قلند کیوں پریشان ہو؟
نقل ہے کہ بعض بزرگوں کے پاس اس قدر مول واسباب وآلات تھے کہ اہل دولت ان پر رشک کرتے تھےایک قلندر راستہ سے گزر رہا تھا ،اس و اونٹوں کی ایک قطار نظر آئی ۔پو چھا یہ اونٹ کس کے ہیں؟ جواب ملا: شیخ الاسلام کے ہیں ،تھوڑی دیر کے بعد دوسری قطار اونٹوں کی ملی ،اس کی بابت بھی معلوم ہوا کہ شیخ االاسلام کی ہے ،اسی طرح راستہ میں جو کچھ سامان اور مال وغلام وغیرہ نظر آئے سب شیخ الاسلام کی ملکیت بتائے گئے ،قلدر ایک لنگی باندھے تھا ،اس نے وہ اس سامان کی طرف پھینک دیاور کہا یہ بھی شیخ الاسلام کی ہو گی ،تھوڑی دیر بعد قلند ر کو نیند آگئی ۔اس نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا میدان ہے اور حساب وکتاب ہو رہا ہے ،قلندر بھی حساب کے لیے پیش ہوا ایک قرض خواہ نے اس سے دس درہم کا مطالبہ کیا ،قلندر حیران ہوا کہ اس میدان میں یہ رقم کیسے مہیا کروں ، جب زیادہ مضطرب ہوا تو شیخ الاسلام نظر آئے اور انہوں نے پو چھا: قلند کیوں پریشان ہو؟ اس نے اپنا حال بیان کیا کہ دس در ہم قرض کے ادا کرنا ہے کہاں سے لاؤں ۔شیخ الاسلام نے اپنے کیسہ کی طرف اشارہ کر کے کہا : اس مں سے جتنا در کار ہو لے لو ۔اس کے بعد فرمایا کہ ائے قلندر ! ہم نے جو مال ومتاع دنیا میںفراہم کیا وہ اسی دن اور اسی کام کے لیے رکھا تھا ۔شیخ ابو سعید ابو الخیر کی دولت مندی بہت مشہور ہے ۔وہ فرماتے تھے کہ طویلہ کی میخ گل یعنی مٹی میں ہے ،میرے دل یں نہیں ہے۔ انہوں نے ایک درویش کو ہزار گھوڑے بیک وقت عطا کر دئیے تھے ۔( لطائف اشرفی ۔ص:۴۸۱)