ماہِ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جنوری 25, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ماہِ ربیع الاوّل اور ہمارا طرزِ عمل

    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، اما بعد!

    ربیع الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں امام الانبیاء خاتم المرسلین و المعصومین تاجدارِ مدینہ سیّدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی عالمِ دُنیا میں تشریف آوری ہوئی، اور پھر اسی ماہِ مبارک میں دُنیائے بے ثبات سے پردہ فرمایا۔ آپ ﷺ وجۂ تخلیق کائنات ہیں، اس کائنات کا مرکز و محور ہیں، اوّلین و آخرین کے سردار ہیں؎

    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر​

    سرکارِ دو عالم ﷺ کا مقام مؤمنین کے قلوب میں کیا ہے، سب بخوبی واقف ہیں۔ یہ فطرتِ انسانی ہے کہ جب وہ کسی سے محبّت اور عشق کرتا ہے تو اپنے محبوب کی ہر ہر اَدا میں نقل اُتارنے کی کوشش کرتا ہے، اُس کا ہر حکم ماننا اپنے لیے فخر سمجھتا ہے، اُس کے ایک اشارہ پر سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جان تک کو بھی قربان کر دیتا ہے۔ اس کی واضح مثال ہمارے سامنے حیاۃ الصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہے، روئے زمین پر عشقِ رسول ﷺ کا یہ واحد عملی نمونہ ہیں جن کے قول و فعل میں ذرّہ برابر بھی تضاد نہیں۔ افسوس! ہم ناولوں، افسانوں، ڈراموں اور فلموں میں اتنے مشغول ہو چکے ہیں کہ کتبِ سیرت کی طرف کھینچ جاتی نہیں، تو پھر کیسے معلوم ہو کہ عشق کیا ہوتا ہے؟

    آج ہم کفار (جو لا مذہب ہو چکے ہیں) کی طرح ہر کام میں آزادی چاہتے ہیں کہ ہم جو بھی کام کریں گے اپنی مرضی سے کریں گے۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے ایک پیغمبر علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا حکم سنایا، تو انھوں نے کہا کہ سُن تو لیا مگر عمل نہیں کریں گے۔ ‘‘ ہر کام میں آزادی’’ درحقیقت نفس پرستی ہے۔ ہم نے نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے، چاہے دینِ اسلام کچھ بھی کہے مگرہم من چاہی زندگی ہی گزاریں گے۔کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ جب ہم سرکارِ دو عالم ﷺ سے محبت و عشق کا دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر ہم زندگی کے ہر قدم پر اپنے محبوب ﷺ کے مبارک طریقوں پر چلنا کیوں نہیں پسند کرتے؟ اللہ جل شانہ نے تو فرمایا کہ:

    لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ و الیوم الاخر و ذکر اللہ کثیرا۔ (سورۃ الاحزاب:۲۱)

    ترجمہ: ’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو‘‘۔

    مسلمان رسم و رواج کا نہیں بلکہ اپنے دین کا پابند ہے، مسلمان زنجیرِ ثقافتِ ہندیہ سے نہیں بلکہ زنجیرِ شریعتِ اسلامیہ سے بندھا ہوا ہے، مسلمان کے لیے زندگی گزارنے کا درُست طریقہ اسلام بتاتا ہے یہود و نصاریٰ نہیں۔ ہم خوشی کیسے منائیں؟ غم میں کیا کریں؟ یہ سب اسلام نے بتایا ہے۔ اگر ہم حدودِ شریعت سے باہر نکلیں گے تو بھٹک جائیں گے۔

    عشقِ رسول ﷺ سے کون منع کرتا ہے یہ تو مطلوب و مقصود ہے مگر عشق وہی قبول ہے جو رَبّ العالمین کے ہاں مقبول ہے،اور مقبول صرف صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا ہے جس کی سند اللہ تعالیٰ نے ’’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘‘ کہہ کے عطا فرما دی۔ یاد رکھیے! عشق کا اظہار عمل سے ہوا کرتا ہے خالی زبانی دعووں سے نہیں، عشق بتایا نہیں جاتا بلکہ وہ خود بولتا ہے کہ یہ عاشق ہے۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  2. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,470
    موصول پسندیدگیاں:
    409
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    6,663
    موصول پسندیدگیاں:
    1,848
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ احسن الجزا
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
  5. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    عزیزمن!
    محسن انسانیت کی حیات مبارکہ پراس قیمتی مضمون کوقسطوارکیوں کردیاایسے مضامین اورایسی شاندارہستی کے بارے میں بے تکلف ایک ساتھ یکے بعددیگرے ایک ہی دھاگہ میں پیش کردیاکریں۔
  6. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    عشقِ رسول ﷺ سے کون منع کرتا ہے یہ تو مطلوب و مقصود ہے مگر عشق وہی قبول ہے جو رَبّ العالمین کے ہاں مقبول ہے،اور مقبول صرف صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا ہے جس کی سند اللہ تعالیٰ نے ’’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘‘ کہہ کے عطا فرما دی۔ یاد رکھیے! عشق کا اظہار عمل سے ہوا کرتا ہے خالی زبانی دعووں سے نہیں، عشق بتایا نہیں جاتا بلکہ وہ خود بولتا ہے کہ یہ عاشق ہے۔ محبت و عشق کے زبانی دعوے نہ مطلوب ہیں نہ قبول ہیں۔عاشقِ صادق تو اپنے عمل سے اپنی محبت اور اپنا عشق ثابت کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:

    قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ(آل عمران:۳۱)​


    ’’(اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔​

    معلوم ہو اکہ محبت اور اتباع لازم و ملزوم ہیں، اور پھر انعام بھی کتنا عظیم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جانا۔ حضرت عارف باللہ نے فرمایا کہ عشقِ رسول ﷺ نام ہے اتباعِ رسول ﷺ کا، سنت پر جان دے دو، چاہے دُنیا کچھ ہی کہتی رہے اور آپ کا کتنا ہی مذاق اُڑائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ:

    ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتاجب تک اس کی خواہش اس (ہدایت) تابع نہ ہو جائے جو میں لایا ہوں‘‘۔​

    افسوس! ہم اپنی خواہشوں کے غلام بن گئے اور نفس کے تابع ہو گئے۔حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’جس درجے کی محبت ہو گی اسی درجے کا اتباع ہو گا‘‘۔ (نشر الطیب ۱۹۶)

    جب شیطان نے دیکھا کہ میں ابن آدم سے گناہ کراتا ہوں تو یہ نادم ہو کر گناہ سے توبہ کر کے اپنی بخشش کرا لیتا ہے اور میری ساری محنت پر پانی پھیر دیتا ہے، اس لیے ایسی چیز ایجاد کروں جس سے وہ نادم اور تائب نہ ہوں، اور بالآخر شیطان نے بدعت ایجاد کی۔ بدعت ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے توبہ نصیب نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اپنے خیال میں بدعت کو ثواب اور درُست ہی سمجھتا ہے تو پھر توبہ کس بات پر کرے؟ یہی وجہ ہے کہ مَرتے دَم تک وہ توبہ نہیں کرتا، الا ماشآء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

    اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ نے دین کی سب ضروری باتیں قرآن و حدیث میں بندوں کو بتا دی ہیں، اب دین میں کوئی نئی بات نکالنا جو دین میں نہیں درُست نہیں۔دین اسلام میں مسلمانوں کے لیے صرف دو عیدیں ہیں، یعنی ماہِ شوال میں عید الفطر اور ماہِ ذُوالحجہ میں عید الاضحیٰ۔ اب یہ تیسری عید ’’عید میلاد النبی ﷺ‘‘کی ضرورت کیوں پیدا ہو گئی؟ شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ’’جمعہ کے دِن کو خود رسول اللہ ﷺ نے عید قرار دیا، عید میلاد کو آپ ﷺ نے کیوں عید قرار نہیں دیا؟ کیا آنحضرت ﷺ کو اس ’’خاص نعمت‘‘ کی خوشی نہیں تھی‘‘۔حکیم الامت مجددالملت حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’حضور ﷺ کے یومِ ولادت کو یومِ عید بنانا حضور ﷺ کی اہانت ہے‘‘۔ کامل و اَکمل دین ہوتے ہوئے زندگی کے ہر معاملے میں آزادی چاہنے والے تفریح کے بہانے سے احکامِ شریعت کی خلاف ورزی کر کے کیوں قہرِ الٰہی کو آواز دے رہے ہیں؟

    احقر سے ایک متشدد بدعتی مولوی نے کہا کہ جو بھی یہ میلاد نہیں مناتا وہ ابلیس ہے یعنی ابلیس کا پیروکار (استغفراللہ)۔ احقر نے جواب میں کہا کہ اس لحاظ سے تو جنھوں نے اس بدعتِ عظیم کی مخالفت کی ہے یعنی صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین، آئمہ کرام، محدثین و مفسرین، مشائخ عظام و دیگر اسلاف وغیرہ، اُن کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ وہ بھی ابلیس کے پیروکاروں میں شامل ہیں؟ سن لو! جو بھی کافر اور نفس و شیطان کے نقشِ قدم پہ چلتا ہے، چلے، ہم تو سنّت طریقوں پہ چلنے کی اپنے رَبّ سے دُعاء کرتے ہیں۔اس پر وہ بدعتی مولوی لاجواب ہو کربات بدل گیا۔

    دوستو! اصل ربیع الاوّل اس کا ہے جو رات دِن ہر وقت حضور ﷺ کو یاد رکھتا ہے، صرف ایک مہینہ یا ایک دِن نہیں۔ جس کی ہر سانس سرورِ دو عالم ﷺ کی سنت پر فدا ہو، اس کی تو ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے، اصلی عاشق تو یہی ہے۔ گھروں میں چراغ جلانے کی بجائے اپنے دِلوں میں سنت کے چراغ جلائیے۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  7. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    ماہِ ربیع الاوّل میں احیائے سنت کا عہد کیاجاتا ہے:
    رحمۃ للعالمین ﷺ کا ذکر مبارک انسان کی ایک بہت بڑی سعادت ہے، باعثِ اجر و ثواب اور خیر و برکت ہے۔ اس ماہِ مبارک میں خصوصی محافل اور مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہےجس میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے ہر جگہ تقاریر ہوتی ہیں، حیات النبی ﷺ کے مختلف پہلو مختلف زاویوں سے عوام الناس کے سامنے پیش کر کے ان سے راہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، احیائے سنت کا عہد کیا جاتا ہے۔ نعت خواں بہت محبت اور دردِ دل سے اپنے اپنے انداز میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں،ایک پُر کیف و پُر سوز ماحول نظر بن جاتا ہے، جوش و جذبہ کی لہریں اُٹھتی ہیں، آتشِ عشق بھڑکتی ہے، درُود وسلام کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔ویسے تو پورا سال ہی درُود و سلام پڑھا جاتا ہے مگر اس ماہِ مبارک میں حضور اقدس ﷺ سے مناسبت کی وجہ سے خصوصی طور پر زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے ۔مگر یاد رکھیے! ذکرِ خیر الانام ﷺ صرف اسی ایک ماہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
    تاریخ ولادت و وفات کیا ہے؟:
    حضور ﷺ ماہِ ربیع الاوّل میں کس تاریخ کو پیدا ہوئے اور کب وفات پائی؟ اس بات پر اہلِ علم میں اختلاف ہے مختلف تواریخ ہیں،کچھ تعیین نہیں۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ولادت اور وفات کی تاریخ میں مشہور قول بارہ ربیع الاوّل ہے، لیکن جمہور محدثین و مؤرخین کے نزدیک راجح و مختار قول آٹھ ربیع الاوّل ہے اور تاریخ وفات میں اکثر نے دو ربیع الاوّل کو اختیار کیاہے۔ بہرحال یہ الگ موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔
    جشنِ میلادکی بدعت کی ابتداء کب ہوئی؟:
    ایک بہت بڑے بے دین اور عیاش بادشاہ ‘‘ابو سعید مظفرالدین کوکری بن اربل’’ نے ساتویں صدی ۶۰۴ ہجری میں اس کی ابتداء کی تھی۔اس نے بیت المال کے خزانہ سے طبقہ علماءِ سوء کو خریدا ، اس طبقہ کے ایک مکار و کذّاب ، گستاخ، فحش گو و متکبر اور دُنیا پرست مولوی عمر بن دحیہ ابو الخطاب نے اس بدعت کے جواز کے لیے مواد اکٹھا کرنے کا کارنامہ انجام دیا اور ہوس پرستی میں اپنے مقتدیٰ سے ایک ہزار دینار کا صلہ پایا۔ (تاریخ ابن خلکان، دول الاسلام للذہبی، لسان المیزان لابن حجر، بحوالہ ربیع الاوّل میں جوشِ محبت)۔
    حضرت عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ؎
    و ھل افسد الدین الا الملوک ۔۔۔۔۔۔۔ و احبار سوء و رھبانھا
    ترجمہ: ’’ہوس پرست بادشاہوں، دُنیا پرست مولویوں اور جاہل صوفیوں نے مل کر دین کو تباہ کیا‘‘۔​
    میلاد النبی ﷺ کا جب سلسلہ شروع ہو اتھا تو شروع شروع میں سیرت النبی ﷺ پر بیان ہوتا تھا اور نعتیں پڑھی جاتی تھیں۔ لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بہت ساری بدعات شامل ہوتی گئیں اور آج ’’جشنِ عید میلاد النبی ﷺ ‘‘ کی خوفناک و خطرناک شکل میں آپ کے سامنے ہے۔ آئیے! مختصر سا جائزہ لیتے ہیں کہ عشقِ رسول ﷺ کے نام پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  8. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    جشنِ عید میلاد النبی ﷺ میں کیا کیا ہو رہا ہے؟ ایک جائزہ:
    ٭…بارہ ربیع الاوّل سے چند دِن پہلے ہی گھروں، گلیوں، بازاروں، مسجدوں، عمارتوں اور شاہراؤں وغیرہ کو رنگ برنگی روشنیوں اور جھنڈیوں سے سجا دیا جاتا ہے، ہندوؤں کی دیوالی کی طرح چراغاں کیا جاتا ہے۔ سوچئے! اگر یہ اتنا اہم کام تھا تو صحابہ جیسے عاشق رسول ﷺ کیوں پیچھے رہے؟ اگر اُس زمانے میں بجلی نہ تھی تو کیا چراغ جلانے کے لیے تیل بھی دستیاب نہ تھا؟ وہ یہ فضول خرچی اور اسراف نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے دِلوں میں اتباعِ سنت کے نور سے چراغ جلاتے تھے۔

    ٭…بارہ ربیع الاوّل کے دِن لوگ اہتمام سے نئے اور زرق برق لباس پہنتے ہیں، ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ جاہلیت کی انتہاء دیکھیے کہ بعض علاقوں میں نمازِ عید میلاد النبی ﷺ بھی پڑھنے کی مستند اطلاعات موصول ہوئیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔آہ! اس اُمت کو کیا ہو گیا، کیا دو عیدیں قبول نہ تھیں جو خودساختہ تیسری عید نکال لی گئی؟

    ٭…اس دِن کھانے پینے کی مختلف اشیاء تقسیم کی جاتیں ہیں، دیگیں چڑھائی جاتی ہیں،رزق کی ناقدری کی جاتی ہے یعنی کھانے پینے کی اشیاء کو تفریح کرتے ہوئے ضائع کیا جاتا ہے۔ اور ایسی کمپنیوں کے جوس تقسیم کیے جاتے ہیں جو گستاخِ رسول ﷺ ہیں جن سے لین دین بالکل جائز نہیں۔ افسوس! یہ کیسا عشقِ رسول ﷺ ہے کہ دشمنانِ رسول ﷺ کو فائدہ دیا جا رہا ہے جو ہمارے پیسوں کو ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کو مرتد کرنے، قرآنِ پاک میں تحریف کرنے، حضور اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی اور دیگر مذموم مقاصد کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔

    ٭…باطل فرقوں کی دیکھا دیکھی خانہ کعبہ کی شبیھیں بنائی جا رہی ہیں، روضۂ اقدس کی شبیھیں بنائی جا رہی ہیں، گنبدِ خضراء کی شبیھیں بنائی جا رہی ہیں۔ کوئی برکت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ لگا رہا ہے، کوئی عقیدت میں چوم رہا ہے، کوئی محبت میں طواف کر رہا ہے، کوئی یادگاری تصاویر بنا رہا ہے، کوئی ویڈیو ریکارڈنگ میں مشغول ہے۔ ہائے افسوس! جس جاہلیت اور شرک کو مٹانے سرکارِ دو عالم ﷺ دُنیا میں تشریف لائے تھے آج پھر اُنھی چیزوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور پھر ستم یہ کہ یہ سب کچھ نبی پاک ﷺ کے نام پر ہو رہا ہے۔ یاد رکھیے! جیسے یہ سب کا م گناہ ہیں ایسے ہی ان کو دیکھنے جانا بھی گناہ ہے۔

    ٭…جلوس زور و شور سے نکل رہے ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ فلاں فرقہ فلاں مہینے میں اپنے امام کی یاد میں جلوس نکالتا ہے تو ہم کیوں نہیں نکال سکتے؟ وہ محرم الحرام میں نکالیں اور ہم ربیع الاوّل میں نکالیں گے، سو اس طرح ان کی نقالی میں جلوس اور ریلیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ اور پھر ان جلوس میں جو کچھ ہوتا ہے ناقابلِ بیان ہے۔ افسوس! یہ ہم کو کیا ہو گیا؟ کیا کوئی بندہ چودہ سو سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال پیش کر سکتا ہے کہ آپ ﷺ کے نام پر جلوس نکلے تھے؟ ہرگز نہیں۔

    ٭…ان جلسوں، محفلوں اور جلوسوں میں نمازوں کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا، نمازیں قضاء ہو رہی ہیں مگر کچھ فکر نہیں۔ نماز جو فرضِ عین ہے یومِ محشر میں سب سے پہلے جس کے متعلق سوال ہو گا، افسوس! اُس کو پش پشت کیے عشقِ رسول ﷺ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ایسا عشق ہرگز قبول نہیں جو احکامِ دین کو پامال کر کے کیا جا رہا ہے۔قدرتِ خداوندی دیکھیے! اس سال بارہ ربیع الاوّل جمعۃ المبارک کو تھی، مسجدوں میں جیسی تعداد ہوا کرتی ہے عام دِنوں میں ، نہ ہونے کے برابر تھی، کیوں؟ اس لیے کہ یہ سب عاشق آرائش و زیبائش اور جلوس کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ہائے! یہ کیسا عشق ہے؟۔۔۔

    ٭…آج گانوں اور نعتوں میں فرق ہی مٹتا جا رہا ہے، گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھی جا رہی ہیں، ہارمونیم بج رہا ہے، مرد و خواتین مل کے نعتیں پڑھ رہے ہیں، قوالیاں ہو رہی ہیں۔ گلیوں، محلوں اورشاہراؤں میں بڑے بڑے اسپیکر لگا کے نعتیں لگائے سمجھ رہے ہیں کہ ہم عشقِ رسول ﷺ کا حق ادا کر رہے ہیں۔ آہ! نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے؟آج اگر کوئی کافر حضور اقدس ﷺ کی شان میں پڑھے اشعار کو گانوں کی طرز پر موسیقی کے ساتھ پڑھے تو مسلمان سراپا احتجاج بن جاتے ہیں اور ناجانے کیا کچھ کیا جاتا ہے، مگر افسوس! یہ اپنے ہی ہاتھوں جو گستاخیاں اور بے ادبیاں ہو رہی ہیں یہ کیوں نظر نہیں آ رہی؟ اذان ہو رہی ہے مگر اسپیکر بند نہیں کیے جا رہے، یہ کیسا احترام ہے؟

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  9. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    ٭…پیارے نبی ﷺ کی پیاری سنتوں کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے، ڈاڑھیاں (جو سنت نہیں بلکہ واجب ہے)مونڈی جا رہی ہیں۔ دعویٰ عشق کا ہے تو پھر پیارے نبی ﷺ کے چہرۂ مبارک سے اتنی نفرت کیوں؟ ہمارے پیارے نبی ﷺ کے چہرۂ مبارک پر ڈاڑھی تھی، کیا علم نہیں؟ آقا ﷺ نے ڈاڑھی مونڈھے سفیروں سے چہرۂ انور دوسری جانب کر لیا تھا، اگر حوضِ کوثر پر آقا ﷺ نے ہمیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیا، تو کدھر جائیں گے؟

    ٭…آج روشن خیال طبقہ کی جانب سےمخلوط محافل کا انتظام کیا جا رہا ہے جس میں مرد و عورتیں اکٹھے بیٹھتے ہیں، ظلم دیکھیے! کہ سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر محفل ہو رہی ہے اوربے پردگی کا گناہ عظیم ہو رہا ہے۔ خواتین پوری طرح آرائش و زیبائش اور سج دھج کے شریک ہوتیں ہیں، افسوس! اس بات پر اُن کے مرد بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ افسوس! تعلیماتِ اسلام کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں، خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دی جا رہی ہے۔ افسوس! پاکیزہ دین نے عورت کو جو مقام دیا تھا ، خود ہی اپنے ہاتھوں اُس مقام کو کھو دیا۔

    ٭…محلہ میں کچھ لوگوں نے مل کر سیرت النبی ﷺ پر ایک جلسہ منعقد کیا جس میں سامعین کی تعداد تو بہت کم ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کی آواز دُور دُور تک گونج رہی ہے، جب تک جلسہ کا اختتام نہیں ہو جاتا آواز یونہیں گونجتی رہے گی۔قریبی گھروں میں کوئی مریض ہیں بوڑھے ہیں، طلبہ پڑھائی کرنا چاہتے ہیں، کوئی اللہ کا بندہ تلاوتِ کلام اللہ کرنا چاہتا ہے، کوئی آرام کرنا چاہتا ہے، افسوس! اس کا خیال تک نہیں آتا، کیوں؟ ان جلسوں میں ایذائے مسلم کا گناہِ کبیرہ ہو رہا ہے، ہائے افسوس! گناہ کا گناہ ہونے کا احساس ہی ختم ہو گیا۔

    ٭…ربیع الاوّل میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے پوسٹر اور پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں، دیواروں پر چسپاں کیے جاتے ہیں اور جھنڈیاں جن پر مقدس کلمات لکھے ہوتے ہیں لگائی جاتی ہیں۔ وہ بعد میں ہوا کے ساتھ یا کسی اور وجہ سے جب نیچے زمین پر گرتے ہیں تو لوگوں کے پاؤں سے روند ہوتے ہیں، کیا یہ توہین نہیں؟ کیا ایسی بے ادبی سے آپ ﷺ خوش ہوتے ہوں گے؟ یہ کیسا عشق و محبت ہے؟ کوئی ہندو اور عیسائی ایسی جرأت کرے تو احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں، لیکن اپنے ہاتھوں سے جو گستاخی و بے ادبی کی جا رہی ہے اُس پر یہ خاموشی کیوں؟

    اور نہ جانے کیا کیا خرافات اور منکرات ہو رہی ہیں، اور ان سب کی سرپرستی بدعتی علماءِ سوء کر رہے ہیں، جو دین کے نام پر دُنیا کما رہے ہیں، جو حُبِّ دُنیا میں عدم جواز کو جواز بنا کر سادہ لوح مسلمانوں میں پیش کرتے ہیں، اور جس مجموعۂ منکرات کو ‘‘عشقِ رسول ﷺ’’ کا نام دے رکھا ہے وہ ‘‘معیارِ عشق’’ نہیں بلکہ ‘‘معیارِ فسق’’ ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہی پاکیزہ دینِ اسلام کی تعلیمات ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یاد رکھیے! صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے طریقہ کو چھوڑ کر عشق کا دعویٰ غیر معتبر ہے۔
    مستند رستے وہی مانے گئے
    جن سے ہو کر تیرے دیوانے گئے​
    دینِ اسلام میں یومِ پیدائش منانے کا کوئی تصور نہیں:
    افسوس! ہم لوگوں نے سال میں ایک دِن کو عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ مخصوص کر دیا، اس کو ایک جشن اور تہوار کی شکل دے دی ۔ یاد رکھیے! دین اسلام میں کسی کے یومِ پیدائش منانے کا کوئی تصور نہیں، بلکہ یہ تصور ہمارے یہاں عیسائیوں کے ہاں سے آیا ہے۔ عاشق کا تو ہر دِن عید ہوتا ہے اگر وہ نقشِ قدم نبی ﷺ پر چل رہا ہے، ہر رات شبِ قدر ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھے ہوئے ہے۔ ذرا دِل پہ ہاتھ رکھ کر سوچو! جس ماہ میں ولادت ہوئی اُسی ماہ میں وفات بھی ہوئی ہے، تو پھر کس بات کی خوشی مناتے ہو؟ جس تاریخ کو تم ولادت کہتے ہو اور خوشی مناتے ہو، اُس کو تاریخ وفات بھی کہا جاتا ہے جب تاریخ متعین نہیں تو پھر تمہاری یہ خوشی کیسی؟ ارے تمہاری خوشی جب قبول ہو گی جب صحابہ کے طریقہ پر ہو گی، ان کے طریقہ کے خلاف تمہاری خوشی قبول نہیں ہو سکتی۔
    اس لیے نبی کریم ﷺ کے یا آپ ﷺ کے علاوہ کسی بھی دوسرے شخص کے یومِ پیدائش پر محفلِ میلاد و عرس منعقد کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ بدعت ہے جو دین میں ایجاد کر لی گئی ہے۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  10. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    آج سے عہد کیجیے اتباعِ سنت رسول ﷺ کا:
    ہم ہر سال محفلوں اور جلسوں میں شرکت کرتے ہیں اور تقریریں سنتے ہیں، لیکن زندگی جیسے پہلے تھی ویسی ہی ہے، کچھ فرق نہ آیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ نہ ہماری نیت درُست ہے اور نہ ہمارا طریقہ، تو زندگیوں میں انقلاب کیسے آئے؟ یاد رکھیے! ہماری زندگیوں میں اگر انقلاب آ سکتا ہے تو صرف اتباعِ سنتِ رسول ﷺ سے۔ نبی اکرم ﷺ کی مبارک سیرت سے وہی شخص کماحقہ فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو پیرویٔ اغیار چھوڑ کر پیرویٔ رسول ﷺ کرے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی چیز کو محبوب رکھتا ہے اس کو ماسویٰ پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی معنی محبت کے ہیں ورنہ محبت نہیں محض دعویٔ محبت ہے۔
    آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہر شعبہ زندگی کے لیے کامل نمونہ ہے:
    حضرت علامہ سیّد سلیمان ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ:
    ‘‘غرض ایک ایسی شخصی زندگی ، جو طائفۂ انسانی کے اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو، صرف محمد رسول اللہ (ﷺ) کی سیرت ہے۔
    ٭…اگر دولت مند ہو تو مکہ کے اور بحرین کے خزانہ دار کی تقلید کرو۔
    ٭…اگر غریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنو۔
    ٭…اگر بادشاہ ہو تو سلطان عرب کا حال پڑھو۔
    ٭…اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو۔
    ٭…اگر فاتح ہو تو مندحنین سپہ سالاروں پر نگاہ دوڑاؤ۔
    ٭…اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکہ اُحد سے عبرت حاصل کرو۔
    ٭…اگر تم اُستاد اور معلم ہو تو صفہ کی درس کے معلم قدس کو دیکھو۔
    ٭…اگر شاگرد ہو تو رُوح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جماؤ۔
    ٭…اگر واعظ اور ناصح ہو تو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے کی باتیں سنو۔
    ٭…اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یارومددگار نبی (ﷺ) کا اُسوہ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔
    ٭…اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دُشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو تو بنی نصیر، خیبر اور فدک کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو۔
    ٭…اگر یتیم ہو تو عبد اللہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو۔
    ٭…اگر بچہ ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو۔
    ٭…اگر تم جوان ہو تو مکہ کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو۔
    ٭…اگر سفری کاروبار میں ہو تو بصریٰ کے کاروان سالار کی مثالںر ڈھونڈو۔
    ٭…اگر عدالت کے قاضی اور پنچاتیوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نورِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجرِ اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے۔
    ٭…مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر انصاف میں شاہ و گدا اور امیر و غریب برابر تھے۔
    ٭…اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے مقدس شوہر کی حیات پاک کا مطالعہ کرو۔
    ٭…اگر اولاد والے ہو تو فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے باپ اور حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے نانا کا حال پوچھو۔

    غرض تم جو کوئی بھی ہو، اور کسی حال میں بھی ہو، تمہاری زندگی کے لیے نمونہ، تمہاری سیرت کی درُستی و اصلاح کے لیے سامان، تمہارے ظلمت خانہ کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد ﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانہ میں ہر وقت اور اور ہمہ دِل مل سکتا ہے۔اس لیے طبقہ انسانی کے ہر طالب اور نورِ ایمانی کے ہر متلاشی کے لیے صرف محمد رسول اللہ (ﷺ) کی سیرت ہدایت کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے’’۔ (خطباتِ مدراس:۱۰۲،۱۰۳)

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  11. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    کیا ہم اپنی خواہش بھی قربان نہیں کر سکتے؟
    الغرض آپ ﷺ کی حیات ایک مسلمان کے لیے کامل نمونہ ہے۔ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے بدعت ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اسے نبی کریم ﷺ، اہلِ بیت و خلفائے راشدین و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم، خیر القرون میں تابنین و تبع تابعین، اور بعد والوں میں آئمہ کرام، فقہاء کرام، مفسرین و محدثین، علمائے کرام و مشائخ عظام اور دیگر اسلاف نے نہیں کیا۔ اگر جشنِ عید میلاد النبی ﷺ اچھا کام تھا تو جن نفوسِ قدسیہ کا ایک ایک سانس اور ایک ایک لمحہ عشقِ رسول و سنتِ نبوی ﷺ میں گزرتا تھا، شریعت پر ہم سے زیادہ عمل کرتے تھے، وہ کیسے اس کام سے پیچھے رہ سکتے تھے؟ اگر اتنا اہم کام تھا تو خاصانِ خدا کی نظروں سے یہ کیوں اُوجھل رہ گیا؟ اُنھوں نے تو عشق رسول ﷺ میں اپنےدوست و احباب، مال و دولت، گھر و دُکان حتیٰ کہ اپنی جان تک کو بھی قربان کر دیا، اور ایک ہم ہیں کہ اپنی خواہشاتِ نفسانیہ کو بھی قربان نہیں کر رہے؟
    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عشق دیکھو:
    صلح حدیبیہ کے واقعہ میں ہے، حضرت عروہ کہتے ہیں کہ:
    ‘‘اللہ کی قسم! حضور ﷺ جب بھی تھوکتے تو اسے کوئی نہ کوئی صحابی اپنے ہاتھ پر لے لیتا اور اس کو چہرے پر مَل لیتا، اور حجور ﷺ جب انہیں کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اسے فوراً کرتے، اور جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ کے وضو کے پانی کو لینے کے لیے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے اور لڑنے کے قریب ہو جاتے، اور جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست کر لیتے، اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دِل میں آپ ﷺ کی اتنی عظمت تھی کہ وہ آپ ﷺ کو نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتے تھے’’۔ چنانچہ عروہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گئے اور ان سے کہا کہ ‘‘میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کی تعظیم اس کے درباری اتنی کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم محمد ﷺ کی کرتے ہیں’’۔ (حیاۃ الصحابہ:۲؍۳۷۸،۳۷۹)

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  12. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    کیا ہم اپنی خواہش بھی قربان نہیں کر سکتے؟
    الغرض آپ ﷺ کی حیات ایک مسلمان کے لیے کامل نمونہ ہے۔ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے بدعت ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اسے نبی کریم ﷺ، اہلِ بیت و خلفائے راشدین و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم، خیر القرون میں تابنین و تبع تابعین، اور بعد والوں میں آئمہ کرام، فقہاء کرام، مفسرین و محدثین، علمائے کرام و مشائخ عظام اور دیگر اسلاف نے نہیں کیا۔ اگر جشنِ عید میلاد النبی ﷺ اچھا کام تھا تو جن نفوسِ قدسیہ کا ایک ایک سانس اور ایک ایک لمحہ عشقِ رسول و سنتِ نبوی ﷺ میں گزرتا تھا، شریعت پر ہم سے زیادہ عمل کرتے تھے، وہ کیسے اس کام سے پیچھے رہ سکتے تھے؟ اگر اتنا اہم کام تھا تو خاصانِ خدا کی نظروں سے یہ کیوں اُوجھل رہ گیا؟ اُنھوں نے تو عشق رسول ﷺ میں اپنےدوست و احباب، مال و دولت، گھر و دُکان حتیٰ کہ اپنی جان تک کو بھی قربان کر دیا، اور ایک ہم ہیں کہ اپنی خواہشاتِ نفسانیہ کو بھی قربان نہیں کر رہے؟
    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عشق دیکھو:
    صلح حدیبیہ کے واقعہ میں ہے، حضرت عروہ کہتے ہیں کہ:
    ‘‘اللہ کی قسم! حضور ﷺ جب بھی تھوکتے تو اسے کوئی نہ کوئی صحابی اپنے ہاتھ پر لے لیتا اور اس کو چہرے پر مَل لیتا، اور حضور ﷺ جب انہیں کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اسے فوراً کرتے، اور جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ کے وضو کے پانی کو لینے کے لیے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے اور لڑنے کے قریب ہو جاتے، اور جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست کر لیتے، اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دِل میں آپ ﷺ کی اتنی عظمت تھی کہ وہ آپ ﷺ کو نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتے تھے’’۔ چنانچہ عروہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گئے اور ان سے کہا کہ ‘‘میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کی تعظیم اس کے درباری اتنی کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم محمد ﷺ کی کرتے ہیں’’۔ (حیاۃ الصحابہ:۲؍۳۷۸،۳۷۹)

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  13. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور دیگر چند ایک واقعات ملاحظہ فرمائیے۔

    اتباعِ رسول ﷺ ہو تو ایسی:
    ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ دے رہے تھے، خطبہ کے دوران آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد کے کناروں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ آج کل بھی آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کوئی تقریر یا جلسہ کرتا ہے تو کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ لوگ نہ تو بیٹھتے ہیں اور نہ جاتے ہیں، اس طرح کناروں پر کھڑا ہونا مجلس کے ادب کے خلاف ہے، اگر تمہیں سننا ہے تو بیٹھ جاؤ، اور اگر نہیں سننا ہے تو جاؤ، اپنا راستہ دیکھو، اس لیے کہ اس طرح کھڑے ہونے سے بولنے والے کا ذہن بھی تشویش میں مبتلا ہوتا ہے اور سننے والوں کا ذہن بھی انتشار کا شکار رہتا ہے۔
    بہرحال آنحضرت ﷺ نے کناروں پر کھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: ‘‘بیٹھ جاؤ’’۔ جس وقت آپ نے یہ حکم دیا اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی دروازے پر تھے اور ابھی مسجد میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ اس وقت ان کے کان میں حضور اقدس ﷺ کی یہ آواز آئی کہ: ‘‘بیٹھ جاؤ’’۔آپ وہیں دروازے پر بیٹھ گئے۔ خطبہ کے بعد جب حضور اقدس ﷺ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو بیٹھنے کا حکم ان لوگوں کو دیا تھا جو یہاں مسجد کے کناروں پر کھڑے ہوئے تھے لیکن تم دروازے پر تھے، اور دروازے پر بیٹھنے کو تو میں نے نہیں کہا تھا، تم وہاں کیوں بیٹھ گئے؟ ۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ جب حوپر اقدس (ﷺ) کا یہ ارشاد کان میں پڑ گیاکہ ‘‘بیٹھ جاؤ’’ تو پھر عبد اللہ بن مسعود کی مجال نہیں تھی کہ وہ ایک قدم آگے بڑھائے۔
    اور یہ بات نہیں تھی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کو جانتے نہیں تھے کہ حضور اقدس ﷺ مجھے دروازے پر بیٹھنے کا حکم نہیں دے رہے تھے ، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ جب حضور ﷺ کا یہ ارشاد کان میں پڑ گیا کہ ‘‘بیٹھ جاؤ’’ تو اب اس کے بعد قدم نہیں اُٹھ سکتا۔ صحابہ کرام کی اتباع کا یہ حال تھا، ویسے ہی صحابہ کرام نہیں بن گئے تھے۔ عشق و محبت کے دعوے دار تو بہت ہیں لیکن ان صحابہ کرام جیسا عشق کوئی لے کر تو آئے۔ (ابوداؤد، کتاب الجمعہ، باب الامام یکلم الرجل فی خطبۃ)
    میدانِ جنگ میں اَدب کا لحاظ:
    میدانِ اُحد میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ سرکار دو عالم ﷺ کی طرف تِیر برسائے جا رہے ہیں، تِیروں کی بارش ہو رہی ہے، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے سامنے آڑ بن جائیں،لیکن اگر ان تِیروں کی طرف سینہ کر کے آڑ بنتے ہیں تو حضور اقدس ﷺ کی طرف پشت ہو جاتی ہے اور یہ گوارا نہیں کہ میدانِ جنگ میں بھی حضور ﷺ کی طرف پشت ہو جائے۔ چنانچہ آپ نے اپنا سینہ حضور اقدس ﷺ کی طرف اور پشت کفار کے تِیروں کی طرف کر دی، اور اس طرح تِیروں کو اپنی پشت پر لے رہے تھے تاکہ جنگ کے میدان میں بھی یہ بے ادبی نہ ہو کہ حو ر اقدس ﷺ کی طرف پشت ہو جائے۔ (رواہ ابن اسحاق)
    ف: جس طرح حضور خاتم النبیین تھے، کمالاتِ نبوت آپ پر ختم تھے، اسی طرح آپ پر محبوبیت ختم تھی اور صحابہ کرام پر عشق ختم تھا، خدا کی قسم! اس فدائیت کے سامنے لیلیٰ و مجنون کی داستانیں سب گرد ہیں۔ (سیرت المصطفیٰ ﷺ: ج۲،ص۲۰۴)
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ:
    حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ مسجد نبوی سے بہت دُور مکان لے لیا تھا، وہاں رہنے لگے تھے اور دُوری کی وجہ سے وہاں سے روزانہ مسجد نبوی میں حاضری دینا مشکل تھا۔چنانچہ ان کے قریب ایک صاحب رہتے تھے، ان سے یہ طے کر لیا تھا کہ ایک دِن تم مسجد نبوی چلے جایا کرو اور ایک دِن میں جایا کروں گا، جس دِن تم جاؤ اس دِن واپس آ کر مجھے یہ بتانا کہ آج حضور اقدس ﷺ نے کیا کیا باتیں ارشاد فرمائیں، اور جب میں جایا کروں گا تو میں واپس آ کر تمہیں بتا دیا کروں گا کہ حضور ﷺ نے کیا کیا باتیں ارشاد فرمائیں، تاکہ سرکار دو عالم ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی کوئی بات چھوٹنے نہ پائے۔ اس طرح صحابہ کرام نے حضور ﷺ کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور سنتوں پر جان دی ہے۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  14. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    اسمِ ‘‘محمد’’ ﷺ کا احترام:
    بادشاہ ناصر الدین محمود کے ایک خاص مصاحب کا نام’’ محمد‘‘ تھا، بادشاہ اسے اسی نام سے پکارا کرتا تھا۔ ایک دن انہوں نے خلاف معمول ’’ تاج الدین‘‘ کہہ کر پکارا تو وہ تکمیل حکم میں تو حاضر ہو گیا، لیکن پھر تین دن غائب رہا ۔ بادشاہ نے غائب رہنے کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگا کہ آپ نے ہمیشہ مجھے ’’محمد‘‘ کہہ کر پکارا ہے لیکن اس دن ’’ تاج الدین‘‘ کہہ کر پکارا تو میں سمجھا کہ مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے آپ نے ایسا کیا۔
    بادشاہ نے جواب دیا: کہ میں نے آپ کا نام لے کر آپ کو اس لیے نہیں پکارا کہ اس وقت میرا وضو نہیں تھا اور بغیر وضو کے ’’محمد‘‘ کا مقدس نام لینا مناسب نہ لگا۔ (تاریخ فرشتہ)
    اور ہمارا حال کیا ہے؟ احقر ایک مرتبہ اپنے خالہ زاد بھائیوں کے ساتھ کہیں جا رہا تھا، راستے میں ایک جگہ دیوار پر نگاہ پڑی جس پر ایک سیرت النبی ﷺ کے جلسے کی تاریخ اور مقام لکھا ہوا تھا اور درمیان میں حضور ﷺ کا اسم گرامی بڑا کر کے لکھا ہوا تھا، اور اس دیوار کے ساتھ اور سامنے گندگی کا بہت بڑا ڈھیر (اردگرد سے ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا کہ یہ جگہ کوڑا کرکٹ کے لیے ہے)۔ یہ دیکھ کر دِل بہت دُکھا کہ یہ کیسا عشق ہے کہ محبوب کا نام لکھتے ہوئے جگہ کا لحاظ بھی نہ کیا کہ کہاں لکھ رہے ہیں، تشہیر کی خاطر ادب ہی بھول گئے۔ اگر ایسی حرکت کوئی کافر کردیتا تو پھر توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی، مگر اب کوئی بھی دھیان نہیں دے رہا۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔
    سنتِ رسول ﷺ کا سچا عاشق:
    ایک امریکن نیگرو نو مسلم اپنے ساتھیوں سمیت دین سیکھنے کی غرض سے اللہ کے راستہ میں کچھ وقت لگا کر ہندوستان آیا ہوا تھا۔ اس امریکن نیگرو کو اسلام قبول کیے چند ہی ماہ ہوئے تھے اور وہ حیدرآباد ہی میں ایک جامع مسجد میں مقیم تھا ۔ ایک دن اس نے دریافت کیا کہ ہمارے نبی ﷺ سر پر بال مبارک کس طرح رکھتے تھے یعنی مانگ کس طرح نکالتے تھے ؟ اس کو جواب دیا گیا کہ درمیان سر سے مانگ نکالنا، یہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ بس اس کے بعد سے وہ نیگرو برابر اس کوشش میں رہتا کہ سر کے درمیان سے مانگ نکل آئے ۔ بہت کوشش کے باوجود وہ ناکام رہتا کیونکہ نیگرو حضرات کے بال کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ مانگ نکل ہی نہیں سکتی۔
    ایک بار ایسا ہوا کہ رات کے کوئی دو تین بجے تھے مسجد سے متصل رہائشی کمرے میں بعض لوگ تہجد کی نماز کیلئے اٹھنے کی تیاری کر رہے تھے ۔ دھیمی دھیمی اور مدہم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ کہیں کہیں دور سے الا اللہ ۔ ۔ ۔ الا اللہ اور درُود شریف پڑھنے کی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں ۔ یکایک لوگوں کو ایک ہلکی سی چیخ کی آواز سنائی گئی ۔ لوگوں کو تشویش ہوئی روشنی کی گئی تو یہ منظر سامنے آیا وہ نیگرو نو مسلم اپنے بستر پر بیٹھا ہے اور سر پر ہاتھ رکھے مسکرا رہا ہے اور اس کے سامنے خون کی ایک باریک سی لکیر فرش پر رینگ رہی ہے۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ اس نیگرو نے ریزر بلیڈ سے اپنے سر کے درمیانی حصہ کو کچھ کاٹ لیا ہے ۔ ڈاکٹر کو بلا کر مرہم پٹی کی گئی۔ اب جب اس نیگرو نو مسلم سے پوچھا گیا کہ اس نے یہ عمل کیوں کیا؟ تو جو جواب اس نے دیا ملاحظ فرمائیے، اس کا ایک ایک جملہ ہم پیدائشی مسلمانوں کیلئے قابل عبرت ہے بلکہ بعض مسلمانوں کیلئے شاید عجیب و غریب بھی ہو گا، کہنے لگا:
    کئی دن سے کوشش میں تھا کہ سرکار دو عالم ﷺ کی مانگ والی سنت کو بھی پورا کروں ، مگر لاکھ کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ہو رہی تھی اس لیے میں نے سر کے درمیانی حصہ کو ذرا سا کاٹ لیا ہے۔ اب تو انشاء اللہ درمیان سے مانگ نکلے گی اور حضور ﷺ کی ایک اور سنت اداء کر سکوں گا ۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایمانی چمک محسوس ہو رہی تھی اور ان میں خوشی کے آنسو تیر رہے تھے ۔ پھر یکایک وہ پھوٹ پڑا، روتے ہوئے کہنے لگا کہ آپ لوگ دس سال پہلے امریکہ کیوں نہیں آئے ۔ میرے ماں باپ دونوں کا انتقال ہو چکا ہے وہ کفر کی حالت میں فوت ہو گئے ۔ آہ میں کیا کروں ؟ اس کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔
    غور کیجئے ! آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اس نیگرو کو اپنا سر زخمی کر لینے پر مجبور کر دیا۔ سر زخمی ہو گیا لیکن وہ فاتحانہ انداز میں مسکرا رہا ہے ۔ سنت کے عاشق دراصل ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کے دلوں میں ایمان راسخ ہو چکا ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کی ایک ایک سنت اور آپ کی ایک ایک ادا پہ فدا ہو جاتے ہیں ۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  15. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    اس کائنات میں محسنِ عظیم نبی کریم ﷺ ہیں:
    ہمارے ہرایسے فعل سے حضور ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے جو خلافِ سُنّت ہے۔ اگر حضور ﷺ نے روزِ قابمت ہم سے پوچھ لیا کہ بتاؤ! میرے بتائے ہوئے طریقوں سے تم کو کیا دُشمنی تھی؟ کیا ضد تھی جو قابلِ عمل نہیں سمجھتے؟ آہ، سوچئے! تو پھر ہم کدھر جائیں گے؟ اور کیا جواب دیں گے؟ میدانِ محشر میں صرف ایک جھنڈا ہو گا جس کے سائے تلے جملہ انبیاء و اُمم پناہ لیں گی، وہ جھنڈا صرف ہمارے پیارے نبی شفیع المذنبیّین ﷺ کے دستِ اقدس میں ہو گا۔ آہ! یہ اُمت اپنے پیارے نبی ﷺ کو کیوں اتنی تکلیف دینے پر تّلی ہوئی ہے۔قربان جائیے سرکارِ دو عالم ﷺ کے اس فرمانِ عالی پر، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
    المرء مع من احب۔ یعنی ‘‘جس کو جس سے محبت ہے وہ اسی کے ساتھ رہے گا’’۔
    ہم کس سے محبت رکھتے ہیں؟ یہ صرف ہمارا قول نہیں بلکہ ہمارا حال بھی بتلاتا ہے،اس لیے جس سے محبت رکھیں گے اُسی کے ساتھ معیت و رفاقت نصیب ہو گی۔ آہ! حضور اقدس ﷺ کا یہ حال تھا کہ اپنی اُمت کی فکر میں دِن رات گھلتے رہتے تھے۔ ایک صحابی حضور اقدس ﷺ کی اس حالت کو بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
    کان دائم الفکرۃ، متواصل الاخزان​

    جب بھی آپ کو دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی فکر میں ہیں، اور کوئی غم آپ ﷺ پر طاری ہے۔۔۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ فکر اور غم کوئی اس بات کا نہیں تھا کہ آپ کو تجارت میں نقصان ہو رہا تھا، اور مال و دولت میں کمی آ رہی تھی، یا دُنیا کے اور دوسرے مال و اسباب میں قلت ا ٓرہی تھی۔ بلکہ یہ فکر اور غم اس اُمت کے لیے تھا کہ میری اُمت کسی طریقے سے جہنم کے عذاب سے بچ جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضائے اس کو حاصل ہو جائے۔ آہ! کیسا محبوبِ کبریا ﷺ ہے کہ بارگاہِ خداوندی میں روز و شب آنسو بہاتا رہا کہ۔۔۔۔۔۔۔
    ‘‘یا اللہ! میری اُمت! میری اُمت! میری اُمت! ’’۔​
    رسول اللہ ﷺ کے تین حقوق:
    حکیم الامت مجدد الملت حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    کلی طور پر حضور ﷺ کے یہ تین حقوق ہیں:
    (۱)اطاعت، (۲)محبت، (۳)عظمت۔ (وعظ شکر النعمۃ)
    مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ‘‘حیاتِ طیبہ کے تذکرہ کیلئے صرف ایک مہینہ مقرر نہ کریں ہر مہینہ، ہر ہفتہ محفلیں، وعظ اور سیرت کی مقرر کر کے اہتمام سے کرائیں اور سنت کے مطابق درُود کی کثرت کریں اور عمل کی اللہ سے توفیق مانگیں ۔ اس طرح آپ ﷺ کی سنت پر جو قدم ہمارا پڑے گا دین مضبوط ہو گا’’۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  16. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    چند احادیثِ مُبارکہ:

    ٭…حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جو کچھ بنی اسرائیل پر آیا وہ سب کچھ میری اُمت پر ضرور آئے گا۔ (اور دونوں میں ایسی مماثلت ہو گی) جیسے کہ دونوں جوتے ایک دوسرے کے برابر کیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ کھلم کھلا زنا کیا ہو گا تو میری اُمت میں بھی ایسا شخص ہو گا جو اس کام کو کرے گا۔ اور بنی اسرائیل بہتّر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے میری اُمت تہتّر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، اور ایک فرقہ کے علاوہ باقی تمام فرقے جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ ایک فرقہ کون سا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: جو اس راستے پر چلے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (ترمذی)

    ٭…ایک دوسری جگہ حضور اقدس ﷺ نے وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم میں سے میرے بعد جو بھی زندہ رہے گا وہ بہت سےاختلافات دیکھے گا، تو ایسی صورت میں میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرتے رہنا اور اسے تھامے رہنا اور دانتوں سے مضبوط پکڑے رکھنا اور نئی نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد)

    ٭…حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘ ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جن کو دین کی وجہ سے اجنبی سمجھا جائے، اور یہ وہ لوگ ہیں جو میرے بعد میری جس سنت کو لوگ بگاڑ دیں یہ اس سنت کو ٹھیک کر دیتے ہیں’’۔ (ترمذی)

    ٭…حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ: ‘‘میری اُمت کے بگڑنے کے وقت جس نے میری سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھا اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا’’۔ (بیہقی)

    ٭…حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ‘‘جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا’’۔ (ترمذی)

    ٭…حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ: ‘‘جو میری سنت سے اعراض کرے، اس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں ہے’’۔ (مسلم) اور ابن عساکر میں یہ روایت حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے جس کے شروع میں یہ الفاظ بھی ہیں: ‘‘جس نے میری سنت پر عمل کیا اس کا مجھ سے تعلق ہے’’۔ (بحوالہ حیاۃ الصحابہ:۱؍۳۲۔۳۴)

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  17. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    علمائے کرام اور عوام الناس سے التماس:
    علماء حضرات سے التماس ہے کہ روز بروز تیز رفتاری سے بڑھتی اس بدعتِ عظیم کا سدباب کیجیے، جس کے اثرات نئی نسلوں پر بہت گہرے مرتب ہو رہے ہیں۔ہمارے بچے جو ہمارا مستقبل ہیں ان منکرات و خرافات کو ہی دین سمجھ بیٹھے ہیں اور اصل اسلامی تعلیمات سے دُور ہوتے جا رہے ہیں۔ جشنِ عید میلاد پر جو کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے، اگر یونہی صورتحال رہی تو ناجانے دین کی کیا صورت بن جائے گی؟
    اور عوام الناس سے بھی التماس ہے کہ ہر ڈاڑھی والے کو مولوی یا مولانا یا صوفی کے القاب دینا چھوڑ دیجیے۔ جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو بعد تلاش و تحقیق اچھے اور ماہر ڈاکٹر سے اپنا علاج کراتے ہیں، لیکن اپنی بیمار رُوح کے علاج کے لیے ایسا کیوں نہیں کرتے؟ صرف مستند و معتبر علمائے کرام سے ہی دین سیکھئے، اور زندگی کے ہر شعبے میں اُن سے رہبری لیجیے، ورنہ اس پُر فتن دور میں رہزن کے رُوپ میں راہبروں سے اپنے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔
    بدعتیوں کا ایک سوال، کہ ممانعت دکھاؤ:
    حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
    بہت سے لوگ نہایت ہی دلیری کے ساتھ بدعتوں میں لگے رہتے ہیں، اور جب ان کو توجہ دلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس عمل کی ممانعت دکھاؤ۔ یہ سوال بھی عجیب ہے ۔ عمل کرنے والے پر لازم ہے کہ پہلے تحقیق کر کے عمل شروع کرے کہ شریعت میں اس کا ثبوت ہے یا نہیں ۔ اگر بے ثبوت کام شروع کر دیا اور دوسرے نے اس کی ممانعت نہ دکھائی، تو کیا اس سے وہ کام بدعت کے حدود سے نکل جائے گا؟ سوال و جواب اور اعتراض و الزام سے حقیقت تو ختم نہیں ہو جاتی، جو عمل بدعت ہے وہ بدعت ہی رہے گا۔
    حضور اقدس ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے سورج نکلنے کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، یہ آپ ﷺ کا نہ پڑھنا ہی اس بات کی دلیل کافی ہے کہ نماز عید سے پہلے نفل نہ پڑھے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح نمازِ عید کے لیے عہدِ نبوت اور عہدِ صحابہ میں کبھی اذان نہیں پڑھی گئی، بس اس موقع پر ممنوع کے لیے یہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    اگر وہ سب کام جائز اور لائق ثواب ہوں جن کی صریح ممانعت قرآن و حدیث میں نہیں ہے، تو لاکھوں چیزیں دین میں داخل ہو جائیں گی۔ بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بہت سی چیزوں کا حکم دیا ہے، اور بہت سی چیزوں سے منع فرمایا ہے، اور ایسے اصول بتا دیے کہ جن سے نئے اعمال کے بارے میں جائز اور ناجائز کا فیصلہ ہو سکتا ہے، ان اصول کو ماہرینِ قرآن و حدیث ہی جانتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا کہ فلاں عمل بدعت ہے، عوام کیلئے یہی کافی ہے ۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  18. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    أحسنت .. بارك الله فيك زادك الله علماً ونوراً
  19. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    ترقی کا راز و مدار:
    یہ خوف کہ اگر ہم نے فلاں سنت پر عمل کر لیا تو لوگ کیا کہیں گے؟ دُنیا والے مذاق اُڑائیں گے، اور ہم ترقی کیسے کریں گے؟ اس کے متعلق امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد پڑھئے، فرمایا:
    لا یصلح آخر ھذہ الامۃ الابما صلح بہ اولھا​

    ‘‘اس اُمت کے آخر کو اسی چیز سے صلاح اور فلاح حاصل ہو گی جس چیز سے اُمت کے اوّل کو صلاح اور فلاح حاصل ہوئی’’۔​
    ترقی کا دارومدار اسوۂ نبوی کی پیروی پر ہے جیسا کہ خلفائے راشدین اور خلفاء بنی اُمیہ و خلفائے عباسیہ کے دور میں جو ترقی ہوئی، وہ مشابہتِ کفار کی بناء پر نہ تھی بلکہ اتباعِ نبوی کی بناء تھی۔ (سیرت المصطفیٰ ﷺ:حصہ سوم، ۳۷۷)
    صرف ایک واقعہ تحریر کرتا ہوں تاکہ معلوم ہو سکے، ورنہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
    اپنے آقا کی سنت نہیں چھوڑ سکتا:
    حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صلح حدیبیہ کے موقع پر معاملات طے کرنے کے لیے حضور اقدس ﷺ کے ایلچی بن کرمکہ مکرمہ تشریف لے گئے، وہاں جا کر اپنے چچا زاد بھائی کے گھر ٹھہر گئے اور جب صبح کے وقت مکہ کے سرداروں سے مذاکرات کے لیے گھر سے جانے لگے تو تو اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پاجامہ ٹخنوں سے اُوپر آدھی پنڈلی تک تھا۔ آنحضرت ﷺ کا فرمان یہ تھا کہ ٹخنوں سے نیچےازار لٹکانا تو بالکل ناجز ہے۔ اگر ٹخنوں سے اُوپر ہو تو جائز ہے، لیکن حضور اقدس ﷺ کا عام معمول اور عادت یہ تھی کہ آپ آدھی پنڈلی تک اپنا ازار رکھتے تھے، اس سے نیچے نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔ چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچازاد بھائی نے کہا کہ جناب! عربوں کا دستور یہ ہے کہ جس شخص کا ازار اور تہبند جتنا لٹکا ہوا ہو اتنا ہی اس آدمی کو بڑا سمجھا جاتا ہے، اور سردار قسم کے لوگ اپنی ازار کو لٹکا کر رکھتے ہیں، اس لیے اگر آپ اپنی ازار اس طرح اُونچی پہن کر ان لوگوں کے پاس جائیں گے تو اس صورت میں ان کی نظروں میں آپ کی وقعت نہیں ہو گی اور مذاکرات میں جان نہیں پڑے گی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے چچازاد بھائی کی باتیں سنیں، تو ایک ہی جواب دیا، فرمایا کہ:
    لا! ھکذا ازرۃ صاحبنا صلی اللہ علیہ وسلم
    نہیں میں اپنا ازار اس سے نیچا نہیں کر سکتا، میرے آقا سرکار دوعالم ﷺ کا ازار ایسا ہی ہے، یعنی اب یہ لوگ مجھے اچھا سمجھیں یا بُرا سمجھیں، میری عزت کریں یا بے عزتی کریں، جو چاہیں کریں مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں، میں تو حضور اقدس ﷺ کا ازار دیکھ چکا ہوں، اور آپ کا جیسا ازار ہے ویسا ہی میرا رہے گا اسے میں تبدیل نہیں کر سکتا۔

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔
  20. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    (گزشتہ سے پیوستہ)۔۔۔۔۔۔۔

    قبولِ حق کی دعوت کیسے دی جائے؟

    اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ (النحل:۱۲۵)​

    ترجمہ: ‘‘اپنے رَبّ کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقیناً تمہارا پروردگار اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اُس کے راستےسے بھٹک گئے ہیں، اور اُن سے بھی خوب واقف ہے جو راہِ راست پر قائم ہیں’’۔
    معلوم ہوا کہ اس کے لیے یہ تین اصول مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں، یعنی عقل و حکمت، موعظہ حسنہ اور مناظرہ طریق احسن۔ضرورت ہے کہ داعی نرم اور خیرخواہی سے باتیں کرے کہ سختی اور شدت کا طریق دوسرے کے دِل میں نفرت اورعداوت کے جذبات پیدا کرتا ہےکیسی ہی اچھی اور سچی بات ہو لیکن اس قسم کے جذبات اس کے قبول کی استعداد اس سے سلب کر لیتے اور سننے والے میں اپنی غلطی پر ضد اور ہٹ پیدا کر دیتے ہیں جس سے دعوت کا فائدہ اور نصیحت کا اثر باطل ہو جاتا ہے۔
    آنحضرت ﷺ کو ان منافقوں کے بارہ میں جو آپ کی نافرمانی کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے، یہ حکم ہوتا ہے:
    فَاَعْرِضْ عَنْھُم و عِظْھُمْ وَ قُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَوْلًا بَلِیْغًا (النساء:۶۳)​

    ترجمہ: ‘‘لہٰذا تم انھیں نظر انداز کر دو، انہیں نصیحت کرو، اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہتے رہو جو دِل میں اُتر جانے والی ہو’’۔
    یعنی دعوت و تبلیغ میں مخالفت کی بدسلیقگی، بدتہذیبی اور درشتی سے ان کو درگزر اور ان کو برداشت کرنا چاہیے، دوسرے یہ کہ ان کو نصیحت کنا اور سمجھانا چاہیے، اور تیسرے یہ کہ گفتگو کا وہ مؤثر طرز و انداز اختیار کرنا چاہیے جو دِل میں گھر کرے۔ (ماخوذ از سیرت النبی ﷺ:حصہ چہارم، ص۲۱۶،۲۱۷)

    (جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں