الغزالی

دسمبر
02
by مولانانورالحسن انور at ‏1:46 PM
(27 مناظر / 1 پسند کردہ)
3 تبصرہ جات
حضرت قاسمی کی خدمت میں التماس ہے انکی نظر کرم سے آس ہے یہ ہی ہمیں پیاس ہیے ۔۔ ذرا غار سر من رای سے باہر نکل آئیں ۔۔۔ اگر آپ کسی صحرا میں گوشہ نشین ہیں ۔۔۔۔ یا آپ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کو تلاش کررہے ہیں ۔۔۔ یا کسی جنگل میں جھونپڑا بنا کر کسی عمل سری وخفی وجفری وبروزی وظلی میں مصروف ہیں ۔۔۔ یا کہیں آگ جلا کر اپنی جگر کی آگ بھجانے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ یا خورد بین کے ذریعہ کرونا پر تحقیق۔ کر رہے ہیں یا کہیں کسی ریسٹورنٹ میں ریسٹ کر رہے ہیں یا برج خلیفہ دبئی کی اوپر کی منزل سے ستاروں پر کمند ڈالنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔ یا کہیں بیگم کی بدلتی نگاہوں کا شکار ہو چکے ہوں تو براے کرم ۔۔۔ دل کیجئے نرم رکھ لیں ہمارا بھرم ۔۔۔ نہ مطالبہ دینار ودرھم ۔۔۔ بس ایک جھلک ایک چمک ۔۔ بس ایک جلوہ ۔۔۔ آپکے رخ انور کا وڈیو کی صورت میں دیکھنے کے لئے دل دماغ جگر گردے سب تڑپ رہے ہیں ۔۔۔ براے مہر بانی ۔۔۔ ایک وڈیو ضرور اپلوڈ کردیں چاہے 5 منٹ کی کیوں نہ ہو ۔ آواز نہیں بمع تصویر
دسمبر
02
by احمدقاسمی at ‏10:21 AM
(37 مناظر / 0 پسند کردہ)
3 تبصرہ جات
علم جفر​
حاجی خلیفہ "علم جفر" کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ:
ا"س سے مراد لوحِ محفوظ ( یعنی تقدیر ) کے اس علم کا حصول ہے جس میں ماضی اور مستقبل کی جزوی اور کلی معلومات درج ہیں ۔ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے بسط اعظم کی ترتیب سے ایک چمڑے ( جفر) پر اٹھائیس (۲۸) حروف لکھے اور ان حروف سے مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ ایسے الفاظ نکالے جو تقدیر کا راز مہیا کرتے ہین اور پھر یہی علم اہل بیت اور ان سے محبت کر نے والوں کو ورثہ میں حاصل ہوا اور اہل بیت اس علم کو دوسرے لوگوں سے چھپا کر رکھتے ہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان حروف کے اسرا ر ورُموز کو مہدی ( شیعوں کے بقول ان کا با رہواں امام جو سی غار میں چھپ گیا تھا اورقیامت کے قریب طاہر ہو گا ) کے سوا کو ئی نہیں جانتا "۔
معلوم ہوا کہ بعض لوگوں کے ہاں علم جفر سے مراد حروف کا ایسا علم ہے جس میں حروف کے مخفی اسرار کے ساتھ تقدیر کی بابت معلومات حاصل کی جاتی ہیں ۔
اور جن لوگوں نے اسے، علم جفر، قراردیا ،ان کے نزدیک اسے ،علم جفر ،اس لیے کہا جاتا ہے کہ "حضرت علیؓ نے سب سے پہلے ان حروف کوجفر( یعنی چمڑے ) پرلکھ تھا "۔
علم جفر کے حوالےسے...