طہ اور یس حروف مقطعات میں سے ہیں ان کو حضورﷺ کے اسماءمبارکہ میں کس بنیاد پر شمار کیا جاتا ھے؟

'الغزالی دار الافتاء' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏اکتوبر 24, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    929
    موصول پسندیدگیاں:
    504
    صنف:
    Female
    سوال
    طہ اور یس حروف مقطعات میں سے ہیں ان کو حضور صلی اللہ علیہ کے اسماءمبارکہ میں کس بنیاد پر شمار کیا جاتا ھے؟

    جواب
    یس اور طٰہ کے بارے محققین کے نزدیک راجح قول یہی ہے کہ یہ دونوں بھی حروف مقطعات میں داخل ہیں، جن کا معنی اللہ کے علاوہ کسی اور معلوم نہیں ہے، البتہ ان دونوں الفاظ کی مفسرین سے اور بھی تفسریں منقول ہیں،

    ”یٰس“ لفظ کے بارے میں ابن عربی رحمہ اللہ نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور حضرت ابن عباس سے بھی ایک روایت یہی ہے کہ اسماء آلٰہیہ میں سے ہے، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” اے انسان “ اور مراد انسان سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور حضرت ابن جبیر کے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ لفظ یٰسین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ہے۔ روح المعانی میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام ان دو عظیم الشان حرفوں سے رکھنا، یعنی یا اور سین اس میں بڑے راز ہیں۔

    اسی طرح ”طٰہ“ لفظ کی تفسیر میں علماء تفسیر کے اقوال بہت ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے معنی ”یا رجل“ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہسے ”یا حبیبی“ منقول ہیں، بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ: طٰہ اور یٰسٓ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء گرامی میں سے ہیں۔

    لیکن بےغبار بات وہ ہے جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جمہور علماء نے فرمائی کہ جس طرح قرآن کی بہت سی سورتوں کے ابتداء میں آئے ہوئے حروف مقطعہ مثلاً الٓمّٓ وغیرہ متشابہات یعنی اسرار میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا لفظ طٰہ اور یٰس بھی اسی میں داخل ہے۔ (مستفاد از معارف القرآن ، مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ)۔ فقط واللہ اعلم



    فتوی نمبر : 144107200754

    دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
    مولانانورالحسن انور اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں