یتیم کا راج

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 24, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    4,335
    موصول پسندیدگیاں:
    1,317
    صنف:
    Male
    جگہ:
    ۔
    یتیم کا راج​

    تمدن کی نمائش گا ہوں سے دور

    کچھ کم چودہ سوبرس کا زمانہ گزرتا ہے ، کہ تمدن کی نمائش گا ہوں سے کوسوں دور تہذیب کے سبزہ زاروں سے الگ ،ایک ویران وبے رونق بستی میں ، چلچلاتی دھوپ والے آسمان کے نیچے ، خشک اور پتھریلی سر زمین کے اوپر ، ایک شریف لیکن اَن پڑھ اور بے زر خاندان میں ، ایک بچہ عالم وگل میں آنکھ کھولتا ہے ۔

    دعویٰ کی دلیل ، صرف خدا کا سہارا

    شفیق با پ کا سایہ پہلے ہی اٹھ چکا ہے ، ماں بھی کچھ ہی روز بعدسفر آخرت اختیا ر کر لیتی ہیں ۔ تربیت کے جو ظاہری قدرتی ذریعے ہیں ۔ بوڑھے دادا اپنے آغوش تربیت میں لے لیتے ہیں ۔بچہ کا بچپن ابھی ختم نہیں ہو نے پاتا کہ وہ بھی ہمیشہ کی گہری نیند سو جاتے ہیں گھر میں نہ نقد ہے نہ جا ئیداد ، نہ حکومت ہے نہ ریاست ۔ خانہ ویرانی کا یہ عالم ہے کہ نہ ماں ہے نہ باپ ۔ نہ دادا ہیں نہ دادی، نہ بھائی ہیں ، نہ بہن ۔ تن تنہا، بے ساز وسامان ، بے یار ومدد گار ،ایک نو عمر اللہ کا بندہ ہے ، جسے سہارا ہے تو اسی نظروں سے اوجھل مولیٰ کا،آسرا ہے تو اسی نگاہوں سے غائب ما لک کا !

    عربوں کی حالت

    ملک کی حالت یہ کہ شرک کی گھٹائیں ہر طرف چھائی ہو ئی ، ساری قوم مخلوق پر ستی میں ڈوبی ہو ئی، بدکاری فیش میں ۔ انسانی ہمدردی کے مفہور سے دماغ نا آشنا ۔ ہر قسم کے فسق وفجور ک گرم با زاری ،بات بات پر لڑنا ،اور پشتہا پشت تک لڑتے رہنا ۔ یتیموں کی حق تلفی ، غریبوں کے ساتھ بیدردی ،اخلاقی وبا ئیں اور روحانی بیماریاں گھر پر مسلط ۔یہ حد سے گزری حالت تو خاص اسی قوم کی اور اس کے ملک کی۔

    دنیا کا رنگ

    باقی جتنی ہمسا یہ قومیں ہیں ، ان میں سے کسی ایک کی بھی زندگی ، پاکی وپا کیزگی کے معیار پر نہیں ۔ مصر وایران ، چین وہندوستان ۔ مشہور تھا کہ یہ تمام ملک ایک زمانہ میں علم ، تہذیب وتمدن کے گہو راے تھے ۔ لیکن اس وقت سب کے سب اخلاقی گندگیوں اور رو حانی نا پاکیوں کے رمنے بنے ہو ئے تھے ، تو حید وخدا پر ستی جو سارے اخلاقی نشو ونما کی جڑ ہے ، سرے سے وہی کٹی ہو ئی ،خالق کی یاد دلوں سے غائب ،اور طرح طرح کے وسیلوں اور واسطوں کی پر ستش ہر دل میں رچی ہو ئی ، متفرق طور پر کہیں کہیں اصلاح کر نے والے بھی پیدا ہو تے ہیں ،لیکن سیلاب کی رَو میں کس کے قدم جم سکتے ہیں ؟

    ظہور قدسی

    فضائے ملک ،بلکہ فضائے عالم کی اس تیرگی میں یہ نو عمر یتیم کھڑا ہوتا ہے ،اور اپنی پاک اور پا کیز ہ کتاب زندگی کے ہر ورق کو کھول کر رکھ دیتا ۔اور اپنی زندگی کا ایک کامل ومکمل نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر کے حوصلہ یہ ہو تا ہے کہ دوسروں کو بھی اپنا جیسا بنایا جائے ۔ ایک طرف سے سازوسامان سے محرومی ہے ہر پہلو سے بے کسی اور بے بسی ہے ، ہر اعتبار سے بے اختیاری ہے ،اور دوسری طرف ملک وقوم کی اصلاح کی امنگیں ہیں ، بلکہ کہنا چا ہئے ،کہ ساری کا ئنات انسانی کے سدھارنے کے حوصلے ہیں ۔لیکن " اصلاح قوم" آج کل کے مفہوم میں نہیں ۔ اس لیے نہ کسی انجمن کی بنیاد پڑتی ہے ،نہ ہی کو ئی پارٹی بنائی جاتی ہے ،نہ کسی کمیٹی کے لیے کو ئی فنڈ کھولا جاتا ہے بلکہ سارا وقت ،اور ساری قوت اپنے آپ کو تیار کرنے میں صرف ہو تی ہے ! یہ نو عمر ، حسین وخوشرو ہے ،نو جوانی کا خون اس کی رگوں میں بھی گردش کرتا ہے ، ملک میں گھر گھر فحش وبے حیائی کے چر چے ہیں ، لیکن اس کی نیچی نظروں پر خود حیاداری قربان ہو جاتی ہے ۔ مئے ناب کے ساغر ہر طرف چھلک رہے ہیں ، پیمانہ چاروں طرف گردش میں ہے ، لیکن اس کے دامن تقویٰ پر فرشتے تک نماز پڑھنے کے آرزو مند ہیں ۔ لوگ لڑ رہے ہیں ۔ یہ صلح کرا رہا ہے ۔ قوم چھیننے میں مصروف ہے ، یہ با نٹنے میں ۔دنیا تحصیل وفراہمی میں لگی ہو ئی ہے ،اور یہ عطا وبخشش میں ۔عالم ِ مخلوق مخلوق پرستی کی لعنت میں مبتلا ہے ،ایک اس کے دل میں خالق کی لَو لگی ہو ئی ہے ۔ (ذکر رسول)
    مولانانورالحسن انور نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں