حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد اور فتویٰ
یہ واقعہ مشہور صحابیٴ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے۔ ان کو کسی نے اطلاع دی کہ فلاں مسجد کے نمازی نماز کے بعد تسبیح و تہلیل اور تکبیر بلند آواز سے پرھتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ وہ لوگ سُبْحَانَ اللّٰہ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ پڑھتے تھے، اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد ان کلمات کے پڑھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ کلمات، ان کی تعداد، پڑھنے کا وقت سب شریعت اور سنت رسول سے ثابت ہے۔ مگر ان لوگوں نے زیادتی صرف اتنی کی تھی، کہ بجائے پست آواز کے بلند آواز سے پڑھنے لگے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس مسجد میں پہنچے تو اتفاق سے وہ لوگ کنکریوں پر یہ کلمات بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ (جس طرح آج بعض مساجد میں نماز کے بعد بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ذکر ہوتا ہے)
ابن مسعود نے پوچھا! تم ان سنگریزوں پر کیا پڑھ رہے ہو! انھوں نے کہا، خداوند قدوس کی تسبیح و تحمیداور تکبیر و تہلیل کرتے ہیں۔
ان کا یہ جواب سن کر ! عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مَنْ عَرَفَنِیْ فَقَدْ عَرَفَنِیْ وَمَنْ لَمْ یَعْرِفْنِیْ فَاَنَا عَبدُ اللّٰہِ بنُ مَسْعُوْدٍ ․
تم میں سے جو مجھ کو جانتا ہے، سو وہ تو جانتا ہے۔ اورجو نہیں جانتا تو سن لے کہ میں عبداللہ بن مسعود ہوں۔
(محمد عربی کا غلام ہوں، جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا،مسواک اور وضو کا سامان اورمصلیٰ میرے پاس ہوتا تھا، میرے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ابن مسعود کی کمزور اور نحیف پنڈلیاں قیامت کے دن اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی۔ میرے متعلق آقائے نامدار نے فرمایا تھا کہ مَا حَدَّثَکُمْ اِبْنُ مَسْعُوْدٍ فَصَدِّقُوْہُ (ترمذی) جو بات ابن مسعود کہے اس کی تصدیق کیا کرو)
اپنا تعارف کروانے کے بعد فرمایا:
وَیْحَکُمْ یَا اُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا اَسْرَع ہَلَکْتُکُمْ ہٰٓوٴُلَآءِ صَحَابَة بَیْنکُمْ مُتَوَافِرُوْنَ وَہَذَا ثِیَابُہ لَمْ تبلّ وَاٰنِیَتُہ لَمْ تکسر․ (مسند دارمی، ص:۲۸)
تعجب اور افسوس ہے تم پر اے امت محمد! تم کتنی جلدی ہلاکت، بربادی کے کاموں میں پڑ گئے ہو، ابھی تک تمہارے درمیان اصحابِ رسول کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔ اورابھی تک رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے اور ابھی تک آپ کے برتن نہیں ٹوٹے۔ پھر فتویٰ لگاتے ہوئے فرمایا:
فَوَالَّذِیْ لاَ اِلٰہَ غَیْرُہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا معبود اور مشکل کشا کوئی نہیں لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ ظَلْماء ! تم نے ایک تاریک اور سیاہ بدعت ایجاد کی ہے۔ (مجالس الابرار، ص: ۱۳۳)
تَعْلَمُوْنَ اَنَّکُمْ لاَہْدیٰ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّ اَصْحَابِہ ! تم نے یہ کام کرکے ثابت کیا ہے، کہ تم محمد عربی اور ان کے صحابہ سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہو! پھر فرمایا ! لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ عُظمٰی ! تم نے ایک بہت بڑی بدعت ایجاد کی ہے وَلَقَدْ فَضَّلْتُمْ اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ عِلْمًا کیا تم علم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے بڑھ گئے ہو! (احکام الاحکام، ص: ۵۲، ج:۱)
(بدعت کیا ہے؟ از: محمد عطاء اللہ بندیالوی)
یہ واقعہ مشہور صحابیٴ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے۔ ان کو کسی نے اطلاع دی کہ فلاں مسجد کے نمازی نماز کے بعد تسبیح و تہلیل اور تکبیر بلند آواز سے پرھتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ وہ لوگ سُبْحَانَ اللّٰہ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ پڑھتے تھے، اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد ان کلمات کے پڑھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ کلمات، ان کی تعداد، پڑھنے کا وقت سب شریعت اور سنت رسول سے ثابت ہے۔ مگر ان لوگوں نے زیادتی صرف اتنی کی تھی، کہ بجائے پست آواز کے بلند آواز سے پڑھنے لگے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس مسجد میں پہنچے تو اتفاق سے وہ لوگ کنکریوں پر یہ کلمات بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ (جس طرح آج بعض مساجد میں نماز کے بعد بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا ذکر ہوتا ہے)
ابن مسعود نے پوچھا! تم ان سنگریزوں پر کیا پڑھ رہے ہو! انھوں نے کہا، خداوند قدوس کی تسبیح و تحمیداور تکبیر و تہلیل کرتے ہیں۔
ان کا یہ جواب سن کر ! عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مَنْ عَرَفَنِیْ فَقَدْ عَرَفَنِیْ وَمَنْ لَمْ یَعْرِفْنِیْ فَاَنَا عَبدُ اللّٰہِ بنُ مَسْعُوْدٍ ․
تم میں سے جو مجھ کو جانتا ہے، سو وہ تو جانتا ہے۔ اورجو نہیں جانتا تو سن لے کہ میں عبداللہ بن مسعود ہوں۔
(محمد عربی کا غلام ہوں، جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا،مسواک اور وضو کا سامان اورمصلیٰ میرے پاس ہوتا تھا، میرے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ابن مسعود کی کمزور اور نحیف پنڈلیاں قیامت کے دن اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی۔ میرے متعلق آقائے نامدار نے فرمایا تھا کہ مَا حَدَّثَکُمْ اِبْنُ مَسْعُوْدٍ فَصَدِّقُوْہُ (ترمذی) جو بات ابن مسعود کہے اس کی تصدیق کیا کرو)
اپنا تعارف کروانے کے بعد فرمایا:
وَیْحَکُمْ یَا اُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا اَسْرَع ہَلَکْتُکُمْ ہٰٓوٴُلَآءِ صَحَابَة بَیْنکُمْ مُتَوَافِرُوْنَ وَہَذَا ثِیَابُہ لَمْ تبلّ وَاٰنِیَتُہ لَمْ تکسر․ (مسند دارمی، ص:۲۸)
تعجب اور افسوس ہے تم پر اے امت محمد! تم کتنی جلدی ہلاکت، بربادی کے کاموں میں پڑ گئے ہو، ابھی تک تمہارے درمیان اصحابِ رسول کثرت کے ساتھ موجود ہیں۔ اورابھی تک رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پرانے نہیں ہوئے اور ابھی تک آپ کے برتن نہیں ٹوٹے۔ پھر فتویٰ لگاتے ہوئے فرمایا:
فَوَالَّذِیْ لاَ اِلٰہَ غَیْرُہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا معبود اور مشکل کشا کوئی نہیں لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ ظَلْماء ! تم نے ایک تاریک اور سیاہ بدعت ایجاد کی ہے۔ (مجالس الابرار، ص: ۱۳۳)
تَعْلَمُوْنَ اَنَّکُمْ لاَہْدیٰ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّ اَصْحَابِہ ! تم نے یہ کام کرکے ثابت کیا ہے، کہ تم محمد عربی اور ان کے صحابہ سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہو! پھر فرمایا ! لَقَدْ جِئْتُمْ بِبِدْعَةٍ عُظمٰی ! تم نے ایک بہت بڑی بدعت ایجاد کی ہے وَلَقَدْ فَضَّلْتُمْ اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ عِلْمًا کیا تم علم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے بڑھ گئے ہو! (احکام الاحکام، ص: ۵۲، ج:۱)
(بدعت کیا ہے؟ از: محمد عطاء اللہ بندیالوی)