نتائجِ‌تلاش

  1. مفتی ناصرمظاہری

    حضرت مولانا حمداللہ جان المعروف ڈاگئی بابا جی انتقال فرماگئے۔

    حضرت مولاناڈاگئی دارالعلوم دیوبندکے نہیں مظاہرعلوم سھارنپور کے فارغ وفاضل تھے جزاک اللہ خیرا
  2. مفتی ناصرمظاہری

    بیگم کا مو بائیل

    جزاک اللہ خیراصاحبان قدردان ان تمام اشعارکے لئے
  3. مفتی ناصرمظاہری

    اعلان برائے مضامین

    معززقارئین کرام سہ ماہی افکارقاسمی کے اگلے شمارہ کے لئے ہمیں آپ کی علمی دینی سیاسی سماجی اوراصلاحی ودعوتی مضامین مطلب ہیں تاکہ انکی اشاعت عمل میں لائی جاسکے۔
  4. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    اگرچہ یہ حالت بھی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہی امن و امان بحال ہونے کے بعد مہاجروں نے پھر لکھنؤ واپس آنا شروع کیا، شہر پھر آباد ہو گیا، اس کی گئی ہوئی رونق بھی ایک حد تک واپس آ گئی لیکن اب ملوک دوسرے تھے ، دینِ ملوک دوسرا تھا۔ انگریزوں کے ساتھ ان کے نظریات اور معیارات نے بھی حکمرانی اور عوام...
  5. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    ۱۸۵۷ء کے واقعات متعدّد کتابوں میں ملتے ہیں۔ یہاں فدا علی عیش کے بیان کے چند اقتباس پیش کیے جاتے ہیں جن سے لکھنؤ کی تباہی اور اہلِ شہر کی خانماں بربادی کا کچھ اندازہ ہو سکتا ہے۔ عیش لکھتے ہیں: انگریزوں نے لکھنؤ میں ہزاروں بم کے گولے اتارے۔ آگ برسا دی صدہا مکان ٹوٹے ، ہزاروں کا انتقال ہوا۔ اس...
  6. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    سلطنتِ اودھ کے بانی نواب سعادت خاں برہان الملک کا وطن ایران تھا۔ اسی وجہ سے اودھ کی تہذیب پر ایرانیت کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ یوں تو مسلمان حکمرانوں کے عہد میں پورے ہندوستان کی تہذیب ایران سے متاثر ہوئی لیکن اودھ پر ایرانیت کا نقش بہت نمایاں تھا۔ لباس کی وضع قطع، بالوں کی تراش خراش، مکانوں کی...
  7. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    فنونِ لطیفہ کی ہر شاخ لکھنؤ میں نئے نئے ثمر لائی۔ شاعری میں ایک طرف غزل نے لکھنؤ میں آ کر خود کو رنگ برنگ پھولوں سے اتنا سجایا کہ اس آرائش کے پیچھے اس کی اصل صورت بھی چھپ گئی۔ دوسری طرف مرثیہ پانچوں ہتھیاروں سے لیس ہو کر اس شان سے اُٹھا کہ دنیا بھر کے رزمیہ ادب سے ٹکرا گیا اور پھر بھی اپنی...
  8. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    سید فضل علی دہلوی، جو عہدِ نصیرالدین حیدر میں گھومتے پھرتے لکھنؤ پہنچے تھے ، اپنی کتاب "فوائد عجیبہ" میں لکھتے ہیں: جب میں اس شہر ]لکھنؤ[ میں پہنچا تو سیر کرتا پھرتا تھا۔ چوک(۱۴) کو جو دیکھا تو آراستہ و پیراستہ دکانیں رنگین درختِ تمامی سے منڈھی ہوئی۔ ہر جا پر اربابِ نشاط رقص کر رہے ہیں۔...
  9. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    اسی انداز میں حکومت کے مختلف شعبوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ مبالغے اور عبارت آرائی سے قطع نظر، سرُور کے ان پیغامات سے نظمِ حکومت میں بدعنوانیوں کی نوعیت کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اُس دور کی تاریخوں کا غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ جن عمّال کا سرور نے کنایتاً ذکر کیا ہے ان میں سے بیش تر...
  10. مفتی ناصرمظاہری

    لکھنؤ کا عروج و زوال

    لکھنؤ کا عروج و زوال نیر مسعود ۱۸۵۷ء سے پہلے کی جس تہذیب کو ہم اودھ کی تہذیب کا نام دیتے ہیں وہ دراصل بیت السّلطنت لکھنؤ کی تہذیب تھی۔ لکھنؤ کے قریب ترین شہر بھی اپنے تہذیبی خدوخال کے اعتبار سے لکھنؤ سے مختلف تھے۔ شجاع الدولہ کے عہد تک اودھ کے حکمرانوں کا مستقر فیض آباد تھا اور لکھنؤ...
Top