تعوذ

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏اکتوبر 21, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    504
    صنف:
    Female
    مسئلہ : تعوذ پڑھنا واجب یا مستحب ؟

    جمہور علماء کا قول ہے کہ اعوذ پڑھنا مستحب ہے، واجب نہیں کہ اس کے نہ پڑھنے سے گناہ ہو۔ عطاء بن ابورباح کا قول ہے کہ جب کبھی قرآن پڑھے استعاذہ کا پڑھنا واجب ہے۔ خواہ نماز میں ہو، خواہ غیر نماز میں، امام رازی نے یہ قول نقل کیا ہے۔

    ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ پڑھ لینے سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے۔ عطاء رحمہ اللہ کے قول کی دلیل آیت کے ظاہری الفاظ ہیں کیونکہ اس میں «فَاسْتَعِذْ»، امر ہے اور عربیت کے قواعد کے لحاظ سے امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر ہمیشگی کرنا بھی وجوب کی دلیل ہے اور اس سے شیطان کا شر دور ہوتا ہے اور اس کا دور کرنا واجب ہے اور جس چیز سے واجب پورا ہوتا ہو، وہ بھی واجب ہو جاتی ہے اور استعاذہ زیادہ احتیاط والا ہے۔ وجوب کا طریقہ یہ بھی ہے۔

    بعض علما کا قول ہے کہ اعوذ پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر واجب نہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ سے یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ فرض نماز میں اعوذ نہ پڑھے اور رمضان شریف کی اول رات کی نماز میں اعوذ پڑھ لے۔

    مسئلہ : تعوذ پڑھنے کا وقت اور مقام

    امام شافعی رحمہ اللہ ”املا“ میں لکھتے ہیں کہ اعوذ زور سے پڑھے اور اگر پوشیدہ پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں اور ”ام“ میں لکھتے ہیں کہ بلند اور آہستہ پڑھنے میں اختیار ہے اس لئے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوشیدہ پڑھنا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اونچی آواز سے پڑھنا ثابت ہے۔

    پہلی رکعت کے سوا اور رکعتوں میں اعوذ پڑھنے میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔ ایک مستحب ہونے اور دوسرا مستحب نہ ہونے کا اور ترجیح دوسرے قول کو ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

    صرف «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» کہہ لینا امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک تو کافی ہے لیکن بعض کہتے ہیں «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ الشَّيْطَانِ إِنَّاللَّهِ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» پڑھے۔ ثوری اور اوزاعی کا یہی مذہب ہے۔ بعض کہتے ہیں «فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ» پڑھے تاکہ آیت کے پورے الفاظ پر عمل ہو جائے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث پر عمل ہو جائے جو پہلے گزر چکی۔ لیکن جو صحیح حدیثیں پہلے گزر چکیں وہی اتباع میں اولیٰ ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

    نماز میں اعوذ کا پڑھنا ابوحنیفہ اور محمد رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک تو تلاوت کے لئے ہے اور ابویوسف کے نزدیک نماز کے لئے ہے، تو مقتدی کو بھی پڑھ لینا چاہئے اگرچہ وہ قرأت نہیں پڑھے گا اور عید کی نماز میں بھی پہلی تکبیر کے بعد پڑھ لینا چاہئے۔ جمہور کا مذہب ہے کہ عید کی تکبیر کل کہہ کر پھر اعوذ پڑھے پھر قرأت پڑھے۔

    اعوذ میں عجیب و غریب فوائد ہیں۔ واہی تباہی باتوں سے منہ میں جو ناپاکی ہوتی ہے وہ اس سے دور ہو جاتی ہے اور منہ کلام اللہ کی تلاوت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس میں اللہ تعالیٰ سے امداد طلب کرنی ہے اور اس کی عظیم الشان قدرتوں کا اقرار کرنا ہے اور اس باطنی کھلے ہوئے دشمن کا مقابلہ ہو سکتا ہے۔ احسان اور سلوک سے اس کی دشمنی دفع ہو سکتی ہے جیسے کہ قرآن پاک کی ان تین آیتوں میں ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہیں۔ اور جگہ ارشاد الہٰی ہے «إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَىٰ بِرَ‌بِّكَ وَكِيلًا» [17-الإسراء:65] ‏‏‏‏، یعنی ” میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں “۔ رب کی وکالت (‏‏‏‏ذمہ داری) کی نفی ہے۔ اللہ تعالی نے دشمنان اسلام کے مقابلہ میں اپنے پاک فرشتے بھیجے اور انہیں نیچا دکھایا۔ یہ یاد رکھنے کے قابل امر ہے جو مسلمان کافروں کے ہاتھ سے مارا جائے، وہ شہید ہے لیکن جو اس باطنی دشمن شیطان کے ہاتھ سے مارا جائے وہ راندۂ درگاہ ہے۔ جس پر کفار غالب آ جائیں وہ اجر پاتا ہے لیکن جس پر شیطان غالب آ جائے وہ ہلاک و برباد ہوتا ہے۔ چونکہ شیطان انسان کو دیکھتا ہے اور انسان اسے نہیں دیکھ سکتا، اس لئے قرآنی تعلیم ہوئی کہ اس کے شر اس کی یاد کے ذریعہ پناہ چاہو اسے دیکھتا ہے اور یہ اسے نہیں دیکھ سکتا۔

    فصل :

    اعوذ پڑھنا اللہ تعالیٰ کی طرف التجا کرنا ہے اور ہر برائی والے کی برائی سے اس کے دامن میں پناہ طلب کر آتا ہے

    «اسْتِعَاذَةُ» کے معنی برائی کے دفع کرنے کے ہیں اور «الْعِيَاذَةُ» کے معنی بھلائی حاصل کرنے کے ہیں الْمُتَنَبِّي کا شعر ہے «يَا مَنْ أَلُوذُ بِهِ فِيمَا أُؤَمِّلُهُ وَمَنْ أَعُوذُ بِهِ مِمَّنْ أُحَاذِرُهُ» «لَا يَجْبُرُ النَّاسُ عَظْمًا أَنْتَ كَاسِرُهُ» *** «وَلَا يَهِيضُونَ عَظْمًا أَنْتَ جَابِرُهُ»

    اے وہ پاک ذات جس سے میری تمام امیدیں وابستہ ہیں اور اے وہ پروردگار تمام برائیوں سے میں اس کی مدد کے ذریعہ پناہ لیتا ہوں، جسے وہ توڑے، اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے وہ جوڑ دے، اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔

    اعوذ کے معنی یہ ہیں کہ میں اللہ تعالٰی کی مدد کے ذریعہ پناہ لیتا ہوں کہ شیطان رجیم مجھے دین و دنیا میں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔ جن احکام کی بجاآوری کا مجھے حکم ہے ایسا نہ ہو کہ میں ان سے رک جاوَں اور جن کاموں سے مجھ کو منع کیا گیا ہے، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے وہ بدافعال سرزد ہو جائیں، کہ ظاہر ہے کہ شیطان سے بچانے والا سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اسی لئے پروردگار عالم نے انسانوں کے شر سے محفوظ رہنے کی تو ترکیب سلوک و احسان وغیرہ بتلائی اور شیطان کے شر سے بچنے کی صورت یہ بتلائی کہ ہم اس ذات پاک کے ذریعہ پناہ طلب کریں۔ اس لیے کہ نہ تو اسے رشوت دی جا سکے، نہ وہ بھلائی اور سلوک کے سبب اپنی شرارت سے باز آئے۔ اس کی برائی سے بچانے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تینوں پہلی آیتوں میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔

    سورہ اعراف میں ہے «خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ» [7-الأعراف:199] ‏‏‏‏ الخ

    اور سورہ مؤمنون میں ہے «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ» [23-المؤمنون:96-98] ‏‏‏‏ الخ

    اور سورہَ حم سجدہ میں ہے «وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» [41-فصلت:34-36] ‏‏‏‏ الخ


    لفظ شیطان «شَطَنَ» سے بنا ہے۔ اس کے لفظی معنی دوری کے ہیں چونکہ یہ مردود بھی انسانی طبیعت سے دور ہے بلکہ ہر بھلائی سے بعید ہے، اس لئے اسے شیطان کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ «شَاطَ» سے مشتق ہے اس لیے کہ وہ آگ سے پیدا شدہ ہے اور «شاط» کے معنی یہی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ معنی کی رو سے تو دونوں ٹھیک ہیں لیکن اول زیادہ صحیح ہے۔

    عرب شاعروں کے شعر بھی اس کی تصدیق میں کہے گئے ہیں۔ امیہ بن ابوصلت اور نابغہ کے شعروں میں بھی یہ لفظ «شطن» سے مشتق ہے جو دور ہونے کے معنی میں مستعمل ہے۔

    سیبویہ کا قول ہے کہ جب کوئی شیطان کام کرے تو عرب کہتے ہیں «تَشَيْطَنَ فُلَانٌ»، یہ نہیں کہتے کہ «تَشَيَّطَ فُلَانٌ» اس سے ثابت ہوتا ہے یہ لفظ «شاط» سے نہیں بلکہ «شطن» سے ماخوذ ہے اور اس کے صحیح معنی بھی دوری کے ہیں، جو جن و انس و حیوان سرکشی کرے اسے شیطان کہہ دیتے ہیں۔

    قرآن پاک میں ہے «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا» [6-الأنعام:112] ‏‏‏‏ الخ یعنی ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن شیاطین جن و انس کئے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکے کی بناوٹی باتیں پہنچاتے رہتے ہیں “۔

    مسند احمد میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے ابوذر! جنات اور انسان کے شیطانوں سے اللہ تعالی کی مدد کے ذریعہ پناہ طلب کرو“، میں کہا: کیا انسان میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ ۔

    صحیح مسلم شریف میں ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو عورت، گدھا اور کالا کتا توڑ دیتا ہے۔“ میں کہا: یا رسول اللہ ! سرخ، زرد کتوں میں سے کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہے“ ۔

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ ترکی گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں وہ ناز و خرام سے چلتا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے مارتے پیٹتے بھی ہیں لیکن اس کا اکڑنا اور بھی بڑھ جاتا ہے، آپ اتر پڑتے ہیں اور فرماتے ہیں تم تو میری سواری کے لئے کسی شیطان کو پکڑ لائے، میرے نفس میں تکب آنے لگا، چنانچہ میں نے اسی سے اتر پڑنا ہی مناسب سمجھا۔

    «رَّجِيمُ»، «فَعِيلٌ» کے وزن پر مفعول کے معنی میں ہے یعنی وہ محروم ہے یعنی ہر بھلائی سے دور ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ» [67-الملك:5] ‏‏‏‏، ” ہم نے دنیا کے آسمانوں کو ستاروں سے مزین کیا اور انہیں شیطانوں کے لئے رجم بنایا “۔

    «إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ» [37-الصافات:6-10] ‏‏‏‏ یعنی ” ہم نے آسمان دنیا کو تاروں سے زینت دی اور ہر سرکش شیطان سے بچاؤ بنایا۔ وہ اعلیٰ فرشتوں کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے مارے جاتے ہیں بھگانے کے لئے اور لازمی عذاب ان کے لئے ہے جو ان میں سے کوئی بات اچک کر بھاگتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک چمکیلا شعلہ لگ جاتا ہے “۔

    اور جگہ ارشاد ہے «وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ» [15-الحجر:16-18] ‏‏‏‏ یعنی ” ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کے لئے زینت دی اور اسے ہر راندے ہوئے شیطان سے ہم نے محفوظ کر لیا مگر جو کسی بات کو چرا لے جائے، اس کے پیچھے چمکتا ہوا شعلہ لگتا ہے “۔ اسی طرح کی اور آیتیں بھی ہیں۔

    «رَجِيمٌ» کے ایک معنی «رَاجِمٍ» کے بھی کئے گئے ہیں۔ چونکہ شیطان لوگوں کو وسوسوں سے اور گمراہیوں سے رجم کرتا ہے، اس لئے اسے «رَجِيمٌ» یعنی «رَاجِمٍ» کہتے ہیں۔
    مولانانورالحسن انور اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں