شہنشاہ نام نہیں رکھنا چاہیے

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏نومبر 20, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فر مایا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ قابل نفرت اور خبیث وہ شخص ہو گا جو شہنشاہ کہلاتا تھا ۔اللہ تعالیٰ کے سوا اورکوئی شہنشاہ نہیں ہے۔

    (مسلم ، کتاب الادب)
    احمدقاسمی، محمدداؤدالرحمن علی اور تمر نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ”سب سے زیادہ غصہ اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن یا سب سے زیادہ ناپاک شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہو گا جس کو بادشاہوں کا بادشاہ کہا جاتا ہو۔ کوئی مالک نہیں سوائے اللہ کے۔“

    صحيح مسلم حدیث نمبر: 5611
    محمدداؤدالرحمن علی اور تمر .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    6,984
    موصول پسندیدگیاں:
    2,077
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بے شک شہنشاہ صرف اللہ کی ذات ہی ہے
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,330
    موصول پسندیدگیاں:
    1,311
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    مجھے اس حدیث کی شرح چاہئے ۔ چاہے کتاب کی نشاندھی کی جاے ۔یا کسی محدث کی تشریح
  5. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:582-517/L=5/1441

    ”شہنشاہ“ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں یہ نام رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جس کو "شہنشاہ" کا نام دیا جائے۔ (بخاری) لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے لئے اس نام کی جگہ کوئی دوسرا اچھا نام اختیار کرلیں۔

    عن أبي ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”إن أخنع اسم عند اللہ رجل تسمی ملک الأملاک“ زاد ابن ابي شیبة في روایتہ ”لا مالک إلا اللہ عز وجل“ قال الأشعثي: قال سفیان: ”مثل شاہان شاہ“ رواہ البخاری (۶۲۰۵) ومسلم (۲۱۴۳) وفي فیض القدیر: قولہ (تسمی) أي سمی نفسہ أو سماہ غیرہ فأقرہ ورضي بہ (ملک) بکسر اللام (الأملاک) أو ما في معناہ نحو شاہ شاہان أو شاہان شاہ․ (فیض القدیر: ۱/۲۱۹) في شرح النووي علی صحیح مسلم: وااعلم أن التسمي بہذا الاسم حرام وکذلک التسمي بأسماء اللہ تعالیٰ المختصة بہ کالرحمن والقدوس والمہیمن وخالق الخلق ونحوہا․ (شرح النووي علی صحیح مسلم: ۱۴/ ۱۲۱) وفي فتح الباري: واستدل بہذا الحدیث علی تحریم التسمي بہذا الاسم لورود الوعید الشدید ویلتحق بہ ما في معناہ مثل خالق الخلق وأحکم الحاکمین وسلطان السلاطین وأمیر الأمراء وقیل یلتحق بہ أیضًا من تسمی بشيء من أسماء اللہ الخاصة بہ کالرحمن والقدوس والجبار․ (فتح الباری: ۱۰/۵۹۰)




    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند
  6. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    سوال
    "محمد شہنشاہ" نام رکھا جا سکتا ہے؟

    جواب
    "شہنشاہ" نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں یہ نام رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

    "وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل يسمى "ملك الأملاك". رواه البخاري . وفي رواية لمسلم: قال أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه رجل كان يسمى "ملك الأملاك" لا ملك إلا الله".

    ترجمہ: " اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جس کو "شہنشاہ" کا نام دیا جائے۔ (بخاری)

    اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین اور سب سے بدتر وہ شخص ہوگا جس کو "شہنشاہ" کا نام دیا جائے، یاد رکھو اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ فقط واللہ اعلم



    فتوی نمبر : 144004200005

    دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    ناموں کے متعلق حضرت مولانا یوسف لدھیانوی صاحب آپ کے مسائل میں ایک سائل کو جواب دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: "حدیث میں “شہنشاہ” کہلوانے کی ممانعت آئی ہے، جس کے معنی ہیں “بادشاہوں کا بادشاہ”، یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ “سیّد” وغیرہ کو جو “شاہ صاحب” کہتے ہیں، اس کی ممانعت نہیں۔"
  8. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    Untitled.png

    احمدقاسمی صاحب
    شرح حاضر ہے
    عن أبي ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”إن أخنع اسم عند اللہ رجل تسمی ملک الأملاک“ زاد ابن ابي شیبة في روایتہ ”لا مالک إلا اللہ عز وجل“ قال الأشعثي: قال سفیان: ”مثل شاہان شاہ“ رواہ البخاری (۶۲۰۵) ومسلم (۲۱۴۳) وفي فیض القدیر: قولہ (تسمی) أي سمی نفسہ أو سماہ غیرہ فأقرہ ورضي بہ (ملک) بکسر اللام (الأملاک) أو ما في معناہ نحو شاہ شاہان أو شاہان شاہ․
    (فیض القدیر: ۱/۲۱۹)
    https://ia800908.us.archive.org/11/items/FaizUlQadeerSharahJameUsSagheer/Faiz ul Qadeer Sharah Jame us Sagheer.pdf
    Last edited: ‏نومبر 20, 2020
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,330
    موصول پسندیدگیاں:
    1,311
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    شکریہ۔ داؤد بھائی اپنی پوسٹس میں تبدیلی کر لیں اور نوٹ لگا دیں۔
  10. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    502
    صنف:
    Female
    محترم شاید کسی پوسٹ کا جواب یہاں دے دیا ہے آپ نے

اس صفحے کو مشتہر کریں