پہلی خانقاہ

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
پہلی خانقاہ​
پہلی خانقاہ جو صوفیوں کے لیے بنائی گئی ملک شام میں "رملہ" کے مقام پر کسی عیسائی رئیس نے تیار کرائی تھی ،قصہ یوں ہوا ہے کہ ایک عیسائی رئیس شکار کو نکلا ، جنگل میں اس نے دیکھا کہ دو مسلمان بزرگ راستے میں ایک دوسرے کو ملے ، پہلے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ، پھر دونوں نےبیٹھکر جو کچھ انکے پا س تھا سامنے رکھا اور دونوں نے مل کر کھایا ، کھانا کھانے کےبعد دونوں نے اپنی راہ لی ، عیسائی رئیس ان کی باہمی محبت دیکھ کر حیران ہوا اور ان میں ایک بزرگ کو بلا کر پو چھنے لگا کہ وہ کون تھا ،اس نے کہا معلوم نہیں ۔ اس نے کہا ،جب تم ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں ہو تو یہ باہمی الفت ومحبت کہاں سے آئی ۔ بزرگ نے جواب دیا کہ ہم طریقت کے بھائی ہیں اور یہی طریقت ہماری محبت کا باعث ہے ۔ رئیس نے پو چھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں آپ لوگ جمع ہو تے ہوں ،انہوں نےجو اب دیا کہ نہیں ۔ رئیس نے کہا کہ میں تمہارے لیے ایک جگہ بنواتا ہوں تا کہ تم سب ایک جگہ جمع ہو ں ۔ پس اس نے " رملہ" میں ایک خانقاہ بنوائی اور یہ پہلی خانقاہ تھی۔ ( مرآۃ الاسرار ۔ص: ۲۵۹)
 

احمدچشتی

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
رکن
جزاک اللہ۔کیا ہی معلوماتی پوسٹ ہے۔
تصوف عین اسلام ہے۔صوفیہ اکرام کی مطابقت صورتا ومعنا متابعت رسالت پناہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
شیخ شرفُ الدّین احمد یحییٰ مُنیَری نے کہا دنیا کے سب سے پہلے ”صوفی“ آدم علیہ السلام ہیں اور دنیا کی سب سے پہلی ”خانقاہ“ کعبہ مکرمہ ہے (مکتوباتِ صَدی)
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
شیخ شرفُ الدّین احمد یحییٰ مُنیَری نے کہا دنیا کے سب سے پہلے ”صوفی“ آدم علیہ السلام ہیں اور دنیا کی سب سے پہلی ”خانقاہ“ کعبہ مکرمہ ہے (مکتوباتِ صَدی)
اس دعوی پر کوئی دلیل بھی لکھی ہے۔؟
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
پہلی خانقاہ​
پہلی خانقاہ جو صوفیوں کے لیے بنائی گئی ملک شام میں "رملہ" کے مقام پر کسی عیسائی رئیس نے تیار کرائی تھی ،قصہ یوں ہوا ہے کہ ایک عیسائی رئیس شکار کو نکلا ، جنگل میں اس نے دیکھا کہ دو مسلمان بزرگ راستے میں ایک دوسرے کو ملے ، پہلے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ، پھر دونوں نےبیٹھکر جو کچھ انکے پا س تھا سامنے رکھا اور دونوں نے مل کر کھایا ، کھانا کھانے کےبعد دونوں نے اپنی راہ لی ، عیسائی رئیس ان کی باہمی محبت دیکھ کر حیران ہوا اور ان میں ایک بزرگ کو بلا کر پو چھنے لگا کہ وہ کون تھا ،اس نے کہا معلوم نہیں ۔ اس نے کہا ،جب تم ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں ہو تو یہ باہمی الفت ومحبت کہاں سے آئی ۔ بزرگ نے جواب دیا کہ ہم طریقت کے بھائی ہیں اور یہی طریقت ہماری محبت کا باعث ہے ۔ رئیس نے پو چھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں آپ لوگ جمع ہو تے ہوں ،انہوں نےجو اب دیا کہ نہیں ۔ رئیس نے کہا کہ میں تمہارے لیے ایک جگہ بنواتا ہوں تا کہ تم سب ایک جگہ جمع ہو ں ۔ پس اس نے " رملہ" میں ایک خانقاہ بنوائی اور یہ پہلی خانقاہ تھی۔ ( مرآۃ الاسرار ۔ص: ۲۵۹)
بنی اسرائیل میں جن لوگوں نے رہبانت اختیار کی وہ آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں سھراوں میں جا ٹھرے اور جھونپڑوں میں رہتے رہے یہں وہ اذکار ومراقبے کرتے اس تنکوں سے بنی جگہ کو خانہ کاہ کہا جاتا پھراسے خانقاہ کہا جانے لگا حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ نے بہت سے صوفیاء کے بارے میں لکھا ہے وہ خانقاہوں میں رہتے تھے آپ عبدالواحد صوفی کے متعلق لکھتے ہیں ثم توفی شیخا کبیرا بعد ان اقام بخانقاہ السمیساطیہ ( البدایہ 158 جلد 13) معلوم ہوا خانقاہ کالفظ ان ادوار میں غیر معروف لفظ نہ تھا ۔۔ دور اسلام میں جولوگ صفائی باطن میں لگے اور بطور صوفی معروف ہوئے انہوں نے اپنے اذکار ومراقبات کے لئے خانقاہیں بنائیں ان روحانی مراکز کو رباط ( سرائے ) بھی کہا جاتا کبھی انہیں تکیہ بھی کہا جاتا ھو ما یبنی لسکنی فقراء الصوفیہ ویسمی الخانقاہ والتکیہ ( ردالمحتار 615 جلد1) جہاں صوفی فقرا ٹھرتے اسے خانقاہ اور تکیہ بھی کہا جاتا اب سوال یہ ہے خانقاہیں مساجد سے علیحدہ کیوں بنائی گیئں اصل بات یہ بسااوقات سالکین کی تربیت میں وہ انداز بھی اختیا ر کرنا پڑتا ہے جو احکام مسجد کے خلاف ہوتا ہے اسلے صوفیہ نے ان خانقاہوں کو قلبی تزکیہ کی تعلیم گاہ قراردیا
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
ہمارے اساتذہ نے نئی کتاب یا مضمون پڑھنے کا اصول بتایا تھا سب سے پہلے یہ دیکھو لکھنے والا کون ہے
لاجواب اور عمدہ تلقین ہے، یہی تلقین سب کو کرنی چاہیئے
یہ تلقین بہت فائدہ دیتی ہے اس کو پَلَّے باندھ لینا چاہیے
 

احمدچشتی

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
رکن
اس فورم پر کاپی پیسٹ بہت زیادہ ہے۔انتظامیہ کو چاہئیے کہ بینڈ کرے بھلا بتاؤ کوئی محنت کر کے پوسٹ ڈالے کوئی مفت میں نام کماۓ۔محترمہ زنیرہ کی اکثر پوسٹ اسی طریقہ کی ہیں۔گستاخی معاف
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
اس فورم پر کاپی پیسٹ بہت زیادہ ہے۔انتظامیہ کو چاہئیے کہ بینڈ کرے بھلا بتاؤ کوئی محنت کر کے پوسٹ ڈالے کوئی مفت میں نام کماۓ۔محترمہ زنیرہ کی اکثر پوسٹ اسی طریقہ کی ہیں۔گستاخی معاف
محترم چشتی بھائی ۔ کچھ سختی کردی ہے آپ نے ،
سوشل میڈیا ۔۔اکثر کاپی پیسٹ ہی ہوتا ہے ۔۔۔ دراصل ہم سب طلباء ہیں ۔۔۔کوئی چیز سنتے پڑھتے ہیں تو شیئر کرتے ہیں ۔۔۔یہ دراصل ہر انسان کا حاصل مطالعہ ہوتا ہے ۔۔ ۔ اور قرآن و حدیث سے کوئی بات یا اسلاف سے کوئی بات نقل کرنا ۔۔۔کاپی پیسٹ ہی ہوگا ناں ۔ ۔۔ جیسے کوئی تخریج کرنے والا یہ بتاتا ہے کہ کتاب میں اس حدیث کوکہاں سے نقل(یعنی کاپی) کیا گیا ہے ۔
بس آپ یہ کہہ دیتے کہ کوئی بھی نقل کریں۔۔اس پر کچھ اپنا تبصرہ بھی کریں ۔یا مزید تحقیق بھی پیش کریں ۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
اس فورم پر کاپی پیسٹ بہت زیادہ ہے۔انتظامیہ کو چاہئیے کہ بینڈ کرے بھلا بتاؤ کوئی محنت کر کے پوسٹ ڈالے کوئی مفت میں نام کماۓ۔محترمہ زنیرہ کی اکثر پوسٹ اسی طریقہ کی ہیں۔گستاخی معاف
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
محترم جناب چشتی صاحب اول تو آپ کو یہ چاہیئے تھا اگر آپ کو اعتراض تھا تو آپ انتظامیہ سے رابطہ کرتے لیکن آپ نے ایسا کرنے کے بجائے فورم پر پوسٹیں کردیںجو درست نہیں،لہذا کوئی شکایت ہو تو انتظامیہ سے بات کیا کریں،آئندہ احتیاط کیجئے گا۔
یہاں عموما ما سوا ایک دو کے سب طالب علم ہیں یہ فورم سیکھنے سکھانے کی جگہ ہے،اگر کوئی ممبر اپنے مضمون کے لیے کوئی آیت،یا حدیث مبارکہ نقل کرتا ہے تو اس میں اتنا سخت لہجہ استعمال کرنے کیا ضرورت؟
باقی جو میں لکھنا چاہتا تھا وہ ابن عثمان بھائی نے فرمادیا میں اُن کی بات سے متفق ہوں۔
 

احمدچشتی

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
رکن
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
محترم جناب چشتی صاحب اول تو آپ کو یہ چاہیئے تھا اگر آپ کو اعتراض تھا تو آپ انتظامیہ سے رابطہ کرتے لیکن آپ نے ایسا کرنے کے بجائے فورم پر پوسٹیں کردیںجو درست نہیں،لہذا کوئی شکایت ہو تو انتظامیہ سے بات کیا کریں،آئندہ احتیاط کیجئے گا۔
یہاں عموما ما سوا ایک دو کے سب طالب علم ہیں یہ فورم سیکھنے سکھانے کی جگہ ہے،اگر کوئی ممبر اپنے مضمون کے لیے کوئی آیت،یا حدیث مبارکہ نقل کرتا ہے تو اس میں اتنا سخت لہجہ استعمال کرنے کیا ضرورت؟
باقی جو میں لکھنا چاہتا تھا وہ ابن عثمان بھائی نے فرمادیا میں اُن کی بات سے متفق ہوں۔
انشاء اللہ آپ کی ہدایت پر عمل کرونگا۔زنیرہ بہن در گزر فرمائیں۔
 
Top