ایک مہلک وبا……ہم جنس پرستی

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 24, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ایک مہلک وبا……ہم جنس پرستی
    مرتب :مولانا محمد یوسف صاحب
    اضافہ :ناصر الدین مظاہری​
    ہندوستان کی ایک عدالت نے گزشتہ سال ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ دے کر بیک وقت مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے تودوسری طرف فطری نظام سے بغاوت،اسلام اوردیگرمذاہب کی تعلیمات کی مخالفت اوراپنے مسموم افکاروخیالات سے سنجیدہ طبقہ کورنجیدہ کیاہے، حالانکہ عدالتیں توبرائیوں کے خاتمہ،جرائم کے سدباب ،کرائم کی روک تھام،مجرموں کی تعذیب اورمعاشرہ کوصالح بنانے کیلئے وجودمیں آئی ہے مگر جب راہنما ہی قزاق بن جائیں اوردزدانِ راہ ،قوم کے محافظ ہوجائیں توپھرصرف یہی کہاجاسکتاہے
    ’’چوںکفرازکعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی‘‘
    ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں اورمذاہب کواجتماعیت کے ساتھ اس قسم کے’’ جراثیمی فیصلوں‘‘ کے خلاف صدائے احتجاج درج کراناہوگا،ورنہ جب پانی سرسے گزرنے لگے،باندھ ٹوٹنے اورپشتے سرکنے لگیں توداناؤں کی عقلیں اورحکماء کی ذہانت کچھ کام نہیں کرسکتی!
    درج ذیل مضمون کے مرتب مولانامحمدیوسف صاحب ہیں لیکن احادیث کاتتبع،حوالہ جات،کتب حدیث وتفسیرسے مراجعت اوربعض جدیدوقابل قدراضافے راقم کی طرف سے ہیں ۔(ناصرالدین مظاہری)

    استلذاذبالمثل ،ہم جنس پرستی ،لواطت ،بد فعلی اورغیر فطری عمل کتنے ہی نام دے لیں مراد قوم لو ط کا وہ عمل ہے جس کے ارتکاب سے یہ قوم ہمیشہ کے لئے نشان عبرت بن کر پیوست زمین ہوگئی ۔یہ فعل اپنی کراہت ، قباحت، شناعت اوربرائی میں اس قدر غلاظت لئے ہوئے ہے کہ سلیم ذوق اورصالح طبیعتیںاس کے نام سے ہی کراہت محسوس کرتی ہیں یہ برائی مغربی تہذیب وتمدن سے ایکسپورٹ ہوکر پوری دنیا کو غلاظت خانہ میں تبدیل کررہی ہے ،آزادی کے نعرے ،مساوات کے عفریت ، جمہوریت کے فریب ،صنفی آوارگی ،آزادی ٔ رائے اورمخلوط معاشرہ کی کوکھ سے جنم لینے والی یہ برائی گھن کی طرح کھائے جارہی ہے ۔
    فرائڈ،اینڈرگائڈ،آرچ پشپ ،کنٹربری ،ڈاکٹر میکائیل ریمزے ،رابنگ ورتھ ،اسٹفن ہاپنگ سن اورلارڈ ایرن جیسے روشن خیال انگریزی قائدین ومفکرین کی فکری غلاظت اورگندی ذہنیت نیزسقراط، ارسطو، سکندراعظم، جولیس اورسیزروغیرہ کی بری عادات نے یورپ بالخصوص لندن جیسے بڑے شہر میںسو کے قریب ہم جنس پرستی کے اڈے قائم کرادئے اور لندن ،فرانس ،امریکہ ،روس ،اٹلی ،جرمنی ، ہالینڈہی نہیں ہمارا ملک ہندوستان اورپڑوسی ممالک ایران ،پاکستان اورافغانستان بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں ۔
    آج مختلف رقص خانوں ،نائٹ کلبوں،حسن گاہوں ،بیوٹی پارلروں،مالش کدوں ،مساج سینٹروںاور ملاقات خانوں میںقحبہ گری ،بیسوائی ،ہم جنس پرستی اوراستلذاذ بالمثل کے باقاعدہ اڈے قائم ہوچکے ہیں۔
    جولائی ۱۹۶۷ء میںبھی برطانیہ کاچھ سو سال قدیم قانون ختم کرکے فریقین کی رضا مندی کے ساتھ ہم جنس پرستی کو قانوناً جائز قراردیدیا گیا ۔برطانوی تحقیقاتی کمیٹی (Wall fundan)نے اپنی رپورٹ میں سفارش کردی کہ ۱ ۲ ؍سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے ایسے فعل کو جرم نہ سمجھا جائے یہی نہیں لند ن کے مجسٹریٹوںاورججوں نے ہم جنس پرستی کی سفارش کردی چنانچہ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ،کلیسا سے عوام کو امید تھی کہ یہ ادارہ کوئی اہم کردار ادا کرے گا لیکن جب ہر جگہ ذہنی وفکری اورجسمانی عیاشیوں اورعیاشوں کی حکومت ہوجائے اورجہاں طاقت کو معیار تصور کرلیا جائے تو دلائل اپنی راہ لے لیتے ہیں،قانون اپنا بستر باند ھ لیا کرتا ہے ،کلیسا نے بھی اس فعل کو سند بے گناہی عطا کردی اوربالآخر۴؍جولائی ۱۹۶۷ء کو ہاؤ س آف کامنس ‘‘نے ۱۴؍مخالف اور۶۹؍موافق ووٹوں سے یہ بل منظورہوااور ۲۸؍جولائی ۱۹۶۷ء کو ملکہ معظمہ کے دستخط ہوکرقانون بنادیا گیا ۔
    معاشرے کی وہ حس تیزی سے کند ہوتی جارہی ہے جو کسی نازیبا حرکت پر آتش زیر پا ہوجایا کرتی تھی اوراس حرکت کے مرتکب کے خلاف احتجاج کی ایک تندوتیز لہر بن کر ابھرتی تھی ، یہی وجہ ہے کہ دور ِحاضرمیں لادینی قوتیں اپنے تمام تر مذموم ہتھکنڈوںکے ساتھ ہمارے گھرکی دہلیزپر ڈیراجمائے بیٹھی ہیں اورہماری سو چ کے دھاروںکو اپنی تعفن زدہ فکر سے آلودہ کرنے کے لئے مصروف کار ہیں ۔لمحہ فکریہ ہے کہ اگرہماری بے حسی کے باعث لادینیت کی ان بپھری ہوئی موجوںنے ہمارے گھروں کا مورچہ بھی سر کرلیا تو پھر آنے والی نسلوں کا خدا ہی حافظ ہے ۔ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب مغرب کے اس تہذیبی سیلاب کی کوئی تندوتیزلہرہمارے دل ودماغ سے ٹکراتی ہے تو بس انفرادی سطح پر کوئی اکا دکا صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے اوروہ بھی وقت کے ساتھ خاموش ہوجاتی ہے اورکاروبارزندگی پھر سے اپنی ڈگرپر رواں دواںہوجاتا ہے ۔
    روزنامہ پاکستان نے مؤرخہ۱۲؍اگست ۲۰۰۵ء کواپنے شمارے میں’’گندے نالے پر ایک اورگھر‘‘کے عنوان سے ایک خبرشائع کرکے ثابت کیاکہ مغربی تہذیب کے زیر اثر ہم جنس پرستی کی لہر باقاعدہ اورمنظم طورپرپاکستان میں بھی داخل ہوچکی ہے ،اس کار بد کو پاکستان میںفروغ دینے کے لئے چار سنٹرزقائم ہوچکے ہیں۔
    یہ چھوٹی عمر کے غریب بروس (پیشہ ور)ملتان میں بسوںکے اڈے ،شاہ رکن عالم کالونی،کھاد فیکٹری سے بھاول پورمظفرگڑھ بائی پاس،پوری ایل شیپ پٹی ہے جہاںٹین ایجر ز دستیاب ہوتے ہیں پولیس ،ٹرک ڈرائیورز، دوسرے شہروں سے آنے والے تاجر اورعیاش زمین داران سے براہِ راست رابطہ کرتے ہیں جب کہ پڑھے لکھے اورامیر تا جرنیٹ پر رابطہ کرتے ہیں اورہوٹلوںمیں ملاقاتیںکرتے ہیں۔
    قارئین !یہ ہے وہ طوفان جو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایشیائی ممالک میں پھیلایاجارہا ہے جب کہ اس کی روک تھام کے لئے نہ حکومتی سطح پر کوئی باقاعدہ پلاننگ کی گئی ہے اورنہ عوامی سطح پر ،اس قبیح عمل کے پھیلاؤکا ذمہ دار نام نہادمہذب معاشرہ ہے جس کو نہ صرف اپنی ہم جنس پرستانہ تہذیب پر فخر ہے بلکہ وہ اس شنیع فعل کو قانونی شکل دینے کے لئے بیتاب ہے ۔
    اس ضمن میں روزنامہ پاکستان میں ۳۱؍مئی ۲۰۰۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں۔
    ’’برازیل کے شہر ساؤپاؤلو میں ہم جنس پرستوںکا ایک بہت بڑا جلوس نکالاگیا جس میں بعض اندازوںکے مطابق تقریباً بیس لاکھ افراد نے حصہ لیا اگر یہ تعدادصحیح ثابت ہوئی تو یہ دنیا میں ہم جنس پرستوںکا سب سے بڑاجلوس ہوگا ، ہم جنس پرستوںکامطالبہ تھا کہ انہیں آپس میں شادی کا قانونی حق دی جائے ‘‘۔
    ایک دوسری خبرکے مطابق ہم جنس پرستوں کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ایک امریکی عدالت نے ان کو شادی کا قانونی حق دے دیا ہے ،ملاحظہ ہو۔
    ’’امریکی عدالت نے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دے دی ،نیویارک کی اسٹیٹ کو رٹ جج ڈورس لنگ کوہن نے اپنے فیصلے میں ہم جنس پرستوںکو شادی کا لائسنس جاری کرنے کا حکم دیا ہے ،اپنے فیصلے میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم جنس پرست بھی برابر کے بنیادی حقوق کے حامل امریکی باشندے ہیں اوران کو مخالف جنس کے شادی جوڑوںکی طرح تمام قانونی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں جب کہ ہم جنس پرستی کے مخالفین ایسی شادیوںکو روکنے کیلئے آئینی ترامیم کے حق میں ہیں ۔پانچ ہم جنس پرست جوڑوںنے جن کے بچے بھی ہیں، ریاستی عدالت میں اپیل کی تھی ۔(نوائے وقت لاہور۶فروری ۲۰۰۵ئ)
    تیسری خبرمیں کنیڈاکی اسمبلی کا ایک فیصلہ مذکورہے جو پارلیامنٹ نے تقریباً ۸۰؍فیصداراکین کی متفقہ رائے سے منظورکیا ۔
    ’’کنیڈاکی پارلیامنٹ نے مذہبی گروپوںاوراعتدال پسند سیاست دانوں کی مخالفت کے باوجود ملک بھر میں ہم جنس شادیوںکی اجازت کے قانون کی بھاری اکثریت سے منظوری دیدی ۔کنیڈا،بلجیم اورنیدرلینڈکے بعد دنیا کا تیسرا ملک ہے جس کی ۱۵۸رکنی پارلیامنٹ میں سے ۱۳۳؍ارکان پارلیامنٹ نے ہم جنس شادیوںکی اجازت کے بل کے حق میں ووٹ دیا ۔کنیڈاکے زیادہ تر صوبے پہلے ہی ہم جنس شادیوںکی اجازت دے چکے ہیں اورکنیڈامیں Gayاورلیزبئین جوڑوںکے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں عام خیال پایاجاتا ہے جہاں پر ان کی یونین پر پابندی ہے ،اقلیتی لبرل حکومت نے کہا کہ اس نے ملک کے دس صوبوںمیں سے آٹھ میں عدالت کی طرف سے ہم جنس شادیوںپر پابندی کو کنیڈاکے حقوق اورآزادی کے چارٹرکے منافی قرار دینے اورمسترد کرنے کے بعد قانون تیار کیاہے جسے پارلیامنٹ میں پیش کیا گیا اورپارلیا منٹ نے بھاری اکثریت سے اس قانون کو پاس کیا ہے ۔کنیڈاGayشادیوںاوردوسرے سماجی امورکے بارے میں لچک دارموقف رکھتا ہے جب کہ امریکہ میں صدر بش نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ ہم جنس شادیوںپر پابندی سے متعلق آئینی ترامیم کی حمایت کرے ‘‘۔ (روزنامہ پاکستان لاہور۔۳۰؍جون ۲۰۰۵ئ)
    ٹھیک اسی طرح ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی عدالت نے ہم جنس پرستی کوسندجوازفراہم کرکے اپنے فکری دھارے کوغلاظت خانے کی طرف موڑکریورپی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرڈالی۔
    نام نہاد مہذب دنیا کے قانون ساز اداروںاورعدلیہ کے ان ’’مبنی بر انصاف ‘‘قوانین اورفیصلوںکے متعلق اس کے سوا کیا کہاجاسکتا ہے کہ
    خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
    آئیے اس ناپاک اورخبیث عمل کے متعلق آسمانی تعلیمات کاجائزہ لے کر قانون الٰہی کے آئینے میں انسانیت کامستقبل دیکھنے کی کوشش کریں کیونکہ قانون الٰہی ہر قسم کے تغیر وتبدل سے ماورا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
    فَلَنْ تَجِدَلِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً وَلَنْ تَجِدَلِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَحْوِیْلاً (فاطر۴۳)’’اورتم اللہ کے قانون میںہرگزنہ کوئی تبدیلی پاؤگے اورنہ اس کا فیصلہ ٹل سکتا ہے ‘‘۔
    قرآن کریم میں مختلف قسم کی بد اعمالیوں اوربرائیوں میں ملوث افراد اوران برائیوں کو دیکھتے ہوئے ا ن کے بارے میں جانتے بوجھتے خاموش رہنے والوں کو بڑے عجیب انداز میں وعید سنائی گئی ہے ۔
    افأمن اھل القریٰ ا ن یاتیھم باسنا بیاتاوھم نائمون ۔اوأمن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون ۔افأمنوا مکر اللّٰہ فلا یأمن مکر اللّٰہ الا القوم الخسرون (اعراف ۹۷۔۹۹)
    کیا پھر بھی ان بستیوںکے باسی ا س بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمار ا عذاب رات کے وقت آپڑے اس حال میں کہ وہ سورہے ہوں ؟ اورکیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوںمیں مشغول ہوں ؟کیا پھر وہ اللہ کی پکڑسے بے خوف ہوگئے ہیں؟سو اللہ کی پکڑسے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہواورکوئی بے فکر نہیںہوتے ‘‘۔
    دین اسلام زندگی میں جنس کی اہمیت کوپوری طرح تسلیم کرتا ہے لیکن اس کی تسکین کیلئے اسلام نے نکاح کا پاکیزہ نظام عطا کیا ہے ،رشتہ ٔ ازدواج سے باہرمرد وعورت سے ہر قسم کے جنسی تعلق کو اسلام سخت ترین جرم قرار دیتا ہے جوموجب تعزیر ہے ۔جنس کے منحرف رویوںمیں سب سے بد ترین جرم ،مرد کا مرد سے غیر فطری جنسی تعلق یعنی ہم جنس پرستی (homesexuality)ہے لیکن افسوس کہ ’’مہذب ‘‘دنیاکی مختلف پارلیمنٹوںنے اس جرم کیلئے باقاعدہ سند جوازعطا کردی ہے ۔وہاںسماج کے ہر طبقے میں اس پرعمل کرنے والے موجود ہیں ،اسلام اس غیرفطری فعل کو سخت ترین جرم اورگناہ قرار دیتا ہے یہا ں تک کہ اس کے دستوراساسی قرآن کریم میں ایک جلیل القدر پیغمبرحضرت لوط علیہ السلام کی دعوت کااہم ترین نکتہ اس حرام کام کی اصلاح بیان کیا گیا ہے ۔
    قرآن کریم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنس پرستی کا آغازحضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا ، ان سے پہلے دنیا کی قوموں میں اس عمل کا عمومی معاشرتی سطح پر کوئی رواج نہ تھا ۔یہی بدبخت قوم ہے جس نے اس ناپاک عمل کو ایجاد کیا۔اس سے زیادہ شرارت ،خباثت اوربے حیائی یہ تھی کہ وہ اپنی اس بدکرداری کو عیب نہیں سمجھتے تھے بلکہ علی الاعلان فخر کے ساتھ اس کو سرانجام دیتے تھے اس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آیا ہے ۔
    ولوطااذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ ما سبقکم بھا من احدمن العالمین ۔انکم لتاتون الرجال شھوۃ من دو ن النساء بل انتم قوم مسرفون ۔(الاعراف ۸۱۔۱۸۰)
    (اوریاد کرو)لوط کاواقعہ جس وقت اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم اس کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہوجسے تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ، تم اپنی شہوانی خواہش کی تکمیل کے لئے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس آتے ہو۔یقیناتم حد سے گزرنے والے ہو‘‘۔
    قوم نے پیغمبروقت حضرت لوط علیہ السلام کی نصیحت کو سن کر ان کامذاق اڑایا اورشہر سے نکال دینے کی دھمکی دی اورستم بالائے ستم یہ کہ عذاب الٰہی کا مطالبہ خود اپنی زبانوں سے کردیا ۔قوم کے جواب کوقرآن کریم نے اس اندازمیں نقل فرمایا ہے ۔
    فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ائتنا بعذاب اللّٰہ ان کنت من الصادقین ۔(العنکبوت)
    (پس لوط کی قوم کاجواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے تو ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آاگر تو سچا ہے )
    چنانچہ اس عمل بد کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آیا ،قرآن میں مذکورہے ۔
    فلماجاء امرناجعلناعالیھا سافلہا وامطرناعلیہاحجارۃ من سجیل منضود،مسومۃ عندربک وماہی من الظلمین ببعید(ہود:۸۲،۸۳)
    پھرجب ہماراحکم آپہنچاتو ہم نے اس بستی کو زیروزبرکردیااوران پر کنکریلے پتھربرسائے جوتہ بتہ تھے ، تیرے رب کی طرف سے نشان دارتھے اوریہ بستی ان ظالموں سے کچھ دورنہیں ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے دومردوں کی بدکاری کی سزامزید واضح فرمادی۔
    والَّذٰنِ یَاتِیٰنِھَامِنْکُمْ فَاٰذُوْہُمَا۔(نسائ)
    تم میں سے جودومردبدکاری کریں ان کو سزاد و۔
    درج بالاآیات میں اللہ تعالیٰ نے اس عمل قبیح کا ارتکاب کرنے والے اوراس پر خاموش تماشائی بننے والوں کو متنبہ فرمایاہے کہ جیسے ہمارے عذاب کا کوڑا قوم لوط پربرسا،ایسے ہی تم لوگوں پر برس سکتاہے۔
    قوم لوط کی یہ بستیاں (سدوم وعمورہ)اردن میں اس جگہ واقع تھیں جہاں آج بحرمیت یابحرلوط واقع ہے ، یہاں پہلے سمندرنہیں تھا ،جب قوم لوط پر عذاب آیا اور زمین کا تختہ الٹ دیاگیااور سخت زلزلے اور بھونچال آئے تب یہ زمین تقریباً چارسومیٹرسمندرسے نیچے چلی گئی اور پانی ابھرآیا،اسی لئے اس کا نام بحرمیت یابحرلوط لوط ہے (قصص معارف القرآن)
    محققین کی تحقیقات کے مطابق اس سمندرمیں کوئی جاندارچیزحتیٰ کہ مچھلی بھی زندہ نہیں رہتی،یہاں کھدائی کے دوران عجیب وغریب قسم کے پتھرپائے گئے ہیں،اسی طرح اس سمندرکے پانی میں اگرغسل لیاجائے تو بہت دیرتک اس کے نمکیاتی اثرات اورعجیب وغریب قسم کی چپکاہٹ موجودرہتی ہے۔تفسیرسے واقف حضرات جانتے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشادجعلناعالیہا سافلہاکاواضح ثبوت یہ بھی ہے کہ یہ زمین سطح سمندرسے بھی چارسومیٹرنیچے ہے،اس لحاظ سے گویاسطح ارض کا سب سے پست علاقہ یہی ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے لعن اللّٰہ من عمل عمل قوم لوط(مسنداحمد)
    اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرتاہے جوقوم لوط کاعمل کرے۔
    ترمذی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد موجودہے ملعون من عمل قوم لوط(ترمذی ص ۲۷۰:ج۱)
    ملعون ہے وہ شخص جس نے قوم لوط کا عمل کیا۔
    ابن ماجہ اورترمذی میں ایک اورروایت ہے کہ
    ان اخوف مااخاف علی امتی عمل قوم لوط(ترمذی ص ۲۷۰:ج۱:ابن ماجہ،مسنداحمد،مستدرک حاکم)
    سب سے زیادہ خطرناک چیزجس کا مجھ کو اپنی امت پر خطرہ ہے وہ قوم لوط کا عمل ہے۔
    حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ
    اذااستحلت امتی خمساًفعلیہم الدمار:اذاظہرفیہم اتلاعن، ولبسواالحریر، والتخذوا القینات،وشربواالخمور،واکتفیٰ الرجال بالرجال والنساء بالنسائ۔(شعب الایمان للبیہقی)
    جب میری امت پانچ چیزوں کوحلال سمجھنے لگے گی تو ان پر تباہی نازل ہوگی۔
    (۱) باہمی لعن طعن عام ہوجائے گا۔
    (۲) مردریشمی لباس پہننے لگیں گے۔
    (۳) جب لوگ گانے بجانے والی اورناچنے والی عورتیں رکھنے لگیں گے۔
    (۴) شرابیں پینے لگیں گے۔
    (۵) لذت ہم جنس پرستی پرکفایت کی جانے لگے گی۔ (حسن پرستوں کا انجام ص۸)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ من اتی النساء فی اعجازہن فقدکفر۔(ترمذی)
    جس نے عورتوں سے وطی فی الدبرکی اس نے کفرکیا۔
    اسی طرح آپ کا ارشادہے
    من اتی حائضاً اوامراء ۃ فی دبرہااوکاہنافقدکفربماانزل اللّٰہ علی محمد(ترمذی)جو شخص حائضہ سے یااس کے دبرسے جنسی میلان پوراکرے یاکاہن کے پاس آئے تواس نے دین محمدسے انکارکیا۔
    علامہ نوویؒ لکھتے ہیں
    اتفق علماء الذین یعتدبہم علی تحریم وطی فی الدبرحائضاکانت اوطاہراً الاحادیث کثیرۃ مشہورۃ۔
    بہت سی احادیث مشہورہ کے پیش نظرقابل اعتمادعلماء کا اتفاق ہے کہ عورت سے وطی فی الدبرکرناخواہ حائضہ ہوخواہ پاک ،حرام ہے۔
    فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے کہ
    اللواطۃ بمملوکہ اومملوکتہ اوامرأتہ حرام۔
    لواطت چاہے اپنے غلام سے ہویاباندی سے یابیوی سے حرام ہے۔
    صاحب ردالمحتارنے لواطت کوعقلاً ،شرعاً اورطبعاًزناسے بھی اشدبتایاہے
    حرمتہااشدمن الزنالحرمتہاعقلاً وشرعاً وطبعاً۔(ردالمحتارعلی الدرالمختارص ۳۹ج ۶)
    ابن ماجہ میں ہے کہ
    عن ابی ہریرۃ ؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الذی یعمل عمل قوم لوط قال ارجمو الاعلیٰ والاسفل ارجموہماجمیعا۔(ابن ماجہ ص ۱۸۴)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاقوم لوط کے عمل کی سزاکے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ فاعل ومفعول دونوں کو رجم کردو۔
    شعب الایمان میں حضرت ابوہریرۃؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حرکت کرنے والے کے بارے میں فرمایاکہ اس کی صبح اللہ تعالیٰ کے غضب میں ہوتی ہے اور اس کی شام بھی اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہوتی ہے۔(شعب الایمان :۲؍۷۵۶)
    حضرت خزیمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقیناً اللہ تعالیٰ حق بات کوبتانے میں شرم نہیں کرتا،لہٰذاتم عورتوں کے پاخانہ کے مقام میں(مباشرت کیلئے )نہ جاؤ۔(شادی اور شریعت ص ۲۵۶)
    شرح السنۃ میں ہے کہ ان الذی یأتی امرأتہ فی دبرہالاینظراللّٰہ الیہ۔
    جوشخص اپنی بیوی کے پاس اس کی دبرکی طرف سے آتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظرنہیں فرمائیں گے۔
    قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعن اللّٰہ سبعۃ فی خلقہ فردرسول اللّٰہ علی کل واحدثلاث مرات ،ثم قال ملعون،ملعون ملعون من عمل عمل قوم لوط۔
    (مستدرک حاکم ص ۳۵۶ج۴،مجمع الزوائدص ۲۷۲ج۶)
    اللہ تعالیٰ کی سات مخلوق پر لعنت ہو،اللہ کے رسول نے ہرایک کو تین مرتبہ دہرایاپھرفرمایاکہ :ملعون ہے ، ملعون ہے،ملعون ہے جوقوم لوط کا عمل کرے۔
    حضرات صحابہ کرام میں سے حضرت ابوبکرصدیقؓ،علی مرتضیٰؓ،خالدبن ولیدؓ،عبداللہ بن زبیرؓ،عبداللہ ابن عباسؓ،خالدبن زیدؓ اورعبداللہ بن معمرؓکے علاوہ امام زہریؒ،ربیعہ بن عبدالرحمنؒ،امام مالکؒ،اسحاق بن راہویہؒ،امام احمدبن حنبلؒاورامام شافعیؒ ایسے شخص کے قتل کے حق میں ہیں،جب کہ عطابن رباحؒ،حسن بصریؒ،سعیدبن مسیبؒ،ابراہیم نخعیؒ،قتادہؒ،اوز۔اعیؒ،ابویوسف ؒاورامام محمدؒکہتے ہیں کہ جوسزازانی کی ہے وہی سزا لواطت کرنے والے کی ہے،،بہرکیف اس بات پرسبھی کا اتفاق ہے کہ ایسے مجرم کو کڑی سے کڑی سزادی جائے مثلاً آگ میںجلادیا جائے ، نیچے کھڑا کرکے اس کے اوپر دیوار گرادی جائے ،کسی پہاڑیابلند مقام سے اسے اوندھے منہ گرادیاجائے اوراس کے ساتھ ہی اس کے اوپر پتھروں کی بارش کردی جائے ،پتھر مارمار کرہلاک کردیاجائے،قیدخانہ میں ڈال دیاجائے یہاں تک مرجائے ،قتل کردیاجائے،کوڑے مارے جائیں،ہاتھی سے کچلوادیاجائے ، بدبودارجگہ میں قیدکردیاجائے وغیرہ وغیرہ۔(احسن الفتاویٰ وغیرہ)
    حضرت خالدبن ولیدؓکواطلاع دی گئی کہ ایک شخص لواطت کراتاپھرتاہے ،حضرت خالدؓنے حضرت صدیق اکبرؓ کولکھ کربھیجااور مشورہ چاہا،معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر ابوبکرؓنے مشاورتی بورڈکے سامنے یہ معاملہ رکھااس بورڈمیں حضرت ابوبکرکے علاوہ حضرت عمرفاروقؓ،علی مرتضیٰ ؓاوردیگراجل صحابہ شامل تھے،چنانچہ حضرت علی ؓنے فرمایاکہ چونکہ یہ قوم لوط کا عمل ہے اس لئے سخت سے سخت سزادی جائے اورآگ میں زندہ جلوادیاجائے،یہ رائے تمام صحابۂ کرام کو پسندآئی ،چنانچہ حضرت ابوبکرؓنے اس رائے سے حضرت خالدبن ولیدکو مطلع کیااور حضرت خالدؓ نے اس شخص کو گرفتارکرکے آگ میں جلوادیا۔
    حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جومردیہ پسندکرتاہے کہ اس کے ساتھ بدفعلی کی حرکت کی جائے تواللہ تعالیٰ اس کے اندرنسوانی شہوت پیداکرکے اس کو شیطان مردودبنادیتاہے۔ (الزواجر)
    حضرت ابن عباسؓفرماتے ہیں کہ لواطت کرنے والااگربغیرتوبہ کے مرجائے توقبرمیں خنزیربنایاجائے گا۔
    حضرت امام ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ یہ گندی حرکت جانوروں میں بھی سوائے خنزیروں کے کسی اور جانورمیں نہیں پائی جاتی ۔
    حضرت حمادبن ابراہیم ؒفرماتے ہیں کہ اگرکسی کودوبارسنگسارکیاجاسکتاتھا تویہ خبیث اس قابل تھے کہ انھیں دوبارسنگسارکردیاجائے۔
    حضرت مجاہدؒکامشہورقول ہے کہ لواطت کرنے والاآسمان وزمین کے تمام پانیوں سے غسل کرلے تو بھی پاک نہ ہوگا،نجس کانجس ہی رہے گا۔
    قرآن وحدیث کے علاوہ دیگر آسمانی کتب نے بھی اس عمل قبیح کی شدید مذمت کی ہے تو رات میں اس کی مذمت ان الفاظ میں آئی ہے ۔
    ’’اوراگر کوئی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کرتے ہیں تو ان دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے سووہ دونوں ضرورجان سے مارے جائیں ، ان کا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا ‘‘(احبار۲۰؍۱۳)
    قارئین کرام ! آپ نے درج بالادلائل وبراہین کی روشنی میں ہم جنس پرستی کے قبیح ہونے کے متعلق آسمانی تعلیمات کا مطالعہ کیا اوراس فعل بدکا ارتکاب کرنے والوں کے انجام سے باخبر ہوئے ، اب انصاف کا تقاضایہ ہے کہ آسمانی تعلیمات کا ہر حقیقی پیروکار ،خواہ وہ مسلمان ہو یاعیسائی یا یہودی اس عمل قبیح کی روک تھام کے لئے اپنی تمام تر کوششیںبروئے کار لائے تاہم جو لوگ خود کو آزاد خیال تصور کرتے ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ وہ انسانی معاشرے کی فلاح وبہبودکے لئے اس معاشرتی برائی کو جڑسے اکھاڑنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیںصرف کریں کیونکہ صرف اسی صورت میں ایک فلاحی انسانی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔
    ہم جنس پرستی جس طرح انسان کی روحانی زندگی کے لئے سم قاتل ہے ایسے ہی انسان کی جسمانی زندگی کے لئے بھی انتہائی نقصان دہ اورخطرناک ہے ،جدید طبی تحقیقات کے مطابق Aidsایک ایسی بیماری ہے جو اس بدچلنی کی وجہ سے پھیلتی ہے ،یہ ہمارے جسم کے دفاعی نظام کو کمزورکردیتی ہے ۔اس بیماری نے حال ہی میںان تمام ممالک میں تہلکہ مچادیا ہے جن میں ہم جنس پرستی اورفحاشی کو برا نہیں ما نا جاتا ہے اوراس بیماری کے وائرس کوLay Human lyphadenopathy virus کہاجاتا ہے ،اس بیماری کو اس وقت تک کنٹرول نہیں کیاجاسکتا جب تک اس فعل بد اورفحاشی کو ختم نہ کیاجائے لیکن افسوس صد افسوس ! اس برے عمل کو ختم کرنے کی بجائے مختلف NGOSکی طرف سے Safe Sexکے نام پر اس عمل کے نتیجے میں پیداہونے والی بیماریوں کو ختم کرنے کے لئے مختلف پمفلٹ تقسیم کئے جاتے ہیں اورمختلف ادویات متعارف کروائی جاتی ہیں تاکہ یہ عمل زیادہ ’’اچھے ‘‘اور’’مطمئن ‘‘انداز میں فروغ پاسکے ۔
    شاید دنیا اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ مختلف قسم کی ادویات سے ہم جنس پرستی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو کنٹرول کرکے اس فعل قبیح کی قباحت وشناعت کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ایں خیال است و محال است و جنوں
    safe sexکی اس مہم کے ذریعے سے نہ ہم جنس پرستی کی شناعت کم ہوگی اور نہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل میں کوئی کمی آئے گی ۔ایسا تو ممکن ہے کہ ادویات کے ذریعے کسی ایک بیماری کو کنٹرول کرلیا جائے لیکن جلد ہی اس سے بھی مہلک کوئی اوربیماری ظاہر ہوکر میڈیکل سائنس کے لئے چیلنج بن جائے گی کیونکہ جب تک بیماریوںکی جڑیعنی ہم جنس پرستی اورفحاشی اورعریانی کو معاشرے سے نہیں اکھاڑپھینکاجائے گااس وقت تک بیماریاں ظا ہر ہوتی رہیں گی ،اس ضمن میں مخبر صادق جناب نبی کریم ﷺکا فرمان ملاحظہ ہو۔
    لم یظھر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوابھا الامشی فیھم الطاعون والاوجاع التی لم تکن مضت فی اسلافھم الذین مضوا( ابن ماجہ )
    ’’جب کسی قوم میں فحاشی اورعریانی ظاہرہوجائے اوراس کو علانیہ کرنے لگے تو ان میں طاعون کی بیماری پھیل جائے گی اورایسی ایسی بیماریاں پیدا ہوں گی جو ان کے آباء واجدادمیںنہ تھیں‘‘۔
    درج بالاحدیث میں نت نئی بیماریوںکا بنیادی سبب فحاشی اورعریانی کو قرار دیا گیا ہے ، کاش ! ہمارے ارباب اقتدار کو بھی یہ بات سمجھ میں آجائے کہ نت نئی بیماریوںکو صرف ہسپتالوں،جدیدمیڈیکل ٹیوٹس یا میڈیکل ٹریننگ سنٹرزکے قیام کے ذریعے سے ختم نہیں کیا جاسکتا ،جب تک کہ بنیادی سبب ،عریانی وفحاشی کے خاتمہ کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے ۔
    ہم جنس پرستی کی لعنت نے جدید نام نہاد مہذب دنیا میں کیا تہلکہ مچایا ہے ، ان کااندازہ ایک امریکی اداکارراک ہڈسن کے درج ذیل واقعے سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے ۔
    راک ہڈسن ایک امریکی اداکار تھا وہ بڑا خوبصورت اورجوان تھا ،بہت بڑا ایکٹر تھا اورکروڑوںمیں کھیلتاتھا ، اس کی بنیادی دلچسپی ہم جنسیت سے تھی اوروہ غیر فطری افعال کا مرتکب ہوتا رہتا تھا ، اس نے رواج کے مطابق شادی بھی کی ، چونکہ جنس مخالف سے اسے کوئی دلچسپی نہ تھی اس لئے وہ شادی جلد ہی ختم ہوگئی ، اس نے غیر فطری افعال کے لئے اپنے ہی متعدد افراد سے جنسی تعلقات رکھے ہوئے تھے جن میں سے کسی سے اسے ایڈزکی بیماری لاحق ہوگئی ،بیماری کی تشخیص کے بعد وہ تقریباً تین سال زندہ رہا مگر تین سال ایک عام زندگی کے نہ تھے ، وہ اکثر بیماررہتا تھا ،اس کے وزن میں چالیس پونڈ کمی آگئی ،بات چیت کے دوران بھی اسے سانس چڑھ جاتا تھا ،اسے روزانہ نت نئی تکالیف گھیرتی رہتیں ، جب وہ سیر کیلئے پیرس گیا تو اس کی حالت زیادہ خراب ہوگئی ، وہاںاسے ایک ایسے ہسپتال میں داخل کیا گیا جو صرف ایڈزکا علاج کرتا تھا لیکن وہاں پر صرف فرانسیسی مریض داخل کئے جاتے تھے ، امریکا کے صدر کی اہلیہ (نینسی ریگن) نے فرانس کے صدرسے ذاتی التماس کی اورراک ہڈسن اس خصوصی شفاخانہ میں داخل ہوا ،کافی عرصہ زیر علاج رہنے کے بعد وہ جان کنی کی کیفیت میں امریکا لایا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوئی ، اس کی رفیقہ کار الزبتھ ٹیلرنے اس کی موت پر ایڈزکے خلاف تحقیقاتی کام کرنے والے ڈاکٹروںکے لئے فنڈ میں چالیس لاکھ ڈالر جمع کرکے دئے ، اس کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد ایک نوجوان نے امریکی عدالت میں دعوی کیا کہ راک ہڈسن کے اس کے ساتھ غیر فطری تعلقات رہے ہیں ،چونکہ راک ہڈسن ایڈزسے مرا ہے اس لئے اندیشہ موجود ہے کہ مدعی کو بھی غالباً ایڈزہوجائے گا ، اس لئے عدالت اسے راک ہڈسن کی جائیداد میںسے ہرجانہ دلوائے ۔عدالت نے مدعی کی ذہنی اذیت اوردہشت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو چارلاکھ ڈالربطور ہرجانہ اورمعاوضہ دلوائے ۔(امراض جلد اورعلاج نبوی ﷺ ڈاکٹرمحمود غزنوی )
    یہ تو صرف ایک واقعہ ہے ،نہ جانے ہم جنس پرستی کی اس لعنت نے کتنے لوگوںکی زندگی اجیرن بنادی ہے ، ان تکلیف دہ حالات میں ہر مسلمان کی خصوصی اوردرد دل رکھنے والے اورانسانیت کی فلاح وبہبودکے متمنی افراد پر یہ عمومی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے دائرہ کار میں انفرادی واجتماعی سطح پر ہم جنس پرستی کے نقصانات کو اجاگر کرکے اس کے خلاف بھرپورکردار ادا کریں ،اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔
    (۱)قومی اخبارات ،رسائل وجرائد،خصوصاً مذہبی رسائل ہم جنس پرستی کے متعلق آسمانی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کریں،جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قلم کی قوت عطا فرمائی ہے وہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کے ذریعہ سے ہم جنس پرستی کے خلاف بھرپورآواز بلند کریں ۔
    (۲)وارثان منبر ومحراب اپنے دروس،جمعہ کے خطبات اورنجی محافل میں عوام کو ہم جنس پرستی کے تصور،اس کے آغاز،اس کے نقصانات اوراس کے نتیجے میں قوم لوط کی تباہی وبربادی کے متعلق آگاہ کریں اورانہیں اخلاقی طورپرآمادہ کریں کہ وہ اپنے نونہالوںکو جو کہ ان کا بھی اوروطن کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا بھی مستقبل ہیں ،بلیرڈ گیمزکی دوکانوں ،ویڈیوگیمزکے مراکز،سنوکرکلبوں،تھیٹرز،منی سنیماز اوردیگرایسے مقامات میں جانے سے روکیں جہاں ہر طبقے ،ہر عمر اورہر مزاج وفطرت کے لوگ جمع ہوکر مختلف قسم کے گیمزکھیلتے ہیں ۔
    (۳)تعلیمی درسگاہوں میں طلبہ کی فکری تربیت کرتے ہوئے انہیں ہم جنس پرستی کی حقیقت اوراس کے دینی ودنیاوی نقصانات سے روشناس کرائیں ،یہ بات یقینی ہے کہ مختلف (NGOS)کی طرف سے کی جانے والی کوششوںکے مقابلے میں تعلیمی اداروں کی تھوڑی سی کاوش بھی بہترین نتائج کاباعث بنے گی ۔
    (۴)جدو جہد کا ایک دائرہ کار یہ بھی ہے کہ حضرت لوط کی قوم کی تباہی کا مکمل قرآنی واقعہ ،اس برائی کی مذمت میں مذکوراحادیث نبویہ ،اس برائی کے روحانی اورطبی نقصانات کو کتابچے کی صورت میں شائع کرواکر عامۃ الناس میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا جائے ۔
    امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو آسمانی تعلیمات کی حقانیت وصداقت پر یقین رکھتا ہے اور ہر وہ شخص جو انسانیت کی فلاح وبہبود کا حامی ہے ، اسے اس برائی کے خلاف اپنا پورا کردارادا کرنا چاہے ۔
    قارئین !آخر میں ہمیں کچھ وقت کے لئے پوری قوت فکر کو مجتمع کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ کہیں بحر لوط کی کوئی طوفانی لہر پھرانسانیت کا پیچھا تو نہیں کررہی ؟ کہیں سنامی طوفان اسی کا نتیجہ تو نہیں ہے ،کہیں دورِ حاضر میںمعیشت کی تباہی اسی کا ثمرہ تو نہیں ؟یہ سوچتے ہوئے یہ فرمان الٰہی بھی پیش نظر رہے :وما ھی من الظلمین ببعید(سورہ ہود )اورقوم لوط کی یہ (تباہ وبربادہونے والی )بستی ان ظالموںسے دورتو نہیں ‘‘۔
    مزید معلومات کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔
    العفۃ
    لہیب الشھوات
    والذین ھم لفروجھم حافظون
    سدذرائع الزنا
    التدابیر الواقیۃ من الزنا
    اسلام کا نظام عفت
    پردہ
    حیاء اورپاکدامنی
    تحفہ ٔ عصمت
    تحفۂ عفت وعصمت
    مملکۃ العفاف
    اسلام کا نظام عفت وعصمت

    ٭٭٭
  2. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,470
    موصول پسندیدگیاں:
    409
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  3. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    افسوس! یہ وبا مسلم ممالک میں بھی سرایت کر چکی ہے، علمائے کرام کو کچھ کرنا چاہیے، ورنہ انجام کیا ہو گا؟ معلوم ہے۔۔۔
    اس خبیث و ملعون و خلافِ فطرت فعل پر جتنی مذمت کی جائے کم ہے، افسوس! مسلمان حکمرانوں اور وزیروں کی سرپرستی میں ہم جنس پرستی کے ادارے چل رہے ہیں، اور اس کی مشہوری مختلف شکلوں میں کی جا رہی ہے دجالی میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جا رہاہے۔
    علمائے اُمت کی جانب سے ویسی تحریک شروع نہیں ہو رہی جیسی ہونی چاہیے، اور یہ ملعون بیماری تیزی سے اسلامی معاشرے میں پھیلتی جا رہی ہے۔ علمائے اُمت کی خدمت میں التماس ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہونے کی حیثیت سے کچھ اقدام اُٹھائیے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں