حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے معاملے میں ائمہِ فقہ کی تصریحات کی تحقیق درکار ہے

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
قَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْغِيْنَانِيُّ فِي ‹‹الْهِدَايَةِ››: ثُمَّ يَجُوْزُ التَّقَلُّدُ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ كَمَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَادِلِ، لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رضی اللہ عنہم تَقَلَّدُوْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ، وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ علیہ السلام فِي نَوْبَتِهِ. وَالتَّابِعِيْنَ تَقَلَّدُوْهُ مِنَ الْحَجَّاجِ وَكَانَ جَائِرًا.

امام ابو الحسن المرغینانی اپنی کتاب ’’ الهدایة‘‘ میں لکھتے ہیں: (قاضی کے لیے) غیر عادل حکمران سے عہدہ و منصب لینا اُسی طرح جائز ہے جس طرح عادل حکمران سے یہ عہدہ لینا جائز ہے۔ کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ ذمہ داری قبول کی تھی؛ حالاں کہ ان کی خلافت کے معاملے میں حق حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اسی طرح تابعین نے بھی حجاج کے دورِ حکومت میں قضاء کی ذمہ داریاں سنبھالیں، حالاں کہ وہ ایک ظالم حکمران تھا۔ (غیر عادل حکمران سے قضاء وغیرہ کی ذمہ داری قبول کرلینے کا مقصد صرف مخلوقِ خدا کی خدمت اور انہیں اِنصاف کی فراہمی کے عمل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔)

المرغيناني في الهداية شرح بداية المبتدي، 3/102

قَالَ ابْنُ الشَّيْخِ جَمَالُ الدِّيْن الرُّوْمِيُّ الْبَابَرْتِيُّ فِي الْعِنَايَةِ شَرْحِ الْهِدَايَةِ تَحْتَ عِبَارَةِ الْمَرْغِيْنَانِيِّ: (قَوْلُهُ: ثُمَّ يَجُوْزُ التَّقَلُّدُ) تَفْرِيْعٌ عَلَى مَسْأَلَةِ الْقُدُوْرِيِّ يَتَـبَيَّنُ أَنَّهُ لَا فَرْقَ فِي جَوَازِ التَّقَلُّدِ لِأَهْلِهِ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ الْمُوَلِّي عَادِلًا أَوْ جَائِرًا، فَكَمَا جَازَ مِنَ السُّلْطَانِ الْعَادِلِ جَازَ مِنَ الْجَائِرِ، وَهَذَا؛ لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رضی اللہ عنہم تَقَلَّدُوا الْقَضَاءَ مِنْ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہما فِي نَوْبَتِهِ، دَلَّ عَلَى ذَلِكَ حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضی اللہ عنہ (1)،۔۔۔۔۔۔ وَعُلَمَاءُ السَّلَفِ وَالتَّابِعِينَ تَقَلَّدُوهُ مِنَ الْحَجَّاجِ وَجَوْرُهُ مَشْهُورٌ فِي الْآفَاقِ( 2)

ابن الشیخ جمال الدین الرومی البابرتی ’’العناية شرح الهداية‘‘ میں امام مرغینانی کی عبارت کے تحت لکھتے ہیں: امام مرغینانی کا یہ کہنا کہ [عہدہ لینا جائز ہے] امام قدوری کے بیان کردہ مسئلہ پر تفریع ہے جو اس بات کو خوب واضح کرتی ہے کہ اَہل، مستحق اور قابل اَفراد کے عہدہ و منصب لینے کے جائز ہونے میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تقرری کرنے والا حکمران عادل ہے یا غیر عادل۔ لہٰذا جس طرح کسی نیک اور خود عادل حکمران سے ذمہ دار ی لینا درست ہے، اُسی طرح غیر عادل حکمران سے بھی کسی عہدے کی ذمہ داری قبول کرنا جائز ہے۔

یہ اِس لیے بھی روا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے (ان کے دورِ ملوکیت میں مفادِ عامہ کی غرض سے) قضاء کی ذمہ داریاں قبول کی تھیں، حالاں کہ خلافت کے اَصل حق دار اس وقت حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم تھے۔ اس (خلافت کی حقانیت) پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی حدیث صراحتاً دلالت کرتی ہے۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اِقتداء میں ) علماء سلف صالحین اور تابعین نے بھی حجاج کے زمانہ میں اس سے ذمہ داریاں اور عہدے لیے، حالاں کہ اس کا ظلم کل عالم میں مشہور تھا۔

  1. أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الصلاة، أبواب المساجد، 1/172، الرقم/436، وأيضًا في كتاب الجهاد والسير، باب مسح الغبار عن الناس في السبيل، 3/1035، الرقم/2657، ومسلم في الصحيح، كتاب الفتن وأشراط الساعة، باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل، 4/2235-2236، الرقم/2915- 2916
  2. ابن الشيخ جمال الدين الرومي البابرتي في العناية شرح الهداية (على حاشية شرح فتح القدير)، 7/246
    اہل علم سے درج بالا حوالہ جات کی وضاحت و توضیح و تحقیق درکار ہے ؟؟
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
سب سے پہلے تو ییہ ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ کریں جو ایسے تمام موقعوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کا مفہوم ہے کہ،
جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔
(مسند احمد ، سنن ابن ماجہ - قال البوصیری، صحیح)

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی بھی بات سنیں ، ہمیں اس حدیث پر عمل کرنا چاہیے ،
تو اسی طرح ان شاء اللہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے بارے میں بھی نیک گمان ایسا کرنا چاہیے جو ہدایت و تقوی پر مبنی ہو۔

اللہ تعالیٰ کی کتاب کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جس کا ایک ایک لفظ صحیح ہو۔ صحیح ترین کتب میں بھی کوئی نہ کوئی شاذ رائے موجود ہوتی ہے ،ہمیں یہ حکم ہے کہ امت کے اجتماع سے جڑے رہیں اور اسلاف سے بد ظن ہونے کی بجائے حُسن ظن رکھیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آپس کے اختلاف میں اہل السنۃ کا موقف معروف ہے کہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب تھا ۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی خطا ہوئی تھی جس میں ایک اجر ملتا ہے ۔ اور دونوں گروہوں کے بارے میں انتہائی اچھا گمان رکھنا چاہیے ۔ اور کفِ لسان رہنا چاہیے۔

البتہ فقہ کی کتب میں جب کوئی مسئلہ زیر بحث ہوتا ہے تو فقہی حوالے سے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔مثلاََ اسلامی حکومت کا ایک ہی امام یا خلیفہ ہوتا ہے ۔ دو نہیں ہوتے ۔
تو پھر لفظ جائر یا بعض کتب میں جو باغی لفظ ملتا ہے وہ فقہی اصطلاح کے طور پر ہے ۔

اور پھر آپ حُسن ظن سے صاحب ہدایہ کی عبارت کو بھی دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سب سے پہلے متن بدایۃ کی عبارت ہے ۔

ثُمَّ يَجُوْزُ التَّقَلُّدُ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ كَمَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَادِلِ،

پھر شرح یعنی ہدایۃ کی عبارت ہے یعنی بالکل متصل نہیں ۔

بہرحال۔ اس میں حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ جائر کا لفظ نہیں ہے جس طرح حجاج کے ساتھ ہے ، بلکہ ان کے ساتھ سکوت ہے بس انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ حق اُن کے ساتھ تھا۔

لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رضی اللہ عنہم تَقَلَّدُوْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ، وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ علیہ السلام فِي نَوْبَتِهِ

اور اس میں ((فی نوبتہ)) بھی اہم ہے، اس سے صاحب ہدایہ نے ۲ باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ شراح حافظ ابن ہمام ؒ اور علامہ عینیؒ نے بھی فرمایا ہے کہ یہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ((فی نوبتہ)) یعنی اُن کی باری یعنی خلافت کے وقت تھا۔ روافض کہتے ہیں کہ ہر وقت حضرت علی ؓ کی طرف تھا خلفاء ثلاثہ کے دور میں بھی ، یہ اُن کا رد ہے ۔

اور دوسرا اشارہ یہ نکلتا ہے ((فی نوبتہ)) سے کہ حضرت معاویہ ؓ سے متعلق جو فقہی اصطلاح ہے یہ بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح تک کے بارے میں ہے ۔ اس کے بعد تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بھی خلافت پر اتفاق ہوگیا۔

بہرحال صحابی ؓ کا درجہ اگر کسی بعد کے کسی عالم کی کسی عبارت کی وجہ سے کم ہورہا ہو تو پھر زیادہ بہتر ہے کہ اُس عالم کا تسامح سمجھ لیا جائے ۔

یہ اُن کے لئے جن سے حسن ظن میں ذرا مشکل پیش آرہی ہو۔

اور وہ نادان جنہوں نے بد ظنی کرنی ہے تو اس کو اوپر والی حدیث مبارکہ سنائی جائے گی اور کہا جائے گا کہ

بدگمانی سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔(مفہوم آیت)

واللہ اعلم
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
امام ابوحنیفہ نے خراسان کے بلند مرتبت فقیہ امام ابراہیم الصائغ کو خود یہ حدیث سنائی:”شہیدوں میں بہترین حمزہ بن عبد المطلب ہیں اور وہ شخص جو ظالم حکمران کے سامنے کھڑے ہو کر اچھے کام کی اور برے کام سے روکنے کی پاداش میں قتل کیا جائے۔“

امام ابوحنیفہ کے مؤقف کا خلاصہ یہ ہے کہ ظالم حکمران کو ظلم سے روکنا واجب ہے
اور اس کے لیے خروج کی راہ بھی اختیار کی جاسکتی ہے لیکن چونکہ اس راہ میں بڑی خونریزی کا امکان ہوتا ہے اس لیے خروج سے پہلے خروج کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
۔
ماشاء اللہ۔۔ آپ نے اس قول کی و ضاحت کی ہے ۔لیکن واقعتاً عبارت سے الجھاؤ پیداہو رہا۔ ۔ لہذا اس کومتفرقات میں منتقل کیا جار ہا ۔ ۔ ۔ ۔امید کرتا ہوں ۔ ۔ محسوس نہیں فرمائیں گی ۔ ۔جزاکِ اللہ خیر
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
سب سے پہلے تو ییہ ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ کریں جو ایسے تمام موقعوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کا مفہوم ہے کہ،
جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔
(مسند احمد ، سنن ابن ماجہ - قال البوصیری، صحیح)

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی بھی بات سنیں ، ہمیں اس حدیث پر عمل کرنا چاہیے ،
تو اسی طرح ان شاء اللہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے بارے میں بھی نیک گمان ایسا کرنا چاہیے جو ہدایت و تقوی پر مبنی ہو۔

اللہ تعالیٰ کی کتاب کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جس کا ایک ایک لفظ صحیح ہو۔ صحیح ترین کتب میں بھی کوئی نہ کوئی شاذ رائے موجود ہوتی ہے ،ہمیں یہ حکم ہے کہ امت کے اجتماع سے جڑے رہیں اور اسلاف سے بد ظن ہونے کی بجائے حُسن ظن رکھیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آپس کے اختلاف میں اہل السنۃ کا موقف معروف ہے کہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب تھا ۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجتہادی خطا ہوئی تھی جس میں ایک اجر ملتا ہے ۔ اور دونوں گروہوں کے بارے میں انتہائی اچھا گمان رکھنا چاہیے ۔ اور کفِ لسان رہنا چاہیے۔

البتہ فقہ کی کتب میں جب کوئی مسئلہ زیر بحث ہوتا ہے تو فقہی حوالے سے اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔مثلاََ اسلامی حکومت کا ایک ہی امام یا خلیفہ ہوتا ہے ۔ دو نہیں ہوتے ۔
تو پھر لفظ جائر یا بعض کتب میں جو باغی لفظ ملتا ہے وہ فقہی اصطلاح کے طور پر ہے ۔

اور پھر آپ حُسن ظن سے صاحب ہدایہ کی عبارت کو بھی دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سب سے پہلے متن بدایۃ کی عبارت ہے ۔

ثُمَّ يَجُوْزُ التَّقَلُّدُ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ كَمَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَادِلِ،

پھر شرح یعنی ہدایۃ کی عبارت ہے یعنی بالکل متصل نہیں ۔

بہرحال۔ اس میں حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ جائر کا لفظ نہیں ہے جس طرح حجاج کے ساتھ ہے ، بلکہ ان کے ساتھ سکوت ہے بس انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ حق اُن کے ساتھ تھا۔

لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رضی اللہ عنہم تَقَلَّدُوْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ، وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ علیہ السلام فِي نَوْبَتِهِ

اور اس میں ((فی نوبتہ)) بھی اہم ہے، اس سے صاحب ہدایہ نے ۲ باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ شراح حافظ ابن ہمام ؒ اور علامہ عینیؒ نے بھی فرمایا ہے کہ یہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ((فی نوبتہ)) یعنی اُن کی باری یعنی خلافت کے وقت تھا۔ روافض کہتے ہیں کہ ہر وقت حضرت علی ؓ کی طرف تھا خلفاء ثلاثہ کے دور میں بھی ، یہ اُن کا رد ہے ۔

اور دوسرا اشارہ یہ نکلتا ہے ((فی نوبتہ)) سے کہ حضرت معاویہ ؓ سے متعلق جو فقہی اصطلاح ہے یہ بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح تک کے بارے میں ہے ۔ اس کے بعد تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بھی خلافت پر اتفاق ہوگیا۔

بہرحال صحابی ؓ کا درجہ اگر کسی بعد کے کسی عالم کی کسی عبارت کی وجہ سے کم ہورہا ہو تو پھر زیادہ بہتر ہے کہ اُس عالم کا تسامح سمجھ لیا جائے ۔

یہ اُن کے لئے جن سے حسن ظن میں ذرا مشکل پیش آرہی ہو۔

اور وہ نادان جنہوں نے بد ظنی کرنی ہے تو اس کو اوپر والی حدیث مبارکہ سنائی جائے گی اور کہا جائے گا کہ

بدگمانی سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔(مفہوم آیت)

واللہ اعلم
جی میرے بھائی @ابن عثمان اللہ پاک آپ کو سلامت رکھیں ۔ بہت ہی عمدہ نکات ذکر کیے۔ جزاک اللہ خیر ۔ آپ نے ابن ہمام ؒ کا ذکر کیا ۔ شرح فتح القدیر کا۔۔ حوالہ ذیل میں موجود ہے۔
ھذا تصریح بجورمعاویہ، و المراد فی خروجہ لا فی اقضیتہ

یہ سیدنا معاویہؓ کے جور (خطاء)کی تشریح ہے، اور اس سے مراد ان کا(علیؓ سے) خروج ہے نہ کے ان کے فیصلے۔
بالکل ایسے ہی اعلاء السنن میں وضاحت ہے۔
قلت کلا بل کنایۃ عن خطاء فی الاجتھاد

(جور کا لفظ) کنایہ کے طور پر خطاء اجتھادی کے لئے ہے۔

اعلاء السنن جلد 15 صفحہ 52


2019-06-21 11.15.54.839.jpg 2019-06-21 11.15.52.340.jpg
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
یہاں پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے۔۔ کہ ایک طرف ہم صحابہ کو محفوظ عن الخطا کہتے ہیں۔ اور دوسری طرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خطاء کا لفظ بھی جوڑتے ہیں۔۔۔۔۔تو آپ نے اوپر وضاحت بھی فرمائی کہ یہ اجتہادی خطا تھی اور اہلسنت کا موقف بھی یہی ہے۔
تو اہلسنت کے نزدیک سیدنا علی اور حضرت امیر معاویہ کے بیچ قصاص عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر جو اختلاف تھا اس معاملے میں حضرت امیر معاویہ کا مؤقف “قاتلین عثمان سے فورا قصاص لینا” درست نہ تھا ، سیدنا علی کا مؤقف “قاتلین عثمان سے قصاص حکومت مستحکم ہونے کے بعد” درست تھا۔ وقتِ قصاص کا اختلاف دونوں جلیل القدر صحابہ کرام کے بیچ جنگ و جدل کی وجہ بنا۔ اس معاملے میں حضرت امیر معاویہ خطا پر تھے ، یہ خطا اجتہادی خطا تھی، کیونکہ قصاص کامطالبہ ورثاء کا حق ہے جو عین شریعت کے مطابق ہے۔
اجتہادی خطا کا عرصہ بھی اس وقت ختم ہوگیا جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے صلح ہوگئی۔علامہ عینی ؒ نے ھدایہ کی شرح البنایہ جلد8 ص 15 پر اس کی بھی وضاحت کی ہے

وعند أهل السنة رَحِمَهُمُ اللَّهُ، معاوية رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كان باغيا في نوبة علي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وبعده إلى زمان ترك أمير المؤمنين حسن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الخلافة إليه فانعقد الإجماع على خلافة معاوية رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بعده

ترجمہ۔ اور اھل السنت کے نزدیک معاویہؓ سیدنا علیؓ کے دور میں باغی تھے اور اس دور تک جب تک سیدنا حسن ؓ نے خلافت ان کے حوالے کردی تھی، اس کے بعد سیدنا معاویہؓ کی خلافت پر اجماع ہوگیا تھا۔2019-06-21 11.15.48.978.jpg
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خطا پر ہونا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دور تک تھا۔ یہی علمائے اہل سنت احناف کا موقف ہے۔
ثانیا ً ۔۔۔ مکتوبات اما م ربانی میں مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ اسی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

جو بعض فقہاء نے اپنی عبارات میں معاویہؓ کے حق میں لفظ ’’جور‘‘ استعمال کیا ہے اور کہا ہے
کان معاویہ اماما جائر (معاویہ جور کرنے والے امام تھے) تو اس جور سے مراد یہ ہے کہ حضرت امیر (علیؓ)کے زمانے میں امیر معاویہؓ خلافت کے حقدار نہیں تھے، نہ کہ وہ جور جس کا انجام فسق و ضلالت ہے۔(یہ توجیہ اس لئے ہے) تاکہ اھل السنت کے اقوال کے موافق ہوجائے۔ اس کے باوجود استقامت والے حضرات ایسے الفاظ سے اجتناب کرتے ہیں جن سے مقصود کے خلاف وہم پیدا ہوتا ہو۔ اور’’خطاء‘‘ سے زیادہ کہنا پسند نہیں کرتے۔۔ اور امیر معاویہؓ جور کرنے والے کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ صحیح طور پر تحقیق ہوچکا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حقوق اور مسلمانوں کے حقوق میں امام عادل تھے۔

مکتوبات امام ربانی دفتر اول حصہ دوم صفحہ 188، 1892019-06-21 11.15.58.006.jpg
 

محمد عثمان غنی

طالب علم
Staff member
ناظم اعلی
قَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْغِيْنَانِيُّ فِي ‹‹الْهِدَايَةِ››: ثُمَّ يَجُوْزُ التَّقَلُّدُ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ كَمَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَادِلِ، لِأَنَّ الصَّحَابَةَ رضی اللہ عنہم تَقَلَّدُوْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ، وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ علیہ السلام فِي نَوْبَتِهِ. وَالتَّابِعِيْنَ تَقَلَّدُوْهُ مِنَ الْحَجَّاجِ وَكَانَ جَائِرًا.
آج ایک بہت ہی پیارے دوست ہیں ان سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایک حوالہ بھیجا جس کو ہم "سو سنار کی ایک لوہار کی " کے تحت ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
یہاں جائر کا معنی ہدایہ کےمترجمین نے ظالم کیا ہے جس سے بغض معاویہ کے مریض دلیل لیتے ہیں۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ظلم کا لفظ تو آدم علیہ السلام کے لئے بھی بولا گیا ہے۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ (اعراف آیت 23)

تو بغض معاویہ کے مریض کیا یہاں بھی یہی معنی کریں گے کہ آدم علیہ السلام نے گناہ کیا تھا؟؟ معاذاللہ

تو اس آیت میں ظلم کا معنی خطاء کیا جاتا ہے کہ آدم علیہ السلام سے خطاء ہوئی، تو ھدایہ کی عبارت میں بھی ظلم کا معنی خطاء ہی کیا جائے گیا ۔
یہاں آپ والی بات صادق آتی ہے @ابن عثمان بھائی کہ
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے بارے میں بھی نیک گمان ایسا کرنا چاہیے جو ہدایت و تقوی پر مبنی ہو۔
 

محمد یوسف صدیقی

وفقہ اللہ
رکن
احباب کی توجہ چاہونگا :
اگر کسی صحابی رسول پر کسی بزرگ کی عبارت کی وجہ سے طعن آتا ہو تو اس بزرگ کی عبارت کی تاویل کرنے کی بجائے اگر اس عبارت کو غلط یا اس بزرگ کی غلطی و زیادتی کہ دی جائے تو یہ بہتر ہے ، ،کیونکہ اس امت کے اصل بزرگ اصحاب رسول ہیں
 

محمد یوسف صدیقی

وفقہ اللہ
رکن
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق کے زیادہ قریب تھے یہ بات محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے ،
اب جس کسی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خاطی کہا یا ان کی طرف خطائے اجتھادی کی نسبت کی وہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں خود خطا پر ہے
حدثنا ابو الربيع الزهراني ، وقتيبة بن سعيد ، قال قتيبة: حدثنا ابو عوانة ، عن قتادة ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تكون في امتي فرقتان، فتخرج من بينهما مارقة، يلي قتلهم اولاهم بالحق ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے اور ان دونوں میں ایک فرقہ جدا ہو جائے گا اور ان کو قتل کرے گا وہ گروہ جو حق سے قریب ہو گا۔“
مسلم حدیث نمبر: 2459

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختلاف کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ایک گروہ حق پر ہوگا اور دوسرا باطل پر،آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاف لفظوں میں فرماسکتے تھے کہ جو حق پر ہوگا وہ خوارج سے قتال کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خواہش سے نہیں بولتے تھے بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے ہی بولتے تھے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی نبی کی زبان پر ایسے شاندار الفاظ دیئے کہ دشمن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لیے تاقیامت اعتراضات کا دروازہ بند کردیا،اسی لیے فرمایا کہ: جو دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہوگا،
محمد رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے ہوتے ہوئے ایک گروہ کو حق پر سمجھنا دوسرے کی طرف خاطی یا خطائے اجتھادی کی رائے کوئی حثیت نہیں رکھتی خواہ وہ کسی نے لکھا ہو ،
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جو لوگ حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حق پر نہیں سمجھتے تو ایسے لوگوں سے کیا بحث کرنی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے یا نہیں تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ زیادہ حق پر تھے یہی ہمارے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے
 

محمد یوسف صدیقی

وفقہ اللہ
رکن
محترمہ : آپ منتظم اعلی ہیں اس فورم کی ، اس لئےسوچ سمجھ کر لکھا کریں ۔ آپ نے لکھا ہے کہ
(سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے یا نہیں تھے )ان الفاظ کا کیا مطلب؟
جب حدیث مبارکہ میں دونوں کا حق پر ہونا ثابت ہوگیا اور حق کے زیادہ قریب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے پھر یہ لکھنا کہ حق پر تھے یا نہیں تھے کا کیا مطلب؟
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
محترمہ : آپ منتظم اعلی ہیں اس فورم کی ، اس لئےسوچ سمجھ کر لکھا کریں ۔ آپ نے لکھا ہے کہ
(سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے یا نہیں تھے )ان الفاظ کا کیا مطلب؟
جب حدیث مبارکہ میں دونوں کا حق پر ہونا ثابت ہوگیا اور حق کے زیادہ قریب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے پھر یہ لکھنا کہ حق پر تھے یا نہیں تھے کا کیا مطلب؟
کچھ لوگوں کو ایک بیماری لاحق ہوتی ہے
مریض کا اصل مرض یہ ہوتا ہے کہ وہ ادھوری تحریر کو کوٹ کر کے ایشو بنا دیتا ہے
کیوں کہ وہ تنقید در تنقید کی بنیاد پر اپنے ذہن کو اس مرض میں مبتلا کر دیتے ہیں
میری تحریر کچھ اس طرح تھی
جو لوگ حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حق پر نہیں سمجھتے
تو ایسے لوگوں سے کیا بحث کرنی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے یا نہیں تھے
حضرت علی رضی اللہ عنہ زیادہ حق پر تھے یہی ہمارے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے
میرے کہنے کا مطلب وہی ہے کہ دونوں کا حق پر ہونا ثابت ہوگیا اور حق کے زیادہ قریب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے
اور مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ میں منتظم اعلیٰ ہوں اس فورم کی اور مجھے سوچ سمجھ کر لکھنا چاہیے
الحمداللہ بہت اچھی طرح سوچ کر لکھتی ہوں بس سمجھنے والا مغز چاہیے
 

ابن عثمان

وفقہ اللہ
رکن
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حق پر تھے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق کے زیادہ قریب تھے یہ بات محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے ،
اب جس کسی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خاطی کہا یا ان کی طرف خطائے اجتھادی کی نسبت کی وہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں خود خطا پر ہے
حدثنا ابو الربيع الزهراني ، وقتيبة بن سعيد ، قال قتيبة: حدثنا ابو عوانة ، عن قتادة ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تكون في امتي فرقتان، فتخرج من بينهما مارقة، يلي قتلهم اولاهم بالحق ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے اور ان دونوں میں ایک فرقہ جدا ہو جائے گا اور ان کو قتل کرے گا وہ گروہ جو حق سے قریب ہو گا۔“
مسلم حدیث نمبر: 2459

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختلاف کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ایک گروہ حق پر ہوگا اور دوسرا باطل پر،آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاف لفظوں میں فرماسکتے تھے کہ جو حق پر ہوگا وہ خوارج سے قتال کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خواہش سے نہیں بولتے تھے بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے ہی بولتے تھے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی نبی کی زبان پر ایسے شاندار الفاظ دیئے کہ دشمن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لیے تاقیامت اعتراضات کا دروازہ بند کردیا،اسی لیے فرمایا کہ: جو دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہوگا،
محمد رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے ہوتے ہوئے ایک گروہ کو حق پر سمجھنا دوسرے کی طرف خاطی یا خطائے اجتھادی کی رائے کوئی حثیت نہیں رکھتی خواہ وہ کسی نے لکھا ہو ،
جزاک اللہ ۔ بہت اچھی حدیث مبارکہ نقل فرمائی ہے ۔
لیکن آپ کی اپنی جو عبارات ہیں ، وہ کافی سخت ہوگئی ہیں ۔ آپ نے خود ہی ایک موقف جو جمہور علماء کا ہے ، اُس کی اپنی تشریح کر رہے ہیں اور خود سے ہی نبی کریم ﷺ کی حدیث کا مقابل بھی بنا رہے ہیں ۔
یہ بھی تو نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ۔۔۔مجتہد مصیب کو دو اجر ملیں گے، اور دوسرے کو ایک اجر۔(مفہوم)
اجتہادی خطا ء کی تشریح باطل سے آپ نےکیسے کی ہے ۔ بلکہ یہ اولاھم بالحق کی روایت ہی کے قریب مفہوم ہے ۔
باطل والے کو ایک اجر بھی نہیں ملے گا۔
اور اجتہادی خطاء جس پر ایک اجر کا وعدہ ہے ،سے بھی ان شاء اللہ دشمنِ صحابہ ر ضی اللہ عنہم کا رستہ بند ہی ہے ۔
مودودی صاحب مرحوم نے یہ غلطی کی تھی (اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کرے) کہ صراحتاََ لکھا کہ یہ خطا اجتہادی نہیں بلکہ صرف خطا تھی ۔
اگرچہ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ اس میں نیت نیک تھی ۔
لیکن پھر اُس کے بعد آنے والے بعض بیماروں نے خطاء عنادی قرار دی ۔

دراصل اس عنوان میں فقہ کی عبارت پر تبصرہ سے بات شروع ہوئی تھی ۔ مشاجرات کا مضمون بذات خود عنوان نہیں ہے ۔
اب جب فقہ میں چیزیں جب بحث میں آتی ہیں تو انہیں ذکر کرنا ہوتا ہے ۔انفرادی طور پر اگر کسی عالم نے کم معلومات کی بناء پر کچھ غلط تعبیرات کی ہوں تو ان کو جمہور علماء اور مسلمہ عقائد کے تابع ہی رکھنا چاہیے اسی لئے آپ کے لکھنے سے پہلے ہی راقم نے لکھا تھا کہ
بہرحال صحابی ؓ کا درجہ اگر کسی بعد کے کسی عالم کی کسی عبارت کی وجہ سے کم ہورہا ہو تو پھر زیادہ بہتر ہے کہ اُس عالم کا تسامح سمجھ لیا جائے ۔
لیکن جمہور اگر کوئی بات کہیں گے تو وہ ایسی بات کہیں گے ہی نہیں ۔
اگر بات کسی ایک معاملے یا جنگ وغیرہ سے متعلق ہو تو پھر تو یہ بالکل کہا جاسکتا ہے کہ دونوں فریق حق پر ہیں ۔
لیکن جب اسلامی حکومت میں ایک وقت میں خلافت ایک ہی ہوتی ہے ۔ خلیفہ ایک ہوتا ہے ۔ تواب معاملہ کے درجات متعین کرنے ناگزیر ہیں ۔
کیونکہ اس پر احکام مرتب ہوتے ہیں ۔ اور احکام فقہ کا موضوع ہوتا ہے ۔ تو اسی لئے پھر فقہ کی کتب میں ضمناََ تذکرہ آتا ہے ۔ اب جو اسلاف کی عبارات کی بھی اگر بنتی ہوتو توجیہہ کردینی چاہیے جسے جمہور کے موقف کے تابع رکھنا چاہیے ۔
واللہ اعلم۔
 

محمد یوسف صدیقی

وفقہ اللہ
رکن
جزاک اللہ ۔ بہت اچھی حدیث مبارکہ نقل فرمائی ہے ۔
لیکن آپ کی اپنی جو عبارات ہیں ، وہ کافی سخت ہوگئی ہیں ۔ آپ نے خود ہی ایک موقف جو جمہور علماء کا ہے ، اُس کی اپنی تشریح کر رہے ہیں اور خود سے ہی نبی کریم ﷺ کی حدیث کا مقابل بھی بنا رہے ہیں ۔
یہ بھی تو نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ۔۔۔مجتہد مصیب کو دو اجر ملیں گے، اور دوسرے کو ایک اجر۔(مفہوم)
اجتہادی خطا ء کی تشریح باطل سے آپ نےکیسے کی ہے ۔ بلکہ یہ اولاھم بالحق کی روایت ہی کے قریب مفہوم ہے ۔
باطل والے کو ایک اجر بھی نہیں ملے گا۔
اور اجتہادی خطاء جس پر ایک اجر کا وعدہ ہے ،سے بھی ان شاء اللہ دشمنِ صحابہ ر ضی اللہ عنہم کا رستہ بند ہی ہے ۔
مودودی صاحب مرحوم نے یہ غلطی کی تھی (اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کرے) کہ صراحتاََ لکھا کہ یہ خطا اجتہادی نہیں بلکہ صرف خطا تھی ۔
اگرچہ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ اس میں نیت نیک تھی ۔
لیکن پھر اُس کے بعد آنے والے بعض بیماروں نے خطاء عنادی قرار دی ۔

دراصل اس عنوان میں فقہ کی عبارت پر تبصرہ سے بات شروع ہوئی تھی ۔ مشاجرات کا مضمون بذات خود عنوان نہیں ہے ۔
اب جب فقہ میں چیزیں جب بحث میں آتی ہیں تو انہیں ذکر کرنا ہوتا ہے ۔انفرادی طور پر اگر کسی عالم نے کم معلومات کی بناء پر کچھ غلط تعبیرات کی ہوں تو ان کو جمہور علماء اور مسلمہ عقائد کے تابع ہی رکھنا چاہیے اسی لئے آپ کے لکھنے سے پہلے ہی راقم نے لکھا تھا کہ

لیکن جمہور اگر کوئی بات کہیں گے تو وہ ایسی بات کہیں گے ہی نہیں ۔
اگر بات کسی ایک معاملے یا جنگ وغیرہ سے متعلق ہو تو پھر تو یہ بالکل کہا جاسکتا ہے کہ دونوں فریق حق پر ہیں ۔
لیکن جب اسلامی حکومت میں ایک وقت میں خلافت ایک ہی ہوتی ہے ۔ خلیفہ ایک ہوتا ہے ۔ تواب معاملہ کے درجات متعین کرنے ناگزیر ہیں ۔
کیونکہ اس پر احکام مرتب ہوتے ہیں ۔ اور احکام فقہ کا موضوع ہوتا ہے ۔ تو اسی لئے پھر فقہ کی کتب میں ضمناََ تذکرہ آتا ہے ۔ اب جو اسلاف کی عبارات کی بھی اگر بنتی ہوتو توجیہہ کردینی چاہیے جسے جمہور کے موقف کے تابع رکھنا چاہیے ۔
واللہ اعلم۔
محترم : خلیفہ ایک ہی ہوتا ہے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں خلافت کا سرے سے دعوی ہی نہیں کیا ۔ سیدنا علی کے مقابلہ میں بعض علماء نے سیدنا معاویہ کو باطل پر لکھا ہے یہ ان کی طرف اشارہ ہے ۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
علما ء کرام و مفتیان کرام فرماتے ہیں :

حضراتِ صحابہٴ کرام بالخصوص سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا حضرت حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اختلاف میں کھود کرید کرنے سے دنیا وآخرت کا کچھ اپنا ہی نقصان ہے، قرآن کریم حدیث شریف میں ایسا کوئی مضمون وارد نہیں کہ قبر وحشر میں آپ سے ہم سے یا دیگر مسلمانوں سے ان جیسے امور کے متعلق سوال ہوگاکہ ان اختلافات میں کھود کرید کیوں نہیں کی تھی؟ اس لیے اسلم صورت یہی ہے کہ جو کام آپ کے ذمہ شریعت مطہرہ نے کیے ہیں ان ہی کو لازم پکڑے رہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم
 
Top