جنگ آزادی میں روہتاس(بہار) کی حصہ داری

'تاریخ ہند' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 18, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,335
    موصول پسندیدگیاں:
    1,317
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    جنگ آزادی میں روہتاس(بہار) کی حصہ داری
    ڈاکٹر اے کے علوی​

    تاریخ ہند میں 1857 کا اہم مقام ہے ہندوستان کی جنگ آزادی میں مذہب, ذات, طبقہ, علاقہ کی سرحدیں توڑ تے ہوئے ملک میں ہندو ،مسلم، سکھ، عیسائی سبھی بھائی نے ملکر اپنی حصہ داری درج کی تھی۔ مہاتما ،گاندھی، جواہر لال نہرو،سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد اور سردار بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، بسم اللہ خان ،جھانسی کی رانی،بہادر شاہ ظفر وغیرہ قومی جنگ آزادی کے رہنما رہے ۔اس جدوجہد کے وقت بہار میں اس وقت کے شاہ آباد ضلع (اب روہتاس ضلع سہسرام )کے قومی جنگ آزادی کے مجاہد نے ہندوستان کی آزادی کے لیے ہمت اور جوہر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شہادت دی اٹھارہ سو ستاون کے انقلاب میں بھارت کی آزادی کی تحریک میں برطانوی سامراجیو وادکے خلاف مخالفت اور جدوجہد میں اسی سال کی عمر میں بابو ویر کنور سنگھ نے داناپور کے باغی سپاہیوں کی قیادت کرتے ہوئے گرانڈ انگریز جنرل کو لڑائی میں پکڑتے ہیں اور اس جیت کا حقدار اپنے سپاہیوں کو دیتے ہیں ۔بابو ویر کنور سنگھ کے اہم معاون میں چھوٹے بھائی امر سنگھ، بھتیجے رتو ر نجن سنگھ ،ہری کشن سنگھ ، روہتاس ضلع سیو ساگر بلا ک بڈی گاؤں کے نشان سنگھ، روہتاس بلاک اکبر پور گاؤں کےدلاور خان جیسے جنگجو بھی تھے

    مجاہد آزادی نشان سنگھ:
    سترہ سو بیاسی عیسوی میں پیدا ہوئے مجاہد آزادی شہید بابونشان سنگھ روہتاس واقعہ سیو ساگرربلا ک کےتحت بڈی گاؤں کے چوہان وینس جوہر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی کے لیے لڑے، انہیں موت کے گھاٹ اتارا۔ بغیر بابو ویر کنور سنگھ کی شہادت کے بعد نشان سنگھ ڈومر کھار کے قریب کھری گھاٹ کیکاگ سیل نام کی گپھا میں رہے تھے ۔انگریزوں کو پتہ چلتے ہی 5 جون 1858 عیسوی کو سہسرام کے مجسٹریٹ کال لے انھیں حراست میں لےکر بغاوت کا مقدمہ چلا کر 7 جون 1858کو گور کتنی سہسرام میں تو پ کے منہ پر باندھ کر اڑا دیا اور نشان سنگھ کی شہادت ہوئی ۔آج نشان سنگھ لائبریری اسی مقام پر کامیابی کے ساتھ قائم ہے ۔نشان سنگھ کے نام پر ہائی سکول۔ نشان نگر بڈی اور پیدا واقع بڈی روڈ میں نسان سنگھ دروازہ مقیم ہے۔

    مجاہد آزادی حاجی بیگم:
    پورے ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ میں سہسرام کی جاگیر دار حاجی بیگم ریاست بہار کی پہلی خاتون مجاہد آزادی تھیں۔ جنگ آزادی میں جھانسی کی رانی کے بعد دوسرا مقام حاجی بیگ کا ہی تھا ۔پٹھان ٹولی سہسرام واقع اپنے محل میں رہ کر وہ گھڑسواری اور تلوار بازی کے کرتب سیکھ کر ماہر ہو گئی تھیں۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ میں بابو ویر کنور سنگھ کا تعاون کرتی رہیں اور ایک بہن کی طرح راکھی بھی باندھتی تھی۔ بابو ویر کنور سنگھ ،امر سنگھ سہسرام جگدیش پور سے حاجی بیگم کے یہاں آئے ہوئے تھے ۔سہسرام کے بیکر نام کے انگریز مجسٹریٹ کو معلوم ہوگیا تو وہ رجمنٹ فورس لے کر حاجی بیگم کے محل پر پہنچ گیا اور حملہ کردیا۔ گھمسان جنگ پٹھانی پولی سے لے کر آدم پور کے میدان تک چلی۔ حاجی بیگم تلوار لیے گھوڑے پر سوار انگریزوں کا مقابلہ کرتی رہیں۔ سیکڑوں انگریز سپاہی مارے گئے۔ انگریز فوج بھاگ گئی اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حاجی بیگم نے بابو ویر سنگھ اور امر سنگھ کو روہتا س کیمور کی پہاڑی ہوتے ہوئے مرزا پور کی پہاڑی سے محفوظ نکالا اور آزادی کی لڑائی لڑتی رہی دوسری بار انگریز فوج نے حاجی بیگم کے محل کو لوٹ کر توپ سے اڑا دیا ۔کھنڈر محل کو چھوڑ کر حاجی بیگم خرم آباد چلی گئیں۔ ان کا انتقال یکم جنوری 1859عیسوی کو ہوا ان کی مزار پٹھان ٹولی میں ہے۔ اردو کی کتاب میں ان کی زندگی مبنی کئ اہم واقعات شامل کیے گئے ہیں۔

    مجاہد آزادی دلاور خان:
    مجاہد آزادی دلاورخان روہتاس بلاک کے اکبرپور ویر کنور سنگھ کے معاون فوج کے اہم جنگجو تھے۔ آرہ فتح میں ان کا اہم کردار تھا ۔انہیں سہسرام میں روزہ روڈ میں پیڑ سے لٹکا کر پھانسی دے دی گئی۔

    مجاہد آزادی عبدالقیوم انصاری:
    مرحوم منشی عبدالحق ڈگری آنسون کے گھر میں مجاہد آزادی عبدالقیوم انصاری یکم جولائی 1905کو پیدا ہوئے ۔ درس و تدریس کولکتہ الہ آباد سے مکمل کیا۔ اسی دوران وہ انیس سو اکیس عیسوی کے "سہیوگ اندولن" میں سرگرم رہے .جنگ آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے فروری 1922 کو ,ڈہری میں انگریزوں نے انہیں گرفتار کرکے سہسرام جیل بھیج دیا ۔پنڈی جواہر لال نہرو، مولانا آزاد، سبھاش چندر بوس، ڈاکٹر راجندر پرساد ،سردار ولبھ بھائی پٹیل کے رہتے ہوئے آزادی کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ملک کی آزادی کے بعد بہار کابینہ میں وزیر بنائے گئے۔

    مجاہد آزادی جگن ناتھ پرساد سنگھ:
    جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کرنے والے جگن ناتھ پرساد سنگھ کی پیدائش 4 جولائی 1914 کو دری گاؤں سیو ساگر سے بلاک میں رن بہادر سنگھ کے یہاں ہوئیں جوان کے والد تھے۔ پٹنہ کالج کے طلباء رہے اور سائمن کمیشن کی مخالفت کرنے پر پٹنہ میں جیل بھی گئے۔ انیس سو بیالیس کی آزاد کرانتی میں حصہ لیاانیس سو چوالیس میں ایک بار پھر گرفتار ہوئے۔ ملک کی آزادی تک سرگرم رہے۔ آزادی کے بعد 1949 سے انیس سو ستاون تک بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔،1968سے1975 تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن رہے ۔وزیر بھی رہے ۔ان کا انتقال 2004 کو ہوا ۔

    مجاہد آزادی مسیح الزماں انصاری:
    آزادی کی لڑائی میں بہارکے باشندوں کی حصہ داری بیش قیمت رہی ہے۔ انہیں میں مسیح الزماں انصاری کا نام بھی شامل ہے۔ ان کا نام آج بھی تاریخ کے صفحات پر اپنی بلا مفاد قربانی کی مثال پیش کر رہا ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد۔ عبدالقیوم انصاری ۔ویر کنور سنگھ ۔کھودی رام بوس ،عبدالباری ،سید محمود نور ،برسا منڈا جیسے محب وطن مجاہد آزادی کا ذکر تو اکثر کتابوں اور رسالوں میں ملتے ہیں لیکن ابھی بھی ایسے ہزاروں محب وطن کا ذکر کتابوں میں نہیں ہے لیکن کہیں نہ کہیں ایسے ملک سے محبت کرنے والوں کا ثبوت مل جاتا ہے۔ ایسے ہی محب وطن، مجاہد آزادی تھے ۔کانگریسی رہنما مسیح الزماں انصاری ،ان کی پیدائش سیو ساگر تھانہ کے نو ڈیسہ(رائچور) گاؤں میں انیس سو دس میں ایک بنکر خاندان میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسہ خانقاہ کبیر یہ میں ہوئی ۔طالب علم کے زندگی سے ہی الوطنی ان کے سہ رگ تھی۔ وہ اکثرآزادی کی مجلسوں وغیرہ میں شامل ہوتے رہتے تھے ۔جب سبھاش چندر بوس سہسرام آنے والے تھے ،ان کی تقریر کو سننے کے لیے صبح سےہی حسن خان سو روزہ کے میدان میں مسیح الزماں حاضر ہو گئے تھے۔ انہوں نے عبدالقیوم انصاری کی تقریر وشائع ہونے تحریر کی چرچا کرنے میں خود کو وقف کر دیا۔ ا اس طرح دھیرے دھیرے لوگوں میں ن کی پہچان بن گئی۔ یہ عبدالقیوم انصاری کے ساتھ مومن کانفرنس کے اجلاسوں میں شامل ہوتے رہے۔ انصاری صاحب بھی انہیں پٹنہ، کولکتہ، الہ آباد ،راچی وغیرہ مومن کانفرنس کے اجلاس میں ساتھ لے جاتے۔ انصاری ا صاحب مسیح الزماں پر بہت بھروسہ کرتے تھے ۔ مسیح الزماں صاحب مومن کانفرنس تنظیم سے جڑ گئے گئے ۔عبدالقیوم انصاری سہسرام ام سے اردو کا رسالہ افکار نکالا کرتے تھے ۔جس کے ایڈیٹر وہ خود تھے لیکن پرنٹر و پبلشر مسیح الزماں انصاری تھے ۔اس اردو رسالہ کے ذریعے مسلمانوں میں ملک کی آزادی کے تعلق سے بیداری پیدا کی جاتی رہی۔ کچھ ہی برسوں میں اس رسالہ نے دھوم مچا دی ۔اسی وجہ سے برطانوی حکومت نے پریس ایکٹ کے تحت پانچ سالہ پابندی لگا دی ۔جس سے انصاری صاحب ومسیح بھائی کو راچی جیل بھیج دیا گیا ۔مولانا آزاد بھی وہیں بند تھے ۔وہ بندے پچاسی برس کی عمر میں دسمبر 1995 میں مسیح الزماں انصاری کا انتقال ہوگیا۔

    مجاہد آزادی ننکھو میاں:
    ننکہومیاں آزادی کے دیوانوں میں سب سے آگے رہنے والوں میں تھے" بھارت چھوڑو اندولن" میں گاندھی جی کی آواز پر انہوں نے سرگرم طور پر حصہ لیا تھا انیس سو بیالیس میں جیل جانے کے بعد اس وقت کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ ایچ بی مارٹن نے 3 فروی 1943 کو گرفتار کر انہیں چھ ماہ تک بامشقت قید اور 150 روپے جرمانہ کے ساتھ سزا دی تھی .حاجی صاحب کے خاندان میں آج کے دن تقریبا دو سو ررکن ہیں ۔جن میں ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔صبر جمہوریہ ہند کے ذریعے،" تامر پتر" سے نوازے گئے حاجی میاں کی پیدائش یکم جنوری اٹھارہ سو اٹھانوے کو ہوئی ۔ 15است کو ان کے انتقال کے بعد ضلع انتظامیہ کی موجودگی میں ان کیے آبائی مقام سے سرکاری اعزاز اور فوجی دستوں کے توپوں کی سلامی کے بعد چناری کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

    مجاہد آزادی بابو پہلوان سنگھ:
    بابو بھگوان سنگھ اجینبی راجپوت اور زمیندار تھے ۔یہ گڑھ نوکھا کے باشندے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ بابو پہلوان سنگھ سنت قوی در ماداس کے شاگرد تھے پہلی جنگ آ زادی میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ انہوں نے ویر کنور سنگھ کی بھرپور مدد کی تھی ان کی موت ممکنا غازی پور میں زمین دار بلونت سنگھ کے یہاں ہوئی۔

    انیس سو بیالیس کی کرانتی:
    انیس سو بیالیس کی کرانتی میں روہتا س ضلع کا غیر معمولی کردار رہا ہے۔ یہ انقلاب مہاتما گاندھی کی سرپرستی میں ہوا تھا اس انقلاب میں کئی لوگ شہید ہوئے تھے ۔کچھ ایسے بھی لوگ شہید ہیں جن کا نام روہتاس کے صفحات پر تو نہیں ہےمگر تاریخ کے صفحات پر ضرور ہیں۔ ان کا تعارف اس طرح ہے

    جگدیش پرساد:
    یہ بچری گاؤں( پیرو) بھوج پور کے باشندے تھے۔ موت کے وقت ان کی عمر تقریباً بیس برس تھی۔

    منگو رام:
    یہ سہسرام کے تھے جن کی عمر تقریبا 22 برس تھی ۔گیا رام سنگھ

    کنوپا گاؤں کے باشندے تھے۔ موت کے وقت ان کی عمر تیس برس تھی۔

    جگن ناتھ رام:
    یہ سہسرام کے باشندے تھے۔ ان کی عمر 19 سال تھی۔

    رام شیش سنگھ:
    یہ سہسرام کے باشندے تھے۔ ان کے علاوہ جنگ آزادی کی تحریک میں شہید ہونے والوں میں اہم ہیں۔ کچھ اسے بھی شہید ہیں جو تاریخ کے صفحات میں گم نام ہوگئے ہیں۔

    درج بالا شخصیتوں کے علاوہ روہتاس ضلع کے ما تحت بلاکوں میں اورکزئی مجاہد وں نے ملک کی آزادی میں اپنا مکمل تعاون دیا ہے۔ ان مجاہد آزادی کو سرکاری اعزازاور سہولت دستیاب ہے۔
    Last edited: ‏اکتوبر 18, 2020
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,752
    موصول پسندیدگیاں:
    385
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت ہی معلوماتی پوسٹ ہے جزاک اللہ

اس صفحے کو مشتہر کریں