کلام مجذوب

اسداللہ شاہ

وفقہ اللہ
رکن
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
سرکشی زیر فلک زیبا نہیں دیکھ ! جانا ہے تجھے، زیر زمیں
جب تجھے مرنا ہے اک دن بالیقین چھوڑ فکر ایں و آں کر فکر دیں
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
بہر غفلت یہ تری ہستی نہیں دیکھ ! جنت اس قدر سستی نہیں
رہ گذر دنیا ہے یہ بستی نہیں جائے عیش و عشرت و مستی نہیں
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
عیش کر غافل، نہ تو آرام کر مال حاصل کر ، نہ پیدا نام کر
یاد حق دنیا میں صبح و شام کر جس لئے آیا ہے تو، وہ کام کر
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
مال و دولت کا بڑھانا ہے عبث زائد از حاجت کمانا ہے عبث
دل کا دنیا سے لگانا ہے عبث رہ گذر کو گھر بنانا ہے عبث
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
عیش و عشرت کے لئے انساں نہیں یاد رکھ تو بندہ ہے مہماں نہیں
غفلت و مستی تجھے شایاں نہیں بندگی کر تو اگر نادان نہیں
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
دفن خود صد ہا کئے زیر زمیں پھر بھی مرنے کا نہیں حق الیقیں
تجھ سے بڑھ کر بھی کوئی غافل نہیں کچھ تو عبرت چاہئے نفس لعین
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
یوں نہ اپنے آپ کو بے کار رکھ آخرت کے واسطے تیار رکھ
غیر حق سے قلب کو بے زار رکھ موت کا ہر وقت استحضار رکھ
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
تو سمجھ ہر گز نہ قاتل موت کو زندگی کا جان حاصل موت کو
رکھتے ہیں محبوب عاقل موت کو یاد رکھ ہر وقت غافل موت کو
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
تو ہے اس عبرت کدہ میں بھی مگن گو ہے یہ دارالمحن بیت الحزن
عقل سے خارج ہے یہ تیرا چلن چھوڑ غفلت عاقبت اندیش بن
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
یہ تیری غفلت ہے بے عقلی بڑی مسکراتی ہے قضا سر پر کھڑی
موت کو پیش نظر رکھ ہر گھڑی پیش آنے کو ہے منزل کڑی
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
گرتا ہے دنیا پہ تو پروانہ وار گو تجھے جلنا پڑے انجام کار
پھر یہ دعوٰی ہے کہ ہم ہیں ہوشیار کیا یہی ہے ہوشیاری کا شعار
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
حیف دنیا کا تو ہو پروانہ تو اور کرے عقبیٰ کی کچھ پروا، نہ تو
کس قدر ہے ہے عقل سے بیگانہ تو اس پہ بنتا ہے بڑا فرزانہ تو
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
گل و غنچہ و سرو کھلتے رہیں گے مہکتے گلاب اور بیلے رہیں گے
بہت سے گرو اور چیلے رہیں گے بڑے عرس ہوں گے، جھمیلے رہیں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
تنیں گے اگر شامیانے ہمیں کیا رہیں گے جو گانے بجانے ہمیں کیا
بنیں گے جو نقار خانے ہمیں کیا کھلیں گے اگر قہوہ خانے ہمیں کیا
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
اگر دوست احباب آئیں ہمیں کیا ہوئے جمع اپنے پرائے ہمیں کیا
کوئی روئے آنسو بہائے ہمیں کیا پڑے ہوں گے ہم منہ چھپائے ہمیں کیا
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
بہن بھائی سب آ کے رویا کریں گے عزیز و اقرباء جان کھویا کریں گے
ہمیں آنسوؤں میں ڈبویا کریں گے پڑے بے خبر ہم تو سویا کریں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
کسی نے ہمارا کیا غم تو کیا ہے اگر کوئی ہو چشم پر نم تو کیا ہے
کرے حشر تک کوئی ماتم تو کیا ہے نہیں ہونگے جب سامنے ہم تو کیا ہے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
غنی ہوں گے اہل توکل بھی ہوں گے بہت بلبلیں آئیں گی گل بھی ہوں گے
اگر ہوں گی قوالیاں ، قل بھی ہوں گے بڑی دھوم ہوگی بہت غل بھی ہوں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے

کوئی پھول چادر چڑھاتا رہے گا کوئی شمع تربت جلاتا رہے گا
تعلق جو دنیا سے جاتا رہے گا نہ رشتہ رہے گا نہ ناتا رہے گا
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
حسینوں کے تو ڈیرے بھی گلزار ہوں گے رئیسوں امیروں کے دربار ہوں گے
پر اہل تماشا سے بازار ہوں گے ہمارے لئے سب یہ بے کار ہوں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
ہے جیسا عجب تاج گنج آگرے کا جو اکبر ہو اپنا بھی ایسا ہی روضہ
زیارت کرے جس کی آ آ کے دنیا ہو سب کچھ ، مگر یہ تو فرمائیے گا
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
ملے خاک میں اہل شاں کیسے کیسے مکیں ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
زمیں کے ہوئے لوگ پیوند کیا کیا ملوک و حضور و خداوند کیا کیا
دکھائے گا تو زور چند کیا کیا اجل نے پچھاڑے تنومند کیا کیا
اجل نے نہ کسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
ہر اک لے کے کیا کیا حسرت سدھارا پڑا رہ گیا سب یہیں ٹھاٹھ سارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
یہاں ہر خوشی ہے مبدل بہ صد غم جہاں شادیاں تھیں وہیں اب ہیں ماتم
یہ سب ہر طرف انقلابات عالم تری ذات ہی میں تغیر ہے ہر دم
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا اجل تیرا کر دے بالکل صفایا
یہی تجھ کو دھن ہے رہوں سب سے بالا ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا تجھے حسن ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی محل بھی جہاں تاک میں کھڑی ہو اجل بھی
بس اب اپنے اس جہل سے نکل بھی یہ طرز معیشت اب اپنا بدل بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
یہ دنیائے فانی ہے محبوب تجھ کو ہوئی واہ کیا چیز مرغوب تجھ کو
نہیں عقل اتنی بھی مجذوب تجھ کو سمجھ لینا اب چاہئے خوب تجھ کو
بڑھاپے سے پا کر پیام قضا بھی نہ چونکا نہ چیتا نہ سنبھلا ذرا بھی
کوئی تیری غفلت کی ہے انتہا بھی جنوں تابکے ہوش میں اپنے آ بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
نہ دلدادہ شعر گوئی رہے گا نہ گرویدہ شہرہ جوئی رہے گا
نہ کوئی رہا ہے نہ کوئی رہے گا رہے گا تو ذکر نکوئی رہے گا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جب اس بزم سے اٹھ گئے دوست اکثر اور اٹھتے چلے جا رہے ہیں برابر
یہ ہر وقت پیش نظر جب ہے منظر یہاں پر ترا دل بہلتا ہے کیوں کر
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جہاں میں کہیں شور ماتم بپا ہے کہیں فکر و فاقہ سے آہ وبکا ہے
کہیں شکوہ جورو مکرو دغا ہے غرض ہر طرف سے یہی بس صدا ہے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

کلام خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
ایک دن مرنا ہے آخرموت ہے
واقعی مجذوب صاحب کی اس تخلیق نے کتنوں کے دل کی دنیا بدل ڈالی.
 
Top