حدیث شریف میں ہے کہ ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے کہ اصحاب صفہ جن کی تعداد چالیس افراد تھی، صرف ایک ایک خرما (کھجور)کھا کر وقت گزارا کرتے تھے اور ان کے پاس پہننے کے لئے بہت کم کپڑے تھے ، اکثر برہنہ رہتے تھے اور یہ حضرات خود کو ریت میں چھپا لیا کرتے تھے ۔جب نماز کا وقت آتا تو سب کے لئے صرف ایک جوڑے کپڑے تھے ۔ ایک فرد یہ کپڑے پہن کر نماز ادا کرتا ،باقی ریت سے جسم ڈھانکے رہتے ۔ یہ شخص جب نماز ادا کر لیتا تو یہ کپڑے دوسرا شخص پہن لیتا اور نماز ادا کرتا ، اس طرح یکے بعد دیگرے سب اسی ایک لباس سے نماز ادا کرتے ۔ مذہب تصوف کی اصل اسی سے ہے۔ یعنی دنیا سے اعراض کرنا ، مخلوق سے خصومت نہ کرنا، جو کچھ مل جا ئے اس پر قناعت کرنا اور جو ،نہ ملے اس کی طلب و جستجو نہ کرنا ، توکل پر زندگی بسر کرنا اور اختیار اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرنا اور قضائے الٰہی پر راضی رہنا ۔ اہل وطن اور دوستوں سے الگ تھلگ رہنا ۔ یہ تمام صفتیں اہل صفہ کی تھیں اور بعینہٖ یہی تمام صفات اصحاب تصوف کی ہیں اور صوفیہ کا اصل طریقہ یہی تھا ۔ ابتدائے زمانہ سے یہ تمام صفات تبا ہ ہو گئیں جس طرح اور بہت سی خرابیاں دوسرے معاملات میں پیدا ہو ئیں ۔
اصل زہد میں طعن نہیں بلکہ طعن تو اس شخص کے بارے میں ہے جومذہب کے خلاف کرتا ہے ۔ مثلاً اگر کو ئی سودا گر خیا نت و بد دیا نتی کر تے تو اس سے اصل تجا رت پر حرف نہیں آ تا بلکہ قصور سارا تاجر کا ہے (نہ کہ تجا رت کا )یا کو ئی غازی میدانِ جنگ سے بھا گ جا ئے تو اس سے جہاد پر حرف نہیں آ تا ، کوئی عالم دنیا کا طلب گار بن جا ئے تو اصل شریعت تباہ نہیں ہو سکتی ، بادشاہ ظلم و ستم پر کمر باندھے تو بادشاہت کا قصور نہیں ۔ ہر زمانہ میں ہر گروہ ایک دوسرے کے لا ئق ہو اہے(بہر روزگارے ہر گروہے در خودیک بدیگر باشند)صوفیہ بھی اصل میں اسی طریقت کے حامل گزرے ہیں ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے ایک عزیز نے دریافت کیا کہ صوفیوں کے لئے دست بد(زوال)کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرما یا کہ پیر ہروی فرما تے ہیں :حال محال اور کلام میں باطل اشارات۔
(حوالہ :لطائف اشرفی ،لطیفہ۴)
اصل زہد میں طعن نہیں بلکہ طعن تو اس شخص کے بارے میں ہے جومذہب کے خلاف کرتا ہے ۔ مثلاً اگر کو ئی سودا گر خیا نت و بد دیا نتی کر تے تو اس سے اصل تجا رت پر حرف نہیں آ تا بلکہ قصور سارا تاجر کا ہے (نہ کہ تجا رت کا )یا کو ئی غازی میدانِ جنگ سے بھا گ جا ئے تو اس سے جہاد پر حرف نہیں آ تا ، کوئی عالم دنیا کا طلب گار بن جا ئے تو اصل شریعت تباہ نہیں ہو سکتی ، بادشاہ ظلم و ستم پر کمر باندھے تو بادشاہت کا قصور نہیں ۔ ہر زمانہ میں ہر گروہ ایک دوسرے کے لا ئق ہو اہے(بہر روزگارے ہر گروہے در خودیک بدیگر باشند)صوفیہ بھی اصل میں اسی طریقت کے حامل گزرے ہیں ۔
حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمہ اللہ سے ایک عزیز نے دریافت کیا کہ صوفیوں کے لئے دست بد(زوال)کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرما یا کہ پیر ہروی فرما تے ہیں :حال محال اور کلام میں باطل اشارات۔
(حوالہ :لطائف اشرفی ،لطیفہ۴)