حدیث الجنۃ تحت اقدام الامہات

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے حدیث الجنۃ تحت اقدام الامہات کی تحقیق درکار ہے. تحقیق کسی حنفی عالم کی ہو. میں ایک مقالہ لکھ رہا تھا. مقالہ تو مکمل ہو چکا ہے لیکن میں مزید علماء احناف کی تحقیقات چاہتا ہوں.
جزاکم اللہ خیرا
 

imani9009

وفقہ اللہ
رکن
تقلیدی ذ ہن ہر کسی کا ہی ہوتا ہے ۔ ہر بندہ اپنے علماء کا مقلد ہوتا ہے بس وہ جو کہیں وہی ٹھیک ہے باقی ساری دنیا غلط۔
خیر تو ہے حنفی عالم کی تحقیق سے آپ کو کیا ملے گا۔ آپ کو مطلق تحقیق کے قائل ہونا چاہئے۔
یا حنفی عالم پر تنقید کرنے کے لیے ایسی تحقیق چاہیے۔
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
تعجب نہیں کہ آپ جیسے لوگ پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں.
آپ کو علم ہو تو تحقیق پیش کر دیں. مجھے آپ سے بحث کر کے وقت ضائع نہیں کرنا.
@اشماریہ بھائی
 

اویس پراچہ

وفقہ اللہ
رکن
تعجب نہیں کہ آپ جیسے لوگ پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں.
آپ کو علم ہو تو تحقیق پیش کر دیں. مجھے آپ سے بحث کر کے وقت ضائع نہیں کرنا.
@اشماریہ بھائی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
عمر بھائی کسی حنفی عالم کی پہلے سے کی ہوئی تحقیق سے واقف نہیں ہوں۔ @ابن عثمان بھائی اس سلسلے میں شاید آپ کی مدد کر سکیں۔
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
عمر بھائی کسی حنفی عالم کی پہلے سے کی ہوئی تحقیق سے واقف نہیں ہوں۔ @ابن عثمان بھائی اس سلسلے میں شاید آپ کی مدد کر سکیں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ان شاء اللہ. اگر مل جائے تو بہت فائدہ ہوگا.
ایمانی بھائی عمر اثری بھائی اہل حدیث ہیں اور غالباً عالم بھی ہیں۔ زادہ اللہ علماً و فضلاً و نفعنا بہ
آمین. بس آخری سال ہے.
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

میرے علم میں بھی نہیں ہے کہ کسی حنفی عالم کی خاص اسی روایت پر تحقیق کا۔
موسوعۃ الحدیث ۔ دار العلوم کراچی میں یقیناََ اس کا ذکر ہوگا ۔ لیکن یہ نیٹ پر نہیں ہے ۔اور اس تک پہنچ نہیں ہے ۔

اس کے ہم معنی جو صحیح مشہور روایت ہے

مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ ثُمَّ اجْتَمَعَا فَقَالَا: إِنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ , وَقَدْ جِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ , فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ " قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: " فَالزَمْهَا , فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا

اس سے امام طحاوی ؒ نے مشکل الآثار میں
بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْوَاحِدِ مِنْ أَبَوَيْهِ: هَلْ بِرُّهُ بِلُزُومِهِ إِيَّاهُ أَفْضَلُ مِنَ الْجِهَادِ , أَوِ الْجِهَادُ أَفْضَلُ مِنْهُ؟
میں استدلال کیا ہے

وَفِيمَا رَوَيْنَاهُ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ مَا قَدْ دَلَّ أَنَّهُ فِي الْأُمِّ كَهُوَ فِيهِمَا

جو ان کی طرف سے تصحیح ہے ۔

لیکن خاص الجنۃ تحت اقدام الامہات ۔کے بارے میں معلوم نہیں ۔

البتہ کچھ دوسرے علماء کی طرح حنفی علماء میں سے صاحب مرقاۃ المفاتیح ، صاحب رد المحتار ، اور صاحب اوجز المسالک نے یہ روایت بغیر کسی تنقید و جرح کے صرف نقل کی ہے ۔

البتہ میرے خیال میں یہ روایت حنفی اصول کے لحاظ سے شاید حسن کے درجہ میں ہے ۔ وہ اس طرح کہ ۔۔ اس کے دو طریق میں سے ایک ابن عباسؓ سے مروی طریق زیادہ ضعیف ہے ۔جو ذہبیؒ نے میزان میں بھی نقل کیا ہے ۔

البتہ حضرت انس ؓ کی روایت جو کچھ کتب میں ہے ۔ کچھ قابل قبول ہی لگتی ہے
اس میں سب سے عالی سند امام دولابیؒ کی ہے ۔ویسے امام دولابیؒ بھی غالباََ حنفی ہیں ۔

ان کی سند یہ ہے ۔۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُهَاجِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْبَصْرِيُّ الْأَبَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ

اس میں منصور اور ابو النضر پر بحث ہے ۔الدقیقی ثقہ ہیں ۔

ابو النضر البصری الابار کو بعض ائمہ نے لا یعرف نقل کیا ہے لیکن لگتا ہے کہ جنہوں نے بھی نقل کیا ہے ان کے علم میں
امام احمد بن حنبلؒ کا قول نہیں آسکا،جو حافظ دولابیؒ نے نقل کیا ہے۔ جس میں اس راوی کا تعین ہے کہ یہ مشہور ثقہ راوی
جریر بن حازمؒ ہیں ۔

سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ الْأَبَّارُ»

یہ بڑی وزنی شہادت ہے ۔
جریر بن حازم کی کنیت ابو النضر تو سارے ہی نقل کرتے ہیں ۔ البتہ الابار کی نسبت امام احمدؒ نے فرمائی ہے ۔
اور حافظ دولابیؒ بھی اس کو استدلال کے طور پر ہی نقل کر رہے ہیں ۔

چناچہ جنہوں نے لایعرف کہا ہے وہ عدم علم ہے ۔

جریر بن حازم سے احادیث ان کے بیٹے وہب بن جریر بن حازم بھی روایت کرتے ہیں ۔(سیر)
اور وہب بن جریر سے مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ الْوَاسِطِيُّ بھی احادیث روایت کرتے ہیں (تہذیب)
یہ الدقیقی وہی ہیں جو دولابی والی روایت میں منصور سے مذکورہ حدیث روایت کرتے ہیں ۔

اور جریر بن حازم ؒ ، بقول ذہبی ؒ کئی حضرات ان کو تابعی صغیر مانتے ہیں ۔
اور امام بخاریؒ ، کلاباذیؒ ، ذہبیؒ ، وغیرہ جریر ؒ کا ایک قول نقل کرتے ہیں جو حضرت انس ؓ کے بارے میں ہے ۔
وَقَالَ وهب، عَنْ أَبيه: مات أَنس بْن مالك سنة تسعين، وأنا ابْن خمس سنين.

اور معرفۃ الصحابہؓ ابو نعیم میں ابو النضر الابار کی حضرت انسؓ کے بارے میں ایک روایت ہے ۔
مَنْصُورُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ الْأَبَّارِ، قَالَ: «وُلِدَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ثَمَانُونَ وَلَدًا، ثَمَانِيَةٌ وَسَبْعُونَ ذَكَرًا، وَابْنَتَانِ، إِحْدَاهُمَا حَفْصَةُ، وَالْأُخْرَى تُكَنَّى أُمَّ عَمْرٍو»

اور زیر بحث حدیث ابو نضر حضرت انسؓ سے براہ راست نقل کرتے ہیں ۔

ان باتوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جریر بن حازم کو چھوٹی عمر میں حضرت انسؓ کی صحبت ملی ہے اور انہوں نے دو تین روایات سنی ہیں ۔ اسی لئے حضرت انس ؓ کے بارے میں ان سے معلومات بھی منقول ہیں ۔

چناچہ جریر بن حازم ؒ ہی ابوالنضر الابار ہیں ۔

امام احمدؒ کے تعین کے بعد ضرورت تو نہیں بس ویسے ہی شوق کے تحت یہ باتیں نقل کی ہیں ۔

اب اس روایت میں واقعی بحث جو ہے وہ منصور بن المہاجر کے بارے میں ہے ۔ جن کو حافظ نے مستور فرمایا ہے ۔

لیکن کئی علماء کے اصول پر اور خصوصاََ حنفی علماء کے اصول پر یہ راوی عادل ہی نظر آتے ہیں ۔

یہ اہل واسط سے ہیں جیسا کہ دولابیؒ نے بھی فرمایا ہے ۔ اور تاریخ واسط میں ان کا ذکر ہے ۔
تاریخ واسط کے مصنف اسلم بحشلؒ حافظ اور ثقہ ہیں ۔ لیکن وہ اپنی کتاب میں توثیق و تجریح کے اقوال عموماََ نقل نہیں کرتے ۔
بس راوی کے تذکرہ میں اس سے مروی روایات بیان کرتے ہیں ۔
محقق تاریخ واسط کا کہنا ہے کہ اس کتاب کا نام تاریخ محدثی الواسط ہونا چاہیے تھا۔

تاریخ واسط میں منصور بن مہاجر اور ان کے بھائی کا بھی یوں ہی ذکر ہے ۔منصور کے ترجمہ میں ان کی ایک روایت جو بیان کی ہے وہ بھی حضرت انسؓ سے ہے

اور تاریخ واسط میں منصور کی کچھ اور جگہہ بھی روایات ہیں ۔

یہ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے راوی کی علمی مصروفیات کا معلوم ہوتا ہے ۔ چناچہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہل واسط کے ایک محدث تھے ۔

منصور کے شاگرد دیکھیں تو تہذیب الکمال میں تقریباََ دس ہیں ۔ اور کتب میں مزید بھی ہیں ۔ اور ان میں اکثر ثقہ ہیں ۔

زیر بحث حدیث میں بھی دیکھیں کے جن کتب میں اس روایت کی تخریج کی گئ ہے تقریباََ سب میں منصور سے راوی مختلف ہیں اور تقریباََ ۴ ہیں اور غالباََ سارے ہی ثقہ ہیں ۔

ابن حبان ؒ کا ثقاہت کا ایک اصول ہے ۔ اس بارے میں علماء مختلف الرائے ہیں ۔ لیکن میں نے جہاں تک دیکھا ہے ان کی توثیق قبول کی جاتے ہے ۔ جہاں پر عموماََ اعتراض ہوتا بھی ہے تو اختلافی مسائل جس میں معارض میں زیادہ قوی دلیل ہوتی ہے اس کی وجہ سے اعتراض ہوتا ہے ۔
ابن حبان ؒ نے منصور کا ذکر اگرچہ نہیں کیا ۔ لیکن منصور ان کی ثقاہت کی شرط پر پور ا اترتے ہیں بلکہ منصور بن مہاجر ، ان کئی راویوں سے اونچے درجہ کے ہیں جن کی ابن حبان ؒ نے توثیق کی ہے ۔ منصور سے تو کئی ثقات روایت کرتے ہیں ۔

اور منصور کا ذکر تہذیب الکمال اور تاریخ اسلام ذہبی میں بھی بغیر جرح و تعدیل کے ہے ۔

یہ دونوں بھی مجہول راوی کا مجہول ہونا بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے نہیں کیا ۔

اور پھر منصور بن مہاجر کا ذکر ابن ابی حاتم ؒ نے جرح و تعدیل میں بغیر جرح کے ذکر کیا ہے ۔اور کئی علماء خصوصاََ حنفی علماء کے نزدیک یہ توثیق کی علامت ہے ۔ ان ائمہ کے دلائل کے لئے رفع و التکمیل ۲۳۰ کی تعلیق میں زیر عنوان

سكوت المتكلمين في الرجال عن الراوي الذي لم يجرح ، ولم يأت بمتن منكر : يعد توثيقا له.

دیکھیں ۔ جہاں محقق حنفی عالم شیخ عبد الفتاح ابو غدۃ ؒ نے طویل بحث کی ہے ۔

الرفع والتکمیل اللکنوی ت ابو غدۃ

چناچہ یہ سند حسن ہی معلوم ہوتی ہے ۔ اور یہ تو ویسے بھی ترغیب و فضائل کی روایت ہے ۔اسی لئے

خطیب بغدادیؒ نے بھی جامع اخلاق میں باب ذِكْرُ شَيْءٍ مِنْ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأَبَوَيْنِ وَبِرِّهُمَا۔۔۔ میں

ابن جوزیؒ نے البر والصلہ میں الْبَابُ الثَّامِنُ فِي تَقْدِيرِ الْأُمِّ فِي الْبِرِّکے ذیل میں

قوام السنۃ الاصبہانیؒ 535ھ نے الترغیب میں باب في الترغيب في بر الوالدين

کے ذیل میں بھی یہ روایت نقل کی ہے ۔

ان حضرات کا طرز شاید کچھ متساہل ہو ۔لیکن ایک عالم ہیں حافظ ذہبیؒ

اور ان کا طرز سب کو معلوم ہے کہ وہ قابل اعتراض روایت پر خاموش نہیں رہتے ۔ اور زیادہ ضعیف روایات نقل کرنے والے مصنفین پر تنقید بھی کرتے ہیں ۔انہوں نے ا س قسم کی ابن عباسؓ سے مروی روایت پر میزان میں تنقید نقل بھی کی ہے ۔

ان کی ایک کتاب ہے الکبائر ۔ اس میں ان کے طرز کے خلاف کئی بہت ضعیف روایات ہیں ۔ تو ایسا کیوں ہے ؟

چناچہ ایک عرب کے مشہور سلفی عالم شیخ مشہور بن حسن آل سلمان نے اس بات کی تحقیق کی کہ جو مطبوعہ نسخہ ہے وہ سارا امام ذہبی کا نہیں ہے بلکہ اس میں اضافات ہیں ۔ جو اصل مخطوطہ الکبائر کا ہے اس میں ایسی روایات بالکل نہیں ہیں ۔

چناچہ انہوں نے الکبائر کو اپنی تحقیق سے شائع کیا ۔ اس کے مقدمہ میں یہ باتیں کی ہیں ۔

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ ذہبیؒ کی اصل کتاب میں ((والدین کی نافرمانی))کے گناہ کے ضمن میں انہوں نے الجنۃ تحت اقدام الامہات کی روایت کو نقل کیا ہے ۔

امام ذہبیؒ کا طرز چونکہ مشہور ہے اس لئے یہ وزنی استدلال ہے ۔

اور اس روایت کا متن منکر بھی نہیں جب کہ شروع میں گزری صحیح حدیث جو مشکل الآثار کے علاوہ مسند احمد ، نسائی اور بہت سی کتب میں ہے اس کی تائید کرتی ہے ۔

اس کے علاوہ وہ مشہور روایت جو صحیح مسلم ،کی ہے ۔ امام بخاریؒ نے بھی اپنی کتاب بر الوالدین میں نقل کی ہے ۔ بہت سی کتب میں ہے ۔

رغم أنف من أدرك أبويه عند الكبر أحدهما أو كليهما فلم يدخل الجنة

اس کا مفہوم بھی تائید کرتا ہے ۔

اور بھی والدین کی رضا پر جنت والی روایات تائید میں ہوسکتی ہیں ۔

واللہ اعلم۔

نوٹ۔ یہ مضمون غیر عالم کا ہے ۔ کسی حنفی عالم سے پکا کرا لیں (مسکراہٹ)
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
البتہ میرے خیال میں یہ روایت حنفی اصول کے لحاظ سے شاید حسن کے درجہ میں ہے ۔
جی میری چھان بین میں بھی یہ روایت حسن لغیرہ ہے.
امام احمد بن حنبلؒ کا قول نہیں آسکا،جو حافظ دولابیؒ نے نقل کیا ہے۔ جس میں اس راوی کا تعین ہے کہ یہ مشہور ثقہ راوی جریر بن حازمؒ ہیں ۔
حافظ دولابی رحمہ اللہ کا قول دیکھیں:
حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: «جَمِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ» . قَالَ: «وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ» . سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: " سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ كُنْيَتُهُ: أَبُو النَّضْرِ ". سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ الْأَبَّارُ»
آپ نے دیکھا کہ جریر بھی حازم نام کے دو راوی ہیں. ایک ثقہ ہے (قتادہ سے انکی احادیث میں کلام ہے) جبکہ دوسرا مجہول. اور آپ نے جس جریر کے متعلق نقل کیا ہے وہ ثقہ ہے. اور انکے اساتذہ میں انس رضی اللہ عنہ کا نام نہیں ہے. بلکہ انھوں نے شاید کسی صحابی سے نہیں سنا. رہی بات الابار لقب سے مشہور جریر بن حازم تو وہ مجہول ہی ہیں.
امام ذہبیؒ کا طرز چونکہ مشہور ہے اس لئے یہ وزنی استدلال ہے ۔
کیا انھوں نے یہ بات خود بھی کہیں کہی ہے؟
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
ایک بات اور ثقہ جریر بن حازم کا لقب الابار نہیں ہے. بلکہ وہ ازدی عتکی ہیں. جہاں تک میں نے تلاش کیا ہے. واللہ اعلم
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
حافظ دولابی رحمہ اللہ کا قول دیکھیں:
حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: «جَمِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ» . قَالَ: «وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ» . سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: " سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ كُنْيَتُهُ: أَبُو النَّضْرِ ". سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُنْيَتُهُ أَبُو النَّضْرِ الْأَبَّارُ»
آپ نے دیکھا کہ جریر بھی حازم نام کے دو راوی ہیں. ایک ثقہ ہے (قتادہ سے انکی احادیث میں کلام ہے) جبکہ دوسرا مجہول. اور آپ نے جس جریر کے متعلق نقل کیا ہے وہ ثقہ ہے. اور انکے اساتذہ میں انس رضی اللہ عنہ کا نام نہیں ہے. بلکہ انھوں نے شاید کسی صحابی سے نہیں سنا. رہی بات الابار لقب سے مشہور جریر بن حازم تو وہ مجہول ہی ہیں.
مجھے تو یوں ہی نظر آرہا ہے کہ حافظ دولابیؒ نے ایک ہی جریر بن حازم کا ذکر کیا ہے ۔شروع میں وہ سب کنیتوں کا عنوان ذكرکرتے ہیں معمولی سا اختلاف بھی ہو تو ذکر کرتے ہیں ۔ اس میں بھی ایک ہی جریر بن حازم ہیں ۔ اور ان کے اسلوب کے مطابق کنیت کے ذیل میں اس راوی کی روایت بیان کرتے ہیں ۔ اس میں بھی ایک ہی جریر کی روایات ہیں ۔

معلوم نہیں آپ کو کیسے لگا کہ یہ دو ہیں ۔ ایک ہی راوی کے متعلق دو الگ ائمہ امام علی بن مدینی ؒ اور امام احمدؒ کے حوالہ سے وہ دو کیسے ہوسکتے ہیں ۔ درمیان میں وقفہ اس لئے پڑگیا کہ علی بن مدینیؒ سے دولابیؒ نے رواں ایک ہی روایت میں دو لوگوں کی کنیتیں بیان کردیں ۔ اور میرے علم کے مطابق کسی اور کتاب میں دو الگ جریر بن حازم ، اور دونوں کی کنیت ابو النضر کے ساتھ موجود نہیں ہیں ۔
واللہ اعلم۔
اور نسبتیں زياده ہونے میں بھی کیا مانع ہے ۔ جس نے ایک نہیں ذکر کی وہ عدم علم یا عدم ذکر ہی توہے ۔
کسی نے اساتذہ میں ذکر نہیں کیا تو کوئی بات نہیں اکثر شاگردوں اور اساتذہ کا تذکرہ نہیں ہوتا ۔
بس طبقہ اور معاصرت ہونی چاہیے ۔
طبقہ اور معاصرت کے لئے ہی اس بات کا ذکر کیا تھا۔

جریر بن حازم سے احادیث ان کے بیٹے وہب بن جریر بن حازم بھی روایت کرتے ہیں ۔(سیر)
اور وہب بن جریر سے مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ الْوَاسِطِيُّ بھی احادیث روایت کرتے ہیں (تہذیب)
یہ الدقیقی وہی ہیں جو دولابی والی روایت میں منصور سے مذکورہ حدیث روایت کرتے ہیں ۔

اور حضرت انس ؓ سے متعلق اتنا تو سب نے ذکر کیا کہ ۔۔۔ جریر ؒ نے فرمایا کہ وہ پانچ سال کے تھے جب حضرت انسؓ نے ۹۰ ھ میں وفات پائی۔ (یہ تاریخیں تھوڑی اوپر نیچے بھی ہوسکتی ہیں۔جیسا کہ تواریخ کے ضبط میں ہوجاتا ہے ۔ حضرت انس ؓ کی بعض ۹۳ھ بتاتے ہیں) ۔

اگر ۵ سال بھی ہو تو پھر بھی اس عمر میں بھی روایت کوئی قابل تعجب نہیں ۔ممکن ہے ۔ صحیح بخاری کتاب العلم میں محمود بن الربیعؓ کی روایت پانچ سال کی عمر میں موجود ہے ۔امام بخاری ؒ نے ترجمہ بھی اس پر (متی یصح سماع الصغیر) قائم کیا ہے ۔
جب کہ جریر بن حازم کو تابعی صغیر بھی کہا گیا ہے ۔
واللہ اعلم۔
کیا انھوں نے یہ بات خود بھی کہیں کہی ہے؟
جیسا کہ میں نے لکھا کہ الکبائر کے مقدمہ میں شیخ مشہورحسن نے ان کا منہج ذکر کیا ہے ۔ اس میں ان کے شاگرد
مشہور مورخ علامہ صلاح الدین صفدی ؒ جو تاریخ ،الوافي بالوفيات کے مصنف ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ

"وأعجبني منه ما يعانيه في تصانيفه من أنه لا يتعدى حديثا يورده حتى يبين ما فيه من ضعف متن أو ظلام إسناد، أو طعن في رواته، وهذا لم أر غيره يراعي هذه الفائدة فيما يورده".

’’حافظ ذہبیؒ اپنی تصانیف میں جو محنت و مشقت برداشت کرتے ہیں ، اس سے مجھے بہت حیرت اور تعجب ہوتا ہے ، ان کی محنت کا یہ حال ہے کہ وہ جب کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے جب تک کہ اس حدیث کے متن کا ضعف ، سند کی ظلمت اور اس میں پائی جانے والی علت اور راویان حدیث میں موجود عیب و طعن بیان نہ کر لیں ، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کو حدیث میں اس طرح کا اہتمام کرتے ہوئے نہیں پایا ‘‘

شیخ مشہور حسن آگے نقل کرتے ہیں کہ حافظ ذہبی ؒ ایسا کیوں نہ کرتے ہوں جب کہ وہ خود کہتے ہیں ۔

وكيف لا يفعل ذلك كله وهو القائل ..

’’واي خير في حديث ، مخلوط صحيحه بواهيه ، وانت لاتفليه ، ولا تبحث عن ناقليه ..(بيان زغل العلم)

جس کا مفہوم ہے کہ اس میں کیا خیر ہے کہ آپ حدیث کی روایت میں صحیح کو کمزور سے مخلوط کردیں ، اور الجھن کا شکار رہیں ۔ اور ناقلین روات کو دیکھیں ہی ناں۔‘‘
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
مجھے تو یوں ہی نظر آرہا ہے کہ حافظ دولابیؒ نے ایک ہی جریر بن حازم کا ذکر کیا ہے ۔شروع میں وہ سب کنیتوں کا عنوان ذكرکرتے ہیں معمولی سا اختلاف بھی ہو تو ذکر کرتے ہیں ۔ اس میں بھی ایک ہی جریر بن حازم ہیں ۔ اور ان کے اسلوب کے مطابق کنیت کے ذیل میں اس راوی کی روایت بیان کرتے ہیں ۔ اس میں بھی ایک ہی جریر کی روایات ہیں ۔
جب صاف اور واضح طور پر دو جریر بن حازم لکھا ہے تو آپ کو ایک کیسے نظر آ رہا ہے جناب من؟ اور آپ کہ بھی رہے ہیں اتنے اعتماد سے؟ جبکہ جلیل القدر محدثین نے ابو النضر الابار کو مجہول کہا ہے (یاد رہے کہ دلائل سے انکا خلاف ممکن ہے) خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے ابو النضر الابار کو مجہول کہا ہے. اب آپ خود سوچیں کہ اگر یہ ثقہ جریر بن حازم ہوتے تو کیا اتنے سارے محدثین کو معلوم نہ ہوتا جبکہ ثقہ جریر بن حازم کی روایت بخاری میں بھی موجود ہے؟
اور میرے علم کے مطابق کسی اور کتاب میں دو الگ جریر بن حازم ، اور دونوں کی کنیت ابو النضر کے ساتھ موجود نہیں ہیں ۔
چلیں آپ کو یہ بھی دکھا دیتا ہوں. ثقہ جریر بن حازم کے متعلق ابن ماکولا رحمہ اللہ نے لکھا:
وأبو النضر جرير بن حازم رأى أبا الطفيل، وسالم بن عبد الله بن عمر وسمع أبا رجاء العطاردي وابن سيرين والحسن، وقتادة وعطاء بن أبي رباح روى عنه شعبة والثوري وابن المبارك وابن لهيعة وابن وهب وابنه وهب بن جرير.
جبکہ مجہول جریر بن حازم کے متعلق لکھا:
أبو النضر الأبار ولد أنس بن مالك ثمانية وسبعين ذكرا وابنتين روي عنه منصور بن المهاجر .

مزید یہ کہ امام احمد کی علل میں ابو النضر جریر بن حازم ہی ہے. ابو النضر الابار نہیں ہے. اور دکتور وصی اللہ عباس حفظہ اللہ نے ابو النضر جریر بن حازم الازدی ہی لکھا ہے. گویا کہ علل میں ابو النضر الابار نام نہیں ہے.
خلاصہ کلام یہ کہ دونوں الگ الگ ہیں.
یہ دھیان رہے کہ ابو النضر کا نام جریر بن حازم ہے یہ مجھے الکنی والاسماء للدولابی سے ہی معلوم ہوا ہے.
اور نسبتیں زياده ہونے میں بھی کیا مانع ہے ۔ جس نے ایک نہیں ذکر کی وہ عدم علم یا عدم ذکر ہی توہے ۔
کسی نے اساتذہ میں ذکر نہیں کیا تو کوئی بات نہیں اکثر شاگردوں اور اساتذہ کا تذکرہ نہیں ہوتا ۔
بس طبقہ اور معاصرت ہونی چاہیے ۔
طبقہ اور معاصرت کے لئے ہی اس بات کا ذکر کیا تھا۔
میرے خیال سے اب ان باتوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے. کیونکہ یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں.

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے متعلق وضاحت پر ممنون و شاکر ہوں. جزاکم اللہ خیرا میں مقدمہ ان شاء اللہ پڑھ لوں گا.
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
یہ دھیان رہے کہ ابو النضر کا نام جریر بن حازم ہے یہ مجھے الکنی والاسماء للدولابی سے ہی معلوم ہوا ہے.
میرے دوست مجھے کسی بات پر اصرار نہیں ۔ جو مجھے سمجھ آرہا ہے میں تو وہی بتا رہا ہوں ۔آپ کے جس جملہ کا میں نے اقتباس لیا ہے ۔
یہی وہ علم ہے ۔ جوآپ کو بھی معلوم ہوا۔اور جس کا اُن محدثین کو علم نہیں ہوسکا جو ان کو مجہول نقل کرتے ہیں ۔عدم علم دلیل نہیں ہوتا ۔اگر مجہول کہنے والوں میں سے کسی نے الکنی کی عبارت نقل کی ہے اور اس کا رد کیا ہے تو بتائیے گا۔
اور اکمال کی عبارت بے شک میں نے نہیں دیکھی تھی ۔ لیکن اس میں ابونضر کے ساتھ جریر بن حازم کا نام نہیں ہے ۔
یعنی وہ بھی تعین نہیں کرسکے ۔
آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دولابی میں لفظ الابار غلط ہے تو اس کا میں کیا کرسکتا ہوں ۔آگے انہوں نے الابار کی روایت ہی نقل کی ہے ۔
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
میرے دوست مجھے کسی بات پر اصرار نہیں ۔ جو مجھے سمجھ آرہا ہے میں تو وہی بتا رہا ہوں ۔آپ کے جس جملہ کا میں نے اقتباس لیا ہے ۔
یہی وہ علم ہے ۔ جوآپ کو بھی معلوم ہوا۔اور جس کا اُن محدثین کو علم نہیں ہوسکا جو ان کو مجہول نقل کرتے ہیں ۔عدم علم دلیل نہیں ہوتا ۔اگر مجہول کہنے والوں میں سے کسی نے الکنی کی عبارت نقل کی ہے اور اس کا رد کیا ہے تو بتائیے گا۔
اور اکمال کی عبارت بے شک میں نے نہیں دیکھی تھی ۔ لیکن اس میں ابونضر کے ساتھ جریر بن حازم کا نام نہیں ہے ۔
یعنی وہ بھی تعین نہیں کرسکے ۔
آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دولابی میں لفظ الابار غلط ہے تو اس کا میں کیا کرسکتا ہوں ۔آگے انہوں نے الابار کی روایت ہی نقل کی ہے ۔
جناب میں نے ابو الںضر الابار اور جریر بن حازم ابو النضر الازدی نام کے دو راوی کے متعلق وضاحت کی ہے جنکو آپ ایک ہی سمجھ رہے تھے. اور اس پر بحمد للہ قوی دلیل بھی پیش کی ہے جس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ابو النضر نام کے دو راوی ہیں. اور میں یہ نہیں کہتا کہ دولابی میں الابار غلطی ہے. ہاں اتنا ضرور کہتا ہوں کہ امام احمد رحمہ اللہ کی کتاب العلل میں الابار نہیں ہے. رہی بات ابن ماکولا رحمہ اللہ کا ابو النضر الابار کا نام جریر بن حازم ذکر نہ کرنا تو ہو سکتا ہے کہ ابن ماکولا رحمہ اللہ کو علم نہ ہو (یہ ایک قیاس ہے جو کہ غلط ہو سکتا ہے کیونکہ اتنے بڑے محدث سے یہ بات مخفی ہو بعید معلوم ہوتا ہے).
بہرحال میری چھان بین یہی کہتی ہے کہ یہ دونوں رواۃ الگ الگ ہیں علامہ البانی رحمہ اللہ نے ابو النضر الابار کو مجہول کہا ہے اور انھوں نے یہ بات الکنی والاسماء للدولابی کو سامنے رکھتے ہوئےکہی ہے:
وشيخه أبو النضر الأبار: لم أجد له ترجمة في شيء من كتب الرجال، وهو راوي حديث " الجنة تحت أقدام الأمهات ". المتقدم برقم (593) ، ونقلت هناك عن ابن طاهر أنه قال:
" ومنصور، وأبو النضر؛ لا يعرفان ".
(تنبيه) : أبو النضر هذا؛ بالضاد المعجمة في كل المصادر التي ذكر فيها فيما وقفت عليه، ومنها " كنى الدولابي " (2/ 138) ، و" مقتنى الذهبي " (2/115/ 6239) ، وكذلك هو في أصل " صفة الجنة "؛ ولكن محققه الفاضل قلبه إلى (أبو النصر) .. بالصاد المهملة؛ فقال؛ " في الأصل: (أبو النضر) ، وما أثبته موافق لما في ترجمة منصور بن المهاجر من " تهذيب الكمال " (3/ 1377) "!...............
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
دیکھئے امام دولابیؒ نے دو ائمہ سے ضرور نقل کیا ہے لیکن ایک کے بارے میں نقل کیاہے۔
اس کی مزید دلیل یہ ہے کہ آگے روایت میں انہوں نے ابو نضر الابار کو بصری نقل کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُهَاجِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْبَصْرِيُّ الْأَبَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
اور جریر بن حازم کو تمام کتب میں بصری لکھا گیا ہے ۔تہذیب الکمال میں ان کے ترجمہ میں ہے أَبُو النضر البَصْرِيّ، ذہبیؒ نے بھی بصری لکھا ہے ۔
@اشماریہ بھائی آپ بھی اس میں رائے دے دیں ۔
 

عمر اثری

وفقہ اللہ
رکن
اب میں کیا کہوں اتنی واضح دلیل دینے کے باوجود بھی آپ نہیں مان رہے. خود دولابی رحمہ اللہ نے بھی ایک جریر کے متعلق الابار کا اضافہ کیا ہے. اور علل میں الابار ہے ہی نہیں. مزید ابو ماکولا رحمہ اللہ کے حوالے سے بھی ذکر کر چکا ہوں.
 
Top