1.سلام کرنا مسلمانوں کے لئے بہت بڑی سنت ہے .حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تا کید
فر مائی ہے . ہر مسلمان کو سلام کرنا چاہئے خواہ اسے پہچانتا ہو یا نہ ہو .کیونکہ سلام اسلامی حق ہے .کسی کے جاننے اور شنا سائی پر موقوف نہیں .
2. بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بچوں پر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سلام کیا اس لئے بچوں کو بھی سلام کرنا سنت ہے .
3. سلام کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ زبان سے السلام علیکم کہے ہاتھ سے یا سر سے یا انگلی کے اشارے سے سلام کرنا یا اس کا جواب دینا سنت کے خلاف ہے .
4. کسی مسلمان بنائی سے ملاقات ہو تو سلام کے بعد مصافحہ کرنا مسنون ہے .عورت ، عورت سے مصا فحہ کر سکتی ہے .
5 . کسی مجلس میں جاؤ تو جہاں موقع ملے اور جگہ ملے بیٹھ جاؤ دوسروں کو اٹھا کر خود بیٹھ جانا گناہ کی بات اور مکروہ ہے .
6. اگر کوئی شخص مجلس میں آئے اور جگہ نہ ہو تو پہلے سے بیٹھنے والوں کو چاہئے کہ ذرا مل کر بیٹھ جائیں اور آنیوالے مومن بھائی کے لئے گنجائش نکال دیں .
7. کہیں اگر صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر کانا پھوسی (سر گوشی)کی اجازت نہیں کہ خواہ مخواہ اس کا دل (شبہات کی وجہ سے ) رنجیدہ ہو گا اور مسلمان بھائی کو رنجیدہ کرنا بڑا گناہ ہوگا.
8. کسی کے مکان پر جانا ہو تو اس سے پہلے اجازت لے کر داخل ہونا چاہئے .
9. جب جمائی آئے تو سنت ہے کہ ،منہ بند کر لے اور اگر منہ کوشش کے باوجود بند نہ رکھ سکے تو بائیں ہاتھ کہ پشت کومنہ پر رکھ لے اور ہا ہا کی آواز نہ نکالے کہ یہ حدیث میں ممنوع ہے .
10.اگر کسی کا اچھا نام سنو تو اس سے اپنے مقصد کے لئے نیک فال سمجھنا سنت ہے اور اس سے خوش ہونا بھی سنت ہے.بد فالی لینے کو سخت منع کیا گیا ہے .جیسے راستہ چلتے کسی کو چھینک آگئی تو یہ سمجھنا کہ کام نہ ہوگا .یا کوا بولا یا بندر نظر آیا ،یا الو بولا ان سے آفت آنے کا گمان کرنا سخت نادانی اور بالکل بے اصل اور غلط اور گمراہی کا عقیدہ ہے.اسی طرح کسی کو منحوس سمجھنا یا کسی دن کو منحوس سمجھنا بہت برا ہے .
سنت پر عمل کر نے سے بندہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو جاتا ہے اس لئے اہتمام سے اس پر عمل کرنا چاہئے.
فر مائی ہے . ہر مسلمان کو سلام کرنا چاہئے خواہ اسے پہچانتا ہو یا نہ ہو .کیونکہ سلام اسلامی حق ہے .کسی کے جاننے اور شنا سائی پر موقوف نہیں .
2. بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بچوں پر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سلام کیا اس لئے بچوں کو بھی سلام کرنا سنت ہے .
3. سلام کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ زبان سے السلام علیکم کہے ہاتھ سے یا سر سے یا انگلی کے اشارے سے سلام کرنا یا اس کا جواب دینا سنت کے خلاف ہے .
4. کسی مسلمان بنائی سے ملاقات ہو تو سلام کے بعد مصافحہ کرنا مسنون ہے .عورت ، عورت سے مصا فحہ کر سکتی ہے .
5 . کسی مجلس میں جاؤ تو جہاں موقع ملے اور جگہ ملے بیٹھ جاؤ دوسروں کو اٹھا کر خود بیٹھ جانا گناہ کی بات اور مکروہ ہے .
6. اگر کوئی شخص مجلس میں آئے اور جگہ نہ ہو تو پہلے سے بیٹھنے والوں کو چاہئے کہ ذرا مل کر بیٹھ جائیں اور آنیوالے مومن بھائی کے لئے گنجائش نکال دیں .
7. کہیں اگر صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر کانا پھوسی (سر گوشی)کی اجازت نہیں کہ خواہ مخواہ اس کا دل (شبہات کی وجہ سے ) رنجیدہ ہو گا اور مسلمان بھائی کو رنجیدہ کرنا بڑا گناہ ہوگا.
8. کسی کے مکان پر جانا ہو تو اس سے پہلے اجازت لے کر داخل ہونا چاہئے .
9. جب جمائی آئے تو سنت ہے کہ ،منہ بند کر لے اور اگر منہ کوشش کے باوجود بند نہ رکھ سکے تو بائیں ہاتھ کہ پشت کومنہ پر رکھ لے اور ہا ہا کی آواز نہ نکالے کہ یہ حدیث میں ممنوع ہے .
10.اگر کسی کا اچھا نام سنو تو اس سے اپنے مقصد کے لئے نیک فال سمجھنا سنت ہے اور اس سے خوش ہونا بھی سنت ہے.بد فالی لینے کو سخت منع کیا گیا ہے .جیسے راستہ چلتے کسی کو چھینک آگئی تو یہ سمجھنا کہ کام نہ ہوگا .یا کوا بولا یا بندر نظر آیا ،یا الو بولا ان سے آفت آنے کا گمان کرنا سخت نادانی اور بالکل بے اصل اور غلط اور گمراہی کا عقیدہ ہے.اسی طرح کسی کو منحوس سمجھنا یا کسی دن کو منحوس سمجھنا بہت برا ہے .
سنت پر عمل کر نے سے بندہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو جاتا ہے اس لئے اہتمام سے اس پر عمل کرنا چاہئے.