{۱۱} گیارھویںتراو یح

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
{۱۱} گیارھویںتراو یح​
وَمَااُبَرِّیُ تَا رُبَمَاثَلثَ​
اَلَذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَہْدِاللّٰہِ وَلاَیَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَ وَاَلَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٖ اَنْ یُّوْصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوْئَ الْحِسَابَo وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاَقَامُوْاالْصَّلٰوۃ َوَاَنْفَقُوْامِمَّارَزَقْنٰھُمْ سِرّا ًوَعَلَانیۃً وَیَدْرَئُوْنَ باِلْحَسَنَۃِالْسَّیِّئَۃِ اُوْلٰئِکَ لَھُمْ عُقْبَ الدَّارْ(سورہ رعد آیت۲۲)
(ترجمہ)جواللہ کے عہدکوپوراکرتے ہیںاورعہدکونہیںتوڑتے،اورجواس چیز کو جوڑے رکھتے ہیںجسکے جوڑے رکھنے کااللہ نے حکم دیااوراپنے رب سے ڈرتے ہیںاوربُرے حساب کااندیشہ رکھتے ہیںاورجنہوںنے اپنے رب کی رضاحاصل کرنے کیلئے صبرکیااورنمازوںکوقائم کیااورجوکچھ ہم نے انہیںدیاہے پوشیدہ طور پر اور ظاہری طریقے پرخرچ کیا،اورحسن سلوک کے ذریعہ بدسلوکی کودفع کرتے ہیںیہ وہ لوگ ہیںجنکے لئے آخرت کااچھاانجام ہے۔
اللہ کے فضل وکرم سے آج ہم نے گیارھویں تراویح اداکی آج تراویح میں پڑھی گئی آیات میں سے یہ آیت مذکورہ بھی ہے جس میں خالق کائنات نے اہل ایمان کے مخصوص صفات کا ذکر فرمایا ہے۔
پہلی اور دوسری صفت: اَلَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَلَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقْ، یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اورعہد کو توڑتے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے وادی نعمان میں حضرت آدم علیہ السلام کی ساری ذریت کو انکی پشت سے نکالا جو چھوٹی چیونٹیوں کی طرح تھے پھر ان سے عہد لیا اور سوال فرمایا اَلَسْتُ بّرَبِّکُمْ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، سب نے جواب میں عرض کیا بَلٰیہاں کیوں نہیںآپ ہی ہمارے رب ہیں(مشکوۃ ۲۴)
اس وقت سب نے یہ عہد کرلیا تھا پھر عہد کی یاد دہانی کیلئے حضرات انبیاء علیہم السلام تشریف لاتے رہے ہر شخص کا اپنا عہد الگ الگ بھی ہے جس نے دین اسلام کو اپنا دین بنالیا اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرلیا کہ میں آپ کے حکموں پر چلونگا اور آپکی فرماں برداری کرونگا یہ عہد تمام احوال اور اعمال سے متعلق ہے اللہ کی شریعت کے مطابق عمل کرنا وفاء عہد ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرنا نقض عہد ہے اللہ سے جو عہد کیا ہے اسکی پاسداری سب پرلازم ہے، سورئہ نحل میں ارشادباری تعالیٰ ہے وَاَوْفُوْا بِعَہْدِ اللّٰہِ اِذَاعَاہَدْتُّمْ اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے عہد کرلیا۔
ابوداوٗد نے بروایت عوف بن مالکؓ یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول کریمؐ نے صحابہ کرام سے اس پر عہد اور بیعت لی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، اور پانچ وقت نماز کو پابندی سے اداکریں گے اور اپنے امراء کی اطاعت کریں گے اور کسی انسان سے کسی چیز کا سوال نہ کریں گے۔
تیسری صفت: وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآاَمَرَ اللّٰہُ اَنْ یُّوْصَلَ یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کے قائم رکھنے کا حکم دیا ہے انکو قائم رکھتے ہیں اسکی مشہور تفسیر یہی ہے کہ رشتہ داری کے تعلقات قائم رکھنے اور انکے تقاضوں پر عمل کرنے کا اللہ تعالی ٰنے جو حکم دیا ہے یہ لوگ ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں، تعلقات باقی رکھنے کو صلہ رحمی اور تعلقات توڑدینے کو قطع رحمی کہتے ہیں اسلام نے بھی اسکی اہمیت کو باقی رکھا صلہ رحمی اور تعلقات توڑدینے کو قطع رحمی پر وعیدیں بیان فرمائیں۔
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے پسند ہوکہ اسکا رزق زیادہ کردیا جائے اسکی عمر بڑھادی جائے تو اسے چاہئے کہ صلہ رحمی کرے(بخاری جلد ۱،صفحہ ۸۸۵)
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اللہ ہوں میں رحمن ہوں میں نے لفظ رحم کو اپنے نام میں سے نکالا ہے جو شخص صلہ رحمی کریگا میں اسے اپنے سے ملالونگا اور جوشخص قطع رحمی کریگا میں اسے اپنے سے کاٹ دوںگا(مشکو ۃجلد۲،صفحہ ۴۲۰)
حضرت عقبہ بن عامرؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے ملاقات کی اور آپکا دستِ مبارک پکڑکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے فضیلت والے اعمال بتادیجئے آپؐ نے فرمایا یا عقبۃ صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ وَاَعْرِضْ عَنْ مَنْ ظَلَمَکَ کہ اے عقبہ جو شخص تمہارے ساتھ قطع رحمی کا معاملہ کرے اسے تعلقات جوڑے رکھو اور جو تمہیں نہ دے اسے دیتے رہو اور جو شخص تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرتے رہو(یعنی اسکے ظلم کی طرف دھیان نہ دو) اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے یوں ارشاد فرمایا واعف عن من ظلمک اسے معاف کردو(الترغیب والترہیب جلد۲، صفحہ ۳۴۲)
چوتھی صفت:
وَیَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یہاں لفظ خوف کے بجائے خشیت کا لفظ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انکا خوف اس طرح کا نہیں جیسے درندہ جانور یا کسی موذی سے طبعاً خوف ہواکرتا ہے بلکہ ایسا خوف ہے جیسے اولاد کو ماں باپ کا شاگرد کو استاد کا خوف عادۃً ہوتا ہے اسکا منشاء کسی ایذاء رسانی کا خوف نہیں ہوتا بلکہ عظمت ومحبت کی وجہ سے ہوتا ہے کہ کہیں ہمارا کوئی قول وفعل اللہ کے نزدیک ناپسنداورمکروہ نہ ہوجائے اسی بناپر مقامِ مدح میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کے خوف کا ذکر ہے عموماً وہاں یہی لفظ خشیت استعمال ہوا ہے کیونکہ خشیت اسی خوف کو کہا جاتا ہے جوعظمت ومحبت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی لئے اگلے جملے میں جہاں حساب کی سختی کا خوف بیان کیا گیا ہے وہاں خشیت کا نہیں بلکہ خوف ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
پانچویں صفت: وَیَخَافُوْنَ سُوْئَ الْحِسَابِ کہ وہ لوگ برے حساب سے ڈرتے ہیں،برے حساب سے مراد حساب میں سختی اورجزرسی ہے حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ انسان کی نجات تو رحمتِ الٰہی سے ہوسکتی ہے کہ حسابِ اعمال کے وقت اجمال اور عفورودرگذر سے کام لیا جائے ورنہ جس شخص سے بھی پورا پورا ذرہ ذرہ کا حساب لے لیا جائے اسکا عذاب سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ ایسا کون ہے جس سے کوئی گناہ وخطاء کبھی سرزد نہ ہواہو، یہ حساب کی سختی کا خوف نیک وفرماں بردار لوگوں کی پانچویں صفت ہے۔
حساب دوقسم کا ہے حسابؔ یسیر آسان حساب اور حساب عسیرؔ سخت حساب، سخت حساب کو سوء الحساب، سورئہ انبیاء میں فرمایا گیا ہے، وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئاً وَاِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِہَا اور قیامت کے روز ہم میزان عدل قائم کریں گے سو کسی پر اصلا ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسکو حاضر کردیں گے۔
ام المومنین حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ حساب یسیر آسان حساب کیا ہے آپؐ نے فرمایا کہ آسان حساب یہ ہے کہ اعمالنامہ میں دیکھ کر درگذر کردیا جائے اے عائشہ جس سے مناقشہ کیا گیا یعنی چھان بین کی گئی (کہ یہ عمل کیوں کیا یہ کیوں کیا گیا) تو وہ ہلاک ہوجائیگا(مشکوٰۃ ص ۴۴۷)
چھٹی صفت: وَالَّذِیْنَ صَبَرُواابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِمْ یعنی وہ لوگ جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کیلئے صبر کرتے ہیں صبر کے معنیٰ کسی مصیبت اور تکلیف پر صبر کریں کیونکہ صبر کے اصلی معنیٰ خلاف طبع چیزوں سے پریشان نہ ہونا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے کام پر لگے رہنا ہے اسکی دو قسمیں ہیں ایک صبر علی الطاعۃ یعنی اللہ کے احکام کی تعمیل پر ثابت قدم رہنا(۲)صبر عن المعصیۃ یعنی گناہوں سے بچنے پر ثابت قدم رہنا صبر کے ساتھ ابتغاء وجہ ربہم کی قید نے یہ بتلایا کہ مطلقا صبر کوئی فضیلت کی چیز نہیں کیونکہ کبھی نہ کبھی تو بے صبرے انسان کو بھی انجام کار ایک مدت کے بعد صبر آہی جاتا ہے جو صبر غیر اختیاری ہو اسکی کوئی خاص فضیلت نہیں، حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلیٰ یعنی اصلی اور معتبر صبرتو وہی ہے جو ابتداء صدمہ کے وقت اختیار کرلیا جائے ورنہ بعد میں تو کبھی نہ کبھی جبری طور پر انسان کو صبر آہی جاتا ہے بلکہ قابل مدح وہ صبر ہے کہ اپنے اختیار سے خلاف طبع امر کو برداشت کرے۔
مومن چونکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے صبر کرتا ہے اسلئے اس پر ثواب ملتا ہے سورئہ زمر میں ارشاد باری ہے اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّاِبرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ مستقل رہنے والوں کو انکا صلہ بے شمار ہی ملے گا۔
انما المصاب من حرم الثواب، واقعی مصیبت زدہ وہ ہے جسے تکلیف بھی پہنچی اور ثواب بھی نہ ملا (مشکوٰۃ صفحہ ۵۵۰)
ساتویں صفت: وَاَقامُوا الصَّلوٰۃ اقامت صلٰوۃ کے معنیٰ نماز کو اسکے پورے آداب شرائط اور خشوع کے ساتھ اداکرنا ہے محض نماز پڑھنا نہیں اسی وجہ سے قرآن کریم میں عام طور پر نماز کا حکم اقامت صلٰوۃ کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔
آٹھویں صفت: وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّاوَعَلَانِیَۃً یعنی وہ لوگ اللہ کے دئے ہوئے رزق میں سے کچھ اللہ کے نام پر بھی خرچ کرتے ہیں، اس آیت پاک میں اشارہ کیا گیا کہ تم سے جس مال زکوۃ وغیرہ کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہ کچھ تم سے نہیں مانگتا بلکہ اپنے ہی دئے ہوئے رزق کا کچھ حصہ وہ بھی صرف ڈھائی فی صد جیسی قلیل وحقیر مقدار میں آپ سے مانگا جاتا ہے جسکے دینے میں آپ کو طبعاً کوئی پس وپیش نہ ہونی چاہئے، اور اس میں فرض زکوۃٰ، صدقات واجبہ، تبرعات وتطوعات بھی داخل ہوگئے۔
مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ سراوعلانیۃ کی قید سے معلوم ہوا کہ صدقہ وخیرات میں ہر جگہ اخفاء ہی مسنون نہیں بلکہ بعض اوقات اسکا اظہار بھی درست صحیح ہوتا ہے اسی لئے علماء نے فرمایا کہ زکوۃ اور صدقات واجبہ کا اعلان اظہار ہی افضل وبہتر ہے اسکا اخفاء مناسب نہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی تلقین اورترغیب ہو، البتہ نفلی صدقات کا خفیہ دینا افضل وبہتر ہے، جن احادیث میں خفیہ دینے کی فضیلت آئی ہے وہ نفلی صدقات ہی کے متعلق ہے۔
نویں صفت: وَیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃ یعنی یہ لوگ برائی کو بھلائی سے ، دشمنی کو دوستی سے ظلم کو عفودرگذر سے دفع کرتے ہیں، برائی کے جواب میں برائی سے پیش نہیں آتے اور بعض مفسرین نے اسکے یہ معنیٰ بیان فرمائے ہیں کہ گناہ کو نیکی سے دفع کرتے ہیں یعنی اگر کسی وقت کوئی خطا وگناہ سرزد ہوجاتا ہے تواسکے بعد طاعت وعبادت کی کثرت اور اہتمام اتنا کرتے ہیں کہ اس سے پچھلا گناہ محو ہوجاتا ہے۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ بدی کے بعدنیکی کرلو، تو وہ بدی کو مٹادے گی مراد یہ ہے کہ جب اس بدی اور گناہ پر نادم ہوکر توبہ کرلی اور اسکے پیچھے نیک عمل کیا تو یہ نیک عمل پچھلے گناہ کو مٹادیگا، بغیر ندامت اور توبہ کے گناہ کے بعد کوئی نیک عمل کرلینا گناہ کی معافی کیلئے کافی ہوتا۔
سورئہ شوریٰ میں ارشاد باری ہے وَجَزَآئُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَاور فرمایا وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ، اور برائی کا بدلہ برائی ہے ویسی ہی پھر جو شخص معاف کردے اور اصلاح کرے تو اسکا ثواب اللہ کے ذمہ ہے، واقعی اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا(اور) جو شخص صبر کرے اور معاف کردے یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے اور سورئہ حم سجدہ میں فرمایا گیا وَلَاتَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَالَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٍoاور نیکی اور برائی برابر نہیں ہوتی آپ نیک برتائو ٹال دیا کیجئے پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائیگا جیسا کوئی دوست ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اسی طرح عمل فرماتے تھے، بدسلوکیوں کا بدلہ خوش اخلاقی سے دیتے تھے چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ کے ساتھ جنہوں نے آپکو بڑی بڑی تکلیفیں دے کر مکہ چھوڑنے پر مجبورکیا تھا درگذرفرماکر فرمایا لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیوْمَ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ یا اللہ آپ کے بندوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو قدرت ہوتے ہوئے معاف کردے(مشکوۃ ص۴۳۴)
اُولٰئِکَ لَہُمْ عُقْبَی الدَّارِ، اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبرداروں کی یہ نو صفتیں بیان کرنے کے بعد انکی جزاء یہ بیان فرمائی کہ انہی لوگوں کیلئے ہے دارآخرت کی فلاح بعض مفسرین نے فرمایا دار سے مراد یہ دنیا ہے، مطلب یہ ہے کہ نیک لوگوں کو اگر چہ اس دنیا میں تکلیفیں بھی پیش آتی ہیں مگر انجام کاردنیا میں بھی فلاح وکامیابی انہی کا حصہ ہوتا ہے۔
آگے آیات میں عقبی الدار کی فلاح کا بیان ہے کہ وہ جنت عدن ہوگی جن میں وہ داخل ہونگے کہ ان جنتوں سے کسی وقت انکو نکالا نہیں جائیگا بلکہ انکا ان میں قیام وقرار دائمی ہوگا، اور بعضوں نے فرمایا عدن وسط جنت کا نام ہے جو جنت کے مقامات میں بھی اعلیٰ مقام ہے۔
اسکے بعد ان حضرات کیلئے ایک اور انعام کا ذکر کیا گیا کہ یہ انعام ربانی صرف ان لوگوں کی ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ انکے آباء واجدادا اور انکی بیبیوں اور اولاد کو بھی اس میں حصہ ملیگا، شرط یہ ہے کہ وہ صالح ہوں، اور ان لوگوں کیلئے فلاح وکامیابی کا مزید انعام یہ کہ فرشتے ہردروازہ سے انکوسلام کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے صبر کی وجہ سے تمام تکلیفوں سے سلامتی ہے اس آیت مبارکہ میں اللہ کے نیک بندوں کی نوصفات بیان کی گئیں جنکے اندر وہ پائی جاتی ہیں وہ خداکے نزدیک مقرب ہونگے اور انکو انعامات خداوندی سے نوازا جائیگا جو اس آیت کے اخیر میں جسکا ذکر کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پروردگار عالم ہم تمام امت مسلمہ میں یہ تمام نیک صفات پیدا فرمائے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین
 
Top