اہل اللہ تو اپنے آپ کو چھپاتے ہیں

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
ایک شخص نے حضرت حکیمُ الامّت تھانوی رحمۃُاللہ علیہ کو لکھا کہ ہمارے گاؤں میں ایک شخص ہے جو دعویٰ کرنے لگا ہے کہ وہ ابدال ہے۔ حضرت حکیمُ الامت نے ہنس کر فرمایا کہ جی ہاں یہ پہلے گوشت تھا اب دال ہوگیا اور فرمایا کہ اس کا یہ دعویٰ دلیل ہے اس کے ابدال نہ ہونے کی کیوں کہ جو ابدال ہوتا ہے وہ گاتا نہیں پھرتا کہ میں ابدال ہوں۔ اہل اللہ تو اپنے آپ کو چھپاتے ہیں، اپنے اشتہار نہیں لگاتے۔
اے خُدا ایں بندہ را رسوا مکن
گربدم من سرِّ من پیدا مکن
اے خُدا! اگر میرے گُناہ بے شمار ہیں تو آپ کا پردۂ ستّاریت بھی تو غیر محدود ہے۔ پس میرے بے شمار لیکن محدود گناہوں کو اپنے غیر محدود پردۂ ستّاریت کے کسی گوشے میں چھپادیجیے اور اس بندہ کو رسوا نہ کیجیے۔ اگرچہ میں بُرا ہوں لیکن میرے عیوب کو آپ نے مخلوق سےچھپایا ہے پس آپ ہمیشہ میری پردہ پوشی فرمائیے اور میرے عیوب کو مخلوق پر ظاہر نہ کیجیے نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔
ہمارے پردادا پیر سید الطائفہ شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃُ اللہ علیہ کعبۃ المکرمہ کے سامنے ساری رات سجدے میں اس شعر کو پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ فجر کی اذان ہوگئی۔
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
اہل اللہ کی محبت اللہ خود اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالدیتا ہے بلکہ جبرئیل سے اعلان کروایا جاتا ہے اس سے اللہ محبت کرتا ہے تم بھی محبت کرو انہیں خود اعلان نہیں کر نے پڑتے کہ میں اللہ کا ولی ہوں
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
انسان کا دل اللہ کے محبت سے بھرا ہوتا ہے۔ بس ایک جوہری کی طرح اسے تراشنا ہوتا ہے۔
منزل سامنے ہوتی ہے بس راہ دکھانا ہوتا ہے۔
اور اہل اللہ ہمارے آس پاس خوشبو کی مانند ہوتے ہیں
ماحول کو معطر رکھتے ہیں
ان کی خوشبو کو محسوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
انسان کا دل اللہ کے محبت سے بھرا ہوتا ہے۔ بس ایک جوہری کی طرح اسے تراشنا ہوتا ہے۔
منزل سامنے ہوتی ہے بس راہ دکھانا ہوتا ہے۔
اور اہل اللہ ہمارے آس پاس خوشبو کی مانند ہوتے ہیں
ماحول کو معطر رکھتے ہیں
ان کی خوشبو کو محسوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
بہت خوب جی
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
انسان کا دل اللہ کے محبت سے بھرا ہوتا ہے۔ بس ایک جوہری کی طرح اسے تراشنا ہوتا ہے۔
منزل سامنے ہوتی ہے بس راہ دکھانا ہوتا ہے۔
اور اہل اللہ ہمارے آس پاس خوشبو کی مانند ہوتے ہیں
ماحول کو معطر رکھتے ہیں
ان کی خوشبو کو محسوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
ماشاءاللہ
 
Top