مولانا اقبال احمد قاسمی صاحب شاگر رشید استاذالقرا قاری ابو الحسن صاحب اعظمی استاذ قراءت دارلعلوم دیوبندبڑی خوبیوں کے حامل ہیں .قرآن فہمی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں مولانا کا سب سے بڑا کارنامہ "عربی میڈیم مدرسہ سید العلوم" کا قیام ہےعام روش سے ہٹ کر اس مدرسہ کا تعلیمی نصاب ہے مکتب کی تعلیم عربی زبان میں دی جاتی ہے اس کیلئے مولانا نے خود ہی نصاب تیار کیا اس نصاب میں "تجویدی قاعدہ" کی ترتیب قرآنی جملوں کا انتخاب پھر اسکا ترجمہ اس انداز سے کیا کہ بچہ بآسانی یاد کرلے اور سمجھ بھی لے .اگرچہ اس مدرسہ کے قیام کی مدت صرف دو سال کی ہے لیکن اس کے نتائج دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلتا ہے مولانا نے پتھر میں پھول کھلا دیئے .ہم اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ قرآن فہمی کی اس کوشش میں مولانا نے دن رات محنت کی تمام تر صلاحیت لگاگر دکنی اردو بولنے والے 5 سے 10سال کی عمر کے بچوں میں عربی زبان بولنے اور سمجھنے کا ولولہ پیدا کیا .کیا عجب یہی بچے بڑے ہوکر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے خواب کی تعبیر بن جائیں .مالٹا سے واپسی کے بعد فرمایا تھا!
میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں آج مسلمان دینی اور دنیوی اعتبار سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو میری سمجھ میں اس کے دو اسباب آتے ہیں .
ایک تو مسلمانوں کا قرآن مجید چھوڑ دینا.
اور دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی.
اس لئے میں مالٹا جیل سے عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن مجید کو لفظا اور معنا عام کیا جائے. بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کئے جائیں.
بڑوں کو عوامی درس قرآن مجید کی صورت میں اسکے معنیٰ ومفہوم سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات ہر عمل کیلئے آمادہ کیا جائے.
مولانا اپنے مدرسہ میں بچوں کو لفظی تعلیم کے ساتھ معنیٰ کی بھی تعلیم دیتے ہیں ان شاء اللہ یہ شجر بڑا ثمرآور ہوگا .اللہ تعالیٰ قبول فر مائے اور کرایہ کی عمارت سے یہ مدرسہ نکل کر ذاتی عمارت میں پہنچ جائے.
مولانا اقبال صاحب کا تعلق فیض آباد اتر پردیش انڈیا سے ہے .زمانہ دراز سے شہرگلستاں بنگلور کرناٹکا انڈیا میں مقیم ہیں .الغزالی اس سعی مذکور پر مولانا کو مبارک دیتا ہے اور جمیع مقاصد حسنہ میں کامیابی وکامرانی کیلئے دعا گو ہے والسلام
میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں آج مسلمان دینی اور دنیوی اعتبار سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو میری سمجھ میں اس کے دو اسباب آتے ہیں .
ایک تو مسلمانوں کا قرآن مجید چھوڑ دینا.
اور دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی.
اس لئے میں مالٹا جیل سے عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن مجید کو لفظا اور معنا عام کیا جائے. بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کئے جائیں.
بڑوں کو عوامی درس قرآن مجید کی صورت میں اسکے معنیٰ ومفہوم سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات ہر عمل کیلئے آمادہ کیا جائے.
مولانا اپنے مدرسہ میں بچوں کو لفظی تعلیم کے ساتھ معنیٰ کی بھی تعلیم دیتے ہیں ان شاء اللہ یہ شجر بڑا ثمرآور ہوگا .اللہ تعالیٰ قبول فر مائے اور کرایہ کی عمارت سے یہ مدرسہ نکل کر ذاتی عمارت میں پہنچ جائے.
مولانا اقبال صاحب کا تعلق فیض آباد اتر پردیش انڈیا سے ہے .زمانہ دراز سے شہرگلستاں بنگلور کرناٹکا انڈیا میں مقیم ہیں .الغزالی اس سعی مذکور پر مولانا کو مبارک دیتا ہے اور جمیع مقاصد حسنہ میں کامیابی وکامرانی کیلئے دعا گو ہے والسلام