علم جفر

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
علم جفر​
حاجی خلیفہ "علم جفر" کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ:
ا"س سے مراد لوحِ محفوظ ( یعنی تقدیر ) کے اس علم کا حصول ہے جس میں ماضی اور مستقبل کی جزوی اور کلی معلومات درج ہیں ۔ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے بسط اعظم کی ترتیب سے ایک چمڑے ( جفر) پر اٹھائیس (۲۸) حروف لکھے اور ان حروف سے مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ ایسے الفاظ نکالے جو تقدیر کا راز مہیا کرتے ہین اور پھر یہی علم اہل بیت اور ان سے محبت کر نے والوں کو ورثہ میں حاصل ہوا اور اہل بیت اس علم کو دوسرے لوگوں سے چھپا کر رکھتے ہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان حروف کے اسرا ر ورُموز کو مہدی ( شیعوں کے بقول ان کا با رہواں امام جو سی غار میں چھپ گیا تھا اورقیامت کے قریب طاہر ہو گا ) کے سوا کو ئی نہیں جانتا "۔
معلوم ہوا کہ بعض لوگوں کے ہاں علم جفر سے مراد حروف کا ایسا علم ہے جس میں حروف کے مخفی اسرار کے ساتھ تقدیر کی بابت معلومات حاصل کی جاتی ہیں ۔
اور جن لوگوں نے اسے، علم جفر، قراردیا ،ان کے نزدیک اسے ،علم جفر ،اس لیے کہا جاتا ہے کہ "حضرت علیؓ نے سب سے پہلے ان حروف کوجفر( یعنی چمڑے ) پرلکھ تھا "۔
علم جفر کے حوالےسے اردو دائرۃ المعارف میں لکھا ہے کہ:
ایک عددی علم ہے جس میں مخفی معانی کی مدد سے واقعات ،خصوصاً آنے والے واقعات کی تعبیر یا ان کی اطلاع حاصل کی جاتی ہے ۔یہ کشفی یا ظنی روایت بعض خاص حلقوں میں بڑی مقبول ہو ئی ۔ خلافت کے لیے بعض حلقوں کی سر توڑ کو شش کے دوران جو ابتدا ہی سے با ہمی اختلافات سے کمزور ہو گیے تھے اور با لخصوص المتوکل کے عہد خلافت میں سخت جبر وتشدد کا شکار بنے رہے ۔ ۲۳۷ھ / ۷۵۱ء میں ایک کشفی اور اِلقائی ادب کا آغاز ہوا ،یہ ادب مختلف شکلوں میں منظر عام پر آیا جس پر بحیثیت مجموعی جفر کے اسم کا عام اطلاق ہو تا ہے ۔اکثر اس کے ساتھ اسم جامعہ یا صفت جا مع کا بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ جفر کا رجحان ما فوق الفطرت اور کا ئناتی پیمانے پر رؤیت عام کی طرف ہے ۔ اپنی ابتدائی صورت میں الہامی نو عیت کے اایسےعلم با طنی سے ہٹ کر جو ائمہ یعنی حضرت علیؓ کے وارثوں اور جانشینوں سے مخصوص تھا ، اب یہ پیشگو ئی کے ایک ایسے طریق کار سے منسوب ہو نے لگا جس تک ہر حسب ونسب کے معقول آدمی خصوصا صوفیہ حضرات کی رسائی ہو سکے"۔
اسی طرح الجفر ، نامی ایک کتاب بھی اس علم کے حوالے سے لوگوں ( با لخصوص شیعہ ) میں معروف ہے جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فرقہ زیدیہ کے سردار ہا رون بن سید العجلی کے پاس ایک کتاب تھی جس کی اشاعت وہ امام جعفر صادقؒ کی سند پر کیاکرتا تھا اور اس میں مستقبل کی اطلاعات درج تھیں ۔
ہماراا تبصرہ
مذکورہ اقتبا سات سے درج ذیل نکات واضح ہو تے ہیں کہ :
(۱) بعض کے بقول یہ علم حضرت علیؓ سے شروع ہوا جب کہ بعض کے بقول یہ امام جعفر صادقؒ سے شروع ہوا۔ حاالانکہ ان میں سے کسی ایک شخصیت تک بھی اس کی کوئی سند یا ثبوت نہیں ملتا اس لیے یہ کہنا ہی مناسب ہے کہ حضر ت علیؓ اور حضرت جعفر صادق ؒ کی طرف بعض لوگوں نے اسے ازخود منسوب کر دیا ہے ۔
(۲) بعض لوگوں کے بقول ان حروف کے اسرار کو مہدی منتظر کے سوا کوئی نہیں جانتا جب کہ دیگر لوگوں کے بقو ل اہل بیت اور صوفیاء اسرار حروف کے ما ہرہیں ۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اول تو اس علم کی کوئی سند نہیں اور دوم یہ کہ گنتی یا لغت کے حرو ف یا قرآنی حرقف مقطعات وغیرہ کے بارے میں شریعت نے کو ئی اسرا اور از نہیں بتائے بلکہ ایسا دعوی گویا غیب دانی دعوی کےمترادف ے اور ایک مسلمان کو اچھی طرح یہ معلوم و نا چا ہئے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جفر، رمل ، نجونم ، دشت شناسی وغیرہ کی بنیا د پر غیب کا دعوی کر نے والے شخص کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی صحیح حدیث ہے کہ ( من اتی عرّافا فسألہ عن شئی لم تقبل لہ صلاۃ اربعین لیلۃ)
جو شخص کسی عراف ( کاہن ) کے پاس آیا اور اس کے سی ( غیبی) چیز کے متعلق سوال کیا تو اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہو تی"
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ اس حدیث کےحوالے سے رقمطراز ہیں کہ :" ہر وہ شخص عراف ہے جو علم نجوم ، کہانت ، رمل اور اس سے ملتی جلتی کسی ایسی چیز سے عمل کرے جس سے ، غیب ، کا علم حاصل کر ن کی کوشش کی جاتی ہے ( انسان اور کالے پیلے علوم ص: ۱۳۱، ۱۳۴
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
,,,علم جفر میں زیادہ تر شعیہ ہی مصروف دیکھے غالبا یہ امام جعفر کی طرف منصوب کرتے ہیں
حضرت امام موسی بن جعفر الکاظم (ع) نے ارشاد فرمایا کہ حضور(ص) اپنے آخری ایام حیات ظاہری میں حضرت علی(ع) کو ساتھ لے کر کوہ احد پر تشریف لے گئے اور مطابق حکم وحی پہاڑی بکریوں کو صدا دی جو آنحضرت (ص)کی صدا پر لبیک کرتے ہوئے وہاں جمع ہوئیں ۔ حضرت علی (ع) نے ان میں سے ایک چار ماہ کی بکری کے بچے کو پکڑا اور بحکم نبی(ص) ذبح کرکے اس کی کھال کو صاف کرکے تیار کیا اور جبرائیل(ع) امین قلم دوات اور ایسی سیاہی لائے جو کہ زمین کی بنی ہوئی نہ تھی اور فرمایا:۔
بکری کی اس کھال اور سیاہی کی تحریر کو زمین کی مٹی کبھی پرانا نہ کر سکے گی نہ حروف کو مٹا سکے گی۔ سیاہی کا رنگ سبز تھا آنحضرت (ص) پر جبرائیل (ع) وحی لاتے تھے اور آنحضرت (ص) حضرت علی (ع) کو لکھواتے جاتے تھے یہ مخصوص وحی قیامت کے آنے والے تمام حالات و واقعات ظاہری و باطنی تغیرات اور اولیاء اللہ ، سادات، وغیرہ کے ساتھ پیش آنے والے حوادث اور آنے والی حکومتوں کے بارے میں تھی ۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ کتاب الجفر کے مضامین حروف ابجد کی صورت میں تھے اور حضرت امام حسن مجتبی(ع) نے اس میں سے حروف الف با سین لام تا آخر پڑھ کر سنوائے اور فرمایا ہر ہر حرف میں سے ایک ایک حرف کا استخراج ہوتا ہے اور علم جفر میں سے جو حصہ لوگوں تک پہنچا وہ صرف ان دو حرفوں کے متعلق ہے جو اس کتاب میں ہے (کتاب الاختصاص)۔
نیز امام نے فرمایا پورے علم جفر پر عبور نبی(ص) یا وصی نبی(ص)کے علاوہ کسی عام فرد کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
امام مذکور نے مزید فرمایا کتاب الجفر اگرچہ شرح و بسط کے لحاظ سے اس قدر تفصیلی ہے کہ اس میں ہر شخص کی موت و حیات، مصائب اور ابتلا کا ذکر ہے مگر حجم کے لحاظ سے یہ ایک مختصر سا صحیفہ تھا جس کو جناب امیر المومنین (ع) اپنی تلوار ذوالفقار کے دستہ سے باندھے رہتے تھے ۔
ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ علم اہل تشیع نے اپنے ساتھ مختص کر رکھا ہے
 
Last edited:

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
,,,علم جفر میں زیادہ تر شعیہ ہی مصروف دیکھے غالبا یہ امام جعفر کی طرف منصوب کرتے ہیں
حضرت امام موسی بن جعفر الکاظم (ع) نے ارشاد فرمایا کہ حضور(ص) اپنے آخری ایام حیات ظاہری میں حضرت علی(ع) کو ساتھ لے کر کوہ احد پر تشریف لے گئے اور مطابق حکم وحی پہاڑی بکریوں کو صدا دی جو آنحضرت (ص)کی صدا پر لبیک کرتے ہوئے وہاں جمع ہوئیں ۔ حضرت علی (ع) نے ان میں سے ایک چار ماہ کی بکری کے بچے کو پکڑا اور بحکم نبی(ص) ذبح کرکے اس کی کھال کو صاف کرکے تیار کیا اور جبرائیل(ع) امین قلم دوات اور ایسی سیاہی لائے جو کہ زمین کی بنی ہوئی نہ تھی اور فرمایا:۔
بکری کی اس کھال اور سیاہی کی تحریر کو زمین کی مٹی کبھی پرانا نہ کر سکے گی نہ حروف کو مٹا سکے گی۔ سیاہی کا رنگ سبز تھا آنحضرت (ص) پر جبرائیل (ع) وحی لاتے تھے اور آنحضرت (ص) حضرت علی (ع) کو لکھواتے جاتے تھے یہ مخصوص وحی قیامت کے آنے والے تمام حالات و واقعات ظاہری و باطنی تغیرات اور اولیاء اللہ ، سادات، وغیرہ کے ساتھ پیش آنے والے حوادث اور آنے والی حکومتوں کے بارے میں تھی ۔

حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ کتاب الجفر کے مضامین حروف ابجد کی صورت میں تھے اور حضرت امام حسن مجتبی(ع) نے اس میں سے حروف الف با سین لام تا آخر پڑھ کر سنوائے اور فرمایا ہر ہر حرف میں سے ایک ایک حرف کا استخراج ہوتا ہے اور علم جفر میں سے جو حصہ لوگوں تک پہنچا وہ صرف ان دو حرفوں کے متعلق ہے جو اس کتاب میں ہے (کتاب الاختصاص)۔
نیز امام نے فرمایا پورے علم جفر پر عبور نبی(ص) یا وصی نبی(ص)کے علاوہ کسی عام فرد کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
امام مذکور نے مزید فرمایا کتاب الجفر اگرچہ شرح و بسط کے لحاظ سے اس قدر تفصیلی ہے کہ اس میں ہر شخص کی موت و حیات، مصائب اور ابتلا کا ذکر ہے مگر حجم کے لحاظ سے یہ ایک مختصر سا صحیفہ تھا جس کو جناب امیر المومنین (ع) اپنی تلوار ذوالفقار کے دستہ سے باندھے رہتے تھے ۔
ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ علم اہل تشیع نے اپنے ساتھ مختص کر رکھا ہے
شکریہ مولانا ۔جو وضاحت باقی رہ گئی تھی وہ پوری ہو گئی۔فجزاک اللہ احسن الجزاء
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
مولانا صاحب یہ کونسا علم ہے؟
اگر آپ سمھج سکتی ہیں تو یہ پڑھ لیں
جب سیارگان سے متعلق اعمال کی بات ہوتی ہے تو ممکن نہیں کہ علم جفر کو نظرانداز کر دیا جائے اور علم جفر کا تذکرہ ہوگا تو علم الحروف پر بات ہوگی، کیوں کہ درحقیقت علم جفر حروف اور اعداد ہی کا علم ہے مگر بدقسمتی سے ہماری اکثریت حروف کے ان رموز و نکات سے ناواقف ہے جو استادانِ فن نے برسوں کی تحقیق اور تجربے کے بعد منکشف کیے ہیں۔ چوں کہ سورج اور چاند گرہن کے حوالے سے حروف صوامت کا تذکرہ عام ہوگیا ہے، لہٰذا لوگ حروف کی صرف ایک ہی قسم صوامت سے واقف ہوگئے ہیں۔ اس بار بھی جب چاند اور سورج گرہن کا وقت دیا گیا تو اکثر لوگوں نے فون پر شکایت کی کہ آپ نے حروفِ صوامت کی زکوٰۃ اور اعمال کے بارے میں نہیں لکھا، حالاں کہ ہم اس موضوع پر پہلے ہی کافی لکھ چکے ہیں اور اب تو یہ سارے مضامین یک جا ہو کر ہماری کتابوں میں بھی آگئے ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں بہت سے لوگوں نے حروفِ صوامت کی زکوٰۃ بھی دی ہے اور وہ ان سے کام بھی لیتے ہیں، لہٰذا اس موضوع کو دہرانا ہم مناسب نہیں سمجھتے۔ آیے، آج کی نشست میں حروفِ ابجد کی دیگر اقسام کا تعارف کروایا جائے۔
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ علم جفر کے نئے اصول و قواعد چوں کہ عربوں نے مرتب کیے ہیں، لہٰذا ان کی بنیاد عربی زبان کے 28 حروف تہجی ہیں، جن میں اُردو کے بعض حروف موجود نہیں ہیں۔ بعد میں اُردو زبان کے ماہرین نے ان حروف کا اضافہ اس طرح کیا ہے کہ جیم کے ساتھ چے کو رکھ دیا ہے اور دال کے ساتھ ڈال کا اضافہ کر دیا ہے اور ڑے کو رے کے برابر تصور کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح گاف کو کاف کا ہم پلہ اور ٹے کو تے کے ساتھ جب کہ ژے کو ذال کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ بہرحال علم جفر کے تمام اصول و قواعد عربی زبان کے 28 حروفِ تہجی کی بنیاد پر قائم ہیں اور ماہرین جفر نے ان کی تقسیم ناصرف عناصر کی بنیاد پر کی ہے بلکہ انہیں سات سیارگان پر بھی تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی حروف کی جو اقسام مقرر کی گئی ہیں وہ یہ ہیں:
حروف نورانی: یہ وہ حروف ہیں جو قرآن کریم میں حروف مقطعات میں آئے ہیں۔ ان کی کل تعداد 14 ہے۔ حروف نورانی یہ ہیں:
ا ہ ح ط ی ک ل م ن س ع ص ق ر
حروف نورانی اعمال خیر میں مستعمل ہیں اور نہایت متبرک اور باقوت حروف سمجھے جاتے ہیں۔
حروفِ ظلمانی: یہ بھی 14 ہیں اور اعمالِ شر میں استعمال ہوتے ہیں۔
ب ج د و ز ف ش ط ٹ خ ذ ض ظ غ
حروف صوامت: یہ ایسے حروف ہیں جن پر کوئی نقطہ نہیں ہے۔ ان کی تعداد 13 ہے۔
ا د ہ و ح ط ک ل م س ع ص ر
یہ گپ چپ کے حروف کہلاتے ہیں اور بندش کے اعمال میں استعمال ہوتے ہیں۔
حروف ناطقہ: یہ تعداد میں 15 ہیں۔ حروف ناطقہ سے بندشوں کو کھولنے اور دنیاوی امور میں ترقی و تیزی سے متعلق اعمال کیے جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ حروف ناطقہ کا عامل کسی بھی ساکت چیز کو متحرک کرنے کی روحانی قوت رکھتا ہے۔
حروف تواخیہ: یہ ایسے حروف ہیں جو ایک ہی صورت کے دو تین ہیں۔
ب ت ث ج ح خ د ذ ر ز س ش ص ض ط ظ ع غ
حروفِ غیر تواخیہ: یہ وہ حروف ہیں جو اپنی صورت شکل میں تنہا ہیں۔ دوسرا کوئی حرف ان جیسا نہیں ہے۔
ف ک ق ل م ن و ہ ی
حروف ملفوظی: جب کسی حرف کو زبان سے ادا کیا جائے اور اس کی صوتی اعتبار سے ایک شکل بن جائے جسے لکھا جائے تو وہ کئی حروف پر مشتمل ہو جیسے الف، دال، جیم وغیرہ۔ گویا یہ ایک حرف 3 حرف پر مشتمل ہے۔ حروف کی اس شکل کو ملفوظی کہا جاتا ہے۔
علم جفر کی کچھ اور اصطلاحات ایسی ہیں جنہیں سمجھ لینا جفری اعمال کا شوق رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے۔ مثلاً حروفِ مکتوبی، یہ ایسے حروف ہیں جن کا پہلا اور آخری حرف ایک ہی ہو۔ جیسے میم، نون، واؤ۔ حروفِ مسروری، یہ ایسے حروف ہیں جو ملفوظی طور پر لکھے جائیں تو صرف دو حروف پر مشتمل ہوں۔ مثلاً با، تا، سا، حا، خا وغیرہ۔
ایک اور اصطلاح ’’امتزاج‘‘ دینا ہے، یعنی دو علیحدہ علیحدہ قسم کے حروف کو باہم ملانا۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ حروف کی دو لائنوں کو باہم اس طرح ملایا جائے کہ ایک حرف ایک لائن سے لیا جائے اور دوسرا حرف دوسری لائن سے لیا جائے اور اس طرح ایک تیسری قطار تیار کی جائے۔
ایک اصطلاح ’’بسط حرفی‘‘ کی ہے۔ اس کا مطلب حروف کو پھیلانا ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص کے نام کی بسط حرفی کریں۔ اس نام کے حروف کو علیحدہ علیحدہ لکھ کر حروف کی ایک لائن تیار کرلی جائے گی۔ ایک اور اصطلاح تخلیق کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے حروف نکال دیے جائیں جو بار بار آئے ہوں۔ مثلاً اگر ایک سطر میں الف کئی بار آیا ہے تو صرف ایک الف برقرار رکھ کر تمام الف کاٹ دیے جائیں۔
عزیزانِ من! علم جفر کی یہ نہایت ابتدائی باتیں ہیں۔ امید ہے کہ انہیں شائقین سمجھ لیں گے اور یاد رکھیں گے۔
علم جفر کا ذکر حروفِ صوامت اور سورج گرہن کے حوالے سے ہوا تھا تو ہم نے ضروری سمجھا کہ حروف کی دیگر اقسام سے بھی اپنے قارئین کو آگاہ کر دیا جائے۔ بے شک حروف نورانی کے بعد حروف صوامت نہایت اہم اور اپنے اثرات میں نہایت قوی حروف ہیں اور اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ اسم ذات اللہ اور اسم پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حروف پر بھی اگر نظر ڈالیں تو ان دونوں ناموں میں حروف صوامت ہی استعمال ہوئے ہیں۔ کسی حرف پر کوئی نقطہ نہیں ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کلمہ شریف بھی حروف صوامت پر ہی مشتمل ہے۔ پورے کلمے میں ایک حرف بھی ایسا استعمال نہیں ہوا ہے جس پر کوئی نقطہ استعمال ہوا ہو۔
ماہرین جفر نے کلمہ شریف سے بھی ایک نیا نقطہ برآمد کیا ہے۔ کلمے کے حروف کو علیحدہ علیحدہ لکھیں اور اس کے بعد تلخیص کرلیں، یعنی جو حروف ایک سے زائد بار آئے ہیں، انہیں کاٹ دیں تو صرف 9 حروف اصل ہوں گے جو یہ ہیں:
ل ا ہ م ح د ر س و
ان 9 حروف کے اعداد 354 ہیں جب کہ تمام حروف صوامت کے اعداد 543 ہیں، یعنی اگر ان اعداد کی مفرف قوت لی جائے تو وہ 3 ہوگی۔ کلمہ شرف کے تلخیص شدہ حروف سے جو کلمہ بنتا ہے وہ یہ ہے
حمد السرِّھُو
اس کلمے کو ایک طلسم سمجھ لیجیے۔ اگر اس کے معنی معلوم کیے جائیں تو یہ ہوں گے۔ ’’تعریف کے قابل اس کے(اللہ کے) تمام بھید ہیں۔‘‘
عزیزانِ من! 354 کا نقش مثلث بھر کے سورج گرہن میں اگر اس کی زکوٰۃ نکال لی جائے تو یہ نقش تمام بندش کے کاموں میں مفید ثابت ہوگا۔ نقش یہ ہے:

حمد السرِّ ھُو
1-1.jpg


سورج گرہن میں اس نقش کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ باوضو رجال الغیب کا خیال رکھتے ہوئے علیحدہ کمرے میں بیٹھیں۔ پہلے 354 مرتبہ اوّل و آخر درود شریف کے ساتھ کلمۂ طیبہ پڑھیں۔ بعدازاں کالی یا نیلی روشنائی سے یا کسی پینسل سے 354 مرتبہ اس نقش کو لکھ لیں۔ نقش کے اوپر طلسمی کلمہ بھی ضرور لکھیں۔ آسانی کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ پہلے سے کسی سادہ کاپی پر 354 نقوش کے خانے بنا لیں، تاکہ عین وقت پر حرف نقش بھرنے کا کام ہی کرنا پڑے۔ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد کچھ چینی پر فاتحہ دیں اور ایصالِ ثواب میں تمام اولیائے کرام اور خصوصاً حضرت غوث گوالیاری رحمتہ اللہ علیہ کو نہ بھولیں۔ جس کاپی میں نقوش لکھے ہیں اسے کسی سیاہ کپڑے یا کاغذ میں لپیٹ لیں اور قبرستان میں جا کر ایسی جگہ دفن کر دیں جو لوگوں کی گزرگاہ نہ ہو۔ اب آپ ایک سال کے لیے اس نقش کے عامل ہوگئے۔ نقش کی تاثیر کو برقرار رکھنے کے لیے مداومت کے طور پر 9 نقش روزانہ لکھنا ہوں گے۔ اس کام کے لیے بھی ایک کاپی بنانا ہوگی جس میں فرصت کے اوقات میں 9 نقش لکھ دیا کریں۔
مندرجہ بالا نقش کسی بھی قسم کی بندش کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ نقش لکھ کر اس کے نیچے یا پشت پر مقصد کی سطر لکھ دیں۔ مثلاً اگر کسی کی زبان بندی مقصود ہے تو مقصد کی سطر کے طور پر اتنا لکھنا کافی ہوگا:
’’بستم زبان فلاں بن فلاں در غرض و حق فلاں بن فلاں۔‘‘ اسی طرح مختلف بیماریوں کے علاج معالجے، یعنی ان کی روک تھام کے لیے بھی مقصد کی سطر نقش پر لکھی جا سکتی ہے، یعنی اگر کسی کا سر درد نہ جاتا ہو، دنیا بھر کے علاج ہو چکے ہوں تو یہ نقش لکھ کر دیں، تاکہ سر میں باندھے۔
مقصد کی سطر اس طرح لکھیں:
’’بستم دردِسر فلاں بن فلاں‘‘
اسی طرح دیگر بیماریوں کی روک تھام بھی اس نقش سے ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار مقاصد میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار مقاصد میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ناجائز تعلقات کا خاتمہ، شراب، جوا یا دیگر عاداتِ بد سے روکنا، طاقت ور دشمن کو ظلم سے روکنا وغیرہ۔ شرط یہی ہے کہ نقش کے ساتھ اپنا مقصد واضح طور پر لکھیں۔ نقش کے مؤکل کا نام ’’جیشائل‘‘ ہے۔ نقش کی پشت پر اس کا نام بھی لکھیں۔
جس طرح حروفِ صوامت کے کاموں میں چاند، سورج گرہن، قمر در عقرب اور قرانِ شمس و قمر وغیرہ کے اوقات بہتر ہوتے ہیں، اسی طرح اس نقش سے کام لیتے وقت ایسے ہی اوقات کو اوّلیت دیں۔ بحالتِ مجبوری اگر ایسا کوئی وقت قریب نہ ہو اور ضرورت شدید آن پڑے تو مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے عطارد، مریخ اور زحل کی ساعتوں کا انتخاب کریں، جو روزانہ مل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ علم نجوم سے واقفیت رکھتے ہیں اور سیارگان کے نظرات کو سمجھتے ہیں، ان کے لیے مناسب وقت کا حصول زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔
آخری با ت وہی ہے جو ہم برسوں سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہرگز ہرگز کسی ناجائز مقصد کے لیے اس نقش کو استعمال نہ کریں۔ ہمیشہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ چھوٹی موٹی باتوں کو نظرانداز کر دیا کریں، خصوصاً اپنی ذات کے حوالے سے بہت زیادہ تحمل اور صبر و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ خلق خدا کو فیض پہنچانے کی نیت رکھیں۔ اپنے ذاتی نام ونمود اور اپنے قوت و اقتدار کی خاطر اس نقش کی زکوٰۃ نہ دیں۔ اکثر لوگ اپنی تکلیف یا پریشانی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور اپنے مخالف کے مظالم بھی بہت نمک مرچ لگا کر سناتے ہیں تاکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ ایسے معاملات میں نہایت دانش مندی کی ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ یک طرفہ شکایات سامنے آتی ہیں۔
ان کی روشنی میں کوئی قدم اٹھانا نامناسب بات ہے۔ ایسی صورت میں جب تک قطعی اطمینان نہ حاصل ہو جائے، کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ وہ لوگ جو حروفِ صوامت سے کام لیتے ہیں، مقصد کی سطر بنا کر ان کے طلسمی کلمے تیار کر کے اس نقش کے چاروں طرف لکھ دیں۔ یہ دو آتشہ کام ہو جائے گا۔ ہم نے ہر بات کھول کر بیان کر دی ہے پھر بھی اگر کوئی الجھن محسوس ہو تو خط لکھ کر دریافت کر سکتے ہیں۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
جزاک اللہ
دولائنیں سمجھادیتے وہ کافی تھا ، آپ نے زکوۃ وغیرہ ٹائم تک بتلا دیا جو کچھ سمجھ آیا اور کچھ سر کے اوپر سے رفو چکر ہوگیا، باقی ہم خط لکھ دینگے آپ کو :p
یہ بھی ایک علم ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس علم کی الف ، ب کو سمجھناہوگا سب سمجھ آگئی کی کہ یہ علم کیا ہے۔
بس آپ شاگردی میں لے لیں پھر دیکھیں ہمارا کمال ،جمال،دھمال
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
کسی دور میں شوق اٹھا تھا کتابیں بھی خریدیں اور کچھ سیکھا بھی لیکن پتہ چلا یہ درست نہیں تو چھوڑ دیاعقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

سوال نمبر: 174573

عنوان:علمِ جفر کی شرعی حیثیت
سوال:حضرت علمِ جفر کی کیا شرعی حیثیت ہے؟

جواب نمبر: 174573

بسم الله الرحمن الرحيم



Fatwa:279-222/L=3/1441

علم جفر میں ستاروں کو انسانی قسمت پر اثر انداز سمجھا جاتا ہے اور ان چیزوں کو مؤثر حقیقی سمجھنا کفر ہے، علاوہ ازیں ان علوم کے ذریعہ حاصل علم کوبالعموم قطعی ویقینی سمجھا جاتا ہے اور اس کو قطعی ویقینی سمجھنا بھی غلط ہے؛ اس لیے یہ علوم اسلام میں جائز نہیں، مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے جس شخص نے کسی "عراف" (غیب کی باتیں بتلانے والے) کے پاس جاکر کوئی بات دریافت کی تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔

عن صفیة، عن بعض أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من أتی عرافا فسألہ عن شیء، لم تقبل لہ صلاة أربعین لیلة.(صحیح مسلم،رقم الحدیث: 2230، باب تحریم الکہانة وإتیان الکہان)اور الأشباہ والنظائر میں ہے : تعلم العلم یکون فرض عین، وہو بقدر ما یحتاج إلیہ لدینہ...وحراما، وہو علم الفلسفة والشعبذة والتنجیم والرمل وعلم الطبیعیین والسحر.(الأشباہ والنظائر لابن نجیم
ص: 328، الناشر: دار الکتب العلمیة، بیروت - لبنان)
علم جفر سیکھنے کا حکم
سوال

السلام علیکم مفتی صاحب!میرا سوال یہ ہے کیا علم جعفر سیکھنا جایز ہے یانہی جواب ضرور فرمادیں.‏

جواب
علم جفر سیکھنا ناجائز ہے۔واللہ اعلم
 
Last edited:

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جزاک اللہ
دولائنیں سمجھادیتے وہ کافی تھا ، آپ نے زکوۃ وغیرہ ٹائم تک بتلا دیا جو کچھ سمجھ آیا اور کچھ سر کے اوپر سے رفو چکر ہوگیا، باقی ہم خط لکھ دینگے آپ کو :p
یہ بھی ایک علم ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس علم کی الف ، ب کو سمجھناہوگا سب سمجھ آگئی کی کہ یہ علم کیا ہے۔
بس آپ شاگردی میں لے لیں پھر دیکھیں ہمارا کمال ،جمال،دھمال
بالکل شاگردی میں نہ لینا ورنہ ساری پریوں کو پنجرے میں موصوف بند کر لیں گے
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
چار جنی شہزادیوں کے درمیان ۔
باپ رے باپ چار وہ بھی جنی شہزادیاں ۔محترم کہیں پڑھا ۔ جنیاں 100 سال تک بچی رہتی ہیں ۔ 150 سال کے بعد حد بلوغت کو پہنچتی ہیں ۔غالبا دو سوسال میں گھر بسانے کی سوچتی ہیں ۔1500 یا 2000 سال بعد قبر میں پیر لٹکتے ہیں بچ کے رہیئے گا ۔آپ کی بہنا نے بڑی خطر ناک بات کہدی ۔
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
باپ رے باپ چار وہ بھی جنی شہزادیاں ۔محترم کہیں پڑھا ۔ جنیاں 100 سال تک بچی رہتی ہیں ۔ 150 سال کے بعد حد بلوغت کو پہنچتی ہیں ۔غالبا دو سوسال میں گھر بسانے کی سوچتی ہیں ۔1500 یا 2000 سال بعد قبر میں پیر لٹکتے ہیں بچ کے رہیئے گا ۔آپ کی بہنا نے بڑی خطر ناک بات کہدی ۔
پھر تو یہ ہی کہیں گے
جا اپنی حسرتوں پر تھنڈا ٹھار پانی بہا کے سو جا
 
Top