عالم کے عوام سے روابط

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے
”نِعْمَ الرجُلُ الفَقِیْہُ فِی الدِّین اِنْ احتیجَ الیہ نَفَعَ وان استُغْنِیَ عَنْہُ اَغْنٰی نَفْسَہُ“

کیا ہی بہتر ہے دین میں بصیرت رکھنے والا وہ شخص کہ جس کے پاس اگر کوئی ضرورت لائی جائے تواس کو پورا کرتا ہے اوراگراس سے بے پرواہی برتی جائے تو وہ بے نیاز ہوجاتا ہے۔اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اولاً تو عالم کا عوام الناس سے بے سود میل ملاپ رکھنا ٹھیک نہیں ہے اور ان کے ساتھ ہمہ وقت لگے رہنا فضول ہے البتہ اگر کوئی اپنی کسی دینی ضرورت سے اس کے پاس آئے تو اس کے پورا کرنے میں دریغ نہ کرنا چاہئے اور حتی المقدور اس کی رہنمائی کرنی چاہئے، اسی کے ساتھ اس کی بھی تاکید کرو کہ اگر دنیا والے عالم سے کنارہ کشی اختیار کریں تو محض ان کے مال و جاہ سے متأثر ہوکر ان کے پاس حاضری نہ دے، بلکہ ان سے کنارہ کش ہوکر اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت نیز درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں اپنا بیشتر وقت گزارے۔
 
Top