فوت ہو گیا

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

‏علم یہ ہے کہ آپ کہ پتا ہو کہ ’’ کیا ‘‘ کہنا ہے
اور حکمت یہ ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ ’’ کب ‘‘ کہنا ہے
کیا حکمت ودانائی ہے۔سبحان اللہ
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
مریدنی؟

یعنی سلطان اب سلطانی سے پیری پر آگئے
ویسے آج بڑے بھائی نے ایک پیرنی کی شئیرنگ کی ہے شاید ٹوئیٹر پر ہے لنک ملا تو آپ بھی دیکھ لیجیے
سلطان کا رابطہ جلد از جلد ہونا چاہیے ان سے

https://twitter.com/i/status/1352497878393102337
پیری کیلئے کچھ گُر ہمارے مولانا نور الحسن انور صاحب قبلہ سے سیکھنے کیلے " چیلا" بننا پڑے گا ،نذرانہ پیش کرنا ہوگا
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانا خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے
 

محمدداؤدالرحمن علی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
پیری کیلئے کچھ گُر ہمارے مولانا نور الحسن انور صاحب قبلہ سے سیکھنے کیلے " چیلا" بننا پڑے گا ،نذرانہ پیش کرنا ہوگا
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانا خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے
ہمیں تو مفت میں گُر سکھائیں
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
اول تو عرض کردوں نہ میں پیر ہوں اور نہ میرا کوئی مرید ہے۔
دوم ہم اس طرح کی باتیں روز سنتے ہیں، یہ عجوبہ کچھ نہیں بڑے بڑے عجائبات زندگی میں دیکھے،شاید ایسے لطائف پر کتاب لکھ دوں تو شاید ایک جلد کم پڑجائے،ان عجائبات و افواہوں کے سامنے تمر جی کا یہ میسج سمندر سے چڑیا کی چونچ جتنا نکلا پانی کے مترادف ہے۔
بڑا جلالی پہرا لگ رہا ہے
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

‏علم یہ ہے کہ آپ کہ پتا ہو کہ ’’ کیا ‘‘ کہنا ہے
اور حکمت یہ ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ ’’ کب ‘‘ کہنا ہے
بہت خوب بہت ہی دانشور قول ہے
علم

کسی بھی قسم کی جانکاری علم کہلائے گی کائنات مکمل کی مکمل منبعِ علم ہے اور یہ منبعِ علم مثبت توانائیوں کے زیر اثر ہے مگر جو بھی منفی پہلو ہیں وہ علم کے زمرے میں داخل نہیں ان کا بیان مختلف پیرائے میں ہوتا ہے۔

ذہانت عقل

عقل یہ ہے کہ حصولِ علم کے بعد عملی زندگی میں اس حاصل شدہ علم کا اطلاق کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ سماج بھی اس سے مستفید ہو سکے۔

حکمت

علم کے حصول کے بعد اس کی عملی تعبیر سمجھنے کے بعد اس عملی تعبیر کا اطلاق کہ ان اصول و ضوابط کو کب کام میں لانا ہے ایک حکیم انسان زمان و مکان کی مناسبت سے ان معلومات کا اطلاق کرتا ہے جس سے اس کی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ سماج میں مثبت پہلوؤں کو جلا ملتی ہے اور انسانی معاشرے عروج کی منزلیں طے کرتے ہیں۔

جہالت

جہالت جہل سے ہے جس کا مطلب ہے اَڑ جانا، تسلیم نہ کرنا، ضدی پن ، اپنی انا کی تسکین کرنا تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی انسان کسی بھی مقام پہ ہو چاہے وہ علیم ہو عقیل ہو یا حکیم اگر اس میں اپنی انا کی تسکین سر اٹھاتی ہے اور اس کا مطمع نظر انسانی فلاح کی بجائے فقط اپنی ذات کی تقدیم ہے تو وہ جہل کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے جاہل کہا جاتا ہے۔
 
Top