حسنِ سلوک اور حسنِ اخلاق

زنیرہ عقیل

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو اپنے والدین، اولاد دیگر رشتہ داروں اور ہم مذہب والوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور حسنِ اخلاق کا حکم دیتا ہے، وہیں بلا تفریقِ دین و مذہب محض انسانیت کے ناطے پوری انسانی برادری کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق اور رواداری کی تاکید کرتا ہے، بالخصوص پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پڑوسی کے حقوق کی اس قدر تاکید کی کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ کہیں پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ بنادیں، ایک موقع پر فرمایا کہ جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ پڑوسی کی عزت کرے، ایک دفعہ انتہائی دلنشیں اور موٴثر طریقہ پر پڑوسی کے حق کو بیان کرکے فرمایا: بخدا وہ مومن نہیں ہوگا، بخدا وہ مومن نہیں ہوگا، بخدا وہ مومن نہیں ہوگا! صحابہٴ کرام نے پوچھا کون یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا: وہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ رہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کا یہ اثر ہوا کہ ہر صحابی اپنے پڑوسی کا بھائی اور مددگار بن گیا تھا، ہمسایوں میں دوست ودشمن، مسلم اورغیر مسلم کی تمیز اٹھ گئی تھی؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ ایک بکری ذبح کی آپ کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا، غلام کو ہدایت کی کہ سب سے پہلے گوشت پڑوسی کو پہنچادے، ایک شخص نے کہا: وہ تو یہودی ہے، فرمایا :یہودی ہے تو کیا ہوا، یعنی یہ تو حقِ ہمسائیگی ہے جس میں اپنے پرائے کی تفریق نہیں۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو تلقین کرتا ہے کہ ایک انسان کے دوسرے انسان پر انسانی برادری کی حیثیت سے بھی کچھ حقوق و فرائض ہیں، جن کا ادا کرنا مسلمان کا مذہبی واخلاقی فرض ہے، چنانچہ قرآن حکیم میں ہے: ”قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا“ لوگوں سے اچھی بات کہو، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”لَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مَنْ لَا یَرْحَمِ النَّاسَ“: اللہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ہے۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا: ”اِرْحَمُوْا مَنْ فِي الْأرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَاءِ“: تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ ایک حدیث میں آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پانچ باتوں کی تعلیم دی، اس میں چوتھی بات یہ تھی ”اَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ تَکُنْ مُسْلِماً“: لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، تو قابل تعریف مسلمان بن جاؤگے۔ یہ اخلاق کی وہ تعلیم ہے جو انسانی برادری کے تمام حقوق کی بنیاد ہے۔
 
Top