اجابت دعا

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اجابت دعا
مصلح الامت حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب نورا للہ مرقدہ​

منجملہ ان احوال رفیعہ کے جو حق تعالیٰ کی جانب سے دام علی السکینہ کو مرحمت فرمائے جاتے ہیں ،ایک عظیم الشان حال اجابت دعا بھی ہےجس کا مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی نسبت اور ایسا تعلق بندہ کاقائم ہو جائے کہ اب اس کے بعد اپنی جس ضرورت کو یہ طالب اپنی جہد ہمت اور قلب کی پوری توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے طلب کے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمادیں جس طرح سے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی تھے جس ے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فر مایا تھا کہ ہ مستجاب الدعوات ہیں ، ایک مرتبہ کسی جنگ میں یہ شریک تھے ،آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاکر دعا کی، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالدیا اور سب نے ہتھیار دالدئیے ،یہ تھی اجابت دعا جو مومن کو ملا کرتی ہے،۔
یعنی صحت ایمان اور قبول طاعات اور ان کی اصل یعنی سکینہ کی تحصیل اور اس پر پا بندی کے صلہ میں حق تعالیٰ ان حضرات کو اجابت دعا کا مقام اور خاص انعام عطا فرماتے ہیں اور اپنے متقی بندوں کی مراد پوری فرماتے ہیں ۔
اسوقت آپ ے سامنے اجابت دعا ک سلسلہ میں چند واقعات اور بیان کرتا ہوں اور اس میں شک نہیں کہ بڑے ہی عبر کےواقعاتہیں ان کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی کی دعا ضرور قبول فرماتےہیں۔
رسالہ قشیریہ میں ہے کہ حذیفہ مرعشی ؒکہتے ہیں کہ میں حضر ابراہیم بن ادہمؒ کی خدمت میں بہت دنوں تک رہا، مجھ سے دریافت کیا گیا کہ ان کا سب سے عجیب واقعہ جس کا تم نے مشاہدہ کیا ہو بیان کرو۔
"حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مکہ شریف کے سفر میں تھے ،کئی دنوں سے کھانے کی وئی چیز دستیاب نہیں ہو ئی تھی کہ اس اثناء میں ہم کو فہ پہنچے اور وہاں ایک ویران وشکشتہ مسجد میں قیام کیا ،حضرت ابراہیم بن ادہم ؒنے میری جانب دیکھا اور فرمایا کہ حذیفہ تم پر بھوک کا اثر دیکھ رہا ہوں ؟میں نے عرض کیا حضرت نے بجا ارشاد فرمایا ،انھوں ے فرمایا کہ اچھا ذرا قلم دوات اور کاغذتو لےآؤ میں نے لا کر پیش کیا تو اس پر تحریر فرمایا کہ بسم اللہالرحمن الرحیم ۔انت المقصود الیہ بکل حال والمشار الیہ بکل معنی ۔یعنی ہر حال میں آپ ہی مقصود ہیں اور ہر معنی سے آپ ہی مراد ہیں اس کے بعد یہ شعر لکھے ۔

انا حامد، انا شاکر، انا ذاکر، انا جائ،ع انا نائع ،انا عاری
میں آپ کی حمد کرنے والا ہوں اور آپ کا شکر کرنے والا ہوں اور آپکی یاد کرنے ولا ہوں ،میں بھوکا ہوں میں پیاسا ہوں اور میرے بدن پر کپڑا نہیں ہے ۔

ھی ستۃ واناالضمین لنصفھا
فکن الضمین لنصفھا یا ربی

یہ کل چھ چیزیں ہیں یعنی حمد وشکر ذکر بھوک ، پیاس ،عریانی ،تو میں ان میں اول تین اکاضامن ہوتا ہوں ،پس اے باری بقیہ نصف کا آپ ضامن ہو جائے۔

مدحی لغیرک لھب نار خضتھا
فاجر عبیدک من دخول النار ۔

اور آپ سے یہ درخواست اس لیے کرتا ہوں کہ میرا آپ کے علاوہ کسی اور کی تعریف کرنا گویا آگ کی لپٹ یں داخل ہونا ہے، لہذا اپنے اس مسکین بندے کو دخول نار سے بچا لیجئے۔

والنار عندی کا لسوال فھل تری
ان لا تکلفنی دخول النار

اور یہ میں نے دخول نا ر اس لیے کہا کہ اسی سے سوال کرنا میرے نزدیک بمنزلۂ دخول نار ہی کے ہے تو کیا آپ اپنے کرم سے مجھے دخول نار سے بچا لیں گے۔
یہ لکھ کر مجھے رقعہ دیا اور فرمایا کہ جاؤ اور فرمایا خبردار اپنے قلب کو غیر اللہ سے متعلق کرنا اور سب سے پہلے جس شخص سے تمہاری ملاقات ہو سےیہ رقعہ دیدینا ،حذیفہؒ کہتے ہیں کہ میں یہ رقعہ لیکر چلا تو میری ملاقات سب سے پہلے ایک خچرسوارسے ہو ئی اس کو یہ پر چہ دیدیا اس نے پڑھا اور رونے لگا اور مجھ سے پوچھا کہ جن بزرگ نےیہ پرچہ لکھا ہے وہ کہاں ہیں ، میں نے کہا کہ فلاں مسجد میں مقیم ہیں یہ سن کر اس نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چھ سو دینار تھے اور دیکر چلدیا پھر میری ملاقات ایک اور شخص سے ہو ئی میں ے ان سے دریافت کیا کہ یہ خچر پرسوارجو شخص جارہا ہے آپ بتا سکتے ہیں کہ ہ کون ہے ،اس نے کہا کہ ہاں یہ تو ایک نصرانی ہے ،اس کے بعد میں حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کی خدمت میں حاضرہوا اور سارا قصہ سنایا ،انھوں ے فرمایا کہ اچھا اس تھیلی کو اسی طرح رہنے دو وہ ابھی آتا ہے ،تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی کہ وہ نصرانی آیا اور منہ کے بل حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کے سامنےگرا اور شرف با اسلام ہوا۔
سبحان اللہ ایمان تازہ کر دینے والاا واقعہ ہے کبھی آپ کا ایسازمانہ تھا ۔دوسرا واقعہ سنئے
 
Top