئے قسمت سے شکوہ شکایتوں کے دفتر کھل جاتے ہیں وہ یہ بھی نہیں سوچتیں کہ ایسا کرنا اس کے شوہر کی بے عزتی بھی ہے اور رب کریم کی ناشکری بھی۔
اس موضوع پر ایک روایت بخاری شریف میں موجود ہے۔وہ بھی آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔
روایت کچھ یوں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کئی دنوں بعد حضرت اسماعیل علیہ سلام کے گھر تشریف لائے۔کافی عرصہ گزر جانے کی وجہ سے ان کو ان کی بہو یعنی حضرت اسماعیل علیہ سلام کی بیوی نے نہیں پہچانا ,لہذا انہوں نے ان سے حضرت اسماعیل علیہ سلام کا پوچھا تو ان کی بیوی نے بتایا وہ گھر پر نہیں۔پھر انہوں نے ان سے حال احوال پوچھا تو ان کی بیوی نے تنگدستی کی شکایت کی اور کہا کہ بڑی مشکل سے گزارا ہورہا ,حضرت ابراہیم علیہ سلام نے کہا کہ اسماعیل (علیہ سلام) آیئں تو انہیں کہنا اپنی چوکھٹ بدل لو ۔اور وہاں سے رخصت ہوگئے۔حضرت اسماعیل آئے ان کی بیوی نے سارا حال سنایا اور حضرت ابراہیم علیہ سلام کا حلیہ مبارک بیان کیا تو حضرت اسماعیل علیہ سلام نے انہیں پہچان لیا اور پوچھا انہوں نے کوئی پیغام دیا؟ تو ان کی بیوی نے ان کا دیا ہوا پیغام دیا تو حضرت اسماعیل علیہ سلام نے ان کا پیغام سن کر اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔پھر حضرت اسماعیل علیہ سلام نے ایک دوسری خاتون سے شادی کرلی۔کچھ عرصہ گزرا حضرت ابراہیم پھر ان کے گھر تشریف لائے۔اتفاقاً اس بار بھی حضرت اسماعیل گھر پر نہ تھے آپ نے ان کی بیوی سے اجنبی بن کر حضرت اسماعیل علیہ سلام کا پوچھا انہوں نے کہا وہ گھر پر نہیں ,پھر انہوں نے حال احوال پوچھا تو ان کی بیوی نے کہا کہ بہت اچھی زندگی گزر رہی۔اور بہت خوشحال زندگی گزارنے کا اظہار کیا حضرت ابراہیم علیہ سلام نے ان سے کہا کہ اسماعیل (علیہ سلام) آئے تو ان سے کہنا تمہاری یہ چوکھٹ (بیوی) بہت اچھی ہے۔
یہ واقعہ صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء میں درج ہے۔
اس سے سبق ملا کہ بیوی کو چاہیئے کہ شکر گزار بنے اور کسی اجنبی کے سامنے اپنے گھریلو حالات کا,تنگدستی کا اظہار نہ کرئے۔
اللہ تعالی ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنائے۔آمین
طالب دعا :صادق
 
Top