مسلمانوں کا سنہری دور

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کررہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصت پیش نہیں کرسکی تو غلط نہ ہوگا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات و جغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔

البیرونی نے ایک سو اسی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔ فلکیات پر البیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیا آج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔

بو علی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق و مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریباََ سو کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر برائون کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بوعلی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔

ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر نے شورے‘ گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔

روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔

مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کیلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے ‘ مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔

یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔ ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات ‘ ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔

موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔ چیچک کا ٹیکہ سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیںاور چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔

یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔ یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کردیا۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
دوربین فاصلے پر واقع چیزوں کے مشاہدے کے لیے بنایا گیا ایک آلہ ہوتا ہے۔ دوربینیں چند سو میٹر سے لیکر لاکھوں نوری سال کے فاصلے پر واقع چیزوں کو دیکھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ جو مسلمانوں کی ایجاد ہے۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
قطب نما ایک آلہ ہے جو مسلمانوں کی ایجاد ہے۔ جس سے سمتیں معلوم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ ایک مقناطیسی سوئی سے کام کرتا ہے۔ چونکہ مقناطیسی سوئی کا ایک سرا مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لیے اس سے شمال اور نتیجتاً دوسری سمتیں معلوم کرنا ممکن ہے۔ اسے مسلمانوں نے کئی صدیوں تک ستاروں کی مدد کے علاوہ قطب نما کو سمت شناسی کے لیے استعمال کیا۔ چودھویں صدی میں مغربی دنیا نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ قطب نما کی سوئی مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتی ہے، جغرافیائی شمال کی طرف نہیں۔ اصل سمت سے اس فرق کو مقناطیسی انحراف کہتے ہیں۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اسطرلاب ایک آلہ ہے جو زمانہ قدیم سے زمین کی جغرافیائی سطح اور ناہموار سطح کی پیمائش کے لیے مستعمل ہے۔ قرون وسطیٰ کے زمانہ میں یہ آلہ فلکیات اور ریاضی کے اہم ترین آلات میں شمار کیا جاتا تھا۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
رُبع (قئادرانت) ایک فلکیاتی آلہ ہے جو 90 درجے تک کے زاویے کو ناپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ طول بلد، عرض بلد اور وقت کی پیمائش کے لیے اِس کی مختلف اقسام استعمال کی جاتی ہیں۔ اسے سب سے پہلے بطلیموس (ُتہلعمے) نے ایک اچھے قسم کے اصطرلاب کے طور تجویز کیا۔ بعد میں قرونِ وسطٰی کے مسلم فلکیاتدانوں نے اس کی کئی مختلف اقسام بنائیں۔ 18 ویں صدی عیسوی میں یورپ کی رصد گاہوں میں موقعی فلکیات کے لیے دیواری رُبع استعمال کیے جاتے تھے۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
ابن فرناس جن کا پورا نام عباس قاسم ابن فرناس تھا۔ وہ ایک موجد، مہندس، طیارچی، حکیم، شاعر اور موسیقار، طبعیات، ماہر فلکیات اور کیمیادان تھے۔

گلائیڈر ان کی ایجاد ہے
 

محمدداؤدالرحمن علی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
کافی
کیا آپ کو معلوم ہے کہ کافی جو آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ایک ہے، درحقیقت مسلمانوں کی ایجاد ہے اور یہ کسی سائنسدان کا نہیں بلکہ عام چرواہے عرب کا کارنامہ ہے، جو اپنے جانوروں کو چرا رہا تھا کہ اسے ایک نئے طرز کا بیری ملا اور انہیں ابالنے کے بعد دنیا میں پہلی بار کافی تیار ہوئی۔
 

رعنا دلبر

وفقہ اللہ
رکن
ہسپتال
دنیا کا پہلا ہسپتال بنانے کا سہرا مسلمانوں کے سر جاتا ہے۔یہ ہسپتال 872ء میں مصر کے شہر قاہرہ میں احمد بن طالون کے نام سے قائم کیا گیا۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
شیمپو
یہ چیز پہلی بار ایک مسلمان نے دنیا کو1759ء میں اس وقت متعارف کروائی جب اس نے برطانیہ میں ایک حمام کھولا۔برصغیر کے شیخ دین محمدکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار یورپ کو شیمپو سے متعار ف کروایا۔
 
Top