علم بھولنے کی وجہ

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
’’إني لأحسب الرجل ینسی العلم کان یعلمہٗ لخطیئۃ یعملھا۔‘‘
’’جو شخص علم دین کی کوئی چیز جاننے کے بعد بھول جائے، میرے خیال میں یہ اس کے کسی گناہ کا اثر ہے جو اس سے صادر ہوا ہے۔ ‘‘

فائدہ: بھول پن کے کئی مادی اسباب بھی ہوسکتے ہیں، جو انسان کو مختلف احوال میں لاحق ہوتے رہتے ہیں، لیکن اگر انسان کو دنیاوی دھندے تو نہ بھولنے پائیں، مگر علم دین کے وہ مسائل جنہیں وہ جان چکا تھا، بھول پن کا شکار ہوجائیں تو یقینا یہ کسی گناہ کا ثمرۂ بد ہے جو اس سے صادر ہوا ہے۔ یہی نسیان کا روحانی سبب ہے، علم دین کی حفاظت گناہوں سے محفوظ ہونے میں ہے۔
 

محمد حفص فاروقی

وفقہ اللہ
رکن
’’إني لأحسب الرجل ینسی العلم کان یعلمہٗ لخطیئۃ یعملھا۔‘‘
’’جو شخص علم دین کی کوئی چیز جاننے کے بعد بھول جائے، میرے خیال میں یہ اس کے کسی گناہ کا اثر ہے جو اس سے صادر ہوا ہے۔ ‘‘

فائدہ: بھول پن کے کئی مادی اسباب بھی ہوسکتے ہیں، جو انسان کو مختلف احوال میں لاحق ہوتے رہتے ہیں، لیکن اگر انسان کو دنیاوی دھندے تو نہ بھولنے پائیں، مگر علم دین کے وہ مسائل جنہیں وہ جان چکا تھا، بھول پن کا شکار ہوجائیں تو یقینا یہ کسی گناہ کا ثمرۂ بد ہے جو اس سے صادر ہوا ہے۔ یہی نسیان کا روحانی سبب ہے، علم دین کی حفاظت گناہوں سے محفوظ ہونے میں ہے۔
علم دین گناہوں کی وجہ سے بھی بھولتا ہے اور استاد کی نراضگی کی وجہ سے بھی بھول جاتا ہے یا پھرا ستاد کی نراضگی کی وجہ سے اللہ پاک اس کے اور علم کے درمیان پردہ فرما دیتے ہیں وہ کتاب کھول کر بیٹھ جائے علم اس کی زبان پر جاری نہ ہوگا
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آفَةُ العلم النسیانُ“ علم کی آفت نسیان ہے یعنی حصول علم کے بعد اس کا بھولنا آفت ہے۔ حصول علم سے پہلے تو بے شمار آفات علم کی راہ میں حائل رہتی ہیں اسی وجہ سے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لِکل شیٴ آفة وللعلم آفات“ ہر چیز کیلئے ایک آفت ہے اور علم کے لئے بہت سی آفتیں ہیں، لیکن یہ سب آفتیں حصول علم سے پہلے کی ہیں حصول علم کے بعد صرف ایک آفت نسیان ہے اس سے عالم کو بہت محتاط رہنا چاہئے۔ ”ابن حجر“ اس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ انسان کو نسیان کے اسباب سے اجتناب کرنا چاہئے اور یہی وہ بات ہے جس کو امام شافعی نے شعر میں یوں بیان کیا ہے۔

شکوتُ الی وکیع سوء حفظی فاوصانی الی ترک المعاصی

فان العلم نور من اِلٰہِ ونور اللّٰہِ لا یعطیٰ لعاصِی​

میں نے اپنے استاذ وکیع سے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی تو انھوں نے مجھے ترک معاصی کی نصیحت کی ”فرمایا“ علم درحقیقت اللہ کا نور ہے اور یہ نور کسی گنہ گار کو عطا نہیں ہوتا۔ امام بخاری سے جب مرض نسیان کا علاج دریافت کیاگیا تو آپ نے دریافت فرمایا جب کتب بینی زیادہ ہوگی مطالعہ کا کثرت سے اہتمام ہوگا تو نسیان کا مرض طاری نہیں ہوگا اور قوت حافظہ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
 
Top