میاں بیوی کے تعلقات اور حسن سلوک

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
میاں بیوی کے تعلقات اور حسن سلوک​

عورتیں تمہارے پاس مقید ہیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ میں نصیحت کرتے ہو ئے فر مایا کہ خوب سن لو! میں تمہیں عورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں ، تم اس نصیحت کو قبول کرلو. اگلا جملہ یہ ارشاد فر مایا کہ اس لئے کہ وہ خواتین تمہارے پاس اس تمہارے گھروں میں مقید ہیں .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کا ایک ایسا وصف بیان کیا کہ اگر مرد صرف اس وصف پر غور کرے تو اس کو کبھی ان کے ساتھ بد سلوکی کا خیال بھی نہ آئے .

حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فر مایا کرتے تھے کہ ایک نادان اور غیر تعلیم یافتہ لڑکی سے سبق لو کہ صرف دو بول پڑھ کر جب اس کا ایک شوہر سے تعلق قائم ہو گیا اس نے کہا کہ میں نے نکاح کیا اور دوسرے کہان کہ میں نے قبول کیا ،اس لڑکی نے ان دو بولوں کی ایسی لاج رکھی کہ ماں کو اس نے چھوڑا ، بہن بھائیوں کو اس نے چھوڑا ، اپنے خاندان کو چھوڑا اور پورے کنبے کو چھوڑا اور شوہر کی ہو گئی اور اسکے پاس آکر مقید ہو گئی تو اس دو بول کی اس نادان ،لڑکی نے اتنی لاج لکھی اور اتنی وفا داری کی تو حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ نادان لڑکی تو ان دو بولوں کا اتنا بھرم رکھتی ہے کہ سب کو چھوڑ کر ایک کی ہو گئی لیکن تم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دو بول . لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر اس اللہ کے ہو جاؤجس کیلئے یہ دو بول پڑھے تھے ، تم سے تو وہ نادان لڑکی اچھی تم سے اتنی سی بھی لاج نہیں رکھی جاسکتی کہ اس اللہ کے ہو جاؤ.

عورت کی قربانی
تو اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فر مارہے ہیں کہ دیکھو اسنےتمہاری خاطر کتنی بڑی قربانی دی ، اگر با الفرض معاملہ بر عکس ہوتا اور تم سے یہ کہا جاتا کہ تمہاری شادی ہو گی لیکن تمہیں اپنا خاندان چھوڑنا ہوگا ،اپنے ماں باپ چھوڑنے ہوں گے تو یہ تمہارے لئے کتنا مشکل کام ہوتا ایک اجنبی ماحول ،اجنبی گھر ، اجنبی آدمی کے ساتھ زندگی بھر نباہ کیلئے وہ عورت مقید ہو گئی ،اسلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فر مارہے ہیں کہ کیا تم اس قربانی کا لحاظ نہیں کرو گے پس اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرو (محاسن اسلام)

بیوی کے معیاری ہونے کے بارے میں ہدایات
شادی سے پہلے ہر مرد اپنی بیوی کے بارے میں برا اونچا معیار قائم رکھا ہوا ہوتا ہے مگر جب شادی ہوتی ہے تو عورت اس معیار پر پورا نہیں اترتی ، چنانچہ شوہر کا دل بجھنے لگتا ہے اور بات طلاق تک جا پہنچتی ہے . بیشمار طلاقوں کی بنیاد یہی ہوتی ہے کہ بیوی معیاری اور خوبصورت نہیں تھی. در اصل یہ بھی شیطان کا ایک دھوکہ ہے جس کے ذریعے وہ خاندانوں کو اجاڑتا ہے .آپ کو چاہئے کہ کہ اس شیطانی دھوکہ سے بچیں اور یہ یاد رکھئے کہ جو معیار آپ چاہتے ہیں اس پر اس دنیا میں کوئی عورت نہیں اترے گی .آپ لاکھ سمجھتے رہیں کہ اگر فلاں لڑکی میری بیوی بنتی تو وہ میرے معیار پر ضرور اترتی مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر اس لڑکی سے آپ کی شادی ہو جاتی تو آپ اس میں بھی سو نقص نکال لیتے اور کسی اور خاتون کے بارے میں یہ کہتے سنائی دیتے کہ وہ میرے معیار پر پورا اتر سکتی تھی .
اگر آپ ذہنی معیار کو کچھ نیچے لے آئیں گے تو آپ یہ حسرت کرنا چھوڑ دیں گے . ورنہ اس حسرت میں ہمیشہ جلتے رہیں گے اور بیسوں عورتیں بدلنے کے با وجود آپ کی حسرت کبھی پوری نہ ہو گی.
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
محمد شہزاد حفیظ نے کہا ہے:
جزاک اللہ قاسمی بھائی

بھیا ''لفافہ دیکھ کر خط کا'' مضًون بھانپ جاتے ہیں کیا؟
جزاک اللہ خیرا
 

محمد شہزاد حفیظ

وفقہ اللہ
رکن
قاسمی بھائی بات دراصل یہ ہے کہ میں ایک وقت میں دو تین لڑیاں کھول کے رکھتا ہوں ۔اس وجہ سے آپ کو میری سپیڈ زیادہ تیز لگی اور دوسری جو اہم اور بڑی ہے وہ یہ کہ آپ جو بھی پوسٹ کرتے ہیں اس میں زیادہ تر قرآن اور حدیث کی باتیں ہوتیں ہیں ۔اس وجہ سے میں آپ کی پوسٹ لازمی پڑھتا ہوں
شکریہ
 

أضواء

وفقہ اللہ
رکن

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

نفع الله بك الآسلام و المسلمين
و وفقك الله بما فيه خير و الصلاح
 
Top