ناخن کاٹنے کی سنت

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
ناخن کاٹنے کی سنت​

1)داہنے ہاتھ کی ابگشت شہادت (کلمہ شہادت) سے شروع کریں اور چھنگلی تک پھر ہاتھ کی چھنگلی بائیں ہاتھ کی انگوٹھے پھر آخر میں داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کانٹے اور داہنےپاؤں کی چھنگلی سے شروع کر کے انگوٹھے تک پھر بائیں پاؤں کے انگو ٹھے سے چھنگلی تک ترتیب وار ناخن کاٹنا چاہئے -. یہی طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ناخن تراشنے کا شامی میں منقول ہے .
جس کی عبارت مع حوالہ نقل ہے .روی انہ صلی اللہ علیہ وسلم بداءبمسبحتہ الیمنیٰ الی الخنصر ثم بخنصرالیسری الی الابھام وختم بابھام الیمنیٰ وفی الر جل بخنصر الیمنیٰ ویختم بخنصرالیسریٰ .شامی

ناخن جمعہ کے دن نماز سے قبل کا ٹنا سنت ہے .کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقص شاربہ ویقلم اظفارہ یوم الجمعۃ قبل ان یروح الیٰ الصلوٰۃ. حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن قبل نماز جمعہ مونچھوں اور نا خنوں کا کا ٹتے تھے .(شامی)
روایت : من قلم اظافیرہ یوم الجمعۃ اعاذہ اللہ من البلاءیا الیٰ الجمعۃ الاخریٰ . جو شخص جمعہ کے دن ناخن کاٹے اگلے جمعہ تک بلاؤں سے اس کو اللہ تعالیٰ پناہ دیں گے . شامی
حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ ابن دقیق العید رحمھم اللہ فر ماتے ہیں کہ ناخن ترا شنے میں کوئی خاص کیفیت اور کسی دن کی تعین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول وثابت نہیں .لہذا مذکورہ بالا طریقے کے مستحب ہو نے کا اعتقاد جائز نہیں .( بذل المجہود فی حل ابی داؤد ج1 ص33) بحولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ص 33
 

عتیق

وفقہ اللہ
رکن
سبحان اللہ

اللہ تعالی پہلے مجھے پھر آپ سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
آپ کا شکریہ ،،،،،،کیونکہ اس انداز سے کاٹنے کے بارے میں کوئی حدیث میرے علم نہیں تھی مگر آپ کی پوسٹ سے معلوم ہو گیا کہ یہ انداز عمل رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے
 
Top