نتائجِ‌تلاش

  1. م

    اداس شاموں کی بات کر کے رُلاتے کیوں ہیں

    لبادہ غم کا جو اوڑھے بیٹھےہیں کب سے گلؔ اب یہ غم کا قصہ مجھے یوں آکر سناتے کیوں ہیں وہ اسلئے سناتے ہیں آپ کی طرح انہیں بھی عیدی نہیں ملی
  2. م

    اداس شاموں کی بات کر کے رُلاتے کیوں ہیں

    /اور شوھر بے چارہ مظلوم ٹھرا
  3. م

    ذرا سنجیدگی سے پڑھئے گا

    لوسن لو یہ عورتیں کسی حال میں راضی نہیں ہوسکتیں
  4. م

    فطرت کا اثرہے جو گُھل مِل نہ سکی گُلؔ

    سب کو میری جیب کی پڑی ہے۔۔۔ دو بیگمیں ہیں ایک چھوٹی ایک بڑی ہے عید کیسے میں تقسیم کروں دوستو۔۔۔ ہر ایک ہاتھ میں بیلن لئے کھڑی ہے ہم نے بھی ارداہ کرلیا چلہ لگانے کا۔۔ ان دونوں کی لڑائی میں ہمیں کیا پڑی ہے
  5. م

    اداس شاموں کی بات کر کے رُلاتے کیوں ہیں

    /گول میز نہین بیلن کانفرنس ہو سکتی ہے
  6. م

    اداس شاموں کی بات کر کے رُلاتے کیوں ہیں

    اسکی مطالب عالیہ وکثیریہ نکل سکتے ہیں
  7. م

    اداس شاموں کی بات کر کے رُلاتے کیوں ہیں

    مومن کی کوئی شام اداس نہیں ہوتی۔۔۔ کیا اسکی ہر شب شب قدر نہیں ہوتی ۔۔۔۔مایوسیو اداسیوں رخت سفر باندھ لو۔۔ جسکی نظر ہو خدا پر تم پر اسکی نظر نہیں ہوتی
  8. م

    مٹی کا گلک اب خالی ہے

    بابا جی شعر جواب شعر ہے
  9. م

    فطرت کا اثرہے جو گُھل مِل نہ سکی گُلؔ

    وہ تسلسل سے مجھے اسلئے کوس رہے ہیں مین نے عیدی ان کی دوستو دبا رکھی ہے شب وروز وہ منتظر ہیں ایزی پیسے کے اسلئے موبائل پر ہردم ان نے نگاہ رکھی ہے بھول جاؤ کہ ہم آپ کو دیں گے عیدی ظالموں ہم نے بھی جیب سلا رکھی ہے
Top