حضرت دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضرت دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن نوجوان ہے۔

آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔

رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

حضرت دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟

آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ قلبی کو بتایا۔

دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔

آپؐ نے فرمایا؛ اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ قلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے

اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا

دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ قلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔

آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟ دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔ دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟ میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔

یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ قلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛ اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔

یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔ ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔

یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔

میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛ بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔

آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔

بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔ بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔

یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔

میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛ اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔

پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔

یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔

آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔

اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں۔
 
Last edited:

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
قلبی نہیں بلکہ کلبی ۔ دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ

اس واقعہ کا پہلا حصہ تو مشہور ہے کہ وہ خوبصورت تھے
كان دحية إذا قدم المدينة لم تبق معصر إلا خرجت تنظر إليه، فالمعنى بالمعصر العاتق ۔ الاصابہ ، ابن حجرؒ

پھر ان کے اسلام لانے کا واقعہ ہے ۔ یہ معلوم نہیں کہاں سے نقل کیا؟ کتب صحابہؓ کی بڑی کتب میں تو نہیں ملا۔

اور پھر جو قصہ نقل کیا ہے ، اس کا انتساب دحیہ ؓ سے تو بالکل بھی صحیح نہیں ۔

کسی نام کے بغیر ایک نامعلوم صحابیؓ کے نام سے
، ایک قصہ تفاسیر میں ہے ، سورۃ انعام کی آیت،((قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلادَهُمْ سَفَهًا)) کے ذیل میں تفسیر سمرقندی ، تفسیر قرطبی ، روح البیان وغیرہ میں
بغیر کسی سند کے منقول ہے ۔
غالباََ سب نے تفسیر سمرقندی سے لیا ہے ۔

وروي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رجلاً من أصحابه كان لا يزال مغتماً بين يديه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم «مَا لَكَ تَكن مَحْزُوناً» ؟ فقال: يا رسول الله إني قد أذنبت في الجاهلية ذنباً، فأخاف أن لا يغفر لي وإني أسلمت فقال له:
«أَخْبِرْنِي عَنْ ذَنْبِكَ» فقال: يا رسول الله: إني كنت من الذين يقتلون بناتهم فولدت لي بنت، فتشفعت إليَّ امرأتي بأن أتركها فتركتها حتى كبرت، وأدركت فصارت من أجمل النساء فخطبوها، فدخلت عليَّ الحمية ولم يحتمل قلبي أن أزوجها أو أتركها في البيت بغير زوج.
فقلت للمرأة: إني أريد أن أذهب بها إلى قبيلة كذا وكذا في زيارة أقربائي فابعثيها معي فسرت بذلك وزيّنتها بالثياب والحلي، وأخذت عليَّ المواثيق بأن لا أخونها فذهبت بها إلى رأس بئر، فنظرت إلى البئر ففطنت الجارية أني أريد أن ألقيها في البئر، فالتزمت بي وجعلت تبكي


البتہ کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ سنن دارمی میں باب
بَابُ مَا كَانَ عَلَيْهِ النَّاسُ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَهْلِ وَالضَّلَالَةِ
میں ایک روایت ہے ۔
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِيُّ، عَنْ مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ أَبِي الْحَرَامِ مِنْ لَخْمٍ عَنِ الْوَضِينِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ، فَكُنَّا نَقْتُلُ الْأَوْلَادَ، وَكَانَتْ عِنْدِي بِنْتٌ لِي فَلَمَّا أَجَابَتْ، وَكَانَتْ مَسْرُورَةً بِدُعَائِي إِذَا دَعَوْتُهَا، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَاتَّبَعَتْنِي فَمَرَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُ بِئْرًا مِنْ أَهْلِي غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَرَدَّيْتُ بِهَا فِي الْبِئْرِ، وَكَانَ آخِرَ عَهْدِي بِهَا أَنْ تَقُولَ: يَا أَبَتَاهُ يَا أَبَتَاهُ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَكَفَ دَمْعُ عَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْزَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: «كُفَّ فَإِنَّهُ يَسْأَلُ عَمَّا أَهَمَّهُ» ثُمَّ قَالَ لَهُ: " أَعِدْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ فَأَعَادَهُ، فَبَكَى حَتَّى وَكَفَ الدَّمْعُ مِنْ عَيْنَيْهِ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَضَعَ عَنِ الْجَاهِلِيَّةِ مَا عَمِلُوا، فَاسْتَأْنِفْ عَمَلَكَ»
اس میں دفن کا نہیں بلکہ کنویں میں ڈالنے کا ذکر ہے ۔

بہرحال یہ حضرت دحیۃ ؓ سے منسوب نہیں ۔

کوشش کریں کہ ، کوئی بھی واقعہ کہیں سے نقل کریں تو کم از کم
۱۔مستند جگہہ مدرسہ یا ذمہ دار ادارہ سے نقل کریں ۔
۲۔ یا مستند عالم سے نقل کریں ۔
۳۔ یا خود حوالہ نقل کریں ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
ایک تحریر نظر آئی ہے جو عبدالباقی اخونزادہ صاحب سے اسی واقعہ کا سوال کیا گیا ۔ ماشاء اللہ اچھا تحقیقی جواب دیا گیا ہے ۔

سوال حذف کردیا ہے کیونکہ وہی اوپر والی تحریر ہے ۔

دحیہ کلبی کا بیٹی کو زندہ درگور کرنا
سوال
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ۔۔۔۔۔۔۔…

کیا یہ پورا واقعہ درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ انتہائی خوبصورت اور وجیه انسان تھے اور جبرئیل علیہ السلام ان کی صورت میں آپ علیہ السلام کے پاس تشریف لاتے تھے.
دحیہ کلبی غالبا ٢ ہجری میں مسلمان ہوئے اور أحد یا خندق میں پہلی شرکت کی. آپ علیہ السلام نے حضرت دحیہ کلبی کو 7 ہجری میں روم کے بادشاہ کے پاس ایلچی بنا کر بھیجا تھا.
دحیہ کلبی سے دو روایات منقول ہیں اور بعض محدثین چھ روایات کو ذکر کرتے ہیں.
□ کیا دحیہ کلبی نے اپنی کسی بیٹی کو زندہ درگور کیا؟
ایسی کوئی روایت کسی بھی مستند کتاب میں کسی بھی معتبر سند سے منقول نہیں کہ حضرت دحیہ کلبی نے کبھی اپنی کسی بیٹی کو زندہ دفن کیا ہو.

□ دحیہ کلبی کے واقعے کی طرح کا ایک اور واقعہ:
تفسیر قرطبی میں اس واقعے کے قریب کا ایک واقعہ بغیر کسی سند کے منقول ہے لیکن وہ بھی حضرت دحیہ کلبی والے واقعے سے بہت مختلف ہے،
البتہ سنن دارمی کے واقعے کے کچھ قریب ہے.
□ روي أن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يزال مغتما بين يدي رسول الله صلى عليه وسلم: “مالك تكون محزونا”؟ فقال: يارسول الله! إنی أذنبت ذنبا في الجاهلية فأخاف ألا يغفره الله لي وإن أسلمت. فقال له: “أخبرني عن ذنبك”. فقال: يارسول الله! إن كنتُ من الذين يقتلون بناتهم، فولدت لي بنت فتشفعت إلى امرأتي أن أتركها فتركتها حتى كبرت وأدركت، وصارت من أجمل النساء فخطبوها، فدخلتني الحمية ولم يحتمل قلبي أن أزوجها أو أتركها في البيت بغير زوج، فقلت للمرأة: إني أريد أن أذهب إلى قبيلة كذا وكذا في زيارة أقربائي فابعثيها معي، فسرت بذلك وزينتها بالثياب والحلي، وأخذت علي المواثيق بألا أخونها، فذهبت بها إلى رأس بئر فنظرت في البئر ففطنت الجارية أني أريد أن ألقيها في البئر، فالتزمتني وجعلت تبكي وتقول: يا أبت! إيش تريد أن تفعل بي! فرحمتها، ثم نظرت في البئر فدخلت علي الحمية، ثم التزمتني وجعلت تقول: يا أبت لا تضيع أمانة أمي، فجعلت مرة أنظر في البئر ومرة أنظر إليها فأرحمها، حتى غلبني الشيطان فأخذتها وألقيتها في البئر منكوسة، وهي تنادي في البئر: يا أبت، قتلتني.. فمكثت هناك حتى انقطع صوتها فرجعت. فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وقال: “لو أمرت أن أعاقب أحدا بما فعل في الجاهلية لعاقبتك”.

چونکہ اس واقعے کی کوئی سند منقول نہیں لہذا اس واقعے کو غیر ثابت ہی قرار دیا جائے گا

■ صحابہ کرام میں بچیاں زندہ درگور کرنے والے حضرات:

● ١. حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب من گھڑت واقعہ:
بعض کتابوں میں حضرت عمر کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کیا اور پھر اس پر روتے تھے.
ایک بار حضرت عمر اپنی خلافت کے زمانے میں ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ اچانک پہلے ہنسے اور پھر رو پڑے، تو اہل مجلس نے ہنسنے اور رونے کا سبب پوچھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جاہلیت میں ہم کھجور سے بت بنا کر اس کی عبادت کرتے تھے اور بھوک لگنے پر اسی کو کھا لیتے تھے، اب مجھے اس حرکت پر ہنسی آرہی ہے، اور میں نے اپنی بیٹی کو زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کیا تھا جس پر رونا آرہا ہے.

○ يقول عباس محمود العقاد في كتابه “عبقرية عمر” (ص:221) عن وأد عمر لابنته فقال: أنه رضي الله عنه كان جالساً مع بعض أصحابه، إذ ضحك قليلاً، ثم بكى، فسأله مَن حضر، فقال: كنا في الجاهلية نصنع صنماً من العجوة، فنعبده، ثم نأكله، وهذا سبب ضحكي، أما بكائي، فلأنه كانت لي ابنة، فأردت وأدها، فأخذتها معي، وحفرت لها حفرة، فصارت تنفض التراب عن لحيتي، فدفنتها حية.
■ اس روایت کی اسنادی حیثیت:
یہ روایت شیعہ مصنف نعمت اللہ الجزائری کی کتاب الانوار النعمانیہ میں منقول ہے.
اور اہل سنت میں سے محمود العقاد نے اس کو نقل کرکے اس کی صحت پر شک کا اظہار کیا ہے.
○ مصدر هذه القصة الباطلة بعض كتب الشيعة، فقد ذكرها الرافضي نعمةُ الله الجزائري في كتابه “الأنوار النعمانية”.
ذكر هذه القصة الباطلة محمود العقاد في كتابه “عبقرية عمر” وشكك فيها.
عبدالسلام بن محسن آل عیسی لکھتے ہیں کہ ہمیں یہ واقعہ کسی بھی مستند مصدر میں نہیں مل سکا.
قال د.عبدالسلام بن محسن آل عيسى: ولم أجد من روى ذلك عن عمر فيما اطلعت عليه من المصادر، ولكني وجدت الأستاذ محمود العقاد أشار اليها في كتابه “عبقرية عمر”.
● ٢. قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
قیس بن عاصم نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت میں اپنی آٹھ بچیوں کو زندہ درگور کیا تھا، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر بچی کے بدلے ایک غلام آزاد کرلو.. قیس نے عرض کیا کہ میں اونٹوں والا ہوں، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہر بچی کے بدلے ایک اونٹ ہدیہ کرلو.
□ قَالَ: سَمِعْتَ النُّعْمَانَ بن بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بن الْخَطَّابِ، يَقُولُ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ: {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سئلت}، قَالَ: جَاءَ قَيْسُ بن عَاصِمٍ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي وَأَدتُ ثَمَانِيَ بناتٍ لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: أَعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا رَقَبَةً. قُلْتُ: إِنِّي صَاحِبُ إِبِلٍ، قَالَ: اهْدِ إِنْ شِئْتَ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ بَدَنَةً. (ذَكَره ابن كثير).
– ومِن طريق عبدالرزاق رواه الطبراني في الكبير.
– والبيهقي في الكبرى بنحوه.
– وقال الهيثمي: رواه البزار والطبراني، ورجال البزار رجال الصحيح غير حسين بن مهدي الأيلي، وهو ثقة.
● ٣. ایک صحابی کا اپنی بیٹی کو کنویں میں ڈالنے کا واقعہ:
ایک صحابی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہم جاہلیت میں بتوں کی عبادت کرتے تھے اور اپنے بچوں کو قتل کرتے تھے. میری ایک بیٹی تھی جو میرے بلانے سے بہت خوش ہوتی تھی، ایک بار میں نے اس کو بلایا تو وہ میرے پیچھے چل پڑی، میں اس کو اپنے قبیلے کے کنویں لایا اور اسکو دھکیل دیا اور وہ ابو ابو کرکے روتی رہی.. آپ علیہ السلام بہت روئے اور اس کو دوبارہ واقعہ بیان کرنے کا حکم دیا اور پھر روئے یہانتک کہ آپ علیہ السلام کے آنسو داڑھی مبارک تک بہنے لگے اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالی نے جاہلیت کے اعمال کو معاف فرمایا ہے.
□ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ النَّضْرِ الرَّمْلِيُّ، عَنْ مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ (مِنْ بَنِي الْحَارِثِ ابْنِ أَبِى الْحَرَامِ، مِنْ لَخْمٍ) عَنِ الْوَضِينِ: أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه و
سلم فَقَالَ: يَارَسُولَ الله! إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ، فَكُنَّا نَقْتُلُ الأَوْلاَدَ، وَكَانَتْ عِنْدِي بِنْتٌ لِي، فَلَمَّا أَجَابَتْ عِبَادَةَ الأَوْثَانِ، وَكَانَتْ مَسْرُورَةً بِدُعَائِي إِذَا دَعَوْتُهَا، فَدَعَوْتُهَا يَوْماً فَاتَّبَعَتْنِي، فَمَرَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُ بِئْراً مِنْ أَهْلِي غَيْرَ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَرَدَّيْتُ بِهَا فِي الْبِئْرِ، وَكَانَ آخِرَ عَهْدِي بِهَا أَنْ تَقُولَ: يَا أَبَتَاهُ يَا أَبَتَاهُ.. فَبَكَى رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم حَتَّى وَكَفَ دَمْعُ عَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم: أَحْزَنْتَ رَسُولَ الله. فَقَالَ لَهُ: «كُفَّ، فَإِنَّهُ يَسْأَلُ عَمَّا أَهَمَّهُ» ثُمَّ قَالَ لَهُ: «أَعِدْ عَلَىَّ حَدِيثَكَ» فَأَعَادَهُ، فَبَكَى حَتَّى وَكَفَ الدَّمْعُ مِنْ عَيْنَيْهِ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «إِنَّ الله قَدْ وَضَعَ عَنِ الْجَاهِلِيَّةِ مَا عَمِلُوا، فَاسْتَأْنِفْ عَمَلَكَ» رجال إسناده ثقات الا انه مرسل. (الدارمي، أبومحمد، مسند الدارمي ت الزهراني، ٤٢/١)

● صحابہ کرام میں بچیوں کو بچانے والے:

حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ (مشہور شاعر فرزدق کے دادا) نے اسلام سے قبل 360 بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے بچایا تھا.
□ الصحابي الجليل “صعصعة بن ناجية” جد الفرزدق الشاعر المشهور، الذي قال: ظهر الإسلام وقد أحييت ثلاثمائة وستين موؤدة، أشتري كل واحدة منهن بناقتين عشراوين وجمل.

خلاصہ کلام

کتب حدیث میں صحابہ کرام کے ایک آدھ واقعے ( قیس بن عاصم اور اور سنن دارمی کی روایت والے صحابی) جن کا اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرنے یا قتل کرنے کو مختصرا بیان کیا گیا ہے.
ان کے علاوہ صحابہ کرام میں سے کسی بھی صحابی کا اپنی بچی کو زندہ دفن کرنا ثابت نہیں، نہ حضرت عمر کا اور نہ حضرت دحیہ کلبی کا.

سوال میں مذکور واقعہ کسی بھی مستند کتاب میں کسی بھی معتبر سند سے منقول نہیں، لہذا اس کو بیان کرنا اور پھیلانا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٤ فروری ٢٠٢٠ کراچی
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
سوال
حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کا پورا نام اور تعارف بتائیے!

جواب


حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا پورا نام دحیہ بن خلیفہ بن فروہ الکلبی تھا ، قضاعہ قبیلہ میں سے کلب بن وبرہ سے تعلق تھا، ان کا نسب نامہ یوں ہے: دحیہ بن خلیفہ بن فروہ بن زید بن امری القیس بن الخزرج زید بن مناۃ بن عامر بن بکر الاکبر بن عوف بن بکر بن عوف بن عذرۃ بن زید اللات بن رفیدہ بن ثور بن کلب۔

کبارِ صحابہ میں سے تھے، غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے، اس کے علاوہ اُحد اور ان کے بعد کے غزوات میں شریک رہے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت تک حیات رہے۔

یہ وہی صحابی ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر بادشاہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا تھا ، حضرت جبرئیل علیہ السلام جب انسانی شکل میں آتے تھے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے تھے ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو جبرئیل کے مشابہ قرارد یا ۔(الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب ، باب الیاء وفی باب الکنی :۱/۱۳۷)۔مزید تفصیل کے لیے طبقات کی بڑی کتابوں کا مطالعہ مفید رہے گا۔ واللہ اعلم



ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144106201028
تاریخ اجراء :18-02-2020
 
Top