میں غزالی ہوں

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
میں غزالی ہوں​

ایک روز درمیان خواب وبیداری کے عالم واقعہ میں دیکھا گیا کہ ایک وسیع میدان ہے اور اس میں بہت سے آدمی جمع ہیں اور ہر شخص کے ہاتھ میں ایک مجلد کتاب ہے اور وہ سب لوگ ایک بزرگ کے سامنے جاتے ہیں ۔لوگوں نے کہا کہ حضرت رلت پناہ ﷺ یہاں تشریف رکھتے ہیں اورو ہ مجمع اصحاب مذاہب کا ہے جو چاہتے ہیں کہ اپنے عقائد رسول اللہ ﷺ کے سامنے عرض کریں اور ان سے اپنے عقائد کی تصحیح کرائیں ۔اتنے میں ایک شخص آیا ، معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ ؒہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے وہ حلقہ میں آکر بیٹھے اور اپنے عقائد حضرت رسول اللہ ﷺ کے سامنے عرض کئے ۔حضور ﷺ نے تصدیق کی اور مر حبا فرمایا ۔اس کے بعد دوسرا شخص آیا ،اس کے ہاتھ میں بھی کتاب تھی لوگوں ے کہا یہ شافعیؒ ہیں وہ ابو حنیفہؒ کے پہلو میں بیٹھے اور اپنی کتابوں کے عقائد عرض کئے ۔حضور ﷺ نے ان کی بھی تصدیق کی اور مر حبا کہا اسی طرح تمام اصحاب مذاہب ایک ایک کر کے آتے تھے اور اپنے عقائد عرض کرتے تھے اور ان کے عقیدے سننے کے بعد حضور ﷺ ان کو ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھنے کی اجازت دیتے تھے ۔ناگاہ ایک شیعہ آیا اس کے ہاتھ میں چند جزو غیر مجلد تھے اور اس کے عقائد باطلہ کا ذکر تھا ۔اس نےبھی قصد کیا کہ حلقہ میں آئے اور اپنے عقیدے حضور ﷺ کے سامنے پیش کرے ، مگر حضرت رسات پناہ ﷺ کے سامنے ایک اور شخص تھے وہ خفا ہو ئے اور شیعہ کے ہاتھ سے جزو چھین کر پھاڑ ڈالے اور اس کی بڑی ذلت کی ۔

جب میں نے دیکھا کہ قوم فارغ ہو گئی اور کوئی باقی نہ رہا جو اپنی کتاب پڑھے تو میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کتا ب پر میرا عقیدہ ہے اور اہل اسلام کا عقیدہ ہے ،اگر اجازت ہو تو پڑھوں ۔فرمایا : کون کتاب ہے ؟ میں نے کہا: قواعد العقائد اس کا نام ہے اور غزالی کی تصنیف ہے ۔مجھ کو پڑھنے کی اجات ملی تو میں آغاز کتاب ہے سے پڑھنا شروع کیا۔جب اس مقام تک پہنچا کہ" اللہ تعالیٰ نے نبی امی قریشی محمد ﷺ کو تمام عرب وعجم وجن وانس کی ہدایت کیلئے پھیجا" تو حضور ﷺ کے چہرہ مبارک پر بشاشت اور تبسم کے آثار ظاہر ہوئے ۔

حضور ﷺ نے میری طرف التفات کیا اورپو چھا کہ غزالی کہاں ہیں ؟ غزالی اسی جگہ کھڑے تھے ۔انہوں نے کہا: میں غزالی ہوں یا رسول اللہﷺ اور سلام کیا ۔حضور ﷺ نے سوال کا جواب دیا اور اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا ۔غزالی نے دست مبارک چوما اور اپنا منہ حضور ﷺ کے قدموں میں رکھا ۔اس کے بعد بیٹھے اور میں نے کتاب پڑھنا شروع کی، حضور ﷺ کسی قرأۃ سے اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا میرے پڑھنے سے ۔جب میں ہو شیار ہوا تو میری آنکھوں پر گریہ کا اثر تھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بعض منکران عقائد امام غزالیؒ کو حضور ﷺ نے سزادی اور انکے تن پر تازیانے لگائے ،جس کا اثر اس کی جسم پر زندگی بھر رہا۔( لطائف اشرفی ص: 410)
 
Top