حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ نے فرما یا کہ اس گروہ میں سب سے پہلے صوفی کے لقب سے جس بزرگ کو موسوم ملقب کیا گیا وہ ابوالہاشم صوفی ہیں ۔ آ پ سے پہلے جو بزرگ گزرے ہیں وہ اپنے زہد سے موصوف تھے اور توکل و عبادت اور طریق محبت میں مشہور و معروف تھے ۔ا ن میں سے کسی کو بھی صوفی نہیں کہا گیا، ان حضرات کو زاہد ، عابد ، متوکل کہا جا تا ہے ۔ حضرت سفیان ثوری قدس سرہٗ سے نقل فرما یا کہ وہ فرما تے تھے کہ اگر ابوالہاشم صوفی نہ ہوتے تو ہم ’’ریا‘‘ کی باریکیوں کو نہ سمجھ پا تے ، وہ یہ بھی فرما یا کر تے کہ جب تک ہم نے ابوالہاشم صوفی کو نہیں دیکھا تھا ہم کو معلوم نہیں تھا کہ صوفی کو ن ہو تا ہے ۔