حصولِ علم کا مقصد

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’تعلموا العلم، فإذا علمتم فاعملوا۔ وقال: ویل لمن لا یعلم ولو شاء اللّٰہ لعلمہٗ، وویل لمن یعلم ، ثم لایعمل سبع مرات۔‘‘

’’علم دین حاصل کرو، جب حاصل کر لو تو اس پر عمل بھی کرو۔ پھر فرمایا: جاہل کے لیے ایک ہلاکت ہے اگر وہ جاہل ہی رہے اور اللہ چاہے تو اسے علم دے کر اس ہلاکت سے نکال بھی سکتا ہے، مگر جو شخص علم رکھنے کے باوجود عمل نہ کرے اس کے لیے سات مرتبہ ہلاکت ہے۔‘‘

فائدہ: سات کا عدد محض کثرت کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کے لیے ہلاکتیں ہی ہلاکتیں ہیں، کیونکہ بے عمل ہر لمحے رحمتِ الٰہی سے دور ہوتا جاتا ہے، لہٰذا مقصدِ علم‘ عمل ہونا چاہیے۔ علم برائے علم، یا علم برائے اسناد اور اسناد برائے ذریعۂ معاش اس دور کا بہت بڑا فتنہ ہے۔ تصحیحِ نیت کے ساتھ تبعاً ان اُمور سے واسطہ پڑے تو کوئی حرج نہیں۔
 
Top