عثمان بن سودہ کا اپنی والدہ کو خواب میں دیکھنا

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی

عثمان بن سودہ کا اپنی والدہ کو خواب میں دیکھنا​
عثمان بن سودہ کا بیان ہے کہ میری والدہ بڑی عبادت گذارا تھیں ۔اسی وجہ سے لوگ انہیں راہبہ کہا کرتے تھے۔سکرات کے وقت انہوں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا کہ اے میرے ذخیرے اور اے وہ جس پر زندگی بھر مجھے بھروسہ رہا اورموت کے بعد بھی ہے ، موت کے وقت مجھے رسوا نہ کرنا ۔اور قبر کی وحشت سے بچانا ۔پھر وہ فوت ہو گئیں ۔میں ہر جمعہ کو ان کی قبر پر جاکرا ن کے لئے اور دیگر قبر والوں کے لیے دعائے مغفرت کیا کرتا تھا ۔ایک دن میں نے انھیں خواب میں دیکھا اور پو چھا کہ امی جان کیا حال ہے ۔ فرمایا ، بیٹا ! "موت انتہائی بےچین کر دینے والی ہے" ۔الحمد للہ میں قابل تعریف برزخ میں ہوں ۔ ہم پھول بچھاتے ہیں اور مہین ودبیز ریشم کے گدوں پر آرام کرتے ہیں ۔اور قیامت تک اسی حال میں رہیں گے ۔ میں نے کہا مجھ سے تو کوئی کام نہیں ؟ بولیں ہاں ہے ۔ میں نے کیا کام ہے ۔ فرمایا ہماری زیارت اور ہمارے لیے دعائے مغفرت نہ چھوڑنا۔ جمعہ کے دن جب تم اپنے گھر سے آتے ہو تو مجھے مژدہ سنا یا جاتا ہے کہ اےراہبہ تمہارا بیٹا آگیا ہے ۔اور اس سے نہ صرف مجھے بلکہ میرے پڑوسیوں کو بھی مسرت ہو تی ہے ۔ ( کتاب الروح ۔ابن قیم )
 
Top