ایک ہاتھی کا دلچسپ واقعہ

'حیات الحیوان' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 18, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,335
    موصول پسندیدگیاں:
    1,317
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    ایک ہاتھی کا دلچسپ واقعہ​

    ہاتھی کے تذکرے میں بعض دلچسپ واقعات کا بھی لوگوں نے تذکرہ کیا ہے ۔مثلا بزرگ بن شہر یار نے یہ روایت درج کی ہے کہ:
    بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ہندوستان کے ایک شہر میں اس نے ایک ہا تھی کو دیکھا تھا جو اپنے مالک کے تمام ضرورتوں کو انجام دیا کرتا تھا ،اس کا مالک روز آنہ اس زنبیل کو ہاتھی کے حوالہ کر دیا کرتا تھا ،جس میں بازار سے ضرورت کی چیزیں آنی تھیں ،اسی زنبیل میں وہ کو ڑیاں رکھ دیا کرتا تھا کہ ان لوگوں کے یہاں بطور سکے کے کوڑیوں کا ہی رواج ہے اور کوڑیوں کے ساتھ ان چیزوں کے نمونے بھی اس زنبیل میں رکھ دیے جاتے تھے جن کا منگوانا مقصود ہو تا ۔خواہ کچھ ہو ہاتھی اس زنبیل کو لے کر بنئے کی دکان پر آتا ، بنیا ہاتھی کو دیکھتے ہی اپنے سارے کارو بار چھوڑ کر ہاتھی کے پاس آجاتا کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو ،کسی قسم کا گاہک بنئے کے سر پر کھڑا کیوں نہ ہو لیکن اس وقت ہا تھی کے سوا کسی کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا تھا اور زنبیل کو اس سےلیکر کو ڑیوں کو گنتا اور ان نمونوں کو دیکھ لیتا ۔ پھر اس کی دکان میں بہتر سے بہتر چیز ان نمونوں کی جو ہوتی انھیں زنبیل میں رکھ دیتا اور اس کا خیال رکھتا کہ کم سے کم بھاؤ میں چیزیں ہاتھی کی زنبیل میں رکھی جائیں ۔اور ہاتھی اگر اضافہ پر اصرار کرتا تو چپکے سے اس اضافہ کو بھی زنبیل کے سپرد کر دینا ضروری خیال کرتا تھا، کبھی بنیا کوڑیوں کے گننے میں اگر غلطی کرتا تو ہا تھی اپنی سونڈ سے گڑ بڑ مچانے لگتا ، مجبورا کو ڑیوں کو بنیا پھر گنتا اور ہا تھی چیزوں کو لے کر اپنے مالک کے گھر واپس ہو تا ۔ اگر اتفاق سے ہاتھی کی لائی چیز کو مالک کچھ کم خیال کرتا ہاتھی کو چند دھول رسید کرتا ۔ بیچارہ ہاتھی اسی وقت بنئےکی دکان کی طرف واپس لوٹ کر سونڈ سے اس کی دکان کی چیز کو بکھیرنے اور الٹ پلٹ کرنے لگتا ۔بنئے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ یا تو حسب مرضی چیز کا اضافہ کرے یا اس کی کوڑیاں گن کر واپس کردے ۔

    اس ہا تھی میں یہ کمالات بھی تھے کہ وہ مالک کے گھر میں جھاڑو بھی دیتا ، پانی چھڑکتا ، اور چاول بھی کوٹتا ، یعنی سونڈ میں موسل لے کر چاول پر ضرب لگا تا ۔ایک آدمی اس کے سامنے دھان کو جمع کرتا جاتا اور اس کو کوٹتا جاتا تھا اسی ہاتھی پر پا نی بھی اس کا مالک منگوایا کرتا تھا ، جس کی صورت یہ ہو تی کہ اپنے سونڈ میں ڈول رسی کے ساتھ ہا تھی لے جاتا اور کنوے سے بھر کر مالک کے گھر پا نی پہنچاتا ،الغرض اپنے مالک کی تمام ضرورتیں یہی ہا تھی پو ری کیا کرتا تھا اور علاوہ اس کے جب سواری کی ضرورت ہو تی تو اس کا مالک اس کام کو بھی اس سے لیا کرتا تھا ، دور دراز مشکلات کا سفر اس پر کیا کرتا تھا ،ہاتھی خود اپنے لیے چارہ اس طرح لاتا کہ ایک بچہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ جاتا اور اس کو لے کر ہاتھی جنگل جاتا سونڈ سے جنگل کی گھاس اکھاڑ کر درختوں کے پتے توڑ توڑ اس بچہ کے حوالے کرتا وہ اس کی پیٹھ پر جمع کرتا یہی گھا س اور پتے اس ہاتھی کی خوراک تھی ۔
    اسی روای کا بیان ہے کہ:"اس قسم کے سدھائے ہو ئے ہا تھیوں کی قیمت دس دس ہزار درم تک ہو تی ہے " (بزرگ شہر بن شہر ؃۱۰۵؃)ہزار سال پہلے

اس صفحے کو مشتہر کریں