قرآن کریم عمل کے لیے اُترا ہے، نہ کہ محض پڑھنے کے لیے

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
’’أنزل القرآن لیعمل بہٖ فاتخذتم دراستہٗ عملاً، وسیأتي قوم یثقفونہٗ مثل القناۃ لیسوا بخیارکم۔ والعالم الذي لا یعمل کالمریض الذي یصف الدواء، وکالجائع الذي یصف لذائذ الأطعمۃ ولا یجدھا، وفي مثلہٖ
قولہٗ تعالٰی: {وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ}۔‘‘ (الأنبیاء: ۱۸)

’’قرآن کریم عمل کی غرض سے نازل کیا گیا ہے، لیکن تم نے اس کے نازل ہونے کا مقصد محض پڑھاناسمجھ لیا ہے۔ عنقریب ایسے لوگ آ کر رہیں گے جو قرآن کریم کے الفاظ کو نیزے کی طرح سیدھا کرنے کو مقصدِ زندگی سمجھ لیں گے، ایسے لوگوں کا شمار تمہارے اچھے لوگوں میں نہیں ہوگا۔ جو صاحبِ علم اپنے علم پر عمل نہ کرے، اس کی مثال اس مریض کی طرح ہے جو مرض کی دوا بیان کرتا ہے، مگر خود اس سے شفا نہیں پاتا، یا اس بھوکے کی طرح ہے جو کھانوں کے ذائقے بیان کرتا ہے، مگر لذتِ دہن سے محروم رہتا ہے۔ ایسے بے عمل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لیے باعثِ خرابی ہیں۔ ‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی v نے بعض عارفین کا قول نقل کیا ہے کہ لوگ تجوید کے قواعد میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ قرآن کریم کی حقیقی روح ’’خشیت‘‘ پسِ پردہ چلی جاتی ہے۔
(الفوز الکبیر، ص: ۳۵)
 

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
قرآن کریم وہ نعمت ہے جو جمہور امت کے نزدیک اللہ کی مخلوق نہیں، بلکہ خود اس کی ذات و صفات کاایک حصہ اور مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں قرآن کریم کو ’’حبل اللّٰہ المتین‘‘ یعنی اللہ کی ایک مضبوط رسی سے تعبیر کیا گیا ہے اور ’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا‘‘ میں بھی’’حبل اللّٰہ‘‘ کی تفسیر مفسرین نے ’’کلام اللہ ‘‘ سے ہی کی ہے۔ اب اگر کوئی شخص آج کے دور میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہونا اور معرفتِ الٰہیہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کا ذریعہ قرآن کریم ہی ہے۔ جو شخص جتنا زیادہ قرآن سے وابستہ ہوگا،اتنی ہی وابستگی اُسے اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوجائے گی۔
 
Top