سخت سزائیں اور بچے

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏نومبر 17, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,326
    موصول پسندیدگیاں:
    1,305
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    سخت سزائیں اور بچے​
    ہر والدین کی خواہش ہو تی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عمدہ تہذیب واخلاق سے آراستہ کر کے ایک بہترن اور صالح شخصیت کا حامل بنائیں ،بچپن کی ان غلطیوں پر سر زنش کرنا ،انھیں مختلف چیزیں سکھانا ،اسکول ومدرسہ بھیجنا اور بری عادتوں سے روکنے کا مقصد یہی ہو تا ہے کہ بچے بڑے ہو کر کسی بری عادت کا شکار ہ ہو جائیں ۔مگر ان کے سارے جتن کے با وجود یہ شکایات بہر حال بعد میں بہت سے والدین کو رہتی ہے کہ ہماری بہترین پرورش کے با وجود بچے بد اخلاقی اور دیگر برا ئیوں سے محفوظ نہیں رہ سکے ۔
    دراصل اس کی وجہ بچے کی ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اکثر اوقات ہمارا ہی غلط راہ عمل ہو تا ہے ۔بچوں کی اخلاقی غلطیوں پر ہمارا را رد عمل سز ادینا یا سختی برتنا ہو تا ہے ۔ بعض صورتوں میں بلا شبہ سختی نا گزیر ہو تی ہے لیکن اکثر بچوں کا معاملہ الٹ ہو تا ہے ۔ ہم یہ گمان رکھتے ہیں کہ سزا دینا بچوں کو ان کو برائیوں سے دور رکھنے کا ایک اثر انگیز طریقہ ہے مگر در حقیقت محض یہ ہمارا گمان ہی ہو تا ہے ۔مار پیٹ یا سخت سزاؤں سے ہم وقتی طور پر بچے کو اس عادت سے دور رکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لا شعور سے اس کی فکر کو خارج نہیں کر سکتے ۔ سخت سزاؤں سے بچے کے ذہن میں اس عمل کی قبا حت واضح ہو نے کے بجائے یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ آئندہ یہ کام چھپ کر انجام دنا ہے ۔
    چنانچہ ایک عمر کے بعد جو نہی انھیں آزادی میسر ہو تی ہے وہ اس کام کے جانب فورا راغب ہو تے ہیں جہاں آپ نے قد غن گا رکھی تھی ۔سزاؤں کے اثر سے جو بچوں میں پیدا ہوتا ہے وہ تمام کے تمام اس کی شخصیت میں منفی عنا صر کو پرون چڑھاتے ہیں ۔چنا نچہ آئندہ سزا سے بچنے کے لیے مکر وفریب اور چالاکی کو عمل میں لا تا ہے اور آپ کیلئے اس کے دل میں ایک مخالفانہ جذبہ پیدا ہو تا ہے ۔
    سب سے اہم بات یہ ہے کہ سزاکے ذریعے آپ فکری طور پر در اصل یہ سکھا رہے ہو تے ہیں کہ کسی کو قائل کر نے یا مسائل کو حل کےلیے سب س مؤ ثر راہ تشدد ہے ، کسی موقع پر انھیں سزا دینا نا گزیر محسوس ہو تو یہ سزا تشدد یا جسمانی ما رپیٹ کی بجائے ضبط استحقاق کی ہو نی چا ہیے۔مثلا آپ کا بچہ سمجھانے کے با وجود پڑھا ئی نہ کرے تو اسے مار پیٹ کے بجائے یہ کیجئے کہ اس کے پسندیدہ کھلونے ضبط کر لیے جا ئیں ۔
    یہاں مقصود کلام یہ ہر گز نہیں ہے کہ آپ بچوں کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیں ، بچوں کی غلطیوں کوٹالنا انھیں غلطیوں کی مشق کرانے کے مترادف ہے ۔والدین کو چا ہئے کہ کہ بچہ کو ئی بھی غلط ام کرے تو مناسب وقت پر اس کے بارے میں گفتگو کریں ، نفسیاتی مشاہدات وتجربات اس بات کو کوثابت کرتی ہے کہ بچہ کس بھی بات کو مستقل طور ر اسی وقت سیکھتا یا سمجھتا ہے جب وہ اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ ایسا کر نے کے اخلاقی نتا ئج کیا ہو ں گے ، بچوں کی غلطیوں پر انھیں مارنے پیٹنے کے بجائے انھیں اس بد عملی کے بارے میں برے نتا ئج سے آگا ہ کرکے انھیں قائل کرنا چاہیے ۔ اگر چہ والدین کے لیے یہ طریقہ زیادہ مشکل اور صبر آزما ہے مگر اس کے نتا ئج وقتی نہیں تا عمر ہو تے ہیں ۔ منقول۔
  2. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    آپ کا کہنا درست ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سزائیں بھلائی کے لیے ہی ہوتی ہیں۔

    بچوں کی تعلیم وتربیت میں نرمی وسختی دونوں پہلوؤں میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے، غصہ میں بے قابو ہوکر حد سے زیادہ مارنا اور یا مارنے کو بالکل غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں، جس طرح نرمی اور محبت سے بچوں کی تعلیم وتربیت کرنا بہتر ہے اسی طرح ناگزیر وجوہات کی بنا پر تنبیہ کی غرض سے بچوں کو سزا دینا بھی جائز ہے

    نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ" جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو"

    اسی طرح حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ گھر میں ایسی جگہ کوڑا لٹکا کر رکھو جہاں سے وہ گھر والوں کو نظر آئے؛ کیوں کہ یہ ان کی تادیب کا ذریعہ ہے۔

    امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں باب قائم کیا ہے ” باب التوثق ممن تخشی معرته“ (جس سے فساد کا خطرہ ہو اس کو باندھنا)، اور اس کے تحت ذکر کیا ہے کہ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عکرمہ ؒ کو فرائض، سنن اور تعلیمِ قرآن کے لیے باندھا کرتے تھے

    طبقاتِ کبریٰ میں ہے کہ حضرت عکرمہ ؒفرماتے ہیں کہ ابن عباس ؓ قرآن وسنت کی تعلیم کے لیے میرے پاؤں میں بیڑی ڈالا کرتے تھے، لہذا اس سے معلوم ہوا کہ سرپرست حضرات اور اساتذہ کے لیے بچوں کو تادیب اور تنبیہ کی غرض سے مناسب سزا دینا جائز ہے
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,326
    موصول پسندیدگیاں:
    1,305
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    جس پوسٹ پر تبصرہ کیا گیا ہے۔اس میں والدین کو ہدایت دی گئی ہے نہ کہ معلم کو "جو رشتہ بچے کاوالدین سے ہوتا ہے وہ معلم سے نہیں ہوتا " فی زما ننا بہت کچھ بدل گیا ۔ ہر زمانہ میں ایک ہی لکڑی سے بچوں کو نہیں ہا نکا گیا ۔ نہ ہی ایک ہی رسی سے با ندھا گیا ۔ جب زمانہ کے اعتبار سے احکام بدل سکتے ہیں تو بچوں کے سلسلہ میں کیوں نہیں؟
  4. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    یہ تو والدین کی ذمہ داری ہے محترم کہ جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کا حکم دو ، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو" یہ مار اساتذہ سے نہیں والدین سے پڑنی ہے اور گھر میں اساتذہ نہیں والدین ہوتے ہیں جنہیں حکم مل رہا ہے کہ ایسی جگہ کوڑا لٹکا کر رکھو جہاں سے وہ گھر والوں کو نظر آئے
  5. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,326
    موصول پسندیدگیاں:
    1,305
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    کوڑے کا حکم بدلے زمانہ میں بھی بر قرار ہے؟ ۔یہ شر یعت اسلامی کاتعزیری وتادیبی حکم ہے یا نماز کی اہمیت پر تاکیدی ۔۔۔۔
  6. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    کوڑا لٹکانا چھوڑ دیا ہے اسی لیے تو حالات مختلف ہیں اور بیلن کا استعمال بڑھ رہا ہے
    وقت بدلا ہے لیکن خواتین اب بھی بازاروں میں گھومتی ہیں بے پردگی عام ہے نمازوں کی پابندی تو درکنار نماز کے اوقات میں ٹی وی کی آواز آہستہ کرنا بھی بیگم اور بچوں گوارا نہیں ایسے میں شاید وہ کوڑا تھا جو قابو رکھتا تھا
  7. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,326
    موصول پسندیدگیاں:
    1,305
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    آپ تشدد کی حمایتی ہیں ؟۔ بات سے بات نکلی تو شائد کوئی اور رخ لے لو ۔سوال اتنا ہے ۔ بچوں کو مارنے کا حکم ترک نماز پر امر واجبی میں ہے یا پھر تارک نماز کافر ہے کی طرح اہمیت صلوٰۃ پر دال
    رہ گئی ٹی وی اور بیوی ، پردہ اور بے پردگی اس کیلئے الگ سے دھاگہ بنایئے

اس صفحے کو مشتہر کریں