حضرت حکیم الامتؒ کی علمی ذکاوت کا ایک واقعہ

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضرت حکیم الامتؒ کی علمی ذکاوت کا ایک واقعہ​

حضرت تھانویؒ کے یہاں ایک صاحب آئے بیٹھ کربہت ادب سے مصافحہ کیا اور کہا کہ میرا فلاں نام ہے ، فلاں جگہ سے آیا ہوں ،اور صرف ایک مسئلہ حل کرنا ہے حضرت اس سے بہت خوش ہوا کرتےتھے کہ ہمیں کچھ پو چھنا نہ پڑے ،آدمی خود ی بتا دے کہ میرا فلاں نام ہے ، فلاں جگہ سے آیا ہوں اور اس کام کے لیے آیا ہوں ۔

حضرت نے فرمایا کہیئے ،انھوں نے کہا کہ حضرت یہ مسئلہ متفق علیہ اور مجمع علیہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ افضل الناس بعد الانبیاء ہیں ، پھر یہ جو حضرت عمر فاروقؓ کے متعلق آیا ہے کہ " لو کان بعدی نبیا لکان عمر " اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہو تے، اس سے تو حضرت عمرؓ کی فضیلت معلوم ہو تی ہے نا کہ حضرت ابو بکرؓ کی، تو حضرتؒ نے بھی بے ساختہ اس کے جواب میں فرمایا جی ہاں! یہاں یہی تو الفاظ ہیں " لو کان بعدی نبیا لکان عمر " اور بعدیت مستلزم ہے یک گونہ بُعدیت کو اور صدیق میں اقربیت امثلیت ہے تو ان ہی کو افضلیت بھی ہو گی ، پورا مجمع زعفران زار بن گیا ،کیا نکتہ پیدا کیا ، سبحان اللہ بعدیت یک گونہ بُعدیت کو مستلزم ہے ۔

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیقؒ ایسے "معی" یعنی ساتھی ےہیں جو " والذین معک" کی عملی تفسیر تھے کہ ان کے لیے "من بعدی" کا لفظ آتا ہی ہی نہیں تھا۔
 
Top