حضرت امام ابو حنیفہٌ کی ذہانت کا عجیب واقعہ

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضرت امام ابو حنیفہٌ کی ذہانت کا عجیب واقعہ​
ایک آدمی امام ابو حنیفہٌ کے پاس آیا اور ایک عجیب وغریب سوال کیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا ہیں ۔
(1) جو بن دیکھے گواہی دیتاہو(2) یہود ونصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہو (3) اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہو (4) بغیر ذبح کے کھا لیتا ہو (5) جس کی طرف اللہ نے بلایا ہو اس کی پرواہ نہ کرتا ہو (6) جس سے اللہ نے ڈرایا ہو اس کا خوف نہ کرتا ہو ۔(7) فتنہ کو محبوب رکھتا ہو۔
امام ابو حنیفہٌ نے فرمایا وہ شخص مومن ہے ۔سوال پوچھنے والا بڑا حیران ہوا کہنے لگا جی وہ کیسے ؟فرمایا:
دیکھو! تم نے کہا کہ بن دیکھے گواہی دیتا ہو تو مومن اپنےپروردگار کی بن دیکھے گواہی دیتا ہے ۔
تم نے کہا یہود ونصاری کے قول کی تصدیق کرتا ہو۔ قرآن میں آیا ہے ۔ترجمہ " یہود کہتے ہیں نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں یہود حق پر نہیں " تو مومن ان دونوں کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے ۔
تم نے کہا کہ اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہو تو دیکھو! بارش اللہ کی رحمت ہے اور بارش سے تو ہر بندہ بھاگتا ہے کہ کپڑے نہ بھیگ جائیں ۔​
تم نے کہا کہ جس کی طرف اللہ نے بلایا ہے اس کی طرف رغبت نہیں کرتا ، پس وہ جنت ہے کہ اللہ نے اس کی طرف بلایا ہے مگر اس کو مشاہدہ حق اتنا مطلوب ہے کہ محبوب حقیقی کی طرف سے نظر ہٹا کر وہ جنت کی طرف نظر ڈالنا کبھی پسند نہیں کرتا۔
تم نے کہا کہ جس سے اللہ نے ڈرایا ہے اس سے وہ ڈرتا نہیں تو وہ دوزخ ہے اسکو اپنے محبوب کی ناراضگی کی اتنی فکر رہتی ہے کہ جہنم میں جلنے کی پرواہ نہیں کرتا ۔
تم نے کہا اسے فتنہ محبوب ہے ،پس اولاد کو قرآن کریم میں فتنہ کہا گیا ہے اور اولاد سے ہر شخص کو فطری محبت ہو تی ہے پس وہ مومن ہے ۔​
سوال پوچھنے والا امام ابو حنیفٌہ کی ذہانت اور علم پر حیران رہ گیا۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
سبحان اللہ ۔۔کیا کہنے

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(8-الأنفال:28)
 
Top