پہلی خانقاہ
پہلی خانقاہ جو صوفیوں کے لیے بنائی گئی ملک شام میں "رملہ" کے مقام پر کسی عیسائی رئیس نے تیار کرائی تھی ،قصہ یوں ہوا ہے کہ ایک عیسائی رئیس شکار کو نکلا ، جنگل میں اس نے دیکھا کہ دو مسلمان بزرگ راستے میں ایک دوسرے کو ملے ، پہلے انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ، پھر دونوں نےبیٹھکر جو کچھ انکے پا س تھا سامنے رکھا اور دونوں نے مل کر کھایا ، کھانا کھانے کےبعد دونوں نے اپنی راہ لی ، عیسائی رئیس ان کی باہمی محبت دیکھ کر حیران ہوا اور ان میں ایک بزرگ کو بلا کر پو چھنے لگا کہ وہ کون تھا ،اس نے کہا معلوم نہیں ۔ اس نے کہا ،جب تم ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں ہو تو یہ باہمی الفت ومحبت کہاں سے آئی ۔ بزرگ نے جواب دیا کہ ہم طریقت کے بھائی ہیں اور یہی طریقت ہماری محبت کا باعث ہے ۔ رئیس نے پو چھا کہ اچھا یہ بتائیں کہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں آپ لوگ جمع ہو تے ہوں ،انہوں نےجو اب دیا کہ نہیں ۔ رئیس نے کہا کہ میں تمہارے لیے ایک جگہ بنواتا ہوں تا کہ تم سب ایک جگہ جمع ہو ں ۔ پس اس نے " رملہ" میں ایک خانقاہ بنوائی اور یہ پہلی خانقاہ تھی۔ ( مرآۃ الاسرار ۔ص: ۲۵۹)