تجارت ترک نہ کرو
عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے جو شخص تجارت ترک کردیتا ہے اس کے اندر مروت باقی نہیں رہتی ہے وہ بداخلاق ہوجاتا ہے۔ابراہیم بن یوسف رحمۃاللہ علیہ نے محمد بن سلمان رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا بازار کو ضروری سمجھیں یعنی کاروبار کرتے رہو اسی میں تمہاری اور اہل و عیال کی عزت ہے۔
جابربن عبداللہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ انسان کے لگائے ہوئے پودے یا کھیت میں سے آدمی یا پرندے یا جانورجوکچھ کھاتے ہیں وہ صدقہ ہے یعنی اس پر صدقے کا ثواب ملتا ہے۔
حضرت مکحول رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں لوگو! یہ مناسب نہیں کہ تم عیب نکالنے والے ،زیادہ تعریفیں کرنے والے اور طعنہ دینے والے بنو اور نہ مردوں کی طرح (بے حس و حرکت) ہوجاؤ حاصل کرنے کے لئے محنت و تجارت نہ کرو۔
ایک تنومند نوجوان کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کاش اس کی جوانی اللہ کے راستے میں لگتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ سنا تو فرمایااگریہ اپنے بوڑھے ماں باپ اور خود کو لوگوں سے بے نیاز کرنے کے لیے تجارت اور محنت کررہا ہے تو اللہ ہی کے راستے میں ہے البتہ اگر اس کی تجارت نام و نمود فخر و غرور کے لیے ہے تو شیطان کے راستے میں ہے (غالی دین دیندار اس پر ذرا خاص توجہ دیں)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے اللہ تعالی اس تندرست بے کار آدمی کے مقابلے میں جو نہ دنیا کا کام کرتا ہو نہ آخرت کا۔ اس صاحب اولاد باپ کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو اپنی اولاد کی پرورش کے لئے روزی کماتا ہےروضۃا لصالحین صفحہ 68