اعترافِ جہالت

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
’’إن الذي یفتي الناس في کل ما یستفتونہٗ لمجنون۔ وقال: جُنۃ العالم:’’لا أدري‘‘؛ فإن أخطأھا فقد أصیبت مقاتلہ۔ ‘‘
(الاحیاء،ج: ۱،ص: ۹۱)


’’جو شخص ہر سوال کا دھڑلے سے جواب دیتا چلا جائے وہ بے وقوف ہے۔ پھر فرمایا: عالم کی ڈھال یہ کلمہ ہے: ’’مجھے معلوم نہیں۔‘‘ پھر اگر کسی مسئلے سے ناواقف ہونے کے باوجود اعتراف ِجہالت کرنے کی بجائے جواب دینے کی غلطی کر بیٹھا تو برباد ہوگیا۔ ‘‘

فائدہ: کسی مسئلے کا جواب انتہائی سوچ سمجھ کر اور صورتِ مسئلہ کو جان کر دینا چاہیے۔ اس لیے محتاط اہلِ علم پیچیدہ مسائل کا جواب تحریری صورت میں دیتے ہیں، اس میں خطا کا امکان کم ہوتا ہے۔ مسئلے کا جواب کسی قاعدے اور نظیر کو سامنے رکھ کر دینے میں ٹھوکر لگتی ہے، اس لیے جب تک یقینی مسئلہ معلوم نہ ہو، جواب سے گریز کرنا چاہیے، اس سے اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے۔
 
Last edited by a moderator:

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جس طرح اہل علم کا بلند و بالا مقام و مرتبہ ہے، اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی بہت نازک ہیں
 
Top