علم خشیتِ الٰہی کا نام ہے

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
’’لیس العلم بکثرۃ الروایۃ ولکن العلم الخشیۃ۔‘‘
’’علم خشیت الٰہی کا نام ہے، نہ کہ کثرتِ روایات کا۔ ‘‘

فائدہ: ایک صحابیِ رسول کی فراستِ ایمانی کا اندازہ لگائیے۔ خیر القرون میں رہتے ہوئے انہوں نے جس علمی فتنے کی نشاندہی فرمائی ہے، آج اُسے فتنہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔

علمِ دین کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ معرفتِ الٰہی حاصل ہو، اس معرفت کے نتیجے میں انسان کا رواں رواں خشیتِ الٰہی میں ڈوب کر سراپا اطاعت بن جائے۔ خشیت معرفت سے حاصل ہوتی ہے اور معرفت علم سے، انبیاء کرام کو یہ معرفت سب سے مستند علم ’’وحی‘‘ سے براہِ راست حاصل ہوئی تھی، اس لیے ان میں خشیتِ الٰہی بھی بکمال پائی جاتی ہے۔

اس تعلقِ علم کی وجہ سے علماء کرام کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ عام لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والے ہوتے ہیں:

’’إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ۔‘‘ (فاطر: ۲۸) ۔۔۔۔۔ ’’اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘

جو علم انسان کو خشیت سے دوچار کرنے کے بجائے محض جستجو کے لیے مہمیز کا کام دے، اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ ایسا شخص قابلِ رحم ہے جس کی معلومات تو وسیع ہوں، مقالے، مضامین، علمی تحقیقات نوکِ قلم پر ہوں، ہر عہد کی کتابوں سے نام بہ نام واقفیت ہو، مگر دل خشیتِ الٰہی سے خالی ہو۔

ایک اضافی خوبی کے لیے حقیقی مقصد کو نظر انداز کر دینا، پانی کی تلاش میں سراب کے پیچھے جان گنوانے کے مترادف ہے۔
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
فارسی کے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

روحِ پدرم شاد کہ او گفتہ بہ استاد
فرزند مارا عشق بیاموز ودیگر ہیچ!

’’ میرے باپ کی روح شاد رہے کہ اس نے میرے استاذ سے کہا تھا، میرے فرزند کو بس عشق سکھا دیں اور کچھ نہیں!۔‘‘

اب معرفتِ الٰہیہ کا حصول کیسے ہو؟ اس کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام کی صورت میں ایک شان دار تحفہ عطافرمایا ہوا ہے۔
 

محمد حفص فاروقی

وفقہ اللہ
رکن
علم دین حاصل کرنا یہ ایک سعادت کی بات ہے یہی علم ہمیں کامیاب و کامران کرتا ہے
لیکن افسوس آج ہم بچوں کو علم دین کے بجائے علم دنیا سکھانے سکھانے پر توجہ دیتے ہیں
اللہ ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے اور علم دین رکھنے والوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائےآمین
 
Top