تاریخِ اسلام انصاف اور معدلت کا ایک بے مثال واقعہ

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از زوہا, ‏جون 22, 2011۔

  1. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    سلطان محمد شاہ تغلق کا دورِ حکمرانی (۱۳۲۵-۱۳۵۱ء) ہندوستان کی رعایا کے لئے حرمان نصیبی اور مصائب وآلام کا دور رہاہے۔ اگرچہ محمد شاہ تغلق نے انتظامی اور مالی لحاظ سے ایک مضبوط سلطنت ورثے میں پائی تھی لیکن اس کی حماقتوں اورشاہ خرچی کی وجہ سے چند سالوں کے اندر اندر ہی خزانہ عامرہ خالی ہوگیا اور خوشحال سلطنت پر افلاس کے بادل منڈلانے لگے۔
    محمد شاہ تغلق عربی اورفارسی کا زبردست عالم تھا ، مروّجہ علوم طبیعات ، ریاضیات پر بڑی دسترس رکھتا تھا۔ علم طب میں ید طولیٰ کا حامل تھا اس کے علاوہ اونچے درجے کا ادیب وشاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کا بہترین خطاط بھی تھا لیکن علم وآگہی نے کسی بھی طرح محمد شاہ تغلق کے دل میں مودت ورحمت کا جذبہ پیدا نہ کیا۔
    عالم وفاضل ہونے کے باوجوداس کی طبیعت ہر وقت خونریزی او رقتل وغارت گری پر آمادہ رہتی تھی۔مشکل سے ہی کوئی دن ایسا گزرتا تھا جب بادشاہ کے دروازے پر کسی کو قتل نہ کیا جاتا تھا۔ معمولی معمولی خطاوں پر لوگوں کو ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلوادیاجاتا۔
    محمد شاہ تغلق اتنا سفاک تھاکہ زندہ جسموں سے کھال اتار کراس میں بھوس بھروادیتا۔ سنگدلی اور سفاکی میں اپنے پرائے میں بھی کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔ اس نے اپنے سگے بھائی مسودخان کو بے رحمی سے قتل کرایا اور اس کی لاش بازار میں پھینکوا دی۔ تین روز تک مسعود خان کی لاش بے گور وکفن پڑی رہی۔
    محمد شاہ تغلق ہر ہفتے کسی نہ کسی عالم ، فاضل ،مفتی ، قاضی یا صوفی کو ضرور موت کے گھاٹ اتار دیتا۔ جب محمد شاہ تعلق نے دِلّی کی بجائے دولت آباد(دکن)کوپایہ تخت بنانے کا ارادہ کرلیا تو دلّی والوں کو حکم ہوا کہ جلد از جلد دلّی خالی کرکے دولت آباد میںجابسیں۔ دلّی والوں نے لیت ولعل سے کام لیا تو حکم ہواکہ تین دن کے اندر اندر دلّی کو خالی کیا جائے اس کے بعد جو شخص بھی دلّی میں ملے گا اس کو قتل کردیا جائے گا۔
    دلّی کے اکثر لوگوں نے اپنا ساز وسامان چھوڑکر دلّی سے فرار اختیار کیالیکن کچھ معذور اور مجبور لوگ پھر بھی دلّی میں پڑے رہ گئے۔ بادشاہ نے ان کو گرفتار کرکے سخت سزائیں دیں۔پسماندگان میں ایک نابینا شخص بھی تھا۔ اس کے لئے حکم دیا کہ اس کی ایک ٹانگ میں رسّی باندھ کر اسے دولت آباد گھسیٹ کر لے لیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی ،راستے میں نابینا کے جسم کے پرخچے اڑگئے اور رسّی کے ساتھ بندھا صرف ایک پاوں ہی دولت آباد پہنچ سکا۔ اس کے بعد دلّی بالکل ویران ہوگئی۔
    سلطان محمد شاہ تعلق شام ڈھلنے کے بعد محل کے بالاخانے پر چڑھ گیا اور شہر کے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ جب دیکھاکہ نہ کہیں دھواں اٹھ رہاہے اور نہ ہی کہیں روشنی نظر آرہی ہے تو کہا
    ”اب میرے جگر کو ٹھنڈک پہنچ گئی “۔
    کچھ عرصہ کے بعد سلطان کو احساس ہوا کہ دلّی کو ویران کرکے اس نے حماقت کی اور پھر دلّی کو دوبارہ آباد کرنے کی کوشش بھی کی لیکن دلّی عرصہ دراز تک آباد نہ ہوسکی۔ یہاں تک یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ محمد شاہ تغلق کی حماقتوں کا سلطنت کشمیر پرکوئی اثر نہ ہوا کیونکہ کشمیر ان دنو ں بھی ایک آزاد اور مضبوط خودمختار سلطنت تھی۔ محمد شاہ تغلق کی حماقتوں او رسفاکیت کے نتیجے میں ملک ہند کے کونے کونے میں بغاوتوں نے سرا ٹھایا۔
    کئی مسلم وغیر مسلم عمال نے رعایا کو بادشاہ کے خلاف اکسانا شروع کردیا۔ بعض صوبوں کے امراء نے ہندوستان کی مرکزی حکومت سے الگ ہو کر خودمختار ی کا اعلان کردیا۔محمد شاہ تغلق کی تقریباً ساری زندگی ان بغاوتوں کودبانے کی نذر ہوگئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد شاہ تغلق نے فوج کشی کرکے بہت سے باغی حکومتوں کی بساط الٹ دی لیکن کچھ خودمختار سلطنتیں اپنا علیحدہ وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ انہی میں سے ایک (متحدہ) سلطنت بنگال بھی ہے۔
    بنگال کی خودمختار مسلم سلطنت کا بانی سلطان شمس الدین بھنگرہ تھا۔ جس نے ۱۳۴۲میں سارے بنگال (آج کے بنگلہ دیش اورمغربی بنگال وغیرہ) پر قبضہ کرکے اسی سلطنت کی داغ بیل ڈالی۔ سلطان شمس الدین بھنگرہ نے سولہ سال تک حکومت اور 1357ء میں اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا سلطان سکندر شاہ تخت پر بیٹھا۔ سلطان سکندر شاہ کے انتقال پر 1366ء میں اس کا فرزند سلطان غیاث الدین تخت شاہی کا وارث ٹھہرا۔
    سلطان شمس الدین بھنگرہ اور سلطان سکندر شاہ اوسط درجے کے حکمران رہے ہیں۔یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ اس دورکے اوسط درجے کے مسلم حکمرانوں کے ساتھ آج کل کے نام نہاد چنے گئے حکمرانوں کا کسی طور بھی تقابل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
    رشوت نام کی کوئی چیز محمد تغلق جیسے سفاک حکمران کے دور میں بھی نہ تھی۔ مذاہب کے نام پر بھید بھا اور فسادات کا کوئی تصور نہیں تھا۔ رعایا کی معصوم لڑکیوں کی عصمت ریزی کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا اور غیر مسلح بزرگوں اور خواتین کو جیلوں میں ٹھونسنے کا رواج نہیں تھا)۔
    سلطان غیاث الدین کا دور حکمرانی(1366ء تا1377ء )بنگال کی مسلم سلطنت کا سنہری دور تھا۔ سلطنت میں ہر طرح امن وامان اور خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ سلطان غیاث الدین اعلیٰ پایہ کا منتظم ، عالم باعمل ، زاہد بے ریااور جودوسخا کا پیکر تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سلطان دفاع سلطنت سے ہرگز غافل نہ تھا۔ موقع بہ موقعہ جنگی مشقوں کا انعقاد بھی سلطان کے طریق جہانبانی میں شامل تھا۔ ایک دن تیز اندازی کی مشق ہورہی تھی۔ سلطان نے بھی نشانہ باندھ کر کئی تیر چھوڑے ، ناگاہ ایک تیر کا نشانہ خطا ہوگیا اور یہ تربیتی احاطے سے باہر جاگرا۔
    اتفاق سے یہ تیر ایک غریب عورت کے بچے کو لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔سلطان کو اس حادثے کی خبر نہ ہوئی اور مشق مکمل ہونے کے بعد تھکا ماندہ اپنے عملے کے ساتھ قصر شاہی کی طرف کوچ کرگیا۔ قاضی شہر (City Judge) قاضی سراج الدین دن بھر کی عدالتی کام کاج کو سمیٹ کر اٹھنے ہی والے تھے کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک کمزور خاتون حاضر ہوگئی اور قاضی صاحب سے فریاد کی کہ ”قاضی صاحب ، میں ایک بیوہ ہوں بادشاہ کے تیر سے میرا لخت جگر ابدی نیند سوگیا، ازروئے قانونِ شریعت میری داد رسی کیجئے “۔
    قاضی صاحب کچھ دیر کسی سوچ میں پڑ گئے اور پھر ایک درہ مسند قضا کے نیچے چھپا کررکھ دیا۔ جوابِ دعویٰ کے ساتھ حاضر ہونے کے لئے سلطان کے نام سمن (Summon)جاری کردیا۔ عدالت کے حکم کی تعمیل کرانے کے لئے ایک پیادے کو روانہ کردیا۔ پیادہ قصر شاہی کے حدود میں داخل ہوا تو اس کو اندازہ ہواکہ بے پناہ مصروفیت کے باعث اس وقت بادشاہ تک رسائی آسان نہیں ہے۔
    پیادے نے بلند آواز سے اذان دینی شروع کردی۔ بے وقت اذان سن کر بادشاہ نے موذن کو دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ موذن کو حاضر کیا گیا تو بادشاہ نے بے وقت اذان کی وجہ دریافت کی۔ پیادے نے عدالت کا پروانہ پیش کردیا اور کہا ”مجھے سلطان کو محکمہ عدلیہ میں حاضر کرنے کا حکم ملاہے۔ مجھے اندازہ ہواکہ قصر شاہی کا عملہ اس وقت سلطان تک رسائی نہ دے گا ، اس لئے یہ حیلہ اختیار کیا۔ سلطان فوراً اٹھا ایک چھوٹی سی تلوار بغل میں چھپا کر عدالت کی طرف چل پڑا۔
    قاضی سراج الدین کے سامنے پیش ہوا، قاضی صاحب نے تعظیم توکجا سلطان کی طرف التفات تک نہ کیا۔جیسے کہ اس کو جانتے ہی نہ تھے۔فریقین کے بیان لئے اور فیصلہ صاد رکیا۔ سلطان غیاث الدین پر قتل کا جرم ثابت ہوگیا ،از روئے قانون شر یعت سلطان کو قصاص میں قتل کرنے کی سزا سنائی جاتی ہے۔ البتہ سلطان کو موت وزیست کا فیصلہ مشتغاثہ کی مرضی پر منحصر ہے۔
    سلطان غیاث الدین نے ملزموں کے کٹہرے میں اپنے خلاف سنائی گئی سزائے موت کو سر جھکائے تسلیم کیا۔ یہ منظر دیدنی تھا، سلطان ایک لاچار ملز م کی حیثیت سے محکمہ عدلیہ میں اس پرندے کی طرح بے یار ومددگار تھا جسے ذبح کرنے کی غرض سے کسی پنجرے میں بند کردیا گیا ہو۔ مستغاثہ ممتا کی ٹیس کی وجہ سے سلطان پر خشمگیں نظریں گاڑی ہوئی تھی۔ سب کو لگاکہ سلطان اب تھوڑی دیر کا مہمان ہے اور جر م کی پاداش میں اس پر حد شرعی لاگو ہونے والی ہے۔
    اِدھر قاضی صاحب فیصلہ سنانے کے بعد اس انتظار میں تھے کہ اگر فریقین کے بیچ شریعت میں دی گئی رعایت کے پیش نظر کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو ٹھیک نہیں تو سورج ڈوبنے سے پہلے سلطان کو جلاد کے حوالے کردیا جائے۔ سلطان کی لاچاری اور کسمپرسی کو دیکھ کر یکایک خاتون کا دل بھرآیا اور اس نے خون بہا کے عوض سلطان کو موت کے بےرحم شکنجے سے چھڑانے کا فیصلہ کیا۔ قاضی صاحب کو اطلاع دی گئی کہ مستغثہ سلطان کی جان بخشی کے لئے تیار ہوگئی ہے۔
    قاضی صاحب نے مستغثہ سے پوچھا ” کیا تو راضی ہوگئی ؟“ جواب ملا ” سلطان کی لاچاری دیکھ کر میں نے اس کی جان بخشی کافیصلہ کرلیا “۔ پھر دریافت کیا ”کیا اس عدالت سے تو نے داد پائی “۔ مستغثہ نے جواب دیا ” قاضی صاحب میں آپ کی عدالت سے بھر پور داد پائی “۔ مقدمے سے فراغت کے بعد قاضی سراج الدین نے خندہ پیشانی سے سلطان کی تعظیم کی اور اس کو مسند پر بٹھایا۔
    سلطان نے بغل میں چھپائی ہوتلوار نکالی اور بولا ”قاضی صاحب میں شریعت کی پابندی کی خاطر آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اگر آپ قانونِ شریعت کی سرمو خلاف ورزی کرتے تو اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا۔ خدا کاشکر ہے کہ آپ نے منصب قضا کا پورا حق ادا کردیا“۔ ر قاضی سراج الدین نے مسند کے نیچے چھپایا ہوا درہ نکالا اور فرمایا” اے سلطان! اگر آ ج آپ شریعت کی حد سے ذرا بھی تجاوز کرتے تو اس درے سے آپ کی کھال اتار دیتا....آج ہم دونوں کے امتحان کا دن تھا“۔
  2. محمد شہزاد حفیظ

    محمد شہزاد حفیظ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,102
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Saudi Arabia
    مفید معلومات پر آپکا بہت بہت شکریہ

    جزاک اللہ
  3. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,498
    موصول پسندیدگیاں:
    22
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

    الله يجزاكِ كل خير و بارك الله فيكِ ....
  4. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,100
    موصول پسندیدگیاں:
    336
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
  5. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,062
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    اک یہ مسلمان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اک آج کے ہم مسلماں

اس صفحے کو مشتہر کریں