اخلاص کسے کہتے ہیں؟

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
علامہ ابوالقاسم قشیری فرماتے ہیں:

اخلاص یہ ہے کہ طاعت سے محض اللہ کا تقرب مقصود ہو کوئی دوسری غرض، مثلاً مخلوق کے لیے تصنع، یا لوگوں کے نزدیک ستائش یا مخلوق کی طرف سے محبوبیت وغیرہ کی تحصیل نہ ہو

حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں:

اخلاص کی تین علامتیں ہیں:
(۱) لوگوں کی تعریف مذمّت برابر ہو یعنی اس کی پروا نہ ہو،
(۲) لوگ اُس کے عمل کو دیکھیں اِس کا تصور نہ ہو،
(۳) آخرت میں ثواب کا طلب گار ہو

حضرت سہیل بن عبداللہ تستری فرماتے ہیں :

اہل بصیرت نے اخلاص کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ بندے ہر حرکت وسکون ظاہر وباطن میں صرف اللہ کے لیے ہو اس میں نفس یا خواہش یا دنیا کی قطعاً آمیزش (ملاوٹ) نہ ہو۔

شارحِ مسلم شریف علامہ نووی لکھتے ہیں:

یعنی قرأتِ قرآن سے مقصود دنیا کی اغراض میں سے کوئی غرض نہ ہونا چاہیے جیسے
(۱) مال کا حصول
(۲) ریاست وسرداری کی طلب
(۳) جاہ ومنصب کی خواہش
(۴) عزت ووجاہت کی آرزو
(۵) ہمعصروں پر فوقیت
(۶) لوگوں کے نزدیک تعریف وستائش
(۷) لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنا، وغیرہ۔
(۸) خدمت کی تمنا
(۹) ہدیہ وتحفہ کی طمع
(۱۰) سمعہ و شہرت
(۱۱) مقابلہ آرائی
(۱۲) مخلوق کے لیے تصنع وبناوٹ۔

حاصل یہ کہ مقصد رضائے الٰہی ہو اس میں کسی قسم کی دنیا کی ملاوٹ نہ ہو۔
 
Top