امیر الہندحضرت مولانا سید اسعد مدنی

اعجازالحسینی

وفقہ اللہ
رکن
سنت اللہ یہی ہے کہ کتاب اللہ وسنتِ رسول اللہ ا کی ترویج واشاعت اور نفاذِ اسلام کا کام اللہ نے ہمیشہ اپنے مقبول بندوں سے لیا‘ روزِ اول سے لوگوں کی ہدایت اور ظالم وجابر قوتوں سے ٹکرانے کے لئے انبیاء ورسل کی آمد ورفت کا سلسلہ رہا‘ یہاں تک کہ خاتم الانبیأ حضرت محمد مصطفی ا تشریف لائے‘ اللہ تعالیٰ نے آپ ا کو کامل واکمل دین عطا فرمایا اورآپ ا کے ذریعہ اسلام کو تمام ادیان پر غلبہ عطا کیا۔ چونکہ آپ ا کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا‘ اس لئے آپ ا کے بعد اللہ رب العزت نے نبوت والے کام کو آپ ا کی امت کے علمأ ربانی کے مقدر کردیا۔ علمأ ربانی قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ : ”وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ہونا“ (الفرقان:۶۳)کے مصداق ہیں اور ان حضرات کا سایہٴ عاطفت خلقِ خدا کے لئے باعثِ رحمت ہوتا ہے‘ جیسے سرزمینِ ہند میں صدیوں پہلے سکھوں اور مشرکوں کے نظامِ ظلم کا دور دورہ تھا انسانیت ضلالت وگمراہی کے سیلاب میں بہہ رہی تھی۔

ہند میں حضرت خواجہ اجمیری کی آمد:
اللہ رب العزت نے اس وقت حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور ان کے فیض یافتہ علمأ سے دعوتِ دین کا کام لیا‘ ان کے اخلاقِ عالیہ اور مجاہدانہ کردار سے لاکھوں افراد مشرف بہ اسلام ہوئے‘کچھ صدیوں کے بعد جب اس سرزمین پر تجارت کے نام سے انگریز عیار قابض ہوا تو وقت کے مسلم حکمرانوں کی غفلت وبے حسی کو دور کرنے اور عوام کو باشعور بنانے کے لئے اللہ رب العزت نے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ کو اس کام کے لئے منتخب فرمایا۔

حضرت مجدد الف ثانی کی محنت
حضرت سرہندی کی جماعت نے عوام سے لے کر شاہی ایوانوں کے ذمہ داروں تک کی نظریاتی‘ فکری اور عملی زندگی کی تربیت فرمائی‘ جس کے نتیجہ میں دربارِ شاہی سے عظیم مجاہد اورنگ زیب عالمگیر ‘ اور عوام میں سے سینکڑوں علمائے حقہ پیدا ہوئے۔ بالخصوص آپ کے طریقہٴ تربیت اور تعلیمات کے امین ووارث حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی نے آگے چل کر دلی کے علاقہ میں ”مدرسہ رحیمیہ“ کی شکل میں ایک عظیم علمی وروحانی مرکز قائم کیا۔

امام الحکمة اوران کی جماعت
آپ کے بعد آپ کے عظیم فرزند امام الحکمة شاہ ولی اللہ دہلوی نے اس ادارہ کو شریعتِ نبوی کے مطابق چلایا‘ آپ ہی کی شخصیت نے امتِ مسلمہ کی ہر محاذ پر رہنمائی فرمائی‘ بالخصوص علمِ حدیث کی اشاعت اور دینِ اسلام کو بطور نظام کے متعارف کرایا۔ آپ نے ہی آنے والے انقلابات کے اسباب وعوامل سے مسلمانوں کو آگاہ کیا‘ امام الحکمة کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ کام آپ کے جانشین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے لیا۔ حضرت شاہ عبد العزیز نے اپنے لائق وفائق حقیقی بھائیوں کے تعاون سے انگریز کی ظالمانہ وجابرانہ کارروائیوں سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کو ”دار الحرب“ قرار دیا۔ اپنے والدِ گرامی کی تحریری وتقریری محنت کو منظم ومدون کرکے تربیت یافتہ نظریاتی وفکری زندگیوں کو سامراجی طاغوتی طاقتوں کے خلاف بصورتِ تحریکِ جہاد نبردآزما کردیا‘ اس تحریک کی قیادت وسیادت دینِ اسلام کے عظیم روحانی پیشوا حضرت سید احمد شہید نے فرمائی‘ جبکہ امامت آپ کے خاص تربیت یافتہ اور حضرت شاہ عبد العزیز کے حقیقی بھتیجے حضرت شاہ اسماعیل شہیدنے کی‘ ان علمأ حقہ ومجاہدینِ اسلام نے اپنے وطن کی آزادی اور غلبہٴ اسلام کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

سرزمینِ دیوبند کی قبولیت
ان کے بعد بظاہر علمأ ربانیین کا وجود بہت قلیل ہوگیا‘عامة الناس کو ظالم کی قوت کا عروج نظر آنے لگا‘ ایسے قحط الرجال کے زمانہ میں اللہ رب العزت نے حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے دعوت الی اللہ اور غلبہٴ اسلام کا کام بصورت تحریک ”دار العلوم دیوبند“لیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بزرگوں کی تربیت ومجاہدانہ کردار کی سرپرستی سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیسے کروائی۔

مقام شیخ الہند
ان کی محنت اور ہمہ قسم قربانیوں کو اللہ نے وہ شرف قبولیت بخشا کہ مذکورہ تینوں بزرگوں کی آغوش تعلیم وتربیت سے اس وطن کو انگریز شاطر کے آہنی پنجے سے آزاد کرانے اور مظلوم لوگوں کی دینی‘ علمی‘ اخلاقی روحانی‘ معاشرتی اور سماجی تربیت کے لئے دنیائے اسلام کے نامور فرزند‘ عالم ربانی اورعظیم مجاہد حضرت محمود حسن دیوبندی کو پیدا کیا‘ جن کو دنیا ”شیخ الہند“ کے نام سے جانتی ہے۔ حضرت شیخ الہند کے مجاہدانہ کردار اور تعلیم وتربیت کے ماحول‘ آپ کی ذہانت وذکاوت اور آپ کے لائق وعظیم شاگردوں کو دیکھ کر معاصرین زمانہ آپ کو ”ابوحنیفہ ثانی“ کہنے پر مجبور ہوئے‘ جہاں ایک طرف آپ کے حلقہٴ تعلیم وتربیت سے حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری‘ حضرت مفتی کفایت اللہ‘ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی‘ امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی‘ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ‘ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس دہلوی‘ امام الہند حضرت مولانا ابو الکلام آزاد جیسے محدث‘ فقیہ‘ کامل صوفیأ‘ مجاہدین اسلام اور عظیم دانشور ہوئے‘وہاں دوسری طرف آپ کے مجاہدانہ کردار سے ظالم وجابر انگریزی قوت اتنی کمزور ہوگئی کہ انگریزی حکومت کے ڈکٹیٹر ہندوستان کو آزاد کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ایسے نازک حالات اور حساس زمانہ میں حضرت شیخ الہند کی زندگی نے وفا نہ کی‘ آپ اس عالم فانی سے عالم جاودانی کو چل دیئے۔

جانشینِ شیخ الہند
ان کے بعد حق جل مجدہ نے آپ کی جانشینی جیسے عظیم منصب اور آپ کے مشن کی تکمیل کے لئے آپ کے شاگردوں میں سے جس جلیل القدر شاگرد کو چنا‘ اس کے بارے میں آپ اپنی زندگی میں ہی فرما چکے تھے کہ:
”وہ میرے قلب وجگر کی دھڑکن کی مانند ہے“
اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قلب وجگر کو جسم میں مرکزی حیثیت اور رئیس الاعضاء کا مقام حاصل ہے- اللہ کریم نے حضرت شیخ الہند کی فرمائی ہوئی تشبیہ کے مطابق حضرت اقدس شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کو آپ کی جانشینی کے لئے منتخب کیا‘ اس انتخاب کی توصیف کا اظہار اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاصرین زمانہ‘ امت مسلمہ کے علمائے کرام سے بھی کرالیا‘ یہی وجہ ہے کہ آپ کو متفق علیہ ”جانشین شیخ الہند“ کہا جاتاہے۔ جس عظیم مشن کے فکر کی بنیاد حضرت مجدد الف ثانی اور امام الحکمة حضرت شاہ ولی اللہ نے رکھی‘ جس تحریک کا عملاً آغاز حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے کیا اور جس مشن کے لئے ہزاروں نفوسِ قدسیہ شہید ہوئے‘ اس کی تکمیل اللہ نے حضرت اقدس شیخ الاسلام کے زمانہ میں کروادی۔ انگریز ظالم وجابر آپ کے زمانہ میں ہی ہندوستان کو چھوڑ کر رخصت ہوا‘ تواضع وبے نفسی کے کوہِ گراں حضرت سید مدنی نے تقسیمِ ہند کے بعد مجبور‘ مظلوم‘ محروم اور بے سہارا مسلمان (جو تقسیمِ ملک کی وجہ سے ہر طرح کی اپنی اجتماعی قوت کھو چکا تھا)کی کفالت وسرپرستی اس طرح فرمائی جس طرح کہ حقیقی والد اپنی حقیقی اولاد کے لئے فکر مند ہوتا ہے ‘ آپ اس فکر وغم والم کو سینے میں لئے ۱۹۵۷ء میں اس دارِ فانی سے دار البقاء کی طرف رحلت فرماگئے۔

انتخاب جانشینِ شیخ الاسلام
آپ کے بعد سرزمینِ ہند کے عظیم محدث‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریانے آپ کے عظیم ولائق وفائق بڑے فرزند حضرت مولانا سید اسعد مدنی کو آپ کے بیسیوں خلفأ کے باہمی مشورہ واتفاق رائے سے آپ کا جانشین قرار دیا۔

خطاب ”فدائے ملت“ کا پس منظر
اس جانشین کی شخصیت سایہ دار درخت کی طرح ساری امت کے لئے رحمت تھی‘ بلاشبہ جہاں وہ امت مسلمہ کے لئے شیخِ طریقت اوررہبرِ شریعت تھے‘ وہاں ایسے عالمی مسلم رہنما تھے جو زندگی کے ہرشعبے میں پوری امت کی رہنمائی فرماتے رہے‘ آپ مجاہدانہ عزم وحوصلہ رکھنے والے عوامی قائد تھے‘ اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر خدمتِ خلق ان کا شیوہ تھا‘ آپ کے اسی کردار کی عظمت کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان‘ آپ کو ”فدائے ملت“ کے لقب سے پہنچانتاہے۔ حضرت امیر الہند میں بحمد اللہ! جہاں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی حریت فکر تھی‘ وہاں شیخ الاسلام حضرت سید حسین احمد مدنی کا زہد وتقویٰ بھی تھا‘ جہاں مفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ کی دور اندیشی تھی وہاں مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن کی مجاہدانہ شان بھی تھی‘ تاہم ان خوبیوں کے ساتھ خالقِ کائنات نے موصوف کو نہایت منکسر المزاج اور متواضع رہنما کی صفات سے بھی متصف فرمایا تھا‘ ان اوصاف ِ جمیلہ سے متصف ہونے کی وجہ سے وہ لوگوں سے بڑی انکساری اور کھلے دل ودماغ سے پیش آتے تھے۔
حضرت امیر الہند اکابر کے جامع کردار کے وارث اور ان کے کارناموں کے امین تھے‘ ہندوستان وبیرون ہندوستان ان کی خدماتِ جلیلہ کے نقوش کچھ اس طرح سے ثبت ہیں کہ مخالفین وحاسدین اور دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیاں بھی ان کومدہم اور مٹا نہیں سکیں۔

امیرِ ہند کا اجمالی تعارف
آپ کی ان عظیم خدمات‘ مجاہدانہ کارناموں‘ قومی‘ ملی اور سماجی قربانیوں کی وجہ سے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ جانشینِ شیخ الہند کے عظیم فرزند کا تعارف اور ملی وسماجی خدماتِ جلیلہ کا اجمالی تذکرہ ارشاد خداوندی:”واتبع سبیل من اناب الی“ (لقمان:۱۵)(پیروی کرو اس شخص کے راستے کی جس نے میری طرف رجوع کیا) کے تحت ملک وملت کے ہرفرد کی فکر ونظر کو جِلا بخشنے کے لئے کریں۔

تاریخ پیدائش
۶/ذوالقعدہ ۱۳۴۶ھ بمطابق ۲۷/اپریل ۱۹۲۸ء بروز جمعة المبارک۔

مقامِ ولادت
بچھراؤں مضافات دیوبند ضلع سہانپور۔

اسمِ گرامی
آپ کا نام حضرت والد ماجد نے ”اسعد“ رکھا۔ معلوم ہوتاہے کہ مدینہ منورہ کے معلم اول‘ صحابی رسول سیدنا اسعد بن زرارہ کے نام کی نسبت سے یہ نام رکھا گیا۔

تعلیم وتربیت
بچپن میں ہی آپ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تھا‘ حضرت شیخ مدنی کو ظالم حکومت نے جیل بھیج دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ جانا معمولی بات نہیں تھی پھر والد بزرگوار کا اسیر ہوجانا مزید برآں۔ حضرت شیخ الاسلام نے اپنے مریدِ خاص وابتدائی مدرسہ کے استاذ قاری اصغر علی کو لکھا کہ:
”اسعد کی والدہ اور والد آپ ہی ہیں‘ اوپر خدا ہے‘ اس کے سپرد کرتاہوں نہ کوئی بڑی بہن ہے اور نہ ہی کوئی بھائی“۔

فدائے ملت کے استاذ اول اور حضرت شیخ الاسلام کا تعلق
حضرت قاری اصغر علی مرحوم ومغفور کو حضرت مدنی سے بے پناہ تعلق تھا‘ یہاں تک کہ بیماری میں عام طور پر لوگ خانقاہ سے گھر کو جایا کرتے اور حضرت قاری صاحب بیماری میں گھر سے دیوبند آیا کرتے تھے۔ قاری صاحب کی طبیعت میں طبعاً غصہ بہت تھا‘ لیکن مدنی منزل خانقاہ مدنیہ میں رہتے رہتے اور حضرت مدنی کی خدمت کی برکت سے بہت نرمی اختیار کرنے لگے تھے‘ حضرت سید مدنی سمجھایاکرتے تھے کہ قاری صاحب!
”کمال یہ ہے کہ حسنِ اخلاق سے لوگوں کو اپنا بنائیں نہ کہ بری عادت کا ثبوت دے کر لوگوں کو بھگائیں“
قاری صاحب فرمایا کرتے تھے:
”خدا حضرت شیخ کے مراتب میں ترقی دے‘ مجھے آپ کی ذاتِ گرامی سے بہت فائدہ پہنچا“۔
حضرت قاری اصغر علی اور حضرت شیخ الاسلام کے مابین جو تعلق تھا وہ غیر منفک تھا‘ اڑتیس سال تک حضرت قاری صاحب نے حضرت اقدس سید مدنی کے آستانہ پر خدمت انجام دی‘ اس دوران کبھی کسی کو آپ کی نیت پر عدم اطمینان تو در کنار شبہ بھی نہیں ہوا۔ اس بات سے دارالعلوم کے اربابِ حل وعقد سمیت تمام متعلقین اور حضرت اقدس مدنی سے تعلق رکھنے والے سبھی حضرات خوب واقف ہیں۔

حضرت قاری اصغر علی کا اندازِ تربیت
امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی جب ایام طفولیت میں تھے تو تربیت کے لئے صرف ایک ذات قاری اصغر علی رحمہ اللہ کی تھی‘ قاری صاحبحضرت امیر الہند کو اپنے پاس ماں کی طرح لے کر بیٹھتے تھے اور ماں کی طرح ہی ضروریاتِ طبعیہ کا خیال رکھتے تھے قاری صاحب کبھی بھی اس خدمت سے تنگ دل نہ ہوئے‘ ظاہر ہے کہ اس خدمت کے پیشِ نظر حضرت شیخ الاسلام کا اعتماد وبھروسہ بڑھتا ہی گیا‘ بچپن سے لے کر طالب علمی کے زمانہ تک قاری صاحب نے ہی تربیت فرمائی۔ حضرت اقدس امیر الہند  بھی ادب واحترام اور تعمیلِ ارشاد اسی طرح سے کیا کرتے تھے جیسے کرنا چاہئے تھا۔ حضرت قاری صاحب فرمایا کرتے تھے:
”اسعد سے آج بھی مجھے ایسی محبت ہے جیسے اولاد سے ہوا کرتی ہے‘ بچپن میں مارتا بھی تھا اور پیار بھی کرتا تھا‘ جو ان ہونے کے بعد بوقتِ ضرورت ڈانٹتاہوں تو اسعد اپنے حیأ کامل کی وجہ سے نظریں نیچی کرلیتاہے“۔
تعلیم قرآن اور ابتدائی عربی کتب آپ نے حضرت قاری اصغر علی مرحوم سے ہی پڑھیں‘ دورہ حدیث تک بقیہ تعلیم علم وحکمت کے مخزن دار العلوم دیوبند میں مکمل کرکے ۱۹۴۶ء میں سند فراغ حاصل کی۔

آپ کے چند مشہور اساتذہٴ کرام
دورہ حدیث کی کتب: والدِ گرامی حضرت اقدس سید حسین احمد مدنیحضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی‘ حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی سے پڑھیں۔

تدریس
آپ اپنی مادر علمی میں ہی فراغت کے بعد تقریباً چھ سال تک متوسط درجات کے کامیاب مدرس رہے۔

امیرِ ہند کی سیاسی زندگی کا آغاز
حضرت شیخ الاسلام مدنی قدس سرہ‘ مجاہدِ ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاردی کی وفات حسرت آیات سے جمعیت علماءٴ ہند اور مسلمانانِ عالم میں جو خلاء پیدا ہوا تھا‘ اس کو حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے اپنے تقویٰ ومجاہدانہ کردار سے اس طرح پُر کیا کہ جب ۱۹۶۳ء میں جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی بنائے گئے تو پورے ملک میں جمعیت کی شاخوں کا جال بچھادیا۔ اس کے تمام شعبوں کو اتنا جاندار اور فعال بنادیا کہ جمعیت کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت شیخ الاسلام اور حضرت مجاہد ملت کے بعد لگتا تھا کہ اکابر کا لگایا ہوا یہ پوداشایدامر جھاجائے گا‘ لیکن حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے نا صرف یہ کہ اس پودے کو اپنے خونِ جگر سے سینچا‘ بلکہ تناور درخت بنادیا۔
مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن ہندوستانی پارلیمنٹ کا الیکشن اس لئے لڑتے تھے کہ ایوانِ حکومت میں مسلمانوں کی ترجمانی کرسکیں‘ ان کے انتقال پُرملال کے بعدپار لیمنٹ میں مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والا کوئی نہ رہا‘ ۱۹۶۸ء میں فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے ہندوستانی پارلیمنٹ (راجیاسبھا) کی رکنیت قبول فرمالی‘ تاریخ شاہد ہے کہ ایوانِ حکومت حضرت موصوف کی وجہ سے حق وصداقت کی آواز سے گونجتا رہا ۔ فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہو ‘ مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی تحریک ہو یا بابری مسجد کا قضیہ نامرضیہ ہو‘ ہرمسئلہ پر حضرت موصوف دوٹوک رائے کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے تھے۔ حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے اسلاف کے سچے جانشین اور اکابر کے ورثے کے رہنما ہونے کے ناطے جمعیت علمائے ہند کے وقار اور اس کے اثرات میں ہی اضافہ نہیں کیا‘ بلکہ اس کے وسائل وذرائع میں بھی اتنا اضافہ کیا کہ کسی ناگہانی آفت کے آجانے پر چندہ وصول ہونے سے پہلے ہی جمعیت علمائے ہند بروقت متأثرین کی خدمت انجام دے دیتی ہے۔

امیرِ ہند کی وسعتِ ظرفی
اتنے اوصاف سے متصف اور اکابر کے عظیم ورثہ کے رہنما ہونے کے باوجود اس حالت میں کہ جمعیت علمائے ہند اور مولاناسید اسعد مدنی لازم وملزوم یا یک جان ودوقالب تھے‘ حضرت موصوف کا مزاج غیر معمولی طور پر شورائی تھا۔ جمعیت کے تمام فیصلے مجلس عاملہ کے اراکینِ محترم کے صلاح ومشورہ سے ہوتے تھے اور مجلسِ عاملہ کے اجلاسوں میں بعض اوقات حضرت والا کی آراء سے اختلاف بھی کیا جاتا تھا‘ مگر اس اختلافِ رائے کے باوجود تمام فیصلے اتفاق رائے یا کثرت رائے سے کئے جاتے تھے۔

امیرِ ہند میں قومی وملی خدمت کا جذبہ
آپ بحمد للہ! اپنے والدِ گرامی حضرت شیخ الاسلام کے سچے جانشین تھے‘ اس لئے ملی امور یا مسلمانوں کے مسائل میں کبھی مصلحت کوشی سے کام نہیں لیتے تھے‘ اس خصوصیت کی وجہ سے وہ ملک بھر کی تمام سیاسی پارٹیوں میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ پورے ملک میں حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی شخصیت ہی تھی جو فرقہ پرستی کے خلاف ملک کی تمام سیکولرپارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتی تھی‘ حضرت مولانا سید اسعد مدنی کو قدرت نے تعمیری ذہن بخشا تھا‘ اس لئے ان کو تعمیرات سے بھی خصوصی شغف تھا۔ مدنی ہال کی شاندار عمارت اور مسجد کے اطراف کی خوبصورت عمارتیں ان کے اس ذوق کا مظہر ہیں‘ جمعیت علمائے ہند فرقہ وارانہ فسادات کے متأثرین کی امداد وآباد کاری کا کام اگرچہ پہلے بھی کرتی رہی ہے‘ لیکن فدائے ملت حضرت سید اسعد مدنی کے دورِ امارت میں جتنے بڑے پیمانے پر یہ کام جاری ہوا‘ اس کی مثال بھی جمعیت کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

امیرِ ہند کی خدماتِ جلیلہ کا اجمالی تذکرہ
تقسیمِ ہند کے ہولناک نتائج سے امتِ مسلمہ پر جو قیامت ٹوٹی وہ ہر کس وناکس پر عیاں ہے‘ تقسیم ہند کے تاریک ایام میں ہندوستانی مسلمانوں کو جن بڑے مسائل سے دوچار ہونا پڑا ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱:- فسادات کی روک تھام اور مظلومین کی امداد․ ۲:- مسئلہ آسام‘ ۳:-مسئلہ کشمیر‘ ۴:- مسلم اوقاف کی حفاظت․ ۵:- اردو کا تحفظ اور اس کی بقاء․ ۶:-عالم اسلام سے ملت کا واسطہ․ ۷:- بابری مسجد․ ۸:- علمی پروگرام امداد ووظائف․ ۹:- مسلم یونیورسٹی کا تحفظ․ ۱۰:- مسئلہ ارتداد․ ۱۱:- مسلمانوں کی اقتصادی بحالی کے پروگرام․ ۱۲:- مسلم پرسنل لاء․ ۱۳:- تحفظ حرمین شریفین وغیرہ وغیرہ۔
تفسیم وطن سے ہندوستان میں جو فرقہ پرستی کا زہر گھولاگیا تھا اس کا تدارک ممکن ہی نہ تھا‘ اگر یہاں حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی‘ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد‘ مفتی کفایت اللہ‘ حضرت مولانا احمد سعید‘ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور مولانا حفظ الرحمن جیسی بلند قامت شخصیات نہ ہوتیں۔ایک طرف تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ لوگ جب بھی اس خالق کے بنائے ہوئے طریقہ پر چلتے ہیں تو کامیابیاں اور کامرانیاں قطار باندھے ایسے لوگوں کی قدم بوسی کے لئے ترستی ہیں‘دوسری طرف تاریخ نے یہ بات بھی واضح کردی کہ اگر اس کے برعکس اس طریق کار سے ہٹ کر یا کسی اور طریق کار پر قوموں نے اپنی تعمیر کی ہے تو ناصرف یہ کہ کوتاہیوں اور ناکامیوں کا منہ انہیں دیکھنا پڑا‘ بلکہ وہ خود دوسری قوموں کے لئے ایک بدترین مثال بن کررہ گئیں اور لعنت ورسوائی نے ان کے چہروں کود اغدارکردیا‘ ہندوستانی مسلمانوں کی حالتِ زار پر تعجب نہ ہوتا اگر ان کے پاس خدا کا پیغام اور نظام زندگی نہ ہوتا۔

امیرِ ہند کی حکمتِ عملی
قرآنِ حکیم اور نبی کریم ﷺ نے ہمارے لئے یقیناً کامیابی کا ایسا نمونہ چھوڑا‘ جس کی مثال کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ چنانچہ انہیں احساسات کے پیشِ نظر جگر گوشہ شیخ الاسلام حضرت سید اسعد مدنی کی اولو العزم اور بلند نظر شخصیت نے عزم مصمم کیا‘ تقسیم ہند کے بعد مذکورہ تمام مسائل کا حل اور یہاں کے مسلمانوں میں احساس بیداری کے ساتھ کمزوروں اور غریبوں کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کو نفع پہنچانے کی وہ تمام صورتیں مہیا کیں جس کو اسلام اور پیغمبر ﷺ نے پیش فرماکر رہنمائی فرمائی تھی۔

مسلمانوں کی اقتصادی بحالی کے پروگرام کا پس منظر
حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کی زندگی میں ہی ۱۹۴۰ء میں آپ ہی کے ایماء اور تحریک پر ٹانڈہ باولی ضلع رام پور کے چند درد مند لوگوں نے سادہ اور پُر خلوص انداز میں ایک ایسا اقتصادی فنڈ قائم کیا جو بلاسودی اسلامی بینکاری کا حامل تھا‘ یہ وہ نقش اول تھا جو حضرت مدنی نے اپنی زندگی میں مسلمانوں کی اقتصادی بدحالی کو دور کرنے کے لئے عملی طور پر پیش کردیا تھا‘ حضرت فدائے ملت‘ امیر الہند نے حضرت اقدس شیخ الاسلام کے بتائے ہوئے طریقوں سے تمام پہلوؤں کا بھر پور جائزہ لیا‘ مذکورہ اہم مسائل میں سب سے پہلے مسلمانوں کی اقتصادی بحالی کے پروگرام کا آغاز کیا تاکہ مسلم معاشرے کی اقتصادی بدحالی کو دور کیا جائے اور سود جیسی لعنت سے نجات دلانے کے لئے شریعت اور اسلامی اصولوں کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے‘ چنانچہ جانشینِ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے سب سے پہلے اس تخیل کو اپنے رفیق خاص محترم مولانا شمیم احمد صاحب مدرس دارالعلوم دیوبند کے سامنے رکھا‘ دونوں حضرات کے مشورے سے طے ہوا کہ دیوبند کے ذمہ دار مسلمانوں کی ایک مجلس بلائی جائے‘ چنانچہ حضرت مولانا قاری محمد طیب سے دارالعلوم کے دارالحدیث میں انعقاد جلسہ کی اجازت لے کر ۱۱/ستمبر ۱۹۶۱ء کو بعد نماز عشاء دیوبند کے مخلص‘ باعمل اور ملی جذبہ رکھنے والے افراد کا ایک نمائندہ اجلاس حضرت قاری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ فدائے ملت‘ امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے سود در سود کے شکنجے میں پھنسے مسلمانوں کے واقعات کو بڑے دلدوز انداز میں پیش کیا‘ دعوت فکر وعمل دے کر مسلم فنڈ دیوبند کے ابتدائی اخراجات کے لئے ایک ہزار بیالیس روپے پچاس پیسے جمع کئے۔

مسلم فنڈ ٹرسٹ (بلاسود بینکاری) کا قیام
حضرت اقدس سید مدنی کے اس نقش اول اور نقطہ آغاز کو نقش ثانی کے طور پر تحریک کی شکل دینے کا عزم حضرت امیر الہند نے فرمایا‘ چنانچہ حضرت سید اسعد مدنی کی شخصیت نے دیوبند کی سرزمین پر ”مسلم فنڈ“ کے نام سے جو اقتصادی ادارہ قائم کیا اس کو آپ کی ذات نے ترقی دینے اور آگے بڑھانے میں جس جذبے سے کام کیا وہ قابل تحسین ہے۔ آج دیوبند میں ہی نہیں پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی اقتصادی اور معاشی پس ماندگی کو دورکرنے کے لئے علاج کا ایک ایسا طریقہ تلاش کرلیا گیا ہے‘ جس سے آنے والی نسلیں شفایاب ہوتی رہیں گی۔ چنانچہ ۳۹ سال کے طویل عرصہ میں ادارے کا ترقیاتی سفر مخلصانہ جد وجہد کے زیر سایہ کامیابی کی منزلیں طے کررہاہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد تمام تعمیری اور ترقیاتی پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا‘ کمزور طبقوں کو مضبوط کرنا‘ ان میں آبرومندی کے ساتھ جذبے کو بیدار کرنا اور مسلم معاشرے کے معاشی استحکام کو تقویت دیناہے۔
نوٹ: صدیوں بعد عالم اسلام میں یہ بلاسود بینکاری کا نظام پہلی مرتبہ ایک منظم تحریک کی شکل میں عملاً دنیا کے سامنے پیش کیا گیا جو آج تک بڑی بڑی مسلم حکومتیں نہ کرسکیں تاحال پوری دنیا میں یہ ادارہ منفرد ہے۔

مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے چند اہم اقدامات
۱:- پبلک نرسری سکول:
مسلم فنڈ ویوبند نے ۱۹۷۱ء میں سب سے پہلے دیوبند میں پبلک نرسری سکول قائم کیا‘ جس میں مسلم بچوں اور بچیوں میں اسلامی اور دینی رجحانات بیدار کرکے ذہن سازی کی جاتی ہے‘ اس طرح دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی اقدار کی بقاء بھی اس سکول کا بنیادی مقصد ہے‘ اس سکول میں سیکنڈری کلاس تک تعلیم دی جاتی ہے۔
۲:- مسلم فنڈ کمرشل انسٹیٹیوٹ:
مسلم فنڈ دیوبند نے اگر ایک طرف مسلم معاشرے میں اقتصادی توانائی کے لئے کام کیا تو دوسری طرف مسلم نوجوانوں کو خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی بخشا‘ اس کے لئے ۱۹۸۰ء میں ”مسلم فنڈ کمرشل انسٹیٹیوٹ“ کے نام سے ٹائپنگ کالج کا آغاز کیا‘ جس نے عربی‘ انگریزی‘ ہندی اور اردو کے ٹائپسٹ تیار کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا اور سینکڑوں پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کے معاشی مسائل کا حل پیش کیا۔ عربی کے باقاعدہ ٹائپسٹ تیار کرنے کا یہ ہندوستان میں پہلا اور واحد ادارہ ہے‘ عربی ٹائپنگ سیکھنے والا نوجوان آج صرف ایشیائی مسلم ممالک میں ہی نہیں‘ بلکہ ہندوستان میں بھی امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرنے والی فرموں میں کام کررہاہے اور باعزت طور پر زندگی گزاررہاہے۔
۳:- مسلم فنڈ کیریئر گائیڈ سینٹر:
یہ یونٹ بھی نوجوانوں میں خود اعتمادی کے ساتھ ان کے مستقبل کی صورت گری کرنے میں بڑا نمایاں رول ادا کررہاہے‘ یہاں پر انگریزی سکولز وکالجز میں پڑھنے والے طلباء کی ذہن سازی کی جاتی ہے تاکہ مستقبل میں موزوں کورس یا ٹریڈ اور ملازمت کا انتخاب کرسکیں‘ حقیقت یہ ہے کہ اکثر طلباء بروقت معلومات اور صحیح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے اہلیت رکھنے کے باوجود بھی اچھے اور بہتر مواقع گنوادیتے ہیں‘ مگر اس سینٹر نے مایوس اور کم حوصلہ رکھنے والے طلباء میں جوش اور ایک نئے ولولے کو فروغ دیا۔ بحمد اللہ! اس سے بہتر اور امید افزاء نتائج پیدا ہورہے ہیں۔
(جاری ہے)
 

اعجازالحسینی

وفقہ اللہ
رکن
فسادات کی روک تھام
حضرت مولانا سید اسعد مدنی کے دورِ نظامت وصدارت میں ملک میں سینکڑوں فسادات ہوئے‘ ہر فساد کے موقع پر مندرجہ ذیل کام جمعیت علمأ ہند پابندی سے کرتی رہی: حکومت کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرنا‘ اربابِ حکومت مثلاً وزیر اعظم‘ وزیر داخلہ‘ اعلیٰ افسران اور سیکولر قوتوں کو اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور نقصانات کی صحیح آگاہی کے ساتھ فساد روکنے کا مطالبہ‘ متأثرہ علاقے کا دورہ وسروے‘ ہلاک شدگان کی فہرست سازی‘ لاپتہ افراد کی تحقیق‘ فرقہ پرست سرکاری افسران کی نشاندہی اور فرقہ پرستانہ رویے پر بے باک تنقید واحتجاج‘ ایوانِ بالا میں فسادات کے خلاف آواز اٹھانا‘ مسلم ممبران پارلیمنٹ سے مل کر مشترکہ طور پر فسادات کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرنا‘ گرفتار شدگان کی رہائی کی کوشش‘ ریلیف کمیٹی کا قیام‘ مالی تعاون جس کی مقدار بلامبالغہ کروڑوں تک ہے‘ تباہ شدہ اور جلائے گئے مکانات کی تعمیر وتجدید (ان کی تعداد ہزاروں میں ہے) فساد سے متأثرہ افراد اور ہلاک شدگان کے ورثاء کو معاوضہ دلانے کی جد وجہد کرنا وغیرہ شامل ہے۔

مسئلہ آسام
حضرت امیر الہند  نے اپنے دورِ نظامت وصدارت کے دوران آسام کے مسلمانوں کی ہمیشہ رہنمائی فرمائی اگرچہ آپ کے دور میں آسام کی مسلم اقلیت کے مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوگئے‘ تاہم فدائے ملت  نے اس بارے میں خصوصی کوششیں جاری رکھیں،بلاشبہ یہ جمعیت علمأ ہند کا عظیم کارنامہ ہے‘ جس سے مستقبل کا مؤرخ اس کی اہمیت کے پیشِ نظر مسلمانوں کی تاریخ کو بالعموم اور مسلمانوں کی اس تنظیم کو بالخصوص سنہری عبارت سے مرتب کرے گا۔

مسئلہ کشمیر
اس مسئلہ کو بھی حضرت امیر الہند‘ فدائے ملت نے اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بہت اہمیت دی اور کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی۔
جس کا اندازہ ۱۶/اپریل ۱۹۹۰ء کی جمعیت علمأ ہند کی قرار داد کشمیر کے ان الفاظ سے کیا جاسکتاہے کہ:
”مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جگ موہن کو واپس بلائے اور کشمیریوں کے مطالبات پر فوراً غور کرے‘ چونکہ ظلم وجبر سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا‘ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کرے اور جمہوری اور آئینی طریقے سے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرے“۔
چنانچہ فدائے ملت‘ امیر الہند کی اپیل پر ۱۶/اپریل ۱۹۹۰ء کو یومِ کشمیر منایا گیا۔

مسلم اوقاف کی حفاظت
ہندوستان میں مسلم اوقاف کی حفاظت اور ان کے ذریعے ہونے والی آمدنیوں کا صحیح مصرف ایک اہم مسئلہ رہاہے،جمعیت علمأ ہند کے لئے ہمیشہ یہ مسئلہ قابلِ توجہ رہا۔ حضرت امیر الہند  کے دورِ نظامت وامارت میں بھی اوقاف کو حکومتی مداخلت اور مطلوبہ حیثیت واہمیت کو بچانے کی برابر جد وجہد ہوتی رہی اور حکومت سے قانون اوقاف میں ایسی ترمیم کا مطالبہ بھی کیا جس سے وقفی جائیدادوں کی حفاظت کا انتظام ہوسکے،تاہم جمعیت کی مسلسل جد وجہد کے بعد مولانا اسعد مدنی سے ۱۹۸۹ء میں مرکزی گورنمنٹ نے وعدہ کیا کہ اس سلسلہ میں کوئی ضرور مناسب کارروائی کی جائے گی اور آئندہ اجلاس پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل ضرور پیش کیا جائے گا۔

مساجد ومقابر کا تحفظ
اس مسئلہ کے پُرامن اور پائیدار حل کے لئے فدائے ملت ربانی اور تحریری طور پر حکومت سے ہمیشہ مطالبہ کرتے رہے کہ تمام مساجد ومقابر کی ۱۵/اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جائے‘ یہاں تک کہ حضرت امیر الہند نے راجیوگاندھی کے دور حکومت میں وزیر اعظم مسٹر راجیوگاندھی سے ڈیڑھ گھنٹہ مسلسل بحث کے بعد اس کو اس مسئلے کے حل کے لئے تیار کرلیا اور اس مطالبے کو Manifestoمیں شامل کرلیا‘ چنانچہ یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوچکا ہے یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

اردو زبان کا تحفظ
اس حوالے سے شیخ الاسلام حضرت اقدس سید حسین احمد مدنی اور مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاردی وغیرہ کی روایات کو فدائے ملت‘ امیر الہند حضرت سید اسعد مدنی نے بھی اپنے دورِ نظامت وصدارت میں برقرار رکھا،جماعتی میٹنگز‘ مجلس عاملہ ومجلس منتظمہ کے اجلاسوں اور کارروائیوں میں اردو کے مسئلہ پر برابر غور وفکر ہوتا رہتاہے۔
قرار دادیں اور تجاویز منظور کرکے اربابِ اختیار کو اردو کے سلسلہ میں برتی جانے والی بے انصافیوں اور بے اعتنائیوں پر ہمیشہ توجہ دلائی گئی۔

تحفظ حرمین
جمعیت علمأ ہند نے تحفظ حرمین کے سلسلہ میں بھی وقیع خدمات انجام دی ہیں‘ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں‘ بلکہ اس کا تعلق پورے عالم اسلام سے ہے‘ حضرت امیر الہند‘ فدائے ملت  کے دورِ صدارت ہی میں نومبر ۱۹۸۷ء کو دلی میں عظیم الشان اور تاریخ ساز حرمین کانفرنس منعقد کی گئی ‘ جس کا افتتاحی خطبہ امام حرم مکہ مکرمہ حضرت شیخ عبد اللہ ابن سبیل نے پڑھا‘ جس میں انہوں نے کہا کہ اسی سرزمین کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہاں خانہ کعبہ ہے اور وہیں نبی آخر الزمان ا تھے،امام محترم نے خصوصی طور پر امیر الہند‘ فدائے ملت حضرت سید اسعد مدنی کی کوششوں کو سراہا اور فرمایا کہ: دشمنانِ اسلام نے ہمیشہ اسلام کے خلاف سازش کی ہے مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے‘ کیونکہ اسلام کی حفاظت کا وعدہ خود باری تعالیٰ نے فرمایاہے،اس کانفرنس کے موقع پر حضرت امیرالہند نے تاریخی مفصل خطبہ استقبالیہ پڑھا‘ جس کے سننے کے بعد اجلاس میں شریک دانشوروں‘ علمائے کرام‘ مفتیان عظام کی طرف سے خصوصی مبارکباد پیش کی گئی اورکہا گیا کہ حضرت والا نے ایک ایسے موضوع کی اہمیت سے روشناس کرایا جس کے بارے میں غافل مسلمان بالکل کچھ نہیں جانتے تھے۔

بابری مسجد
بابری مسجد کے مسئلہ کے حل کے لئے ویسے تو ۱۹۴۹ء سے مسلسل جمعیت علمائے ہند کے اکابر کوشش کرتے رہے ‘ انہیں کوششوں کے تسلسل کو حضرت امیر الہند‘ فدائے ملت نے باوجود سنگین سے سنگین ترحالات ہوجانے کے جاری رکھا‘ ہردور میں عدالتی طریق کار سے مسلمانوں کی اس مظلومیت سے حکومتوں کو آگاہ کیا جاتا رہا اور حضرت فدائے ملت کی کوشش ہر ظالم وجابر جانبدار فرقہ پرست حکمران کی ذلت کا باعث بنتی رہی۔

امداد وظائف
حضرت امیر الہند کے دورِ صدارت میں ایک اہم کام یہ بھی ہوا کہ جمعیت نے مسلمانوں کو ٹیکنیکل تعلیم دینے کے لئے ۱۹۷۴ء سے تعلیمی وظائف کا پُر تحسین سلسلہ شروع کررکھا ہے‘ اس میں مزید توسیع کے لئے ”مجاہدِ ملت سکالر شپ“ ۱۹۹۰ء میں قائم کیا گیا‘ جس کے تحت اعلیٰ دینی وفنی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو وظائف دینے کا منصوبہ بنایا گیا‘ اسے مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کے خاتمہ کی طرف ایک اہم قدم کہا جاسکتاہے،نیز امیر الہند کے دورِ صدارت میں اس سلسلے میں اہم کوششوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ضرورت مند طلباء کی مدد کرنا‘ رہنمائی کرنا‘ انہیں سرکاری سہولتوں کی معلومات بہم پہنچانا‘ دینی ودنیوی تعلیم کو جمعیت کے پروگرام میں اہمیت دینا۔
دینی مکاتب کا قیام‘ دار المطالعہ‘ لائبریری کا قیام‘ درس حدیث کا اجراء‘ مسلمان بچوں اور بچیوں کے لئے دنیاوی تعلیم پر توجہ دینا۔ KGاورEMسکول کے ساتھ ٹیکنیکل پیشہ وارانہ تعلیم کے لئے کوشش کرنا‘ جمعیت علماءٴ ہند ہمیشہ اس بات کے لئے کوشش کررہی ہے کہ ملک کی مسلم اقلیت ہندوستان کو اپنا ملک سمجھ کر کھل کر ہاتھ بٹائے اور ساتھ دے۔

مسلم پرسنل لاء
اسلامی معاشرتی قانون کی اہمیت حضرت اقدس فدائے ملت  کے دورِ صدارت میں جور ہی ہے اس کا اندازہ ہم جمعیت علمائے ہند کے خصوصی اجلاسوں‘ اجلاس ہائے عام کی کارروائیوں اور تجاویز وقراردادوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی بخوبی کرسکتے ہیں‘ مسلم پرسنل لاء کے ضمن میں آنے والے تمام معاشرتی علوم کے تعلق سے واضح نقطہ نظر ملتاہے اور اس حوالے سے چھوٹے سے چھوٹے واقعے اور معاملے کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا،مسلم پرسنل لاء کی اہمیت حضرت امیر الہند کے اس بیان سے کی جاسکتی ہے جو آپ نے ۱۹۶۶ء میں حکومت کی وضاحت طلب کرنے پر دیا‘ آپ نے فرمایا:
”قرآنی قوانین نہ کسی مجلس قانون ساز کے بنائے ہوئے ہیں نہ کسی حکومت کے نافذ کردہ ہیں‘ ان میں ترمیم اور تبدیلی کا حق کسی کو نہیں“۔

مسئلہ ارتداد
اپنے اکابر کے اس ورثہ کو حضرت فدائے ملت نے برقرار رکھا ہے‘ جمعیت علماء ہند واحد مسلم تنظیم ہے جس نے شروع ہی سے مسئلہ ارتداد کو سنجیدگی سے لیا اور اس سلسلہ میں اپنی حد تک مناسب ومعقول کارروائی کی،جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے فتنہ ارتداد سے متأثرہ علاقوں کا متعدد بار دورہ کیا اور اس مسئلہ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے جمعیت علماء ہند کے آرگنائزر سے صورتِ حال معلوم کر کے مناسب کارروائی بھی کرتے رہے‘ اس سلسلہ میں آپ کے دورِ صدارت میں نئی نسل کی دینی تعلیم اور مذہبی شعور پیداکرنے کے لئے جمعیت کے زیرسرپرستی سینکڑوں مدارس ومکاتب‘ مساجد اور ادارے قائم ہوئے اور اب تک قائم ہیں‘ اگرچہ ضرورت کے لحاظ سے پھر بھی کم ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ارتداد کے فروغ کے لئے کسی بھی اقلیت کی بنیادی وجہ اقتصادی بدحالی بھی ہوا کرتی ہے‘ آپ نے اس وجہ سے ارتداد کے عمل کو روکنے کے لئے جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے بلا سودی نظام جاری کرکے اس تنظیم کی تاریخ میں ایک انوکھا اور کامیاب تجربہ پیش کیا ہے،جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو اقتصادیات نہیں آتی یا وہ اس میدان میں پیچھے ہیں‘ ان کے لئے یہ درس عبرت ہے۔

حضرت امیر الہند بحیثیت شیخِ طریقت
آپ کے بارے میں دنیا بالخصوص پاکستان کے عوام بلکہ بعض علماء بھی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ عالم اسلام کے صرف سیاسی رہنما تھے‘ حضرت شیخ الاسلام کی سیاسی‘سماجی اور معاشرتی خدمات کا تسلسل تھے‘ یہ تأثر صرف انہیں لوگوں کا ہے جنہوں نے آپ کو قریب سے نہیں دیکھا یا آپ کی رفاقت میں کوئی ماہِ رمضان المبارک نہیں گزارا۔
اللہ کے فضل وکرم سے جیسے آپ حضرت شیخ الاسلام کی زندگی میں دارالعلوم دیوبند کے کامیاب ترین استاد تھے‘ اسی طرح آپ نے اپنے والد گرامی حضرت شیخ الاسلام کی رفاقت میں پچیس سال تک ماہِ رمضان گزارے اور ان سے منازل سلوک طے کیں‘ اپنے تمام اسباق ذکر اور اوراد وظائف مکمل کئے‘ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اپنے والد گرامی شیخ العرب والعجم  کی رحلت کے بعد ان کے خلفاء نے باتفاق رائے عظیم منصبِ جانشینی شیخ الاسلام کے لئے چنا۔

انداز تربیت اصلاح باطن
جس طرح حضرت اقدسکے زمانہ میں سینکڑوں لوگ ماہِ رمضان میں آپ سے اصلاحِ باطن اور اوراد وظائف کی تکمیل اور پورے ماہِ صیام کو اتباعِ سنت کے مطابق گزارنے کے لئے آتے تھے اسی طرح بحمد اللہ! آپ کے ماہِ صیام کے معمولات بھی جہاں مکمل اتباعِ سنت کا مظہر تھے‘ وہاں حضرت شیخ الاسلام کے معمولات کا تسلسل بھی تھے۔یہی وجہ تھی کہ سینکڑوں علماء ومشائخ بھی ہرسال آپ کی رقافت میں رمضان گزارتے اور زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں عقیدت مند آپ کے پاس اصلاح ِ باطن کی غرض سے ہرسال رمضان گزارتے تھے۔
حضرت شیخ الاسلام کی وفات کے بعد بیالیس سال سے خانقاہ مدنیہ پوری آب وتاب سے آباد ہے‘ بیالیس سالہ عرصہ میں اکتالیس ماہِ صیام آپ نے دیوبند کی سر زمین پر گزارے ہیں‘ جبکہ ایک ماہِ صیام آپ نے ۱۹۹۷ء میں بنگلہ دیش کے عوام کے شدید اصرار پر ڈھاکہ میں گزارا،ڈھاکہ میں آپ کے معمولات ماہِ صیام اور شرکاء کی تعداد دیکھ کر حضرت شیخ الاسلام کے بعض اجل خلفاء بار بار یہ کہتے تھے کہ اس سال تو حضرت شیخ الاسلام کے سلہٹ کے ماہِ صیام کے معمولات کی یاد تازہ ہوگئی،آخیر عشرہ میں متوسلین کی تعداد ایک ہزار سے بھی متجاوز ہوگئی‘ ویسے تو بندہ نے حضرت امیر الہند کے ساتھ دیوبند میں بھی کئی ماہِ رمضان آپ کی خدمت میں رہ کر گزارے حسنِ اتفاق سے ڈھاکہ کا ماہ بھی آپ کی خدمت میں گزارا،حضرت اقدس شیخ الاسلام کے معمولات کے بارے میں جو کچھ پڑھا اور سنا تھا‘ آپ کے معمولات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ آج شیخ الاسلام کو دیکھ لیا۔

حضرت فدائے ملت کے معمولات ماہِ رمضان کی تفصیل
ویسے تو ہمارے تمام اکابر ماہِ رمضان کا خوب اہتمام کرتے اور اتباعِ سنت کی پوری کوشش فرماتے کہ ماہِ رمضان کی راتوں کو زندہ کیا جائے‘ حضرت اقدس شیخ الاسلام کا ماہِ رمضان دنیوی مصروفیات سے بالکل الگ تھلگ‘ مکمل انہماک واستغراق‘ ذکر‘ تلاوت‘ نوافل اور قدرے جسمانی آرام پر مشتمل ہوتا تھا۔جانشین شیخ الاسلام کے ماہِ رمضان کے معمولات درج ذیل حدیث مبارکہ کا عکس کامل تھے:
”جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا اور رمضان کی راتوں کو زندہ کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے“۔

آغاز معمولات
آپ کے معمولات کا آغاز ۲۹ شعبان بعد نماز عصر شروع ہوجاتا تھا‘ تراویح میں مقرر حافظ کے پارہ کو دور کی شکل میں سننا مغرب تک معمول رہتا‘ اگر چاند نظر آجائے تو معمولات کا تسلسل رہتا تھا‘ ورنہ ۳۰ شعبان سے بعد نماز عصر ہی تلاوت دوبارہ سنی جاتی اور نماز عشاء تاخیر سے ادا کئے جانے کا اعلان کردیا جاتا تھا‘ نماز مغرب وعشاء میں وقفہ تقریباً دو گھنٹے کا ہوتا تھا‘ اس وقفے کے دوران شام کا کھانا اور کچھ آرام بھی شامل تھا‘ نماز عشاء کی ادائیگی کے متصل بعد تراویح کا آغاز ہوجاتاتھا دورانِ تراویح ہرچار رکعات کے بعد جتنی دیر میں یہ چار رکعت ادا ہوتیں‘ اتنا ہی اس میں وقفہ ہوتا تھا‘ وقفہ میں سہولت کے ساتھ ہر شخص تلاوت ‘ ذکرواذکاراورآرام کے لئے آزاد تھا‘ ۲۰ تراویح تین گھنٹہ میں پایہٴ تکمیل کو پہنچتی اور تراویح کے بعد ہی نہایت الحاح وزاری سے اجتماعی دعا ہوتی تھی‘ وتر کی ادائیگی کے بعد انفرادی دعا ہوتی تھی۔
وتر کی ادائیگی کے بعد حضرت اقدس امیر الہند  اپنی مختصر دعا کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے‘ تمام ذاکرین وسالکین اورشرکاء حلقہ بناکر بیٹھ جاتے‘ اس وقت آپ کی موجودگی میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کی معروف تصنیف ”اکابر کا رمضان“ کا کچھ حصہ پڑھا جاتا تھا‘ جس کو عام طور پر آپ کے نہایت بااعتماد رفیق خاص‘ حضرت شیخ الاسلام کے خلیفہ حضرت مولانا سید محمود صاحب پڑھتے تھے‘ اس تعلیم میں تقریباً بیس منٹ صرف ہوتے تھے‘ اس کے بعد حضرت اقدس  ذاکرین سے فرماتے کہ سب اپنے اپنے اذکار میں مصروف ہوجائیں‘ تمام سالکین آپ کی نگرانی میں ذکر شروع کردیتے تھے‘ اس دوران روشنی مکمل طور پر بند کردی جاتی تھی‘ یہ مجلس ذکر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہتی‘ اس مجلس ذکر سے کچھ دیر بعد آپ حلقہٴ ذکر سے اٹھ جاتے‘ باہر سے آنے والے وفود جنہوں نے حضرت امیر الہند سے پہلے سے وقت لیا ہوتا تھا وہ حاضر ہوکر اپنے مسائل پر تبادلہ خیال کرتے تھے‘ یہ وقت ملاقات کم وبیش ایک گھنٹہ ہوتا تھا‘ ادھر مجلس ذکر کے اختتام کے بعد ایک گھنٹہ کے لئے وقفہ ہوتا‘ جس میں ذاکرین تازہ طہارت سے فراغت کے بعد چائے وغیرہ نوش کرتے تھے‘ اس کے بعد نماز تہجد میں مقررہ حافظ باری باری اپنے سامع کے ساتھ تہجد باجماعت شروع کردیتے‘ شرکاء اپنی مرضی واختیار کے ساتھ اس جماعت میں شامل ہوتے تھے۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ نماز تہجد کی جماعت میں شمولیت کے لئے کسی کو بھی دعوت نہیں دی جاتی تھی‘ حتیٰ کہ آرام میں مصروف حضرات کو بھی بیدار نہیں کیا جاتا تھا،یہ تہجد کا معمول بھی تقریباً تین گھنٹے جاری رہتا تھا‘ جس میں عام طور پر چار سے پانچ پارے تلاوت ہوتے تھے‘ نماز تہجد کے اختتام پر تقریباً آٹھ دس منٹ تک دعا ہوتی تھی جس میں گریہ وزاری کا دلدوز منظر ہوتا تھا۔
اس کے فوری بعد سحری کے لئے دسترخوان لگادیا جاتا اور اعلان ہوجاتا تھا کہ تمام شرکاء سحری تناول کرلیں‘ سحری کے کھانے میں خوب فیاضی کا منظر ہوتا تھا جس میں عام طور پر قورمہ‘ سبزی کا سالن اور چاول‘ دہی دسترخوان کی زینت ہوتے تھے‘ اس موقع پر بھی حضرت اقدس امیر الہند  بنفس نفیس تشریف فرماہوتے تھے‘ آپ سحری کے تناول کے لئے اس وقت تک تشریف فرما نہیں ہوتے جب تک کہ تمام شرکاء کے سامنے کھانا نہیں پہنچ جاتا۔یہ کھانا پورا کا پورا خانقاہ مدنیہ یعنی حضرت اقدس  کی طرف سے ہی ہوتا تھا‘ تمام شرکاء کو آپ ذاتی مہمان سمجھتے تھے۔
شرکاء کی تعداد اول عشرہ میں چار سو سے پانچ سو تک ہوتی تھی‘ اس میں اضافہ ہوتا رہتا تھا حتیٰ کہ دوسرے عشرہ کے نصف میں ایک ہزار سے متجاوز ہوجاتی اور یہ تعداد اختتام رمضان تک برقرار رہتی تھی‘ بالفاظ دیگر کہ جو یہاں آیا وہ اختتام رمضان تک واپس نہ گیا‘ سحری سے فراغت کے بعد فوری فجر کی اذان کا وقت ہوجاتا‘ نماز فجر اول وقت یعنی اذان فجر کے پندرہ منٹ بعد ادا کی جاتی ‘ نماز فجر کے بعد تمام ذاکرین وسالکین آزاد ہوتے تھے یعنی تلاوت ‘ ذکر اور مراقبہ میں اشراق تک مشغول رہتے اور ادائیگی اشراق کے بعد آرام کرتے تھے‘ نماز ظہر سے کچھ دیر قبل عام طور پر تمام ذاکرین‘ سالکین آرام سے فراغت حاصل کرلیتے تھے اور نماز ظہر کی تیاری کرتے ہی مسجد میں پہنچ کرتلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے۔
نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد دو حلقے ہوتے تھے‘ ایک حلقہ حضرت اقدس امیر الہند کے پاس ہوتا تھا جس کے شرکاء اپنے اذکار کے اسباق اور کیفیات تحریری طور پر پیش کرتے اور حضرت اقدس اسی ترتیب سے فرداً فرداً علیحدگی میں ان کے جوابات ارشاد فرماتے تھے۔ دوسرا حلقہ حضرت مولانا سید محمود صاحب کے ہاں ہوتا تھا اس حلقہ میں حضرت مولانا محترم ”امداد السلوک“ مصنفہ فقیہ امت‘ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمدگنگوہی نور اللہ مرقدہ کو تعلیماً سناتے تھے‘ یہ سلسلہ تقریباً گھنٹہ بھر جاری رہتا تھا‘ اس کے بعد شرکاء انفرادی طور پر تلاوتِ کلام پاک میں مشغول ہوجاتے جبکہ حفاظ کرام اپنی منزل کے دور میں منہمک ہوجاتے،حضرت اقدس  عام طور پر اس وقت تلاوتِ کلام پاک میں مصروف رہتے تھے‘ یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوجاتا ‘ ادائیگی نماز کے بعد فوراً آپ نماز تراویح کے لئے متعین حفاظ کرام کا دور سماعت فرماتے تھے‘ اس تلاوت کی سماعت کے لئے اکثر شرکاء اپنی خواہش پر موجود ہوتے‘ یہ دور وقت افطار سے پانچ منٹ قبل ختم ہوجاتاتھا،مسجد میں خدام افطار کے لئے دسترخوان بچھاچکے ہوتے تھے‘ حاضرین کو بذریعہ اعلان دسترخوان پر افطار کے لئے پہنچنے کے لئے بلایاجاتا تھا‘ اس موقع پر بھی فیاضی کا منظر ہوتا تھا‘ کھجور کے ساتھ ساتھ جہاں دسترخوان پر فروٹ چاٹ ہوتی‘ وہاں بھنے ہوئے چنے یا مٹر اور سموسے بھی ہوتے تھے‘ اس افطار کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ ہرروزہ دار کو مدینہ منورہ کی کھجور اور ایک بڑا ڈبہ آبِ زم زم کا ملتا۔
اس افطاری میں آٹھ دس منٹ صرف ہوتے تھے‘ اس کے بعد نماز مغرب کی ادائیگی کا عمل شروع ہوجاتا تھا‘ نماز مغرب کی سنن ونوافل کے بعد فوراً کھانے کے لئے دسترخوان لگادیا جاتا تھا‘ اس موقع پر بھی فیاضی کا وہی منظر ہوتا جوکہ سحری کے وقت ہوتا تھا‘ البتہ اس کھانے میں سادہ چاولوں کی بجائے بریانی یا گوشت پلاؤ کا بطور خاص اہتمام ہوتا تھا، یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ سحری اور افطاری کے وقت کمزوروں اور بیماروں کے لئے ہرایک کی طبیعت کے مطابق کھانا فراہم کیا جاتا تھا‘ یہ پرہیزی کھانے حضرت اقدس امیر الہند کی اہلیہ محترمہ بذاتِ خود یا اپنی بہوؤں سے اپنی نگرانی میں تیار کرواتی تھیں‘ جس طرح کہ کمزوروں اور بیماروں کے لئے خوراک کا اہتمام ہوتا‘ اسی طرح خانقاہ کے مہمانوں کے ایمرجنسی علاج کے لئے ایک ماہر طب اور ایک ماہر ڈاکٹر (میڈیکل وہومیوپیتھک) کا بھی انتظام ہوتا تھا (حضرت اقدس  کی اہلیہ محترمہ اس دار فانی سے ۲۳ ستمبر ۲۰۰۰ء کو رحلت فرماگئی تھیں۔
حضرت اقدس کی اہلیہ محترمہ کا خاص ذوق یہ بھی تھا کہ تراویح کے بعد اس وقت تک آرام نہ کرتیں جب تک اپنے بیٹوں سے یہ نہ پوچھ لیتیں کہ خانقاہ میں کسی کو کسی قسم مثلاً بستر ‘ خوراک وغیرہ کی ضرورت تو نہیں‘ اگر ضرورت ہو تو اس کو فراہم کرو‘ اس اطمینان کے بعد سوتیں‘ اس کے بعد شرکاء کچھ دیر تقریباً ایک گھنٹہ آرام کرتے اورعشاء کی نماز کی تیاری میں مشغول ہوکر حسبِ سابق معمولات میں مشغول ہوجاتے تھے، زنان خانہ میں بھی مستورات کے لئے تراویح کا اہتمام ہوتا تھا‘ جس کی امامت مرد حفاظ قرآن کرواتے تھے اور وہ پردے میں پڑھتے تھے‘ عام طور پر آپ کے خاندان کا ہی کوئی حافظ یہ فریضہ انجام دیتا۔ یہ معمولات ماہِ رمضان کی ہر شب میں جاری رہتے تھے‘ تمام شرکاء ماہِ رمضان کی ہر شب کو خانقاہ مدنیہ میں لیلة القدر کی طرح گزارتے تھے‘ اکثر ذاکرین وسالکین سے ہردن گزرانے کے بعد یہ دعائیہ جملہ سننے میں آتا رہتا تھا کہ: اے اللہ! یہ پورا ماہِ رمضان نصیب فرما دے‘ معلوم نہیں کہ آئندہ نصیب ہوگا یا نہیں اور ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہوئے نظرآ تے کہ جو وقت ملا ہے اس کی قدر کرو،حضرت اقدس امیر الہند بھی ماہِ رمضان کے جمعوں میں بیان فرماتے ہوئے خصوصیت سے یہ ارشاد نبوی ا دہراتے تھے کہ :
”جس شخص نے تندرستی میں ماہِ رمضان کو پایا اور خوب عبادت کرکے راتوں کو زندہ نہ کیا اور اپنی بخشش نہ کرواسکا وہ بڑا ہی وہ بدنصیب ہے“۔

حالت اعتکاف
یہاں خانقاہ میں ماہِ رمضان کی ہررات لیلة القدر کا سماں پیش کرتی تھی‘ اس لئے حالتِ اعتکاف کے معمولات کا خاص فرق نہیں ہوتا‘ البتہ معتکفین پر ماہِ رمضان کی جلد جدائی کا صدمہ نمایاں نظر آتا تھا،اختتام ماہ رمضان‘ چاند نظر آنے پر چاند رات کو بھی اسی فکر کے ساتھ گزاراجاتا تھا‘ اس رات میں گریہ وزاری اپنے عروج پر ہوتی تھی‘ نماز فجر کے بعد مہمان نماز عید الفطر کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں‘ عیدگاہ جانے سے قبل تمام مہمانوں کو مختصر ساناشتہ دیا جاتا تھا‘ جس میں عام طور پر مدینہ منورہ کی کجھور ‘ دودھ میں بنائی ہوئی سویاں‘ پستہ وبادام سے مرصع ہوتی تھیں‘ چائے بھی دی جاتی تھی ‘ عید الفطر کا دن دیوبند میں مسلمانوں کی اعلیٰ عظمت کا نقیب ہوتا تھا‘ ہزاروں لوگوں کی آرزو اور تمنا کا لحاظ رکھتے ہوئے مشائخ‘ علماء اور آئمہ کے اصرار پر حضرت اقدس امیر الہند نمازِ عید الفطر کی امامت عیدگاہ میں فرماتے تھے‘ اس عظیم اجتماع کو دیکھ کر حرمین شریفین کے حج کی یاد تازہ ہوجاتی۔

بشکریہ ماہنامہ بینات کراچی
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
کیا لوگ تھے جو راہ وفا سے گذر گئے
دل چاپتا ہوں نقشِ قدم چومتا رہوں​
 

جمشید

وفقہ اللہ
رکن
آپ حضرات ناراض نہ ہوں تو عرض کروں ۔بزرگان دین سے ناچیز کو خاصی عقیدت ہے لیکن قاری طیب صاحب کے بعد جولوگ دیوبند کے منتظم بنے ،دوسرے لفظوں میں مسلط ہوئے۔ان سے کبھی عقیدت ومحبت نہیں ہوسکی۔ امیر الہند ،فدائے ملت اورقاری طیب صاحب کا واقعہ تو تاریخ نے ریکارڈ کرلیاہے ۔اب چچابھتیجے کی جنگ چل رہی ہے۔
دوسری طرف مظاہربھی دوٹکرے ہوچکاہے۔
یہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ہندوستان کے دوقدیم مدارس جہاں سے علم واخلاص کی لپٹیں اٹھتی تھیں وہ تو دوٹکرے ہوگئیں اورخداجانے مزید کتنے ٹکروں میں تبدیل ہوں گی لیکن ندوہ جسے ہم روحانیت سے دور مانتے ہیں ۔اس کا حال ایسانہیں ہوا۔جمعیۃ دوٹکرے ہوچکی ہے جب کہ جماعت اسلامی بدستور خوش اسلوبی سے چل رہی ہے جب کہ سب جانتے ہیں کہ تصوف اورروحانیت کاجماعت اسلامی میں کوئی گزرنہیں ہے۔
ان حالات کو دیکھ کر بار بار اقبال کا یہ شعر ذہن میں گونجتاہے
خدایایہ تیرے سادہ دل بندے کدھرجائیں
کہ دوریشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
شاید آپ لوگوں کو معلوم ہو کہ مولانا اسرارالحق صاحب ملی کونسل والے بھی مولانا اسعد مدنی کے انداز حکمرانی سے ہی ناراض ہوکر علاحدہ ہوئے اوراپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ملی کونسل کے نام سے بنائی۔
مضمون نگار نے جہاں ""امیراملت""کے پس منظر کا ذکر کیاہے وہاں تو مبالغہ کا ہی کمال دکھایاہے اس سے وہ شعروشاعری کی تعریف میں پڑھاہواجملہ تازہ ہوگیااحسنہ اکذبہ سب سے بہتر شعر وہ ہوتاہے جس میں سب سے جھوٹی بات بیان کی گئ ہو۔
 

اعجازالحسینی

وفقہ اللہ
رکن
بھیا یہ آپکے ہندوستان کی سیاست ہو سکتی ہے باقی رہ گئے علیحدہ ہونے والے لوگ تو وہ ناراض ہو اکثر ایسے ہی کہا کرتے ہیں جہاں عروج ہے وہاں زوال بھی ضروری چیز ہے ۔ رہی بات ان بزرگوں کی تو وہ اللہ کے پاس چلے گئے وہ جانیں اور رب جانے کیا کسی کی غلطیاں اس کے جانے بعد نکال کر ہم کچھہ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یقینا نہیں تو پھر کیوں ہم ایسی باتیں کریں
یہ اکابر جب پاکستان آتے ہیں تو ہم نے انہیں ہمیشہ مخلص ہی پایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شائید آپکی باتوں میں وزن ہو لیکن بہرحال میں انکو ضروری خیال نہیں کرتا اور یہ بات بحث براءے بحث کے لئے بھی نہیں لکھ رہا میں

اللہ آپکو خوش رہے اور اپنے دین کے کاموں میں قبول رکھے ! آمین
 

بے باک

وفقہ اللہ
رکن
ان اکابر کی دینی مساعی اور دین سے اخلاص سے سب متاثر ہوئے ، معروضی حالات جو ان کے سامنے درپیش تھے ، ان کے مطابق ان سب اکابر نے اپنی جگہ انتھک کوشش کی ، اختلافات تو ہر جگہ ہو سکتے ہیں ، وہ تو دور اولین سے لے کر آج تک قائم ہیں ،
دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے دین کی سربلندی اور کلمہ کفر کے سامنے اپنی مجاھدانہ صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے یا نہیں ،
میری ذاتی رائے میں ان اکابر دین نے انتھک کام کیا، اور اللہ تعالی ان کی مساعی قبول فرمائے۔اور ہمیں بھی اپنے دین کی خدمت کے لیے چن لے ، کھلے میدان میں دوڑنا آسان ہے ، مگر رکاوٹوں کے ساتھ دوڑنا مشکل ترین ہے ،
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
محترم بے باک صاحب نے جن خیالات کا اظہار فرمایا ماشاء اللہ بڑے قابل قدر ہیں۔
محترم جمشید صاحب دکھی تو ہم سب ہیں ۔کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔اللہ قاری صاحب اور فدائے ملت دونوں حضرات کو غریق رحمت فرمائے۔ محترم حسینی صاحب کی عقیدت بھی
قابل ستائس ہے۔والسلام
 
Top